محافلِ میلاد میں منکَرات کا ارتکاب

سوال:

میلاد شریف کے جلسوں میں دَف کا اہتمام کیاجانا اور جشنِ میلاد شریف کے جلوسوں میں تالیاں بجانا،ڈھول اور رقص پر اصرارکیاجانا،شریعتِ مُطہرہ میں کیا حیثیت رکھتاہے ،کیاکہیں کوئی جواز کی صورت ہے یا دودھ وشہد میں نجاست وپلیدی ڈالنا اور حلال کو حرام کرنا ہے ؟۔دَف والی حدیث کو بطور دلیل پیش کیاجاتاہے ،اس حدیث کی روشنی میں مباح سمجھاجائے یا حدیث کو منسوخ سمجھاجائے یا پھر خصوصیت پر محمول کیاجائے ؟۔بعض حضرات صوفیہ کے سازوں کے ساتھ قوالی سننے کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں،(تنظیمات اہل السنّۃ والجماعۃ،سرگودھا )۔

جواب:

میلاد النبی ﷺ کے جلسوں اور جلوس کا محرمات ، مکروہات سے پاک ہونا ہی رسول اللہ ﷺ سے حقیقی محبت کا ثبوت ہے کہ آپ کی بعثتِ مبارکہ کا مقصد ظلمت وجہالت کو دورکرنا اور اَحکامِ الٰہی کا پابند بناناہے،لوگوں کی رذیل صفات کو حسنِ اَخلاق میں بدل دینا ہے ۔ رسالت مآب ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے دن کا اکرام اُنہی شرعی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے ،جو رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی مجالس میں نظر آتے ہیں ۔اُس سے ہٹ کر کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب دعویٔ عشق ومحبتِ رسول ﷺ کے خلاف ہے ۔میلادالنبی ﷺ کے جلوس نہ ضروریاتِ دین سے ہیں اور نہ ہی ضروریاتِ مسلک اہل السنۃ والجماعہ سے،البتہ یہ برصغیر میں شعائرِ اہلسنّت سے ہیں،یہ اگر محرمات ، بدعات اور مُنکَرات سے پاک ہوں تو زیادہ سے زیادہ استحباب واستحسان کے درجے میں قرار دیاجاسکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺْ کا فرمان مبارک ہے : ’’لَایُؤمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یکُونَ ھَوَاہُ تَبَعاً لِمَاجِئتُ بِہٖ‘‘۔

ترجمہ:’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک (کامل)مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک اُس کی خواہش میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائے ،(شرح السنۃ للبغوی:104)‘‘۔

حدیث کا واضح مفہوم یہی ہے کہ کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ انسان کاہر قول وفعل ،معاملات ومعمولات اور خواہشات رسول اللہ ﷺ کے اَحکام کے مطابق ہونی چاہیئں۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دینی امور کوقرآن وسنّت میں بیان کردہ حقائق کی روشنی میں طے کرنے کے بجائے اپنی وضع کردہ عقیدتوں اور خواہشات کی نذر کردیے ہیں اورعقیدے وعقیدت کا تعین ایک ایسا طبقہ کرتاہے ،جودینی فہم سے عاری ونابلد ہے ۔

محافل میلاد کے نام پر مُقدّس محافل کی آڑ میں بڑے بڑے کاروبار کیے جارہے ہیں ،بعض مقامات پر نعت خوانوں اور شعلہ بیان مقررین (جن کی اکثریت موضوع روایات کا سہارا لیتی ہے) کی ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں میں بکنگ ہورہی ہے ،کسی زمانے میں شہر بھر میں سیاسی لیڈروں کی بڑی بڑی قدآور تصاویر لگائی جاتی تھیں ،اب واعظین اور نعت خواں حضرات کی تصاویر صرف بازاروں اور چوراہوں تک محدود نہیں بلکہ مساجد کے صدر دروازوں پر بھی آویزاں نظر آتی ہیں۔انگلینڈ سے فون آیا کہ اب پیرصاحبان کی تصاویر مساجد کے اندر آویزاں کی جارہی ہیں۔

ہمیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک باریش پیر کو جُبّے قُبّے کے ساتھ غیر محرم جوان عورتوں کے ساتھ بلاحجاب رقص کرتے ہوئے دکھایا ،وہ ان کے ہاتھ پکڑے ہوئے نظر آتے ہیں ،کبھی وہ انہیں بوسہ دیتی ہیں ،یہ حرام ہے ۔جب ابتذال اس حد تک پہنچ جائے تو علماء کرام کوتمام مصلحتوں سے بالاترہوکر شدت کے ساتھ اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔

کفار بیت اللہ شریف کے پاس تالیاں بجاتے اور اِسے عبادت شمار کرتے تھے ، قرآن مجید میں اسے کفر قرار دیاگیاہے ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وَمَا کَانَ صَلَاتُہُمْ عِنْدَالْبَیْتِ اِلَّا مُکَآ ءًوَّ تَصْدِیَۃً ط فَذُوْقُو االْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَo ترجمہ:’’ اور بیت اللہ کے پاس اُن کی نماز اس کے سواکیا تھیں کہ یہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے ،سواب عذاب کو چکھو کیونکہ تم کفر کرتے تھے ،(الانفال:35)‘‘۔

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں:

’’قرآن مجید نے سیٹیاں بجانے اورتالیاں پیٹنے کی جو مذمت کی ہے ،اِس میں اُن جاہل صوفیہ کا رد ہے ،جو رقص کرتے ہیں ، تالیاں پیٹتے اور بے ہوش ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں(جسے وَجد نہیں بلکہ تواجُدسے تعبیر کیاگیاہے)،(الجامع الاحکام القرآن ،جز 9،ص:399 ،موسسۃ الرسالہ ، بیروت)‘‘ ۔

شریعت مُطَہَّرہ میں تالیاں بجانے کو مکروہ عمل فرمایا ہے ،علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

’’(وَکُرِہَ کُلُّ لَھْوٍ) أَیْ کُلُّ لَعْبٍ وَّعَبَثٍ،فَالثَّلَاثَۃُ بِمَعْنٰی وَاحِدٍ کَمَا فِیْ ’’شَرْحِ التَّأوِیْلاَتِ‘‘، وَالاِطْلَاقُ شَامِلٌ لِّنَفْسِ الْفِعْلِ، وَاستِمَاعِہٖ کَالرَّقْصِ وَالسُّخْرِیَّۃِ وَالتَّصْفِیْقِ وَضَرْبِ الْاَوْتَارِ مِنَ الطُّنْبُوْرِ وَالبَرْبَطِ وَالرُّبَابِ وَالْقَانُوْنِ وَالْمِزْمَارِ وَالصَّنْجِ وَالْبُوْقِ، فَأِنَّہَا کُلَّہَا مَکْرُوْہَۃٌ لأَِنَّہَا زِیُّ الْکُفَّار‘‘۔

ترجمہ:’’(ہربیہودہ کھیل مکروہ ہے )یعنی ہرلہوولعب اور عَبَث(بے مقصد کام) تینوں (یعنی لَہو ، لَعب اور عبث ) کے معنًی ایک ہیں ،جیساکہ ’’شرح التاویلات ‘‘ میں ہے ۔ لہو کو مطلق (یعنی کسی قید کے بغیر) ذکر کرنا نفسِ فعل اور اس کی توجہ سے سماعت کو شامل ہے ، جیسے رقص کرنا ،مذاق کرنا اور تالیاں بجانا، ڈھول بجانا،ستار بجانا ، سارنگی بجانا ،چنگ بجانا ، قانون( ایک تار والا باجا)بجانا، مزامیر کا استعمال ،جھانجھ (مجیرا )بجانا اور بگل بجانا ، یہ سب مکروہ ہیں کیونکہ یہ عاداتِ کفار ہیں ، (ردالمحتار علی الدرالمختار ،جلد 9،ص:481 )‘‘۔

گانے کی دھن پر بنائی گئی موسیقی اور آلات موسیقی کے ساتھ نعت پڑھنا، پڑھوانا اور سننا سب ناجائزہے ۔

علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ الباری لکھتے ہیں: مَنْ قَرأ القُرآن عَلی ضَربِ الدَّفِّ وَالقَضِیبِ یَکفُرْ،قُلتُ وَیقرُبُ مِنہُ ضَربُ الدَّفِّ وَالْقَضِیبِ مَعَ ذکرِ اللّٰہِ تَعالٰی وَنَعتِ المُصْطَفٰی ﷺ ‘‘۔

ترجمہ:’’ جس نے دَف اور ڈانڈیا کے ساتھ قرآن کی تلاوت کی (وہ توہین قرآن کی وجہ سے) کفر کا مرتکب ہوا، میں (ملا علی قاری) کہتاہوں :اسی حکم کے قریب دَف اور ڈانڈیا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر یا نعت مصطفیٰ ﷺ پڑھنا بھی ہے ،(الفقہ الاکبر:167) ‘‘۔

رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیّبہ مکمل ضابطہ اور دستورہے ،احادیثِ مبارکہ میںصرف چند مواقع ایسے ملتے ہیں، جہاں دف بجائی جارہی تھی ،آپ نے اُن مواقع پر کسی خاص سبب سے اعراض نہ کیا ۔لیکن آج تسکینِ نفس کی تکمیل کے لیے ہرشخص اِسے سنت سے ثابت کرنے پر تلا رہتاہے،جبکہ حدیث پاک میں ہے :

’’ بُعِثتُ بِکَسرِالمَزَامِیر (یعنی مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے والا بناکر بھیجاگیا )کے کلمات بھی آئے ہیں، (کنزالعمال: 40689)‘‘ ۔

(۱)حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک معرکہ سے واپس لوٹے تو ایک سیاہ رنگ کی بچی آکر کہنے لگی:یَارَسُولَ اللّٰہ! اِنِّی کُنتُ نَذَرْتُ اِن رَدَّکَ اللّٰہُ سَالِماً أَن أَضرِبَ بَینَ یَدَیْکَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنّٰی؟،فَقَالَ لَھَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنْ کُنْتِ نَذَرتِ فَاضْرِبِیْ وَاِلَّا فَلَا، فَجَعَلتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُوبَکرٍ وَھِیَ تَضرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِیٌّ وَھِیَ تَضرِبُ،ثُمَّ دَخَلَ عُثمَانَ وَھِیَ تَضرِبُ،ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلقَتِ الدُّفَّ تَحتَ استِھَا، ثُمَّ قَعَدَت عَلَیہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ:اِنَّ الشَّیطَانَ لَیَخَافُ مِنکَ یَاعُمَرُ اِنِّی کُنتُ جَالِساًوَھِیَ تَضرِبُ فَدَخَلَ أَبُوبَکرٍوَھِیَ تَضرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِیٌّ وَھِیَ تَضرِبُ،ثُمَّ دَخَلَ عُثمَانَ وَھِیَ تَضرِبُ،فَلَمَّادَخَلتَ أَنتَ یَاعُمَرُ أَلقَتِ الدُّفَّ۔

ترجمہ:’’ یارسول اللہ! میں نے نذرمانی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت لوٹادے تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور اشعار گاؤں گی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگرتم نے نذرمانی تھی تو تو پھر دف بجالو ورنہ نہیں۔وہ لڑکی دف بجانے لگی ،اس اثنا میں حضرت ابو بکر تشریف لائے ،وہ دف بجاتی رہی ،پھر حضرت علی تشریف لائے ،وہ دف بجاتی رہی، پھر حضرت عثمان تشریف لائے ،وہ تب بھی دف بجاتی رہی ۔ پھر حضرت عمر داخل ہوئے تو وہ دف کو اپنے سرین کے نیچے چھپاکر اُس پر بیٹھ گئی ۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : اے عمر !تم سے شیطان ڈرتاہے ،میں بیٹھا تھا ،یہ دف بجاتی رہی ،پھر ابوبکر آئے ،یہ دف بجاتی رہی ، پھرعلی آئے ،یہ دف بجاتی رہی ،پھر عثمان آئے یہ دف بجاتی رہی اورپھر اے عمر جب تم آئے تو اس نے دف رکھ دی،(سُنن ترمذی:3690)‘‘۔

(۲)قَالَتِ الرُّبَیِّعُ بِنتُ مُعَوِّذِبنِ عَفرَائَ:جَائَ النَّبِیُّ ﷺ فَدَخَلَ حِینَ بُنِیَ عَلَیَّ،فَجَلَسَ عَلَی فِرَاشِی کَمَجلِسِکَ مِنِّی،فَجَعَلَتْ جُوَیرِیَاتٌ لَنَا، یَضْرِبنَ بِالدَّفِّ وَیَندُبنَ مَن قُتِلَ مِن آبَائِیْ یَومَ بَدرٍ،اِذقَالَتْ اِحْدَاھُنَّ:وَفِینَانَبِیٌّ یَعلَمُ مَافِی غَدٍ،فَقَالَ:دَعِیْ ھٰذِہِ،وَقُولِی بِالَّذِی کُنتِ تَقُولِینَ۔

ترجمہ:’’ربیع بنت معوذبن عفراء بیان کرتی ہیں کہ جب میں دلہن بناکر بٹھائی گئی تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، آپ بستر پر ایسے تشریف فرماہوئے جیسے تم لوگ بیٹھتے ہو ۔پھر کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے والد اور چچا جو جنگِ بدرمیں شہیدہوئے تھے ،اُن کی تعریف کرنے لگیں۔اُن میں سے ایک نے کہا:’’ہم میں وہ نبی ہیں جو آنے والے کل کی بات جانتے ہیں‘‘،آپ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑو اور وہ گاؤ جو تم پہلے گارہی تھیں،(صحیح بخاری:5147)‘‘۔

فی نفسہ دف بجانا مشروع ہے ۔کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اَعْلِنُوا ھٰذِا النکاحَ وَاجعَلُوْہُ فِی الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوہُ عَلَیْہِ بِالدّفُوفِ(اس نکاح کا اعلان کرو اور نکاح مساجد میں کرو اوراُس پر دف بجاؤ) ، (ترمذی:1089)‘‘۔

امام احمد رضاقادری قُدِّسَ سِرّہُ العزیز لکھتے ہیں:

’’دَف کہ بے جلاجل یعنی بغیر جھانجھ (اسے جھانجھر بھی کہتے ہیں)کاہواورتال سر کی رعایت سے نہ بجایا جائے اوربجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں،بلکہ کنیزیں یاایسی کم حیثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تونہ صرف جائز بلکہ مُستحب ومندوب ہے:’’ لِلاَمرِ بِہٖ فِی الْحَدِیثِ وَالْقُیُود مَذکُورَۃٌ فِی رَدِّالْمُحْتَارِ وَغَیرِہ وَشَرَحنَاھَافِی فَتَاوانَا‘‘۔ترجمہ:’’ حدیث میں مشروط دف کے بجانے کا حکم دیاگیاہے اور اس کی تمام قیودکو فتاویٰ شامی وغیرہ میں ذکر کردیاگیااور ہم نے اپنے فتاویٰ میں اس کی تشریح کردی ہے ‘‘۔اس کے سوا اور باجوں سے احتراز کیاجائے ،واللہ تعالیٰ اعلم ،(فتاویٰ رضویہ ، جلد21،ص: 643)‘‘۔

دَف اور ڈھولک میں فرق ہے ،دَف ایک طرف سے کھلا ہوتاہے ،جبکہ ڈھولک دونوں طرف سے بند ہوتاہے،لہٰذا دَف سے ڈھولک کاجواز ثابت نہیں کیا جاسکتا اورامام احمد رضا قادری نے دَف کے ساتھ بھی جھانجھر نہ ہونے کی شرط لگائی ہے ،جبکہ بعض لوگ جھانجھر والے دَف کے ساتھ نوخیز قریب البلوغ یا بالغہ لڑکیوں سے ٹی وی پر گروپ کی شکل میں نعت پڑھواتے ہیں ،یہ درست نہیں ہے ۔بعض لوگ ہجرت کے موقع پر قبیلۂ بنونجار کی بچیوں کے ان استقبالیہ اشعار سے استدلال کرتے ہیں:

طَلَعَ البَدرُ عَلَینَا مِن ثَنِیّاتِ الوَدَاعٖ

وَجَبَ الشُّکرُعَلَینَا مَا دَعَا لِلّٰہ دَاعٖ

(سیرۃ الحلبیہ ، ۲۳۵/۲ )

یہ ’’کَلِمَۃ ُالْحَقّ أُرِیدُبِھَا الْبَاطِل ‘‘ کے قبیل سے ہے ۔اولاً تویہ کہ یہ ابتدائے اسلام کا دورتھا ،یہ بچیاں عہدِ اسلام کی تربیت یافتہ نہیں تھیں،بلکہ اُس عہد کے قبائلی رواج کے مطابق انہوں نے ایساکیا اور وہ بھی ایک دائرے میں تھا ،جبکہ مزامیر کو توڑنے کی روایات بعدکی ہیں۔بعدازاں رسول اللہ ﷺ جنگی فتوحات سے واپس تشریف لائے، کئی خوشی کے مواقع آئے ،لیکن آپ ﷺ نے اس شعار کو رائج نہیں کیا اورنہ ہی اس کی ترغیب دی ۔

مُغنّیات سے کام لینا مشرکینِ مکہ کا شِعار تھا ۔ شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی غزوۂ بدر کے بارے میں امام ابن ہشام کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’ قریش نے اپنا تمام مال ومتاع داؤ پرلگاکر جنگ کی تیاری کی ،جب اُنہوں نے عزمِ سفرکیا توقریش مکہ کی فوج کی تعداد نو سوپچاس تھی ،اُن کے پاس ایک سو گھوڑے تھے ، جن پر ایک سو زرہ پوش سوار تھے ،پیدل سپاہیوں کے لیے بھی زرہیں مہیا تھیں،اُن کے ساتھ رقص کرنے والی کنیزیں بھی تھیں ،جو دَف بجارہی تھیں اور جوشیلے گیت گاکر ان کی آتش ِ غضب کو اور بھڑکارہی تھیں ،سوقریش کایہ لشکر جرار مٹھی بھرمسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے بڑے غرور اورتکبر کے ساتھ روانہ ہوا،(تبیان القرآن ، جلد دوم، ص:332)‘‘۔غزوۂ بدر سے قبل ابو جہل کو بتایاگیاکہ ابو سفیان کے قافلہ نے ساحل کا راستہ اختیار کرلیاہے اوروہ محفوظ ہوچکاہے ،تم اب اپنے لوگوں کو واپس مکہ لے جاؤ ۔ اُس نے کہا :’’ نہیں خداکی قسم یہ کبھی نہیں ہوسکتا ،حتٰی کہ ہم اونٹوں کو ذبح کریں گے ،شراب پئیں گے اورہماری باندیاں آلاتِ موسیقی کے ساتھ گانا گائیں گی اور تمام قبائل عرب ہمارے خروج کی خبر سن لیں گے ،(سُبلُ الھدیٰ والرشاد، جلدرابع، ص:29)‘‘۔ یعنی اس سے ایک عالَم پر ہماری دہشت قائم ہوجائے گی۔

ہمیں معلوم ہواہے کہ پنجاب میں میلادالنبی ﷺ کے موقع پر منوں کے حساب سے کیک کاٹے جاتے ہیں ، اِس طرح کی حرکات میلادالنبی ﷺ کی تقدیس کے منافی ہیں اور یہ اس لیے ہورہاہے کہ مذہبی معاملات کو جاہل واعظین اور پیروں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھاہے اور کچھ اہلِ ثروت اپنی تشہیر ونام ونمود کے لیے یہ کارروائیاں کرتے ہیں ۔علماء کی ذمہ داری ہے کہ دینی معاملات کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھیں ،قوم کی رہنمائی کریں اور مذہبی عنوان سے اس طرح کی اضافات کا راستہ روکیں ۔ہاں!اگر کوئی ایصالِ ثواب کی نیت سے لوگوں کو کیک کھلانا یا تقسیم کرنا چاہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ