یہ جمعیت علماۓ ہند کے ناظم مولانا ارشد مدنی کو کیا ہو گیا ہے۔ یہ علماۓ دیوبند کے راز فاش کر رہا ہے کوٸی تو اسکو روکو بابا۔ اسکا آج کے سنڈے ایکس پریس میگزین میں ایک انٹرویو چھپا ہے اسمیں ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ

” یہ دیکھٸے کہ مولانا محمود الحسن اپنے استاد محترم مولانا نانوتوی کا پاخانہ صاف کرتے رہے اور شیخ الہند بن گٸے۔😂

اسی طرح مولانا حسین احمد مدنی اپنے استاد محترم شیخ الہند ”محمود الحسن“ کے گھر کی گندی نالیاں صاف کرتے تھے اور شیخ الحدیث کہلاۓ😂“مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا انکے ہاں ایسا بھی ہوتا ہے۔ریفرنس کے لٸے تصویر لگا رہا ہوں۔

78 سالہ مولانا سیّد ارشد مدنی مسلمانانِ بھارت کی ایک بڑی جماعت، جمعیت علماء ہند کے سربراہ ہیں۔ دارالعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے درس و تدریس بھی انجام دیتے ہیں۔آپ کا شمار بھارت کے سینئر ترین مسلم لیڈروں میں ہوتا ہے۔ رواں ماہ 22 نومبر کو جمعیت علماء ہند اپنے قیام کی صدسالہ سالگرہ منارہی ہے۔ اس موقع پر مولانا ارشد مدنی کے مختلف انٹرویوز سے سیاسی، سماجی اور مذہبی موضوعات پر چیدہ سوالات و جوابات کا انتخاب نذر قارئین ہے۔

٭٭

سوال: بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا مقام ہندو تنظیموں کو دے ڈالا ہے۔کیا آپ اس عدالتی فیصلے سے مطمئن ہیں؟

جواب:یہ ناانصافی پر مبنی فیصلہ جس نے سچ کو پیروں تلے روند ڈالا۔سپریم کورٹ کے پانچوں ججوں نے تسلیم کیا کہ انتہاپسند ہندوؤں نے بت بابری مسجد میں رکھے۔بعد ازاں انھوں نے مسجد شہید کر دی…اس کے باوجود مسجد کی زمین انہی کے حوالے کر دی گئی جنھوں نے یہ جرائم کیے تھے۔انصاف کے اس قتل سے عیاں ہے اب بھارتی اقلیتوں کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ عدالتوں سے انصاف ملے گا۔ہمیں ایسے غیر منصفانہ فیصلے کی بالکل توقع نہ تھی۔یہ فیصلہ قانون و سچائی نہیں عقیدے وسیاست کو بنیاد بنا کر دیا گیا۔

مسلمان صدیوں سے بابری مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔یہ انگریز ہیں جو اپنی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘پالیسی کے تحت یہ تصّور سامنے لائے کہ بابری مسجد رام دیوتا کے جنم استھان پر تعمیر ہوئی ۔22 دسمبر 1949ء کی رات جب مہنتوں نے بابری مسجدمیں بت رکھے تو جمعیت علماء ہند کے اکابرین، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے وزیراعظم پنڈت نہرو سے رابطہ کرکے انہیں بتایا کہ حالات بہت سنگین ہیں۔ انہوں نے فوراً وزیراعلیٰ یوپی کو مسجد واگزار کرانے کی ہدایت دی۔ مگر مقامی انتظامیہ ہندو انتہا پسندوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ اس نے نقص امن کی آڑ لے کر مسجد سرکاری تصرف میں لے لی۔ اس حادثے کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا ’’اب میں سوچ رہا ہوں کہ ہندوستان میں (ہندو)اکثریت مسلمانوں کو ملت کی حیثیت سے قبول کرے گی یا نہیں؟ اگر بابری مسجد مسلمانوں کو واپس مل گئی، تو جواب اثبات میں ہے۔ نہیں ملتی، تو انتظار کیجیے۔ دیگر مساجد کے ساتھ بھی اسی قسم کے حادثات پیش آئیں گے۔‘‘ اب مولانا آزاد کے خدشات درست ثابت ہورہے ہیں۔

بھارت میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار، دونوں میں شامل بیشتر لیڈروں کی یہی کوشش رہی کہ کسی طرح بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوجائے۔1992ء میں جب بابری مسجد شہید ہو چکی تو کانگریسی وزیراعظم، نرسیما راؤ نے اعلان کیا کہ اسے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ مسجد تو کیا تعمیر ہوتی، ان کے حکم پرہائیکورٹ میں اس کی ملکیت پر مقدمہ چلنے لگا۔یہ مقدمہ کچھوے کی رفتار سے چلا اور اٹھارہ سال بعد 2010ء میں فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹ نے بابری مسجد کا علاقہ تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ عدالت نے مسلم نقطہ نظر انداز کرکے محض ’’عقیدے‘‘ (آستھا) کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا۔ ایسے مضحکہ خیز عدالتی فیصلے کی نظیر پہلے کبھی نہیں ملتی۔ یوں عدل و انصاف، قانون اور آئین کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔مقام حیرت کہ سپریم کورٹ نے بھی اسی پالیسی کو برقرار رکھا ۔یوں اکثریت نے من مانی کر ڈالی۔فیصلے نے ثابت کر دیا کہ بھارت میں مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں ۔اور یہ کہ مسلمانوں کی امیدوں اور سیکورٹی سے زیادہ آستھا اہم ہے۔اب جس کی لاٹھی ،اس کی بھینس کا نظریہ بھارت میں رائج ہو چکا۔

دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں جب جرمن حکمران ہٹلر مشرقی یورپ پر حملہ آور ہوا تو برطانیہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس پر وزیراعظم چرچل نے عوام سے پوچھا ’’کیا آپ کے ملک میں عدل و انصاف کا نظام صحیح طرح کام کررہا ہے؟ اثبات میں جواب ملنے پر چرچل نے کہا ’’پھر ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔‘‘ اسی طرح بابری مسجد بھی عدل و انصاف کا ایک اہم مسئلہ بن چکی۔جمعیت علماء ہند نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سب سے پہلے نومبر 2010ء میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ ہم نے کثیر رقم صرف کرکے وکلا کی ایک ٹیم بنائی جس میں غیر مسلم وکیل بھی شامل تھے۔

سوال: سپریم کورٹ نے ایک مفاہمتی پینل تشکیل دیا تھا۔ خبر ہے کہ آپ نے پینل کو رام مندر تعمیر کرنے کی پیش کش کر دی تھی؟

جواب: میں نے پینل کی وساطت سے ہندو جماعتوں کو یہ پیش کش کی تھی کہ بابری مسجد جس رقبے پہ واقع تھی،وہاں اسے ازسرنو تعمیر ہونے دیجیے۔ اس کے بدلے آپ مسجد کے اردگرد واقع رقبے پر اپنی تعمیرات کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر رام چبوترہ، سیتا کی رسوئی وغیرہ۔ لیکن ہندو جماعتوں نے میری پیش کش قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ اس بات پر اڑے رہے کہ بابری مسجد کی جگہ ہی رام مندر تعمیر ہوگا۔

سوال: یہ بھی سننے میں آیا کہ (ہندوؤں کے مشہور روحانی لیڈر) سری روی شنکر نے مسلمانوں کو ایک پیش کش کی تھی؟

جواب: جی ہاں۔ سری روی شنکر کا کہنا تھا کہ مسلمان بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دے دیں۔ اس کے بدلے ہم متھرا میں کرشن جی کی جنم بھومی پر واقع مسجد اور بنارس میں مندر کے ساتھ موجود مسجد کو نہیں چھیڑیں گے۔ انہوںنے یہ پیش کش بھی کی کہ نئی دہلی میں واقع قدیم مساجد کا کنٹرول مسلمانوں کو دیا جاسکتا ہے تاکہ وہ وہاں عبادت کرسکیں۔ لیکن مجھ سمیت دیگر مسلم رہنماؤں نے سری روی شنکر کی پیش کش قبول نہیں کی۔ ہم چاہتے تھے کہ جس جگہ بابری مسجد استادہ تھی، وہیں نئی مسجد تعمیر کی جائے۔ انہوں نے زبردستی بابری مسجد پر قبضہ کیا اور اس کے اندر بت رکھ دیا، ہم نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے مسجد کو تالا لگا دیا، ہم خاموش رہے۔ انہوںنے تالا توڑا اور مسجد شہید کردی، ہم چپ رہے۔ لیکن اب ہم نے ان پر واضح کردیا کہ مسجد ازسرنو تعمیر کرکے ہی دم لیں گے۔ لیکن آپ زور وجبر سے اس جگہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو کر لیجیے کہ آپ طاقت اور قوت والے ہیں۔چناں چہ 9 نومبر کی صبح زبردستی بابری مسجد کی زمین مسلمانوں سے ہتھیا لی گئی۔

سوال: کچھ عرصہ قبل سنی وقف بورڈ کے صدر، ظفر احمد فاروقی کا یہ بیان سامنے آیا کہ اگر مودی حکومت ’’مقامات عبادت ایکٹ 1991ء ‘‘کو سختی سے نافذ کردے، تو بورڈ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر پر اعتراض نہیں کرے گا۔ آپ کا کیا موقف ہے؟

جواب: مقامات عبادت ایکٹ 1991ء یقیناً سختی سے نافذ ہونا چاہیے۔ اسی طرح کسی کو یہ جرأت نہیں ہوگی کہ وہ ایک جائے عبادت کو نقصان پہنچاسکے۔ لیکن اس کے بدلے بابری مسجد کی جگہ سے دستبردار ہو جانا حماقت تھی۔ دراصل ظفر احمد فاروقی مالی کرپشن کے کیسوں میں ملوث ہیں۔ اترپردیش حکومت ان پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ بابری مسجد سے دست بردار ہوجائیں ورنہ ان کے کیسوں کی فائل کھل جائے گی۔ یہ سراسر بلیک میلنگ کا معاملہ تھا۔

سوال:بھارتی مسلمانوں کی اب کیا حکمت عملی ہو گی؟

جواب:میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانان ِبھارت نہایت نازک اور کڑے حالات سے دوچار ہیں۔اب تو واضھ ہو گیا کہ انھیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل سکتا۔گویا وہ مستقبل میں زیادہ مشکلات اور مصائب کا شکار ہوں گے۔فی الحال ہم نے انھیں صبر کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ ہندو مسلم فساد نہ ہو پائے۔ہم جلد مسائل سے نمٹنے کی خاطر جامع حکمت عملی ترتیب دیں گے۔

سوال: آج (مقبوضہ ریاست) کشمیر میں حالات خراب ہیں۔ آپ مسئلہ کشمیر کے بارے میں کیا موقف رکھتے ہیں؟

جواب: بھارتی حکمران طبقے کو چاہیے تھا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ پیار و محبت کا دوستانہ سلوک رکھتی۔ لیکن اس نے تو کشمیر کو فوجی چھاؤنی بنا ڈالا۔ پھر وہاں ترقیاتی پروگرام بھی نہیں کرائے۔ اسی لیے کشمیر میں غربت اور بیروزگاری عام ہے۔ آپ جھاڑکھنڈ، بہار، ہریانہ غرض کسی بھی بھارتی ریاست میں چلے جائیے، وہاں آپ کو سینکڑوں فیکڑیاں نظر آئیں گی جن میں ہزارہا لوگ کام کرتے ہیں۔ لیکن وادی کشمیر میں جائیے تو وہاں تنگدستی اور مایوسی ملتی ہے۔ ٹوٹے پھوٹے مکانات دکھائی دیتے ہیں۔ قتل و غارت گردی نظر آتی ہے۔یہ درست ہے کہ وادی میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔ لیکن دیگر بھارتی ریاستوں میں بھی تو ایسی ہی تحریکیں موجود ہیں۔ (بھارتی) پنجاب میں بھی سکھوں نے علیحدگی کی تحریک چلائی۔ حکومت نے وہاں بھی فوج بھیج کر اسے چھاؤنی میں بدل ڈالا ۔ پھر وہ تحریک ختم ہوگئی۔ پنجاب میں اب روپے پیسے کی ریل پیل ہے۔ لیکن کشمیر میں تحریک ختم نہیں ہوسکی۔ آخر کیا وجہ ہے؟ اسباب کیا ہیں؟ بھارتی حکمران کو یہ اسباب دریافت کرنے چاہیں۔

سوال: پچھلے ایک سو برس میں جمعیت علماء ہند کی کارکردگی کیسی رہی؟

جواب: آزادی سے قبل ہم انگریز سامراج سے لڑتے رہے۔ ہماری کوشش تھی کہ ہماری لڑائی میں ہر رنگ، نسل اور مذہب کے لوگ شریک ہوں۔ ہم نے تمام ہندوستانیوں کو انسانی سطح پر متحد کردیا۔ تحریک خلافت میں بھی جمعیت نے اہم کردار ادا کیا۔

سوال: بھارت کی تحریک آزادی میں کیا مسلمانوں کا بھی نمایاں حصہ ہے؟

جواب: جی بالکل۔ کانگریس کی بنیاد 1885ء میں رکھی گئی۔ اس سے پہلے ہی 1883ء میں مولانا رشید احمد گنگوہیؒ یہ فتویٰ دے چکے تھے کہ اگر ایمان متاثر نہ ہو، تو مسلمان ہندوؤں کے ساتھ مل کر انگریز استعمار کے خلاف لڑسکتے ہیں۔ ان کا استدلال تھا کہ ہندواور مسلم باہمی تجارت کرتے ہیں۔ لہٰذا واحد دشمن کے ساتھ لڑنے میں بھی مضائقہ نہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ کانگریس شروع میں انگریز سے دوستی اور مفاہمت کرنے کی سعی کرتی رہی لیکن جمعیت علماء ہند صرف اور صرف ہندوستان کی آزادی چاہتی تھی۔

سوال: جمعیت نے 1924ء میں آزادی کا مطالبہ کردیا تھا۔کیا وہ یہ مطالبہ کرنے والی پہلی تنظیم ہے؟

جواب: بھائی، یہ مطالبہ تو بہت پہلے ہوچکا تھا۔1803ء میں برطانوی استعمار نے اعلان کیا تھا ’’قوم بادشاہ کی، رعایا اللہ کی اور حکم کمپنی بہادر کا!‘‘ تبھی شاہ عبدالعزیز نے فتویٰ جاری کیا کہ ہندوستان میں مسلمان محکوم بنائے جاچکے۔ لہٰذا اب ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ انگریز سے جنگ کرے۔ تب طاقت ور ایسٹ انڈیا کمپنی کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرتا تھا۔ بہادری کا مظاہرہ کرنے پر شاہ عبدالعزیز کو زہر دے دیا گیا لیکن انہوں نے آواز حق بلند کرنے سے گریز نہیں کیا۔

سوال: بھارت کی تحریک آزادی میں جمعیت علماء ہند نے جو کردار ادا کیا ،بھارتی میڈیا اسے بالکل سامنے نہیں لاتا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: آپ نے درست فرمایا۔ یہ ایک گہری سازش ہے تاکہ تحریک آزادی ہندوستان میں مسلمان رہنماؤں کی جو شاندار خدمات ہیں،وہ پس پردہ چلی جائیں۔ اس سازش میں شدت پسند ہندو ہی نہیں کانگریسی لیڈر بھی شریک ہیں۔ کانگریس میں شروع سے انتہا پسند ہندوؤں کی رو بھی موجود رہی ہے۔

سوال: آج بی جے پی کے رہنما کھلے عام کہتے ہیں کہ جو مسلمان ان کے حامی نہیں انہیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔ آپ کا کیا نقطہ نظر ہے؟ جمعیت نے تو نظریہ پاکستان اور محمد علی جناح کی مخالفت تھی۔

جواب: ماضی میں جمعیت ہندو مہاسبھا اور ویرساروکر کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہے۔ ملک و قوم کی بھلائی کے لیے ہم بی جے پی سے بھی مفاہمت کرسکتے ہیں۔ وقت بدل گیا ہے مگر ہمارے نظریے میں تبدیلی نہیں آئی۔

سوال: لیکن ہندوؤں کی اکثریت اب جمعیت علماء ہند کو کسی خاطر میں نہیں لائی۔

جواب: شدت پسند سیاست دانوں کی چال بازیوں کے باعث مسلم دشمن ذہنیت بھارت میں جنم لے چکی۔ آزادی کے وقت گاندھی جی، پنڈت نہرو اور مولانا ابوالالکلام آزاد نے جمہوری و سیکولر نظام حکومت قائم کردیا۔ اسی لیے شدت پسند ہندو جماعتیں طویل عرصے پنپ نہیں سکیں۔ لیکن 1984ء سے رتھ یاتراؤں کے آغاز کے بعد وہ بھارت میں ہندو مسلم فساد کی آگ بھڑکانے میں کامیاب رہیں۔ وہ پھر مذہب کے نام پر ووٹ حاصل کرنے لگیں۔ انہوں نے مذہبی اختلافات کی آگ کو ہوا دی اور یہ پروا نہیں کی کہ اس سے ملک و قوم تباہ ہوسکتے ہیں۔ اب تو برسراقتدار پارٹی سیکولر آئین کا حلیہ بھی بگاڑنا چاہتی ہے۔

سوال: جمعیت نے سخت معاندانہ ماحول کا مقابلہ کرنے کی خاطر کوئی پالیسی بنائی ؟

جواب: ہم اپنی پالیسیوں کے مطابق مسلمانوں کی سماجی و تعلیمی لحاظ سے خدمت کرتے رہیں گے۔ تبلیغ اسلام بھی ہمارا مشن ہے۔

سوال: دور جدید میں مدارس پر تنقید ہورہی ہے۔ بعض دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ ان کی اب ضرورت نہیں رہی۔ اس ضمن میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟

جواب: ہندوستان میں مدارس قیمتی تاریخ رکھتے ہیں۔ اسلامی عقائد کی حفاظت، ملکی آزادی اور انسانیت کی بنیاد پر معاشرت کے قیام میں ان کا اہم کردار ہے۔ دراصل مغربی سامراج سے متاثر یا ان کا ایجنٹ طبقہ مدارس کو بدنام کررہا ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ وہاں اساتذہ طلبہ کا استحصال کرتے ہیں۔ایسا کہنے والے مدارس کے مقاصد سے ناواقف ہیں۔ مدرسہ جدید سکول کی طرح محض تعلیم گاہ نہیں بلکہ تربیت گاہ بھی ہوتا ہے۔ وہاں تعلیم دینے کے ساتھ طلبہ و طالبات کو آداب زندگی بھی سکھائے جاتے ہیں۔انہیں سکھایا جاتا ہے کہ چھوٹے بڑے سے کیونکر پیش آنا ہے۔ انہیں اخلاقی تربیت دی جاتی اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے۔

ہم یہی تو رونا روتے ہیں کہ پچاس ساٹھ سال قبل استاد اور شاگرد کا جو قریبی تعلق تھا، وہ اب نہیں رہا۔ نتیجے میں آج کے طلبہ میں نہ پہلے جیسی تواضح و پختگی ہے، نہ آداب کریمانہ ہیں اور نہ خدمت خلق کا جذبہ۔ یہ دیکھیے کہ مولانا محمود الحسنؒ اپنے استاد محترم، مولانا نانوتویؒ کا پاخانہ صاف کرتے رہے اور شیخ الہند بن گئے۔ اسی طرح مولانا سید حسین احمد مدنی اپنے استاد محترم، شیخ الہند کے گھر کی گندی نالیاں صاف کرتے تھے اور شیخ الحدیث کہلائے۔ غرض جس بات کو مدارس کا عیب بتایا جارہا ہے، ہم اسے مدرسوں کا طرۂ امتیاز سمجھتے ہیں۔ یہی تربیت پاکر ایک نوخیز لڑکا کامل انسان بنتا ہے۔ یہ مدارس کی تربیت کا ہی اثر ہے کہان کے طلبہ سکول کالج کے لڑکوں کی طرح اساتذہ کی پٹائی نہیں کرتے، بسوں کو آگ نہیں لگاتے اور نہ شیشے توڑتے ہیں۔ ہاں یہ طلبہ مدارس سے نکل کر یتیموں کی دستگیری کرتے اور نادار بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔

نام نہاد دانشور یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ مدارس کے نصاب میں یگانگت نہیں۔ ارے جناب، نوع بہ نوع نصاب تو جدید تعلیم گاہوں میں ملتے ہیں۔ دنیا بھر کے مدارس میں کم و بیش ایک ہی قسم کا نصاب تعلیم رائج ہے۔ ہندوستان سے لے کر برازیل تک مدرسوں میں قرآن و حدیث، فقہ اور عام علوم کی تقریباً یکساں کتب پڑھائی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ اختلاف کے باوجود بریلوی مدارس میں بھی یہی کتب ملیں گی۔

سوال: کہا جاتا ہے کہ مدارس کے طلبہ بھارت میں فرقہ وارانہ فساد پھیلاتے ہیں۔

جواب: یہ سراسر لغو بات ہے۔ ماضی کو دیکھئے، ہندوستان کے مسلمان حکمران اپنی انتظامیہ اور فوج میں غیر مسلموں کو اہم عہدوں پر فائز کرتے رہے۔ بابر بادشاہ نے ہمایوں کو وصیت کی تھی ’’بیٹے، ہندوستان میں مختلف مذاہب کے باشندے آباد ہیں۔ عدل و انصاف کرنے میں ہر مذہب و ملت کے طریق کا خیال رکھو۔ انصاف سے کام لو اور ظلم ہرگز نہ کرو۔ مندر اور مزار برباد نہ کیے جائیں۔ شیعہ سنی کے جھگڑوں سے چشم پوشی کرو ورنہ اسلام کمزور ہوجائے گا۔‘‘ اورنگزیب عالمگیر کٹر حکمران کہلاتا ہے۔ مگر جب اس سے کہا گیا کہ کوئی حکومتی عہدہ کسی غیرمسلم کے سپرد نہ کرو تو اورنگزیب نے تعجب سے کہا ’’دنیا کے انتظامی امور انجام میں مذہب نہیں لیاقت و قابلیت مدنظر رکھتے ہیں۔‘‘ اس کے اہم منصب داروں میں کئی ہندو تھے مثلاً ساہو پسر راجا بستا، جے سنگھ، جسونت سنگھ، شیوا جی کا داماد راجندر جی۔ منشی کیول رام بٹالوی نے ایسے ایک سو نام بتائے ہیں۔ سید احمد شہیدؒ نے بھی اپنے توپ خانے کا افسر راجا رام راجپوت کو بنایا تھا۔

دراصل یہ اسلام کی تعلیم ہے کہ مذہب کی بنیاد پر نہیں لڑا جائے۔تاریخ گواہ ہے، ہندوستان میں مسلمان اور بت پرست مل جل کر زندگی گزارتے تھے۔ اکا دکا واقعات کے علاوہ لوگ پیار محبت سے رہتے ۔ معاملات میں امانت و دیانت کا دخل تھا۔ مگر انگریزوں نے آکر معاشرے کا امن تباہ کردیا۔ انہوں نے ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت مسلمانوں اور ہندوؤں میں فساد کرادیا۔ انہی کے پروردہ شدت پسند ہندو آج نعرہ لگاتے ہیں۔ ’’ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگا۔‘‘ نفرت، فساد اور تقسیم پر مبنی یہ ولایتی نظریہ اب کروڑوں ہندوؤں کے اذہان میں راسخ ہوچکا۔ مغربی میڈیا بھی اسلام کو بدنام کرنے میں پیش پیش ہے۔ حالانکہ اسلام تو ظالم کا ہاتھ توڑنے اور مظلوم کی دست گیری کرنے میں سب سے آگے رہتا ہے۔