حافظ ملت اور ملی قیادت و شیرازہ بندی

از: حضرت مولانا نفیس احمد مصباحی جامعہ اشرفیہ مبارکپور ،یوپی۔

تخلیق آدم سے لے کر آج تک اس خاکدانِ گیتی پر بے شمار انسانوں نے جنم لیا ،اور اپنی حیاتِ مستعار کے مقررہ ایام گذارنے کے بعد اس جہانِ فانی کو الوداع کہا ،مگر ان میں بہت کم ایسی ہستیاں گذریں جن کے ذہن و دماغ پر اپنی ذات کے بجائے ہر لمحہ ملت کی فکر چھائی رہی ،جن کا اٹھنا بیٹھنا،سونا جاگنا،حرکت وسکون اور زندگی کا لمحہ ملت کی صلاح و فلاح اور اصلاح و بیداری کے لئے وقف تھا ، جنہوں نے قوم کی پستی و پس ماندگی کوترقی و پیش قدمی سے ،زوال و انحطاط کو رفعت و سربلندی سے ،جمود وتعطل کو حرکت و عمل سے بدلنے کے لئے اپنی ذہنی و فکری توانا ئیوں اور ظاہری و باطنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کبھی کسی بخل سے کام نہیں لیا ،عہد ماضی کی تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالئے تو بارگاہ رسالت سے فیض یافتہ نفوس قدسیہ کے بعد خلیفۂ راشد سیدنا عمر بن عبدالعزیز(متوفیٰ ۱۰۱ھ) امام اعظم ابو حنیفہ (متوفیٰ ۱۵۰ھ) امامحمد بن ادریس شافعی ( متوفیٰ ۲۰۴ھ) امام احمد بن حنبل (متوفیٰ ۲۴۱ھ) امام محمد بن غزالی (متوفیٰ ۵۰۵ھ)غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی(متوفیٰ ۵۶۱ھ)امام فخرالدین محمد بن عمر رازی(متوفیٰ ۶۰۶ھ)سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری(متوفیٰ ۶۳۳ھ) علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی(متوفیٰ ۹۱۱ھ) امام ربانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی(متوفیٰ ۱۰۳۴ھ)امام محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی (متوفیٰ ۱۰۵۲ھ) حضرت شیخ کلیم اللہ چشتی (متوفیٰ ۱۱۴۳ھ) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (متوفیٰ ۱۱۷۶ھ)شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (متوفیٰ ۱۲۳۹ھ)علامہ فضل حق خیرآبادی(متوفیٰ ۱۲۷۸ھ)علامہ فضل رسول بدایونی(متوفیٰ ۱۲۸۹ھ) علامہ عبدالقادر بدایونی(متوفیٰ ۱۳۲۹ھ) مولانا خیرالدین دہلوی(متوفیٰ ۱۳۳۴ھ) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی (متوفیٰ ۱۳۴۰) مبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم میرٹھی اور صدرا لافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی جیسے قائدین ملت کی لمبی فہرست سامنے آتی ہے جن کے علمی و فکری اور دینی و ملی کارنامے صفحات تاریخ پر سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں ،اور جن کے نالۂ نیم شبی ،دعائے سحر گاہی اور شبانہ روزکی مخلصانہ جد وجہد اور پیہم تگ و دو سے ملت اسلامیہ کی کشتی طاغوتی طوفانوں اور شیطانی آندھیوں سے بے پرواہ ہوکر اپنی منزل کی جانب بڑھتی رہی ۔

انہیںپاکباز نفوس قدسیہ میں استاذالعلماء جلالۃ العلم حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مردآبادی بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کی ذات گرامی بھی ہے جنہوں نے احساس و شعور کی آنکھیں کھولنے کے بعد بر صغیر میں قوم مسلم کی کس مپرسی اورزبوںحالی دیکھی اور ان کی عقابی نگاہوں نے محسوس کرلیا کہ ہر میدان میں شکست و ریخت اور زوال و انحطاط سے دو چار امتِ مسلمہ کو ایک سراپا اخلاص اور درد مند مصلح کی ضرورت ہے جس کے دل کی دھڑکن قوم کی بدحالی دور کرنے کے لئے بے تاب ہو، جوقوم کی زبوں حالی اور قوم کی ترقی کو اپنی ترقی سمجھتا ہو ،جو قوم میں ایک صالح انقلاب لانے کے لئے پیار و محبت کے ساتھ یقین محکم اور عمل ِ پیہم کی آبدارشمشیریںلے کر کارگاہِ حیات میں قدم رنجہ ہونے کا حوصلہ رکھتا ہو ۔اور بقول ڈاکٹر اقبال جس کے پیش ِ نظر یہ فلسفہ ہو ؎

یقیں محکم، عمل پیہم،محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

ایک سچے اور حقیقی قائدکے لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر صبروتحمل بھی ہو اور جہد پیہم بھی، بلند نگاہی بھی ہو اور وسعت فکرو نظر بھی، شگفتہ روئی بھی اور خوش اخلاقی و ملنساری بھی، اور اپنی منزل تک جلد از جلد پہونچنے کی ایسی سچی تڑپ ہو کہ اس سفر میں اسے پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہ ہو اور جس کی زبان حال یہ پیغام دے کر قوم کے حوصلوں کو اوجِ ثریا سے ہم کنار کررہی ہو :

میں کہاں رکتا ہوں عر ش و فرش کی آواز سے

مجھ کو جانا ہے بہت آگے حد پرواز سے

حافظ ملت علیہ الرحمہ کی زندگی کا جائزہ لیں تو آپ ان کی شخصیت میں دیگر بے شمار محاسن و کمالات کے ساتھ ایک سچے اور حقیقی قائد کے جملہ اوصاف اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ موجود پائیں گے، اوریہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ اس کی پشت پر ناقابل شکست دلائل و شواہد کا ایک تسلسل ہے، جن حضرات نے ان کی زیارت کی ہے، ان کے عمل و کردار کی دنیا آباد دیکھی ہے، قوم کی ترقی کے لئے ان کی تڑپ ملاحظہ کی ہے، ان کی سوزِ قلب و جگر کو محسوس کیا ہے، ان کی دلنواز باتیں سنی ہیں، ان کی بلند نگاہی اور بالغ نظری کے جلوے دیکھے ہیں وہ میرے اس دعوے سے مکمل اتفاق کریں گے اور کہیں گے کہ حافظ ملت ڈاکٹر اقبال کے اس شعر کی چلتی پھرتی تصویر تھے :

نگہ بلند،سخن دل نواز،جاں پرسوز

یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لئے

ان کی بارگاہِ ناز کے ایک خوشہ چیں اور ان کی قد آور شخصیت کوایک زمانے تک ماتھے کی نگاہوں سے دیکھنے والے فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ (متوفیٰ ۱۴۲۱ھ ؍ ۲۰۰۰ء ) کی شہادت ملاحظہ ہو : استاذالعلماء جلالۃ العلم حافظ ملت قدس سرہ العزیز ماضی قریب کے ان علمائے امت میں تھے جو حقیقی معنیٰ میں نائب رسول، بقیۃ السلف، حجۃ الخلف تھے، گونا ں گوں بے پناھ فضائل و کمالات کے جامع تھے، ایسی ہستیاں امت کے افراد میں بہت کم نظر آتی ہیں، علم و حکمت کے بحر بیکراں، عمل و کردار کے سیل رواں، زہدو اتقاء کے پیکر جمیل، خوش اخلاقی کی مجسم تصویر، سب کے دکھ درد میں کا م آنے والے، سب کا غم بٹانے والے، بے کس و باکس کے مرقع جمیل، سادگی و فروتنی میں فطرت ثانیہ، اس کے باوجود خود داری اور وضع داری سے مزین، ایک انسان کامل جن جن اوصاف اور خوبیوں کا حامل ہوسکتا ہے ان سب کے عطر مجموعہ، دور اندیش، صائب الرائے باغیرت، ملت کے درد سے دردمند، دین کے فروغ کے لئے بے تاب دوستی دشمنی، جینامرنا سب کچھ دین کے لئے، اپنے اوقات کے پابند، کسی بھی حال میں اپنے وقت کا ایک منٹ بھی ضائع نہ ہونے دیتے، خود فرمایا کرتے ’’ زمین کے اوپر کام، زمین کے نیچے آرام ‘‘ اعداء و حاسدین اور شر پسند عناصر کے سخت سے سخت زہر میں بجھے ہوئے جملے سن کر خاموش اور صرف اس پر اکتفاکرناکہ ان سب کا جواب کام ہے ‘‘( حافظ ملت، افکار اور کارنامے ص :۔۱۰)

اگر ان کے قائدانہ اوصاف پر تفصیلی گفتگو کی جائے اوراور دلائل و شواہد اور واقعات و حقائق جمع کئے جائیں تو ایک ضخیم دفتر تیار ہوجائے، مگر یہاں تو تنگیٔ دامن کا گِلہ ہے اور کثرت ِ حسن کا شکوہ، اس ذیل میں ان کی قائدانی زندگی کے چند گوشوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرہاہوں ۔

حافظ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کی شخصیت میں خلاق کائنات نے ژرف نگاہی، بالغ نظری اور دور بینی خوب خوب ودیعت فرمائی تھی، مرادآباد سے مبارکپور تشریف لانے سے لے کر اس عالم فانی سے تشریف لے جانے تک آپ کی پوری زندگی میں اس وصف کا غلبہ و ظہور نظر آتا ہے ۔ اسی لئے آپ نے اپنے مشن کا اصل نشانہ ان چیزوں کو بنایا جو مرکزی اور اصولی حیثیت کی حامل ہیں، آپ صرف نہروں پر قناعت نہ فرماتے تھے بلکہ دریا و سمندر کو بھی اپنے کمندِ عمل کا اسیر بنانا مقصد حیات تصور فرماتے تھے، تاکہ سیرابی و شادبی کا سلسلہ عام سے عام تر ہوسکے ۔ اسی لئے آپ نے صرف اپنی ذات کی فکر کرنے کے بجائے پوری ملت کی تعمیر وترقی کی فکرکی ۔ ایک فرد کی ترقی کے بجائے پوری قوم کی ترقی کو اپنا مطمح ِ نظر بنایا، یہ آپ کی دور بینی اور بالغ نظری ہی تھی جس سے سرشار ہوکر آپ فرمایا کرتے : مسجد بنانا ثواب، سرائے بنانا ثواب، یتیم خانہ بنانا بھی یقینا ثواب، مگر مدرسہ سب سے بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اگر علماء پیدانہ ہوں گے تو ان سب کو کون آباد کرے گا، اور کون حفاظت کرے گا، میں نے مدرسہ کو بہت سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے ۔ ( حافظ ملت نمبر، ماہنامہ اشرفیہ، ص ـ: ۴۰۸)

حافظ ملت کے اس ارشاد میںآپ کی دور بینی اور بلند نگاہی پورے طور پر بے نقاب ہوکر دعوت فکر وعمل دے رہی ہے، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ اگر علماء دین نہ ہوں تو لوگوں کا جینا مشکل ہوجائے اور انسانوں اور حیوانوں کی زندگی میں کچھ فرق نہ رہ جائے، یہی احکام دین سے واقف ہوتے ہیں اور وقتاً فوقتا ً لوگوں کو احکام خداو رسول(دوا )بتاتے ہیںاور لوگوں کو اسلام کی روشنی میں زندگی گذارنے کی راہوں پر لگاتے ہیں ۔

ایک دور وہ تھا جب انگریزی تعلیم کا نتیجہ الحادو بیدینی و گمرہی کی شکل میں بر آمد ہوتا تھا، انگریزی زبان میں دین حق اور مذہب اسلام کا صالح لٹریچر بالکل موجود نہ تھا تو اس کے مضر اثرات اور منفی نتائج کو دیکھتے ہوئے علماء کرام نے انگریزی زبان کی مخالفت کی اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے، لیکن حافظ ملت قدس سرہ نے اپنی عقابی نگاہوں سے یہ محسوس کرلیا تھا کہ انگریزی زبان میں بھی اب بہت کچھ صالح لٹریچر آچکا ہے اور اس کے نقصانات پہلے کی طرح باقی نہیں رہ گئے ہیںاس کے علاوہ علوم و فنون کے بیشتر خزانے آج انگریزی زبان میں موجود ہیں اور اب اسے ’’ بین الاقوامی ہونے کا شرف حاصل ہے اور فکر و شعور کی پختگی کے ساتھ اسے حاصل کرکے زیادہ سے زیادہ خدمت دین کے مواقع حاصل ہوسکتے ہیں، اس لئے آپ نے الجامعۃ الاشرفیہ کے درجۂ عا لمیت و فضیلت کے نصاب تعلیم میں انگریزی زبان کو لازم قرار دیا اور اپنے ہی دور میں اس کی تعلیم کے انتظامات بھی مکمل فرمائے، اور مختلف مواقع پر اپنے تقریری و تحریری بیانات میں اس بات کو واضح فرمایا کہ الجامعۃ الاشرفیہ کی تعمیر کا مقصد یہ ہے کہ یہاں فضلاء عربی، فارسی، اردو، انگریزی اور ہندی ان پانچ زبانوں میں ماہر ہوکر نکلیں اور جہاں بھی رہیں اسلام و سنیت کی خدمات پوری جامعیت اور کمال کے ساتھ انجام دیں ۔

عربی زبان کی اہمیت سے کون واقف نہیں یہ رب کائنات کی پسندیدہ زبان ہے جس میں صحیفۂ آسمانی قرآن مجید کا نزول ہوا، جسے رسول خدا سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مقدس صحابہ کی زبان ہونے کا شرف حاصل ہے جو دم وا پسی سے لیکر بعد قبر، اور حشر و نشر سے لیکر ابد الآباد تک باغ فردوس کی بھی زبان ہے، مدارس اسلامیہ جو اس کے سچے وارث وجانشین ہیں ان کی ابتدا و انتہا اسی زبان پر ہے اور اس عربی و اسلامی سرمایہ کی تحصیل میں پوری پوری عمریں صرف کر دی جاتی ہیں، لیکن یہ ایک حیرت انگیز اور افسوس ناک حقیقت ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود عربی لکھنے اور بولنے پر قدرت نہیں ہو پاتی، اور اس عدم قدرت میں قدیم اور جدید عربی کی کوئی تخصیص نہیں، اس کی وجہ صر ف یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں ذریعہ تعلیم اردو زبان ہے حافظ ملت علیہ الرحمہ نے اس کمی کو بھی محسوس فرمالیا تھا اور اس کے تدارک کی یہ ترکیب بھی سوچ لی تھی کہ الجامعۃ الاشرفیہ میں ذریعۂ تعلیم عربی زبان ر ہے گی ۔خود فرماتے ہیں ’’ہم نے طے کرلیا ہے کہ مجوزہ عربی یونیور سٹی میں ذریعۂ تعلیم عربی ہوگی، اور اس کے جدید اصطلاحات ِعربی سے بھی عملاً طلبہ کو روشناس کرائیں گے تاکہ ( خدمت دین و علم کے ساتھ ) بلاد عرب کے کروڑوں انسانوں سے وہ افہام و تفہیم کا رابطہ کرنا چاہیں تو کرسکیں ۔( الجامعۃ الا شرفیہ مطبوعہ مبارکپور ۱۳۹۳ھ، ص: ۱۳)

اور آپ نے اسے تجویز اور منصوبہ تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ عربی ادب کی تحصیل کے لئے چند منتخب طلبہ کو آمادہ کرکے اس کی تکمیل کا انتظام بھی فرمایا، اس کام کے لئے حافظ ملت نے چند طلبہ کو عربی زبان و ادب کی اعلیٰ تعلیم کے لئے جامع ازہر مصربھیجنے کابھی قصد فرمایا تھا مگر افسوس کہ اس سے پہلے ہی پیک اجل آن پہونچا، اس طرح آپ کی زندگی میں یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔

قلم کی طاقت بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کے اثرات بڑے ہمہ گیر طاقتور، موثر اور دوررس ہوتے ہیں، دنیا کی متمدن قوموں کے یہاں اس کے ذریعہ ذہنوں پر قبضہ جماکر اپنی تہذیب و معاشرت، اپنی زبان اورنظریات و خیالات دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اپنے علوم و فنون، قومی روایا ت، ملکی مزاج، لسانی خصوصیات، مشاہیر کے کارناموں کو اپنی اور دوسری عالم گیر زبانوں میں منتقل کرکے گوناں گوں انقلابات کے منصوبے تیار کئے جاتے ہیں، اپنے مشن کو فروغ دیا جاتا ہے اور عصری درسگاہوں اور دانش کدوںاور مختلف شعبہائے حیات کے ممتاز لوگوں کے ذہن و دماغ کو شعوری و غیر شعوری طریقوں سے متأثر کرنے کی تدبیریں اختیارکی جاتی ہیں، حافظ ملت نے اس ضرورت کو شدت سے محسوس کیا اور معیاری دینی و علمی اور فنی و تحقیقی کتب و مقالات کی تدوین و تصنیف کے لئے الجامعۃ الاشرفیہ کا ’’شعبۂ نشر واشاعت ‘‘قائم فرمایا جس سے متعدد کتابوں کی اشاعت ہوئی اور ایک ماہنامہ بھی بنام ’’اشرفیہ‘‘ جاری فرمایا، جو ا سوقت سے لے کر آج تک پورے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے اور دین و ملت کی مفید خدمات انجام دے رہا ہے ۔

اس طرح اس آفاقی فکر و نظر کے حامل مجاہد کا ہر ہر کام اس کی دور اندیشی، بالغ نظری کا ثبوت فراہم کرتا ہے ۔

حافظ ملت کی پوری زندگی قوم و ملت کی بدحالی دیکھ کر غم زدہ رہے اور قوم و ملت کے حالات میں ایک صالح انقلاب لانے کی سچی تڑپ ان کے قلب و جگر میں انگڑائیاں لیتی رہی، اور یہ سوز دروں ان کی زندگی کا لازمہ بن گیا تھا ۔گویا ان کی زندگی اس بات کا پیغام تھی :

رگوں میں گردش خوں ہے اگر تو کیا حاصل

حیاتِ سوز جگر کے سوا کچھ اور نہیں

ان کے سوز دروں، اضطراب ِقلب اور بے قرارتمنا کو ان کی درج ذیل ناصحانہ تحریرمیں اچھی طرح محسوس کیا جاتا ہے، قوم مسلم کو ترقی و کامرانی کا نسخہ بتاتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں ’’ مسلمانو! جاگو! اور خواب غفلت سے بیدار ہوجائو، تمہاری صلاح و فلاح اسی میں مضمر ہے کہ سچے اور پکے مسلمان بن جائو، تمہاری کامیابی اسی پر موقوف ہے کہ تمہاری زندگی اسلامی زندگی اور موت اسلامی موت ہو، تمہاری صورت، اسلامی صورت اور سیرت اسلامی ہو، تمہارا ظاہر بھی اسلامی ہو اور باطن بھی اسلامی ہو، تمہارے عقائد بھی اسلامی عقائد ہوں اور اعمال بھی اسلامی اعمال، تمہارے جذبات اسلامی جذبات ہوں اور خیالات اسلامی خیالات، تمہارا سینہ اسلامی ایمانی انوار سے منور ہو اور تمہارے جسم اعمال صالحہ سے مزین، مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکر تمہاری عادت ہو، اللہ عزوجل پر توکل و اعتماد تمہاری سرشت ہو، قرآنی تعلیمات پر عمل تمہاری طبیعتِ ثانیہ بن جائے ۔‘‘ ( ارشادالقرآن، ص: ۷۱)

آخری ایام میں جب حضرت بیمار تھے بعض لوگوں نے عرض کیا حضرت! اب کچھ روز مکمل آرام فرمالیں اورتبلیغی دوروں کو بند کردیں، اگر صحت رہی تو پھر عربی یونیورسٹی ( جامعہ اشرفیہ ) کا کام ہوجائے گا، اس شدید علالت اور نقاہت کے عالم میں مسلسل جسمانی محنت اور تگ و دو کا اثر جسم پر اچھا نہ پڑے گا، حضرت کی دور رس نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ وقت کم ہے اور کام زیادہ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تو آرام کرنے لگیں اور حیات مستعار کا سلسلہ ٹوٹ جائے ۔ لہٰذا اس عرض پر لوگوں سے فرمایا ’’ میاں ! اونچ نیچ ہوش و ہواش والے کو سمجھایا جاتا ہے اور میں تو الجامعۃ الاشرفیہ کے لئے عقل و ہوش کی دنیا سے نکل کر ’’ جنون‘‘ کی سرحد میں داخل ہو چکا ہوں، اس لئے مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ‘‘۔

اسی طرح ایک مرتبہ فرمایا : ’’ بلاوجہ آپ لوگ مجھے کام سے روکتے ہیں اور کہیں جانے نہیں دیتے، بیمار اپنی خود سب سے بہتر جانتا ہے، جب میں خود اپنے کو صحت یاب پارہاہوں تو آپ لوگ کیوں بیمار بیمار کی رٹ لگا رہے ہیں ‘‘۔

واللہ کتنی تڑپ ہے اور کس قدر سوز ہے ان الفاظ میں جو کسی نوجوان صحت مند طاقت ور مرد مجاہدکے منھ سے نہیں نکلے ہیںبلکہ ایک نحیف و ناتوں اسی سالہ بوڑھے کے احساسات و جذبات ہیں جسے وہ بسترِ علالت سے پیش کرہا ہے، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حافظ ملت کے سینے میں ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود اور علومِ اسلامیہ کی ترویج و اشاعت کاکیسا جذبۂ صادق تھا اور کیسی سچی تڑپ تھی اور کس قدر بے قراری اور اضطراب تھا۔

حافظ ملت کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ جامعہ اشرفیہ کی ترقی پوری ملت اسلامیہ کی ترقی ہے، پوری جماعت اہل سنت کی ترقی ہے اس لئے وہ ہمہ وقت جامعہ کی ترقی کے لئے مضطرب رہتے تھے، ان کا سوز دروں تھا جو ان کی جسمانی صحت کودیمک کی طرح کھائے جارہا تھا، مگر اس مرد مجاہد کونہ اپنی صحت کی فکر تھی نہ اپنی جان کی فکر تھی، اور نہ اپنی زندگی اور عیش و آرام کی کوئی فکر، اگر کوئی فکر تھی تو بس ملت اسلامیہ کی اور ملت کے عظیم الشان قلعہ جامعہ اشرفیہ کی، اس کا کچھ اندازہ درج ذیل کلمات سے ہوتا ہے جو کسی موقع پر ان کی زبان اقدس سے ادا ہوئے تھے : ’’ میں جامعہ اشرفیہ کے لئے اپنی جان کھپا سکتا ہوں مگر اس کی پستی آخر دم تک برداشت نہیں کرسکتا ۔ میں نے اشرفیہ کوپسینہ نہیں خون پلایا ہے ‘‘۔

اب غور کیجئے جس مرد مجاہد نے اپنی پوری زندگی اشرفیہ کے لئے وقف کردی ہو، راحت و آرام کو تج دیا ہو اور جسے اپنی جان دینا تو گوارا ہو مگر اشرفیہ کی پستی کسی حال میں بھی گوارا نہ ہو ۔اس جامعہ کے خلاف ہونے والی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے اس کی روح کو کتنی تکلیف واذیت پہونچتی ہوگی،اور وہ اپنے مرقدِ انور سے کس کرب و اضطراب کے ساتھ اس خونی منظر کو دیکھ رہا ہوگا، افسوس ہے ان لوگوں پر جو ایک طرف تو حافظ ملت سے عقیدت و محبت کا دم بھرتے ہیں، انہیں اپنا آقا ئے نعمت اور ولیٔ نعمت کہتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف ان کی قائم کردہ یاد گا ر ’’ الجامعۃ الاشرفیہ ‘‘ کو زک پہونچانے کے لئے شب و روز اپنی تمام تر ذہنی و جسمانی تو انائیاں بھی صرف کرتے ہیں اور اسے نقصان پہونچانے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

سوز دروں: مگر حقیقت یہ ہے کہ جامعہ اشرفیہ کے خمیر میں بزرگانِ ملت اور اسلافِ کرام کی دعائیں شامل ہیں، اس کی بنیاد میں حافظ ملت کا اخلاص اور سوزدروں پیوست ہے، اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ا کی تائید و نصرت اس کے ہم رکاب ہے اس لئے مخالف بجلیاں اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی اور خطرناک آندھیاں اس سے ٹکرا کر خود قصۂ پارینہ بن جائیں گی مگر اس کی آب و تا ب میں کوئی فرق نہ آئے گا ۔

ہزاروں برق گریں،لاکھوں آندھیاں آئیں

وہ پھول کھل کے رہے گا جو کھلنے والاہے

ایک قائد کے لئے ضروری ہے کہ وہ مصائب و آلام اور مخالفتوں کی تیزو تند آندھیوںمیں صبر و تحمل کو مضبوطی سے تھامے رہے، حافظ ملت کی زندگی میں اس کی صدہا مثالیں ملتی ہیں، وہ مخالفتوں کی پیہم یلغار میں بھی صبر و شکیب اورضبط و تحمل کا دامن کبھی نہ چھوڑتے، اور اپنے کسی عمل سے بھی ناشکیبائی کا اظہار نہ ہونے دیتے تھے، خود صبر وتحمل کے تعلق سے ان کی نوک قلم سے نکلے ہوئے انمول موتی قابل دید ہیں، فرماتے ہیں : صبر کا اجر بے شمار ہے، بے حساب ہے، صبر کامیابی اور نصرت الٰہی کا سبب ہے، اسی لئے بہت مرتبہ صابرین کی تھوڑی تعداد بھی غالب ہوئی اور صابرین کو سرداری و پیشوائی ملی، غور تو کرو صبر پر بے حساب اجر کا وعدہ ہے، صبر پر نصرت الہی اور امداد غیبی کا وعدہ ہے۔‘‘ ( ارشاد القرآن، ص:۱۶)

یہ کلمات طیبہ صرف دوسروں کے لئے نصیحت نہیں تھے بلکہ ان پر آپ کا پورا عمل بھی تھا اسی لئے آپ کسی عالم یا شیخ و مرشد کی عام یا خاص مجالس میں غیبت نہیں کرتے خواہ وہ آپ کی برسر عام مخالفت ہی کیوں نہ کرتا ہو، اپنوں اور غیروں کے بیجا اعتراضات سن کر اپنی زبان کو محفوظ رکھتے، اپنے قلب و نظر کی طہارت و نظافت پر کوئی غبار نہ آنے دیتے اور زبان حال سے فرماتے ؎

فرصت کہاں کی چھیڑ کریں آسماں سے ہم

لپٹے پڑے ہیں لذتِ دردِ نہاں سے ہم

جب الجامعۃ الاشرفیہ کے تعمیری کا م کا آغاز ہوا تو بعض وہ افراد جو حافظ ملت کے اس عظیم منصوبے اور طرز عمل سے اتفاق نہیں رکھتے تھے سرِ راہ حافظ ملت کو سخت و سست کہتے، گالیاں تک دیتے، آپ سنتے اور خاموشی کے ساتھ صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزر جاتے اور اپنے معتقدین کو کبھی بھی اس کی خبر نہ ہونے دیتے کہ کہیں ان میں انتقامی جذبہ نہ پیدا ہو جائے، ایک بار تو یہاں تک فرمایا : جو مخالفت کا جواب مخالفت سے دے گا یا کسی کو اس سلسلہ میں کچھ کہے گا وہ میرا نہیں، میں اس سے سخت بیزار ہوں، مخالفت کا جواب مخالفت نہیں بلکہ مخالفت کا جواب کام ہے ‘‘۔ ( حافظ ملت نمبر، اشرفیہ : ۴۸)

مخالفین کی مخالفانہ سر گرمیوں پر تنقیدو تبصرہ تو دور کی بات ہے آپ ان کا مخالف کی حیثیت سے ذکر بھی پسند نہ فرماتے تھے ۔

ادیب شہیر مولانا بدر القادری صاحب مصباحی سابق ایڈیٹر ماہنامہ اشرفیہ و مقیم حال ہالینڈ نے حافظ ملت علیہ الرحمہ سے ایک تفصیلی انٹرویو لیا، انٹرویو کے دوران ایک سوال یہ بھی تھا ۔

سوال : حضرت کی نگاہ میں کچھ لوگوں نے اشرفیہ کی مخالفت کیوں کی ؟ اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔

جواب از حافظ ملت : اس سوال کا جواب وہی لوگ دے سکتے ہیں، موافقت کرنے والااس کے اسباب خود جانتا ہے، مخالفت کرنے والا مخالفت کے اسباب جانے گا، دوسرے کو کیا معلوم ؟

اس جواب پر علامہ بدرالقادری صاحب کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے، لکھتے ہیں ’’میرا یہ سوال مجادلۂ نفسانیت و اخلاص کی ایک اہم تاریخ سے نقاب کشائی کا بابِ اول تھا، یعنی ایک سوال کے در پردہ درجنوں سوالات پوشیدہ تھے، مستقبل کے ہندوستان میں سنیت کے تاریخ نویس کے لئے اس کی ضرورت تھی تاکہ ملی تنزل اور انحطاط کے پس پردہ ان تیز تیز چلتے ہوئے نشتروں سے دنیا واقف ہو جنہیں حصول ِ دنیا کے طالبوں نے استحصالِ مقاصد کے لئے کبھی کبھی اپنی آستینوں سے باہر بھی کیا ہے، مگر اس پیکر صبر و تحمل، مجسمۂ اخلاص و انقیاد کے جذبۂ انسدادِ فتن کے قربان جائیے، بے تعلقانہ جواب سے میرے سارے سوالات کا گلا گھونٹ دیااور میں نے اپنے سوال کا رخ بدل دیا، ( حافظ ملت نمبر : ۷۷)

کسی بھی قوم کے قائد و رہنما کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ہر کام مقصدیت سے پر ہو اور لا یعنی اور بے مقصد چیزوں سے اسے نفرت بیزاری ہو ۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ کی زندگی پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ مقصدیت آپ کی زندگی کے تمام گوشوں پر ایک اہم عنصر کی طرح نمایا ں اور غالب تھی، جماعتی حس کی ذکاوت بڑی تیز تھی، ایک ہمہ گیر انقلاب ابتدا ہی سے ان کا مطمح ِ نظر تھا، گذشتہ صدی کے آخری دور میں دوسری شخصیتوں کی صف میںآپ کی حیثیت، آپ کے اثرات، اور آپ کے کارناموں کو کوئی انصاف پسند مورخ ہر گز نظر انداز نہیں کرسکتا، آپ کی رفتار و گفتار، حرکات و سکنات، وعظ و تقریر، تدریس و تحریر، اور ہدایت کے دیگر تمام ذرائع میں انفرادی شان تھی، یہ تمام چیزیں ا س بات کا پیغام دیتی ہیں کہ آدمی کو کام کا آدمی بننا چاہئے اور کام کا آدمی اسی وقت بن سکتا ہے جب کہ مقصد ہمیشہ اس کے پیش نظر رہے اور اس سے ایک لمحہ کے لئے غافل نہ ہو۔