حدیث توسل آدم علیہ السلام کی ایک سند کی تحقیق!

تحقیق :اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

ایک روایت جو امام ابن الجوزیؒ نے اپنی تصنیف الوفاء بفضائل مصطفیٰ میں لائے ہیں ہم اسکے ہر ہر راوی کی توثیق پیش کرتے ہیں

علامہ ابن تیمیہ نے اس روایت کو امام ابن الجوزی سے باسند متصل بحوالہ امام ابن الجوزی کی تصنیف الشفاء سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

الشیخ ابو الفرج ابن الجوزی فی (الوفاء بفضائل المصطفیٰ) : حدثنا أو جعفر محمد ابن عمرو، حدثنا أحمد بن سحاق بن صالح، ثنا محمد بن صالح، ثنا محمد ابن سنان العوقي، ثنا إبراهيم بن طهمان، عن بديل بن ميسرة، عن عبد الله بن شقيق، عن ميسرة قال: قلت: يا رسول الله، متى كنت نبياً ؟ قال: (( لما خلق الله الأرض واستوى إلى السماء فسواهن سبع سماوات ، وخلق العرش،كتب على ساق العرش: محمد رسول الله خاتم الأنبياء، وخلق الله الجنة التي أسكنها آدم وحواء، فكتب اسمي على الأبواب، والأوراق والقباب، والخيام،وآدم بين الروح والجسد،فلما أحياه الله تعالى: نظر إلى العرش فرأى اسمي فأخبره الله أنه سيد ولدك، فلما غرهما الشيطان ، تابا واستشفعا باسمي إليه .

ترجمہ: حضرت میسرہ بیان کرتے ہیں کہ مین نے عرض کیا یا رسول اللہ!آُپ کب نبی تھے؟ فرمایا، جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق فرمائی پھر آسمان کی طرف استواء فرمایا اور سات آسمان بنائے اور عرش پیدا فرمایا اور ساق عرش پہ لکھا محمد رسواللہ خاتم الانبیاء اور جنت بنائی جس مین آدم اور حوا علیہما السلام کو ٹھہرایا، پھر دروازوں ، پتوں قبوں اور خیموں پر میرا نام مکتوب فرمایا۔ اس وقت آدم روح و جسد کے درمیان تھے پھر ان میں روح ڈالی تو انہوں نے عرش کی طرف نظر اٹھائی چنانچہ اس پر میرا نام لکھا دیکھا اللہ تعالیٰ نے انکو خبر دی یہ تیری اولاد کا سردار ہے

پھر جب شیطان نے ان (حضرت آدم علیہ السلام) کو دھوکا دیا تو انہوں نے توبہ کی اور میرے اسم گرامی سے بارگاہ الہی میں وسیلہ پکڑا

سند کی تحقیق پیش خدمت ہے

پہلا راوی :ابو جعفر

امام ذھبی ؒ انکو الطبقات المحدثین میں انکو ثقہ فرماتے ہیں

1246 – ومحدث بَغْدَاد أَبُو جَعْفَر مُحَمَّد بن عَمْرو بن البخْترِي الرزاز ثِقَة

(الكتاب: المعين في طبقات المحدثين :امام الذهبي)

اور سیر اعلام النبلاء میں بھی انکو مسند العراق الثقہ کہہ کر توثیق کرتے ہیں

3055- ابن البَخْتَرِيّ:

مسندُ العِرَاق الثِّقَة المُحَدِّث الإِمَامُ, أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بنُ عَمْرِو بنِ البَخْتَرِيِّ بنِ مُدْرِك البغدادي الرزاز.

(سیر اعلام النبلاء امام ذھبی برقم ۳۰۵۵)

دوسراراوی : احمد بن اسحاق

امام ذھبی ؒ تاریخ الاسلام میں امام ابن ابی حاتم سےنقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میرے والد (امام ابی حاتم) سے لکھا ہے اور وہ صدوق ہیں

نیز امام دارقطنی بھی انکی تعریف کرتے ہیں

6- أَحْمَد بن إِسْحَاق بن صالح .

أبو بكر البغدادي.

عن: مسلم بن إِبْرَاهِيم، وجنْدل بن والق، وَقُرَّةَ بن حبيب، وطبقتهم.

وعنه: ابن مَخْلَد، وأبو جعفر بن البَخْتَرِيّ، وعبد الله بن إِسْحَاق الخُرَاسَانِيّ، وأبو عَمْرو بن السَّمَّاك.

قَالَ اب أبي حاتم: كتبت عنه أنا وأبي، وَهُوَ صدوق.

أثنى عليه الدَّارَقُطْنيّ.

تُوُفِّي في أول سنة إحدى وثمانين.

(تاریخ الاسلام امام ذھبی برقم ۶)

انکے ترجمے میں اہم بات یہ ہے کہ انکے شاگردوں میں محمد بن مخلد کا نام ہے یعنی ان سے روایت کرنے والوں میں محمد بن مخلد بھی ہے اورہم نے انکے شاگردوں میں محمد بن مخلد کا نام کیوں زکر کیا ہے ؟ جبکہ اس حدیث کی سند میں تو یہ راوی نہیں لیکن یہ نقطہ اگلے راوی کے ترجمے میں بیان کریں گے

امام خطیب بغدادی نے بھی انکی توثیق نقل کی ہیں

1898- أحمد بن إسحاق بن صالح بن عطاء أبو بكر الوزان حدث ببغداد، وسر من رأى عن مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، والربيع بن يحيى الأشناني، وقرة بن حبيب القنوي، وهريم بن عثمان، وخالد بن خداش، وعلي ابن المديني، وسعيد بن محمد الجرمي، وجندل بن والق، وغيرهم.

روى عنه: محمد بن مخلد العطار، ومحمد بن عمرو الرزاز، وعبد الله بن إسحاق البغوي.

وقال عبد الرحمن بن أبي حاتم، كتبت عنه مع أبي بسر من رأى، وهو صدوق.

وقال الدارقطني لا بأس به.

(تاریخ بغداد برقم ۱۸۹۸)

تیسرا راوی : محمد بن صالح (انکے بارے یہ یاد رکھنا ہے یہ اہل عراق سے ہیں اور بغدادی ہیں )

محمد بن صالح ابو بکر البغدادی المعروف کلیجہ کے لقب سے مشہور تھےحافظ انکے بارے میں فرماتے ہیں الحافظ حجت المشہور

اسکے بعد امام دارقطنیؒ، امام نسائی ؒ سے توثیق پیش کرتے ہیں

کیونکہ کتب رجال میں اس سند کے مطابق محمد بن صالح کے شاگردوں اور شیوخ میں یہ نام نہیں ملتے کہ آسانی سے تعین ہو جاتا پر کیونکہ سب ثقہ اور کثیر السماع ہیں کہ محدثین کا انکے پورے شاگرد اور شیوخ کا نام لکھنا ممکن نہیں تھا اسکا یہ مطلب نہیں کہ انکا تعین کرنا کوئی نا ممکن بات ہے

سند میں فقط انکا نام محمد بن صالح ہے اور انکا تعین ہم نے صحیح کیا ہے اسکو ثابت کرنے کے لیے ہم کچھ قرائن ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں :

اورانکے یعنی محمد بن صالح المعروف کلیجہ کے شاگردوں میں بھی محمد بن مخلد ہیں یعنی ان سے محمد بن مخلد نے روایت لی ہے

اوران سے پچھلے راوی احمد بن اسحاق سے بھی محمد بن مخلد روایت لیتے ہیں

نیز امام ذھبی نے تاریخ الالسام میں انکی توثیقات نقل کی ہیں

567- محمد بْن صالح .

أبو بَكْر الأنماطيّ الْبَغْدَادِيّ كَيْلَجَة. حافظ حُجّة مشهور.

طوَّف وسمع: عفّان بْن مُسْلِم، وسعيد بْن أبي مريم، ومسلم بن إبراهيم، وطبقتهم.

روى عنه: المحاملي، ومحمد بن مخلد، وإسماعيل الصفار.

قال أبو داود: صدوق.

توفي بمكة سنة إحدى وسبعين.

وقد سماه ابن مخلد في بعض المواضع: أحمد .

وقال النسائي: أحمد بن صالح بغداديّ ثقة.

وقال الدّار الدارقطني كذلك، وزاد فقال: اسمه محمد بن صالح.

وقال الخطيب: هو محمد بلا شك .

(تاریخ الاسلام للذھبی)

امام ذھبی نے محمد بن صالح کے شاگردوں میں بھی محمد بن مخلد کا نام لکھا ہے

اور انکے ترجمے سے قبل ہم نے پچھلے راوی احمد بن اسحاق بن صالح کے ترجمے میں بھی بیان کیا ہے کہ ان سے بھی محمد بن مخلد روایت لیتے ہیں اور اب تعین کرنے میں کوئی مشکل نہیں کہ محمد بن صالح سے مراد المعروف کلیجہ ہی ہیں نیز ہم اس راوی کے تعین کو مزید مظبوط بنانے کے لیےایک اور قرینہ بھی پیش کرینگے اگلے راوی کے ترجمے میں

چوتھا راوی : محمد بن سنان

امام ابن حبانؒ انکو ثقات میں شمار کرتے ہیں (وہ منفرد نہیں )

اور انکے ترجمے میں ایک اہم بات یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ان سے اہل عراق والے روایت کرتے ہیں

15284 – مُحَمَّد بن سِنَان العوقي الْبَاهِلِيّ من أهل الْبَصْرَة وعوقة مَوضِع بهَا يروي عَن همام بن مُنَبّه ومُوسَى بن عَليّ بن رَبَاح روى عَنهُ أهل الْعرَاق مَاتَ سنة ثِنْتَيْنِ أَو ثَلَاث وَعشْرين وَمِائَتَيْنِ

(الثقات لا ابن حبان)

ہم نے آپکو ان سے پچھلے راوی محمد بن صالح البغدادی کے بارے میں یہ بات بتا چکے ہیں کہ وہ اہل عراق سے ہیں اور امام ابن حبان نے محمد بن سنان کے ترجمے یہ بات بیا ن کر دی ہے کہ ان سے اہل عراق والے روایت کرتے ہیں

تو یہ بات اب بالکل تحقیقا ثابت ہو گئی کہ ہم نے محمد بن صالح المعروف کلیجہ کا تعین بالکل صحیح کیا ہے

اسکے علاوہ امام ابن ابی حاتم نے بھی اپنے والد سے انکی توثیق صدوق کے ساتھ کی ہے

1516 – محمد بن سنان العوقى أبو بكر البصري روى عن همام وابراهيم بن طهمان وعلى بن مسعدة وجهضم اليمامى سمع منه أبي وروى عنه سمعت أبي يقول ذلك، حدثنا عبد الرحمن نا أبي حدثنا محمد بن عبد الله بن ابى الثلج قال ما رأيت عفان يثنى على احد الا على محمد بن سنان العوقى لا بلغه انه حدث فقال عن مثله فاكتبوا، سمعت أبي يقول هو صدوق روى عنه أبو بدر عباد بن الوليد الغبرى.

(الجرح و التعدیل لا ابن ابی حاتم)

پانچواں راوی : ابراھیم بن طھمان ہیں

امام ابن شاھین انکو ثقات میں درج کرتے ہیں

38 – إِبْرَاهِيم بن طهْمَان ثِقَة وَقَالَ مرّة أُخْرَى صَالح

(الثقات لا ابن شاھین)

امام عجلی بھی انکو ثقات میں شمار کرتے ہوئے کہتے ہیں ان میں کوئی حرج نہیں

27- إبراهيم بن طهمان بن شعبة الخراساني: لا بأس به.

(الثقات لا ابن علجلی)

اس کے علاوہ امام ابن ابی حاتم نے بھی امام یحیی ٰ بن معین سے بھی لا باس بہ کی توثیق نقل کی ہے اور محدثین کےنزدیک امام ابن معین (متشدد امام ) کی لا باس بہ کی توثیق ثقہ کے برابر درجہ رکھتی ہے

307 – إبراهيم بن طهمان أبو سعيد الهروي روى عن أبي إسحاق الهمداني وقتادة وأبي الزبير، روى عنه عبد الرحمن بن مهدي ومعن بن عيسى وأبو عامر العقدي وأبو داود سمعت أبي يقول ذلك.

حدثنا عبد الرحمن نا أبي قال سألت يحيى بن معين عن إبراهيم ابن طهمان قال لا بأس به.

(الجرح و تعدیل لا ابن ابی حاتم)

چھٹا راوی: بدیل بن میسرہ

امام ابن حبان انکو الثقات مین شمار کرتے ہیں اور یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ ان سے شعبہ روایت کرتے ہیں اما م شعبہ اپنے نزدیک صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں تو امام ابن حبان کے ساتھ امام شعبہ سے بھی اس راوی کی توثیق ثابت ہو گئی

6975 – بديل بن ميسرَة الْعقيلِيّ من أهل الْبَصْرَة يروي عَن عَبْد الله بن شَقِيق وَأبي الجوزاء روى عَنهُ شُعْبَة وَحَمَّاد بْن زيد مَاتَ سنة ثَلَاثِينَ وَمِائَة وَقد قيل سنة خمس وَعشْرين وَمِائَة

(الثقات لا ابن حبان، و روی عنه شعبہ )

امام عجلی بھی انکو ثقہ فرماتے ہیں

138- بديل بن ميسرة العقيلي: “بصري”، ثقة.

(الثقات امام عجلی )

نیز امام ابن ابی حاتم اپنے والد امام ابی حاتم سے بھی انکی توثیق کرتے ہوئے صدوق کے کلمات لکھتے ہیں اور امام یحییٰ بن معین سے ثقہ کے کلمات

1702 – بديل بن ميسرة العقيلي بصري روى عن أنس وعبد الله بن شقيق وشهر روى عنه شعبة وهشام وحماد بن زيد [ومعمر] وأبان العطار وإبراهيم بن طهمان والحسن بن أبي جعفر وابنه عبد الرحمن ومحمد بن أبي حفصة سمعت أبي يقول ذلك.

حدثنا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين قال: بديل بن ميسرة ثقة.

سمعت أبي يقول: بديل بن ميسرة صدوق.

(الجرح و تعدیل لا ابن ابی حاتم)

ساتواں راوی: عبداللہ بن شفیق

امام ابن حبان انکو ثقات میں درج کرتے ہیں

3579 – عَبْد اللَّه بن شَقِيق الْعقيلِيّ عداده فِي أهل الْبَصْرَة يكنى أَبَا عَبْد الرَّحْمَن وقِيلَ أَبَا عَامر يَرْوِي عَن عَائِشَة وَأبي هُرَيْرَة روى عَنهُ الْجريرِي وخَالِد الْحذاء مَاتَ سنة ثَمَان ومائه وَهُوَ وَالِد عَامر الْعقيلِيّ الَّذِي رَوَى عَنْهُ يحيى بْن أبي كثير(الثقات لا ابن حبان )

امام عجلی بھی انکو ثقات میں درج کرتے ہیں

824- عبد الله بن شقيق العقيلي: ثقة.(الثقات امام عجلی )

اس کے علاوہ امام ابن ابی حاتم اپنے والد اور امام ابن معین سے بھی انکی توثیق نقل کرتے ہیں

376 – عبد الله بن شقيق العقيلي البصري روى عن أبي هريرة [وابن عمر – 2] وابن عباس ويقال إن عبد الله بن شقيق قال جاورت أبا هريرة سنة، وروى عن عائشة، روى عنه بديل بن ميسرة وخالد الحذاء والجريري وعمران بن حدير سمعت أبي يقول ذلك.

نا عبد الرحمن نا صالح بن أحمد [بن حنبل – 3] نا علي – يعني ابن المديني – قال سمعت يحيى يعني ابن سعيد القطان يقول: كان سليمان التيمى سيئ الرأي في عبد الله بن شقيق.

نا عبد الرحمن أنا أبو بكر ابن ابي خيثمة (536 ك) فيما كتب إلي قال سمعت يحيى بن معين يقول: عبد الله ابن شقيق من خيار المسلمين، لا يطعن في حديثه.

نا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين أنه قال: عبد الله بن شقيق ثقة.

نا عبد الرحمن قال سألت أبي عن عبد الله بن شقيق العقيلي فقال: [بصري – 3] ثقة.

نا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن عبد الله بن شقيق

العقيلي فقال بصري ثقة.(الجرح و تعدیل لا ابن ابی حاتم)

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس سند کے سارے راوی متفقہ طور پر ثقہ ہیں اور محمد بن صالح اس سند میں المعروف کلیجہ ہے

کیونکہ اس سند میں احمد بن اسحاق اور محمد بن صالح المعروف کلیجہ دونوں کا مشترکہ شاگرد محمد بن مخلد ہے

اور دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اس سند میں محمد بن صالح کے شیخ محمد بن سنان سے اہل عراق والے روایت کرتے ہیں اور محمد بن صالح کلیجہ خود بغدادی ہیں اور اہل عراق سے ہیں

تو اس سے معلوم ہوا یہ تعین مظبوط دلائل پر ہو ا ہے

اب ہم اس روایت کی توثیق کچھ محدثین سے پیش کرتے ہیں

سب سے پہلے وہابیہ کا پسندیدہ ابن تیمیہ نے اس روایت کو نقل کیا پھر اسکے بعد ایک اور سند سے اسکی شاھد نقل کی ہے جو کمزور ہے اسکے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ :

فَهَذَا الْحَدِيثُ يُؤَيِّدُ الَّذِي قَبْلَهُ وَهُمَا كَالتَّفْسِيرِ لِلْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ

یعنی ابن تیمیہ لکھتا ہے : یہ حدیث ، گزشتہ حدیث کی تائید کرتی ہے اور دونوں حدیثین احادیث صحیہ کی تفسیر کی حیثیت رکھتی ہیں

(یہ یاد رہے یہ حدیث ابن تیمیہ کے نزیدک استشہاد اور اعتبار کے لے لائق ہے ،کیونکہ موضوع روایت محدثین کے نزیدک قابل استشہاد نہیں ہوتی )

اور اس سے پہلے ابن تیمیہ سے اس روایت پر ایک خاص سند (جو کے مستدرک میں موجود ہے ) اس پرجرح بھی ثابت ہے لیکن اس سے ابن تیمیہ نے رجوع کر لیا جب مستدرک کی تائید میں ایک صحیح سند سے روایت دیکھی تو ان دونوں روایات کو صحیح احادیث کی تفسیر کے طور پر قبول کر لیا اور

ابن تیمیہ بھی بعد میں توسل النبی کے قائل بھی ہو چکا تھا جیسا کہ انکا شاگرد امام ابن کثیر نے البدایہ میں یہ لکھا ہے کہ ابن تیمیہ نے کہا کہ : حضرت نبی کریم ؐسے استغاثہ بمعنی مفہوم نہیں کیا جاسکتا ، لیکن حضرت محمد ؐکے حضور توسل اور سفارش کی جا سکتی ہے

(امام ابن کثیر کی تاریخ ابن کثیر کا یہ اسکین نیچے موجود ہے )

اسکے بعد دوسرے اعظیم محدث امام ابویوسف الصالحی الشافعی نے بھی اس روایت کی توثیق کرتے ہوئے اسکو باسند جید کہہ کر روایت نقل کی ہے

وروى ابن الجوزي بسند جيد لا بأس به، عن ميسرة رضي الله تعالى عنه قال: قلت يا رسول الله، متى كنت نبياً؟ قال: «لمّا خلق الله الأرض واسْتَوى إِلَى السَّماءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَماواتٍ وخلق العرش كتب على ساق العرش: محمد رسول الله خاتم الأنبياء.

وخلق الله تعالى الجنة التي أسكنها آدم وحواء، فكتب اسمي على الأوراق والأبواب والقباب والخيام، وآدم بين الروح والجسد، فلما أحياه الله تعالى نظر إلى العرش فرأى اسمي، فأخبره الله تعالى إنه سيّد ولدك. فلما غرّهما الشيطان تابا واستشفعا باسمي إليه

(سبل الهدى والرشاد امام یوسف الصالحی الشافعی المتوفیٰ ۹۴۲ ھ)

دعاگو:خادم الحدیث اسد الطحاوی الحنفی البریلوی ۳ مئی ، ۲۰۱۹)