سفر کی نماز کے متعلق اہم مسائل :

مسئلہ: مسافر پر واجب ہے کہ وہ قصر نماز پڑھے یعنی چار رکعت فرض والی نماز میں صرف دو رکعت پڑھے اگر دیدہ و دانستہ بہ نیت زیادہ ثواب پوری نماز پڑھے گا تو گنہگاراور مستحق عذاب ہوگا ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں’’ صدقۃ تصدق اللّٰہ بہا علیکم فاقبلوا صدقتہ ‘‘ ترجمہ ’’ وہ صدقہ ہے یعنی آسانی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تم پر صدقہ(آسانی)فرماتا ہے ، تو اللہ کا صدقہ قبول کرو ۔‘‘ (درمختار ، ہدایہ ، عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۷۷، اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۶۶۷)

مسئلہ: جس پر شرعاً قصر ہے اوراس نے جہالت کی وجہ سے (مسئلہ کی ناواقفیت سے ) پوری نماز پڑھی تو اس پر مواخذہ ہے اور اس نماز کا پھیرنا واجب ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص۶۶۹)

مسئلہ: صرف ظہر ، عصر اور عشاء کے فرضوں میں قصرہے ۔ فجر اور مغرب کے فرضوںمیں قصر نہیں ۔ علاوہ ازیں سنتوں میں بھی قصر نہیں ۔ اگر مسافر سنت پڑھے تو پوری پڑھے ۔ البتہ ! خوف اور رواروی یعنی سفر کی جلدی کی حالت میں سنتیں معاف ہیں ۔ امن اور اطمینان کی حالت میں سنتیں پڑھی جائیں اور پوری پڑھی جائیں ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص۷۸)

مسئلہ: اپنے مقام سے 57½ میل کے فاصلے پر علی الاتصال جانے اور وہاں پندرہ دن کامل ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو تو قصر کرے ۔ اگراپنے مقام سے ساڑھے ستاون 57½ میل کے فاصلے پر علی الاتصال (متواتر یعنی Successively ) جانا مقصود نہیں بلکہ راہ میں کہیں ٹھہرتے ہوئے جانا مقصود ہے یاپندرہ دن کامل ٹھہرنے کا ارادہ ہے ، تو اب وہ مسافر کے حکم میں نہیں ، لہٰذا وہ پوری نماز پڑھے ۔( فتاوٰی رضویہ، جلد ۳ ، ص ۶۶۹)

مسئلہ: اگر کسی جگہ جانے کے دو راستے ہیں ۔ ایک سے مسافتِ شرعی سفر ہے اور دوسرے سے نہیں تو جس راستہ سے جائے گا اس کااعتبار ہے ۔ اگرنزدیک والے راستے سے گیا تو مسافر نہیں اور دور والے راستہ سے گیا تو مسافر ہے ۔اگرچہ دور والا راستہ اختیار کرنے میں اس کی صحیح غرض بھی نہ ہو ۔ ( عالمگیری ، درمختار ، ردالمحتار ، بہارشریعت ، حصہ ۴ ، ص ۷۶)

اس مسئلہ کو مندرجہ ذیل مثال سے سمجھیں۔

’’ فرض کرو کہ زید اور بکر پوربندر سے دھوراجی گئے لیکن دونوں نے الگ الگ راستے اختیار کئے اوران دونوں راستوں میں سے ایک چھوٹا اور دوسرا لمبا راستہ ہے ۔ مثلاً

اس صورت میں زید پر قصر نہیں اور بکر پر ہے ۔ حالانکہ دونوں ایک ہی شہر پوربند سے چلے اورا یک ہی شہر دھوراجی گئے لیکن دونوں نے الگ الگ مسافت (Distances) والے راستے اختیار کئے لہٰذا دونوں کے لئے الگ الگ حکم ہے ۔ زید مسافر کے حکم میں نہیں

جبکہ بکر مسافر کے حکم میں ہے ۔

مسئلہ: ساڑھے ستاون میل (92.54 k.m.) کی مسافت علی الاتصال طے کرنے سے آدمی شرعاً مسافر ہوجاتا ہے یہ حکم مطلق ہے ۔ پھر چاہے اس کا سفر جائز کام کے لئے ہو یا ناجائزکام کے لئے ہو ۔ ہرحال میں اس پر مسافر کے احکام جاری ہوں گے ۔( عامہ ٔ کتب فقہ ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۷۷)

مسئلہ: ساڑھے ستاون میل یا اس سے زیادہ کی مسافت کے سفر کی غرض سے روانہ ہونے والا اپنے شہر کی آبادی سے باہر ہوتے ہی اس پر مسافر کے احکام نافذ ہوجائیں گے ۔اپنے شہر کی آبادی سے باہرنکل کر وہ قصر نماز پڑھے گا ۔اور جہاں جارہا ہے وہاں پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت اور ارادہ ہے پھربھی دوران سفر وہ قصر نماز ہی پڑھے گا اور جہاں جانے کا قصدہے اس مقام کی آبادی آتے ہی وہ مقیم ہوجائے گا اور اب وہ پوری نماز پڑھے گا ۔ ( عالمگیری ،بہار شریعت ، حصہ ۴، ص۷۸)

مسئلہ: اگر سفر کے ٹکڑے کرتے ہوئے چلا اور ان ٹکڑوں میں سے کوئی ٹکڑا ساڑھے ستاون میل یا اس سے زیادہ کی مسافت کا نہیں ، تو اس طرح سینکڑوں میل کا سفر کرے گا جب بھی وہ مسافر کے حکم میں نہیں ۔ مثال کے طور پر ایک شخص بمبئی سے روانہ ہوا ۔ پچہتر کلومیٹر پر ایک شہر میں ایک دن قیام کیا ۔ وہا ںاپنا کام کیا ، پھر وہا ںسے چلا اور وہاں سے اسی (۸۰) کلومیٹر کے فاصلہ پر دوسرے شہر میں ٹھہرااور وہاں اپنا کام کیا ۔ اس طرح وہ ٹھہرتاہوا سفر کرتارہا۔ راہ میں کئی مقام پر ٹھہرا اور اپنا کام انجام دیا اور اس طرح چلتے چلتے وہ آغاز سفر کے مقام سے سینکڑوں میل کی مسافت تک پہنچ گیا ۔ جب بھی وہ شرعاً مسافر کے حکم میں نہیں۔ وہ اپنی نماز پوری پڑھے گا ۔ اسے قصر کرنا جائز نہیں ۔ ( جزیہ ماخوذ از :- غنیہ ، بہارشریعت، حصہ ۴ ، ص۷۷)

مسئلہ: سفر کرنے والے پر شرعاً مسافر کے احکام صرف اس صورت میںنافذ ہوں گے جب کہ اس کی نیت سچے عزم اور ارادہ پر محمول ہو ۔ اگر کسی مقام پر پہنچ کر پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت بھی کی اور اسے معلوم ہے کہ مجھے پندرہ دن پہلے وہاں سے چلاجانا ہے تو یہ نیت نہ ہوئی بلکہ محض تخیل ہوا ۔ اسی طرح ساڑھے ستاون میل (92.56k.m.) سے کم جانے کا عزم ہے اور گھر سے نکلتے وقت ساڑھے ستاون میل کی نیت کی تاکہ آبادی سے نکل کر اثنائے راہ سے ہی قصر نماز کی سہولت کی اجازت مل جائے تو یہ نیت نہیں بلکہ خیال بندی ہے ۔ اس صورت میں اسے قصر کی اجازت نہیں ۔ مثال کے طور پر ایک شخص حج کے ارادہ سے ذی الحجہ مہینے کی پہلی تاریخ کو مکہ معظمہ پہنچا اورا س نے مکہ معظمہ میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی تو اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیونکہ نو اور دس ذی الحجہ کو اسے عرفات ، منی اور مزدلفہ میں جانے کے لئے مکہ معظمہ سے ضرور نکلنا پڑے گا۔ پندرہ دن متصل مکہ معظمہ میں ٹھہرنا ممکن ہی نہیں ۔ البتہ عرفات و منیٰ سے واپسی کے بعد نیت کرے تو صحیح ہے ۔ (عالمگیری، معراج الدرایہ ، درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۸۰ ،اور فتاوٰی رضویہ جلد۳، ص ۶۶۴)

مسئلہ: مسافر اپنے کام کے لئے کسی مقام پر گیا اور وہ مقام شرعاً سفر کی مسافت پرہے اور وہاں اس نے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کی بلکہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کی کیونکہ اسے گمان اور امید تھی کہ میرا کام دو چار دن میں ہوجائے گا اور اس کا ارادہ یہ ہے کہ کام ہوجاتے ہی چلا جاؤں گا اور اس کا کام آج ہوجائے گا، کل ہوجائے گا کی صورت میںہے اور آج کل ، آج کل کرتے کرتے اگر برس ، دو برس بھی گزر جائیں جب بھی وہ مسافر ہے۔ مقیم نہیں لہٰذا نماز قصر کرے ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۸۰)

مسئلہ: اگر کسی نے اپنے وطن اصلی سے دوسری جگہ مسکن (رہنا اختیار) کیا اور بیوی بچوں کو بھی اس مسکن میں عارضی طور پر اپنے ساتھ رکھا ہے ، تو وہ جگہ اس کے لئے وطن اصلی کے حکم میں نہ کہلائے گی ۔ لہٰذا وہ جب بھی وہاں آئے گا اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے گاتو اس پر قصر واجب ہے ۔ وہ نماز پوری نہیں پڑھے گا ۔ اور اگر پندرہ دن یا زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت ہے تو اب مقیم ہے لہٰذا اب وہ نماز پوری پڑھے گا ۔ اسکے لئے قصر جائز نہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد۳ ، ص ۶۶۹)

اس مسئلہ کو مندرجہ ذیل مثال سے سمجھیں :

’’ زید بمبئی کا باشندہ ہے ۔ اس کو ناگپور میں ایک ٹھیکہ (Contract) ملا ہے اور وہ ٹھیکہ سال بھر کی مدت کے لئے ہے لہٰذا زید کو اپنے ٹھیکہ کی مدت تک ناگپور میں رہنا لازمی ہے ۔ زید نے اپنے بیوی بچو ںکو بھی عارضی طور پر اپنے ساتھ ناگپور منتقل کردیا اور وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ناگپور میں رہنے لگا ۔ زید ناگپور سے دہلی تجارتی سلسلہ میں گیا ۔ دہلی میں ایک تاجر سے اسے رقم وصول کرنی تھی ۔ دہلی کے تاجر نے کہا کہ میں آپ کی رقم آٹھ دن کے بعد ادا کردوں گا لہٰذا زحمت گوارا فرما کر آپ ایک ہفتہ کے بعد دہلی واپس تشریف لے آئیں ۔ زید دہلی سے ناگپور واپس آیا ۔ اب اسے حسبِ معاہدہ ہفتہ کے بعد ناگپور سے دہلی جانا ہے لہٰذا وہ ناگپور میں ایک ہفتہ ہی ٹھہرے گا ۔ اس ایک ہفتہ کے ناگپور کے قیام کے دوران زید نماز میں قصر کرے گا اگرچہ ناگپورمیں اس کی بیوی اور بچے بھی ہیں لیکن ناگپوراس کا عارضی مسکن ہے اور وہ اپنے عارضی مسکن میں صرف ایک ہفتہ ہی ٹھہرنے والاہے لہٰذا وہ مقیم نہیں بلکہ مسافر کے حکم میں ہے ۔ کیونکہ عارضی مسکن وطن اقامت کے حکم میں ہے ، وطن اصلی کے حکم میں نہیں ۔