ایصالِ ثواب قل شریف تیجہ اور ختم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : ایصال کا مادہ وصل یعنی جوڑنا ، پہنچانا ہے ۔ (المصباح:909)ایصال ثواب یعنی قرآن مجید یا دورود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے ۔ عبادت مالیہ یا بدنیہ فرض و نفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے ۔ زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا “مردے کی حالت قبر میں ڈوبتے ہوئے فریاد کرنے والے کی طرح ہوتی ہے۔ وہ انتظار کرتا ہے کہ اس کے باپ یا ماں یا بھائی یا دوست کی طرف سے اس کو دعا پہنچے اور جب اس کو کی کسی کی دعا پنچتی ہے تو وہ دعا کا پہنچنا اس کو دنیا و مافیھا سے محبوب تر ہوتا ہے۔ (مشکٰوۃ شریف)(فتاوٰی رضویہ جلد نہم مع تخریجج ص494)زندوں کا تحفہ مردوں کی طرفزندوں کا تحفہ مردوں کی طرف یہی ہے کہ ا کے بخشش(کی دعا) مانگی جائے۔ “اور بیشک اللہ تعالٰی اہل زمین کی دعا سے اہل قبور کو پہاڑوں کی مثل اجرو رحمت عطا کرتا ہے”۔ (مشکٰوۃ شریف)چنانچہ ہدایہ میں مذکور ہے : الاصل فی ھٰذالباب ان للانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوۃ اور صوما او صدقۃ او غیرھا عند اھل السنۃ والجماعۃ (ھدایہ)

ترجمہ: قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ انسان کےلئے جائز ہے کہ اپنے عمل کا ثواب اپنے غیر کو پہنچادے۔ خواہ نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا ان کے علاوہ کوئی بھی عمل ہو یہ اہل سنت وہ جماعت کا مذہب ہے ۔مذہب حنقی کی عقائد کی مشہور کتاب شرح عقائد نسفی میں ہے کہ : زندوں کا مردوں کیلئے دعا کرنا اور خیرات کرنا مردوں کیلئے نفع کا باعث ہے ۔حضرت علامہ علی قاری رحمۃ علیہ “شرح مشکٰوۃ میں فرماتے ہیں : اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مردوں کو زندوں کے عمل سے فائدہ پہنچتا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک زندگیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے معمولات سے ثابت ہے کہ انہوں نے ایصال ثواب کیا ۔صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ کا جب انتقال ہوا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سعد کی ماں کا انتقال ہوگیا کون سا صدقہ افضل ہے ۔ ارشاد فرمایا “پانی” انہوں نے کنواں کھودا اور یہ کہا کہ یہ سعد کی ماں کیلئے ہے ۔ (شرح الصدور ص302)پس معلوم ہوا میت کیلئے نماز، روزہ، حج، قرآن خؤانی ، فاتحہ خوانی ، تسبیح و کلمہ، صدقہ و خیرات، قربانی وغیرہ کا ثواب پہنانا جائز ہے ۔میت کےلئے نماز ، روزہ اور حج کا ثواب پہنچاناایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا ، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اپنے والدین کے ساتھ جب کہ وہ زندہ تھے نیک سلوک کیا کرتا تھا۔ اب ان کی وفات کے بعد مین ان کے ساتھ کیسے نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا “اب تیرا ان کےساتھ نیکی کرنا یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے ساتھ ان کےلئے بھی نفل نماز پڑھ اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کیلئے بھی (نفلی) روزے رکھ”۔ (العقائد و المسائل ص59،چشتی)حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا” جو شخص اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کی طرف سے حج کرے اللہ تعالٰی اس کےلئے جہنم سے آزادی لکھ دیتا ہے اور اس کو کامل حج کا ثواب ملتا ہے۔ اور اسکے والدین کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ افضل ترین صلہ رحمی میت کی طرف سے حج کرنا ہے۔” (شرح الصدور ص303)میت کیلئے قرآن خوانی ، اور فاتحہ خوانی کا ثواب پہنچاناحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا “جو شخص قبروں پر گزرا اور اس نے سورہ اخلاص کو گیارہ مرتبہ پڑھا پھر اس کا ثواب مردوں کو بخشا تو اس کو مردوں کی تعداد کے برابر اجرو ثواب ملے گا”۔ (دار قطنی، شرح الصدور ص307)امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں “انصار کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کا کوئی مر جاتا تو وہ بار بار اس کی قبر پر جاتے اور اس کےلئے قرآن پڑھتے”۔ (شرح الصدور ص307)حضرت علامہ قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں”تمام فقہاء کرام نے حکم کیا ہے کہ قرآن مجید پڑھنے کا ثواب میت کو پہنچتا ہے”۔

حضرت شاہ والی اللہ محدث وہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں “اور کچھ قرآن پڑھے اور والدین و پیر استاد اور اپنے دوستوں اور بھائیوں اور سب مومنین کی ارواح کو ثواب بخشے”۔میت کیلئے تسبیح اور کلمہ پڑھنے کا ثوابحضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ہم نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ان پر نماز جنازہ پڑھی پھر انکو قبر میں اتار کر ان پر مٹی ڈال دی گئی بعد ازاں حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تکبیر و تسبیح پڑھنا شروع کردی، ہم نے بھی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا شروع کردیا۔ دیر تک پڑھتے رہے ۔ تو کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تسبیح و تکبیر کیوں پڑھی؟ فرمایا اس نیک بندہ اس پر اس کی قبر تنگ ہوگئی تھی ہماری تسبیح و تکبیر کے سبب سے اللہ تعالٰی نے اس کو فراخ کردیا ہے ۔صدقہ و خیرات کرنے کا ثوابام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ”ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس مین*عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میرے والد نے بوقت وفات کچھ وصیت نہیں کی اگر میں صدقہ کروں تو کیا اسکو ثواب پہنچے گا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا “ہاں” (ابو داؤد)(العقائد و المسائل ص67)

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کو نفع پہنچے گا ؟

آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہاں پہنچے گا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا تو پھر میرا فلاں باغ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔ (شرح الصدور ص302)

تفسیر خازن میں ہے کہ”بلا شک و شبہ میت کی طرف سے صدقہ دینا میت کیلئے نافع و مفید ہے اور اس صدقہ کا میت کو ثواب پہنچتا ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے-میت کےلئے قربانی کا ثوابحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک مینڈھا ذبح کرکے فرمایا کہ”اے اللہ! اس کو میری اور میری آل کی طرف سے اور میری امت کی طرف سے قبول فرما۔(فتح القدیر مجوالہ الصحیین باب الحج جلد 3 ص 65،چشتی)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کوئی فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے (باقی) ہوں تو اُس کا ولی اس کی طرف سے وہ روزے رکھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

’’اور ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر اس (فوت ہونے والے) پر کسی نذر کا پورا کرنا باقی ہو (جو اس نے مانی تھی) تو اُسے اس کی طرف سے اس کا ولی پوری کرے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصوم، باب من مات وعليه صوم، 2 / 690، الرقم : 1851، ومسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب قضاء الصيام عن الميت، 2 / 803، الرقم : 1147، وأبو داود في السنن، کتاب الصيام، باب فيمن مات وعليه صيام، 2 / 315، الرقم : 2400-2401، وأيضًا في کتاب الأيمان والنذور، باب ما جاء فيمن مات وعليه صيام صام عنه وليه، 3 / 237، الرقم : 3311، والنسائي في السنن الکبری، 2 / 175، الرقم : 2919)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ (بوقت نزع) گفتگو کر سکتی تو صدقہ (کی ادائیگی کا حکم) کرتی. اگر میں اس کی طرف سے خیرات کروں تو کیا اسے ثواب پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں.‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔امام مسلم نے ’’صدقات کے ثواب کا فوت شدگان کو پہنچنا‘‘ کے باب میں یہ حدیث نقل کی ہے۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجنائز، باب موت الفجأة البغتة، 1 / 467، الرقم : 1322، ومسلم في الصحيح، کتاب الوصية، باب وصول ثواب الصدقات إلی الميت، 3 / 1254، الرقم : 1004، وأبوداود في السنن، کتاب الوصايا، باب ما جاء فيمن مات وصية يتصدق عنه، 3 / 118، الرقم : 2881، والنسائي في السنن، کتاب الوصايا، باب إذا مات الفجأة هل يستحب لأهله أن يتصدقوا عنه، 6 / 250، الرقم : 3649، وابن ماجه في السنن، کتاب الوصايا، باب من مات ولم يوصی هل يتصدق عنه، 2 / 906، الرقم : 2717)حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ (قبیلہ) جُہَینہ کی ایک عورت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا : میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکی یہاں تک کہ فوت ہوگئی. کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں تم اس کی طرف سے حج کرو. بھلا بتاؤ تو اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا نہ کرتیں؟ پس اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو کیونکہ وہ زیادہ حق دار ہے کہ اُس کا قرض ادا کیا جائے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الإحصار وجزاء الصيد، باب الحج والنذور عن الميت، والرّجل يحجّ عن المرأة، 2 / 656، الرقم : 1754، والنسائي في السنن، کتاب مناسک الحج، باب الحج عن الميت الذي نذر أن يحج، 5 / 116، الرقم : 2632، وابن خزيمة في الصحيح، 4 / 346، الرقم : 3041،چشتی)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور وہ اس وقت موجود نہ تھے ۔ وہ بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہوئے : یا رسول اللہ ! میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا ہے اور میں اُس وقت حاضر نہ تھا، اگر میں ان کی طرف سے کوئی صدقہ و خیرات کروں تو کیا انہیں ثواب پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں. حضرت سعد عرض گزار ہوئے کہ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا مخراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الوصايا، باب إذا قال أرضي أو بستاني صدقة عن أمي فهوجائز، 3 / 1013، الرقم : 2605، وعبد الرزاق في المصنف، 9 / 159، الرقم : 16337، والطبراني في المعجم الکبير، 6 / 18، الرقم : 537، والبيهقي في السنن الکبری، 6 / 278، الرقم : 12411، وابن سعد في الطبقات الکبری، 3 / 615)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو چکی ہے اگر میں اس کی طرف سے صدقہ دوں تو کیا وہ اسے کوئی نفع دے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں! اس آدمی نے عرض کیا : میرے پاس ایک باغ ہے، آپ گواہ رہیں کہ میں نے یہ باغ اس کی طرف سے صدقہ کر دیا.‘‘اِسے امام ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے، اور علماء کا یہی قول ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’میت کو صدقہ اور دعا پہنچتی ہے۔ بعض محدثین نے یہ حدیث بواسطہ حضرت عمرو بن دینار اور حضرت عکرمہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الزکاة، باب ما جاء في الصدقة عن الميت، 3 / 56، الرقم : 669، وأبو داود في السنن، کتاب الوصايا، باب ما جاء في من مات وصية يتصدق عنه، 3 / 118، الرقم : 2882، والنسائي في السنن، کتاب الوصايا، باب فضل الصدقة عن الميت، 6 / 252، الرقم : 3655، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 370، الرقم : 3504)حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ! اُمّ سعد (یعنی میری والدہ ماجدہ) کا انتقال ہوگیا ہے۔ سو (ان کی طرف سے) کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانی (پلانا) تو انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا : یہ اُمّ سعد کا کنواں ہے۔‘‘(أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الزکاة، باب في فضل سقي المائ، 2 / 130، الرقم : 1681، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 41، الرقم : 1424، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 1 / 362، الرقم : 1912)حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُن کی والدہ فوت ہو گئیں تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہوگئی ہے، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں! انہوں نے عرض کیا : تو کونسا صدقہ بہتر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانی پلانا. (تو انہوں نے ایک کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا.) پس یہ کنواں مدینہ منورہ میں سعد یا آل سعد کی پانی کی سبیل (کے نام سے مشہور) تھا.‘‘(أخرجه النسائي في السنن، کتاب الوصايا، باب ذکر اختلاف علی سفيان، 6 / 254-255، الرقم : 3662-3666، وابن ماجه في السنن، کتاب الأدب، باب فضل صدقة المائ، 2 / 1214، الرقم : 3684، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 284، الرقم : 22512، والطبراني في المعجم الکبير، 6 / 20، الرقم : 5379)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میرے والد فوت ہو گئے ہیں اور اُنہوں نے مال چھوڑا ہے، لیکن اُنہوں نے وصیت نہیں کی. اگر میں اُن کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ (صدقہ) اُن کے گناہوں کا کفّارہ ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں.‘‘ اِسے امام مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔(أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الوصية، باب وصول ثواب الصدقات إلی الميت، 3 / 1254، الرقم : 1630، والنسائي في السنن، کتاب الوصايا، باب فضل الصدقة عن الميت، 6 / 251، الرقم : 3652، وابن ماجه في السنن، کتاب الوصايا، باب من مات ولم يوص هل يتصدق عنه، 2 / 206، الرقم : 2716، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 371، الرقم : 8828،چشتی)حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور اُن پر ایک ماہ کے روزے واجب ہیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بتاؤ اگر اُس پرکچھ قرض ہوتا تو کیا تم اُس کی طرف سے وہ قرض ادا کرتیں؟ اُس عورت نے عرض کیا : ہاں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس اﷲ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ اس کا قرض (پہلے) ادا کیا جائے۔‘‘ اِسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔(أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب قضاء الصيام عن الميت، 2 / 804، الرقم : 1148، وابن حبان في الصحيح، 8 / 299، 335، الرقم : 3530، 3570، والبيهقي في السنن الکبری، 4 / 255، الرقم : 8012)حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت آئی اور عرض کیا : میں نے اپنی ماں کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی اور اب میری ماں فوت ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ثواب مل گیا اور وراثت نے وہ باندی تمہیں لوٹا دی. اس عورت نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے (بھی باقی) تھے، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، اس کی طرف سے روزے رکھو. اس نے عرض کیا : میری ماں نے حج بھی کبھی نہیں کیا تھا کیا میں اس کی طرف سے حج بھی ادا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، اس کی طرف سے حج بھی ادا کرو (اسے ان سب اعمال کا ثواب پہنچے گا).‘‘اِسے امام مسلم، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصيام، باب قضاء الصيام عن الميت، 2 / 805، الرقم : 1149، والترمذي في السنن، کتاب الزکاة، باب ما جاء في المتصدّق يرث صدقته، 3 / 54، الرقم : 667، والنسائي في السنن الکبری، 4 / 66-67، الرقم : 6314-6316، وابن ماجه في السنن، کتاب الصدقات، باب من تصدق بصدقه ثم ورثها، 2 / 800، الرقم : 2394، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 349، 351، 359، 361، الرقم : 23006، 23021، 23082، 23104)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میری بہن کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر دو ماہ کے روزے باقی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تیری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تو ادا کرتی؟ اُس نے جواب دیا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا حق زیادہ ادا کرنے کے لائق ہے۔(أخرجه النسائي في السنن الکبری، 2 / 173-174، الرقم : 2912-2915، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب من مات وعليه صيام من نذر، 1 / 559، الرقم : 1758)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا : میری بہن وفات پا چکی ہے اور اُس نے حج نہیں کیا تھا تو کیا میں اُس کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر اس پر قرض ہوتا تو تم یقینا ادا کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ وفاء کا زیادہ حق دار ہے۔(أخرجه ابن حبان في الصحيح، باب الکفارة، 9 / 306، الرقم : 3993، وابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 339، الرقم : 14724)حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : میرے والد فوت ہو گئے ہیں اور اُنہوں نے حج ادا نہیں کیا تھا. حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو اپنے والد کی طرف سے حج کر لے۔‘‘ اِسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔(أخرجه النسائي في السنن، کتاب الحج، باب الحج عن الميت الذی لم يحج، 5 / 116، الرقم : 2634، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 87، الرقم : 5877، وأيضًا في المعجم الکبير، 18 / 284، الرقم : 727، وبدر الدين العيني في عمدة القاري، 10 / 213)حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص وفات پا جائے اور اُس کے ذمہ رمضان شریف کے روزے باقی ہوں تو اُس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔(أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء من الکفارة، 3 / 96، الرقم : 718، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب من مات وعليه صيام رمضان قد فرط فيه، 1 / 558، الرقم : 1757، وابن خزيمه في الصحيح،3 / 273، الرقم : 2056،چشتی)حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : میرے والد فوت ہو گئے ہیں اور اُنہوں نے حج ادا نہیں کیا تھا. حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو اپنے والد کی طرف سے حج کر لے۔‘‘ اِسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔(أخرجه النسائي في السنن، کتاب الحج، باب الحج عن الميت الذی لم يحج، 5 / 116، الرقم : 2634، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 87، الرقم : 5877، وأيضًا في المعجم الکبير، 18 / 284، الرقم : 727، وبدر الدين العيني في عمدة القاري، 10 / 213)حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص وفات پا جائے اور اُس کے ذمہ رمضان شریف کے روزے باقی ہوں تو اُس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔(أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء من الکفارة، 3 / 96، الرقم : 718، وابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب من مات وعليه صيام رمضان قد فرط فيه، 1 / 558، الرقم : 1757، وابن خزيمه في الصحيح،3 / 273، الرقم : 2056)ابراہیم بن صالح بن درہم کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد کو فرماتے ہوئے سنا : ہم حج کے ارادے سے گئے تو ایک آدمی نے ہم سے کہا : کیا تمہارے ایک طرف اُبلّہ نامی بستی ہے؟ ہم نے کہا : ہاں. اس نے کہا : تم میں سے کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعتیں پڑھے اور کہے کہ ان کا ثواب ابو ہریرہ کے لیے ہے؟ میں نے اپنے خلیل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مسجد عشار سے ایسے شہیدوں کو اُٹھائے گا کہ شہدائے بدر کے ساتھ اُن کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوگا.‘‘ اِسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔(أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الملاحم، باب في ذکر البصرة، 4 / 113، الرقم : 4308)حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیںکہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ! عاص بن وائل نے دورِ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ وہ سو اُونٹنیوں کی قربانی کریں گے اور ہشام بن العاص نے اپنے باپ کی طرف سے پچاس اونٹنیوں کی قربانی کی تو کیا اس کا ثواب اُنہیں ملے گا؟ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہارا باپ توحید کو ماننے والا تھا اور تم نے اس کی طرف سے روزے رکھے یا صدقہ کیا تو یہ اسے نفع پہنچائیں گے۔‘‘ اِسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 181، الرقم : 6704)حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ! عاص بن وائل نے دورِ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ وہ سو اونٹنیوں کی قربانی کریں گے اور (ان کے بیٹے) ہشام بن العاص نے اپنے والد کی طرف سے پچاس اونٹنیوں کی قربانی کی تو کیا اس کا ثواب انہیں ملے گا؟ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہارا والد توحید کو ماننے والا تھا اور تم نے اِس کے لیے روزے رکھے یا صدقہ کیا یا کوئی غلام آزاد کیا تو ان چیزوں کا ثواب اُسے ملے گا.‘‘ اِسے امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔(أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 58، الرقم : 12078، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 192، وبدر الدين العينيفی عمدة القاري، 3 / 111)حضرت عطائ، حضرت سفیان اور حضرت زید بن اسلم ث سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا میں اپنے مرحوم باپ کی طرف سے غلام آزاد کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں.‘‘ اِسے امام ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔(أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 59، الرقم : 12083، والبيهقي في السنن الکبری، 6 / 279، الرقم : 12421، وبدر الدين العيني في عمدة القاري، 3 / 119)حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حسن اور حسین رضی ﷲ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اُن کی طرف سے غلام آزاد کرتے تھے۔(أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 59، الرقم : 12088، وبدر الدين العيني في عمدة القاري، 3 / 119،چشتی)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے اپنے والدین کی طرف سے حج کیا یا اُن کا قرض ادا کیا وہ روزِ قیامت نیکو کاروں کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔(أخرجه الدارقطني في السنن، کتاب الحج، باب المواقيت، 2 / 260، الرقم : 110، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 11، الرقم : 7800، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 146)حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر کوئی آدمی اپنے والدین کے لئے حج کرتا ہے تو اُس کا اور اُس کے والدین کا حج قبول کر لیا جاتا ہے، آسمانوں میں اُن کی اَرواح کو بشارتیں دی جاتی ہیں اور اُس بندے کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیکو کار لکھ دیا جاتا ہے ۔(أخرجه الدار قطني في السنن، کتاب الحج، باب المواقيت، 2 / 259، الرقم : 109، وابن قدامة في المغني، 3 / 102)حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسا سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا، جس کے ہاتھ، پیر اور آنکھیں سیاہ ہوں. سو قربانی کرنے کے لیے ایسا مینڈھا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! چھری لاؤ، پھر فرمایا : اس کو پتھر سے تیز کرو. میں نے اس کو تیز کیا. پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا اور ذبح کرنے لگے، پھر فرمایا : اللہ کے نام سے، اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور اُمتِ محمد کی طرف سے اس کو قبول فرما. پھر اس کی قربانی کی.‘‘ اِسے امام مسلم، ابو داود اور احمد نے روایت کیا ہے۔(أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الأضاحي، باب استحباب الضحية وذبحها مباشرة بلا توکيل والتسمية والتکبير، 3 / 1557، الرقم : 1967، وأبو داود في السنن، کتاب الضحايا، باب ما يستحب من الضحايا، 3 / 94، الرقم : 2792، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 78، الرقم : 24535، وابن حبان في الصحيح، 13 / 236، الرقم : 5915، وأبو عوانة في المسند، 5 / 62، الرقم : 7791)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِن دونوں مُردوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور اُنہیں کسی بڑے گناہ کے سبب عذاب نہیں دیا جا رہا. ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا. جب کہ دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا. پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تر ٹہنی منگوائی اور چیر کر اُس کے دو حصے کر دیئے۔ ایک حصہ ایک قبر پر اور دوسرا حصہ دوسری قبر پر نصب کر دیا. پھر فرمایا : جب تک یہ خشک نہ ہوں گی ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔(أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الأدب، باب الغيبة، 5 / 2249، الرقم : 5705، ومسلم في الصحيح، کتاب الطهارة، باب الدليل علی نجاسة البول ووجوب الاستبراء منه، 1 / 240، الرقم : 292، والنسائي في السنن، کتاب الطهارة، باب التنزه عن البول، 1 / 30، الرقم : 31، وأبو داود في السنن،کتاب الطهارة، باب الاستبراء من البول، 1 / 6، الرقم : 20)حضرت جابر بن عبد اللہ رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اُن کی طرف گئے۔ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کی نماز جنازہ پڑھ لی، اُنہیں قبر میں رکھ دیا گیا اور قبر کو برابر کر دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تسبیح فرمائی. پس ہم نے بھی طویل تسبیح کی. پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر فرمائی تو ہم نے بھی تکبیر کہی. اِس پر عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! آپ نے تسبیح و تکبیر کیوں فرمائی؟ ارشاد ہوا : اس نیک بندے پر قبر تنگ ہو گئی تھی. (ہم نے تسبیح و تکبیر کی) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اِس پر فراخی فرما دی.(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 360، الرقم : 14916،چشتی)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (ان کا اجر اسے برابر ملتا رہتا ہے) : ایک وہ صدقہ جس کا نفع جاری رہے، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تیسری وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔(أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته، 3 / 1255، الرقم : 1631، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 28، الرقم : 38، وأبو داود في السنن، کتاب الوصايا، باب ما جاء في الصدقة عن الميت، 3 / 117، الرقم : 2880، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب ثواب معلم الناس الخير، 1 / 88، الرقم : 239)حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو.(أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الجنائز، باب تلقين الموتی لا إله إلا اﷲ، 2 / 631، الرقم : 916، والترمذي في السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في تلقين المريض عن الموت والدعاء له عنده، 3 / 306، الرقم : 976، وأبو داود في السنن، کتاب الجنائز، باب في التلقين، 3 / 190، الرقم : 3117، والنسائي في السنن، کتاب الجنائز، باب تلقين الميت، 4 / 5، الرقم : 1826)

’ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو ۔(أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الجنائز، باب تلقين الموتی لا إله إلا اﷲ، 2 / 631، الرقم : 917، وابن ماجه في السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في تلقين الميت لا إله إلا اﷲ، 1 / 464، الرقم : 1444، وابن أبي شيبة في المصنف، کتاب الجنائز، باب في تلقين الميت، 2 / 446، الرقم : 10857)امام ابن عابدین شامی اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :’’اہل سنت و جماعت کے نزدیک حدیث مبارکہ – اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو – کو اس کے حقیقی معنیٰ پر محمول کیا جائے گا کیوں کہ اﷲ تعالیٰ تدفین کے بعد مردے میں زندگی لوٹا دیتا ہے اور اس پر واضح آثار (روایات) موجود ہیں.‘‘(ابن عابدين الشامي في رد المحتار، 2 / 191)حضرت سعید بن عبد ﷲ اَودی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا درآں حالیکہ وہ حالتِ نزع میں تھے۔ اُنہوں نے فرمایا : جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے ساتھ وہی کچھ کرنا جس کا حکم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا ہے۔ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی فوت ہوجائے اور اسے قبر میں دفن کرچکو تو تم میں سے ایک آدمی اُس کے سرہانے کھڑا ہوجائے اور اسے مخاطب کر کے کہے : اے فلاں ابن فلانہ! (فلانہ مؤنث کا صیغہ ہے جس سے مراد ہے کہ اسے اُس کی ماں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا.) بے شک وہ مدفون سنتا ہے لیکن جواب نہیں دیتا. پھر دوبارہ مردے کو مخاطب کرتے ہوئے کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس آواز پر وہ بیٹھ جاتا ہے۔ پھر کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس پر وہ مردہ کہتا ہے : اﷲ تم پر رحم فرمائے، ہماری رہنمائی کرو. لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہوتا. پھر وہ کہے : اُس اَمر کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے رُخصت ہوتے ہوئے تھے اور وہ یہ کہ اِس اَمر کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں؛ اور یہ کہ تو اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغمبر ہونے، اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا. جب یہ سارا عمل کیا جاتا ہے تو منکر نکیر میں سے کوئی ایک دوسرے فرشتے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور کہتا ہے : مجھے اِس کے پاس سے لے چلو، ہم اس کے ساتھ کوئی عمل نہیں کریں گے کیونکہ اس کو اِس کی حجت تلقین کر دی گئی ہے۔ سو ﷲ تعالیٰ اس کی حجت بیان کرنے والا ہوگا منکر نکیر کے علاوہ. پھر ایک آدمی نے کہا : یا رسول ﷲ! اگر میں اس کی ماں کو نہ جانتا ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر اُسے اماں حواء کی طرف منسوب کرو. (اور یوں کہو : ) اے فلاں ابن حوائ.‘‘اِسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا : اس کی اسناد صالح ہیں، جب کہ ضیاء مقدسی نے اسے احکام میں قوی قرار دیا ہے۔ ابن ملقن انصاری نے فرمایا : اس کے صرف ایک راوی سعید بن عبد اﷲ کو میں نہیں جانتا، لیکن اس روایت کے کثیر شواہد ہیں جو اسے تقویت بہم پہنچاتے ہیں.(أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 8 / 249، الرقم : 7979، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 324؛ 3 / 45، والعسقلاني في تلخيص الحبير، 2 / 135-136، وابن الملقن في خلاصة البدر المنير، 1 / 274-275، الرقم : 958، والهندي في کنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، 15 / 256-257، الرقم : 42406)حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی میت کی تدفین سے فارغ ہو جاتے تو اس کی قبر پر ٹھہرتے اور فرماتے : اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو اور (اللہ تعالیٰ سے) اس کے لیے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالات میں) ثابت قدمی کی التجا کرو، کیونکہ اب اس سے سوال کیے جائیں گے۔‘‘اِس حدیث کو امام ابو داود اور بزار نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے اور امام مقدسی نے فرمایا : اِس کی اسناد حسن ہیں.(أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الجنائز، باب الاستغفار عند القبر للميت في وقت الإنصراف، 3 / 215، الرقم : 3221، والبزار في المسند، 2 / 91، الرقم : 445، والحاکم في المستدرک، 1 / 526، الرقم : 1372، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 1 / 522، الرقم : 378)ملا علی قاری اِس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : ’’حافظ ابن حجر عسقلانی کا کہنا ہے کہ اِس روایت میں میت کو دفن کر چکنے کے بعد تلقین کرنے کی طرف اشارہ ہے اور ہمارے مذہب (اَہل سنت و جماعت) کے مطابق یہ معتمد سنت ہے، بخلاف اُس شخص کے جس نے یہ گمان کیا کہ یہ بدعت (سیئہ) ہے۔ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اس ضمن میں واضح حدیث بھی موجود ہے جس پر فضائل کے باب میں بالاتفاق نہ صرف عمل کیا جاسکتا ہے بلکہ وہ اتنے شواہد سے مضبوط ہے کہ وہ درجہ حسن تک جا پہنچی ہے ۔ (مرقاة المفاتيح، 1 / 327)عساکر الدین ، ابو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری المعروف امامِ مسلم رحمۃ اللّٰہ علیہ روایت کرتے ہیں : قَالَ : فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ»، قَالَ: فَقَالُوا: غَفَرَ اللهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ ۔

ترجمہ : دو یا تین دن وہ اسی (اختلاف کی) کیفیت میں رہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے ، وہ سب بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام کہا ، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش کی دعا مانگو ۔ تو لوگوں نے کہا اللہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی بخشش فرمائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلاشبہ انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک امت میں بانٹ دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے۔(صحیح مسلم ، صفحہ 853حدیث:4431 ، کتاب الحدود مطبوعہ دار الفکر بیروت،چشتی)حضرت ماعز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی وفات کے دوسرے یا تیسرے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ مل کر حضرت ماعز بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے تیجے دن اجتماعی دعا کی ۔پس ثابت ہوا کہ میت کے دوسرے تیسرے دن اجتماعی دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے۔ اور یہ صحابہ کا بھی طریقہ ہے ۔ لہٰذا اسکو بدعت کہنا جہالت و حماقت ہے ۔میت کیلئے قُل خوانی ، یا تیجے کے ختم ، کیلئے جمع ہو کر ذِکر و اذکار کرنا قرآن پڑھنا اور اجتماعی دعا کرنے کی اصل اس حدیث سے ثابت ہوئی ۔اب اگر کوئی قل شریف یا تیجے کی اجتماعی دعا کو بدعت کہے گا تو فتوی سیدھا جا کر صحابہ کرام علیھم الرضوان پر لگے گا ۔ لہٰذا میت کیلئے دوجے تیجے کی اجتماعی دعا جائز بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے ۔مزارات پہ جانا اور قرآن خوانی کرناحضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ترجمہ ۔ آخری دو پاروں کے معانی کی وضاحت کے لیئے کہ اکثر مسلمان ۵ نمازوں ، جمعہ ، انبیاٗ علیہم السلام و اولیا کرام کی ارواح مقدسہ کی جلوہ گاہوں ، صلحا وعرفا کے مزارات کی زیارت کے مواقع پر انہیں سورتوں کی تلاوت کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور ان کے مضامین کو دریافت کرنے کی تشنگی پاتے ہیں۔( تفسیر عزیزی سورہ فاتحہ صفحہ نمبر 3 از حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ) ۔ حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اس تفسیر سے ثابت ہوا کہ اکابرین بھی مزارات کو جاتے تھے نذر نیاز فاتحہ درودوسلام وغیرہ سب کچھ وہی کرتے تھے جو آج بھی مسلمان کرتے ہیں لیکن دیوبندی اور وہابی حضرات جو شاہ صاحب کو اپنا بڑا مانتے ہیں وہ ان سب امور کو بدعت و گمراہی اور شرک کہتے ہیں اور شاہ صاحب ان امور کو اکثر مسلمانوں کا معمول بتا رہے ہیں کیا یہ سب مشرک بدعتی و گمراہ تھے بشمول شاہ صاحب ؟ ۔ آخر کب دیوبندیوں اور وہابیوں کو اللہ سے شرم اور حیا آئے گی اور امت کو گمراہ کرنے اور امت میں فتنہ فساد اور انتشار و تفرقہ پھیلانے پر وہ معافی مانگیں گے ؟ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)