رحمت عالم ﷺ کا صبر و تحمل

از،محب احمد قادری علیمیؔ خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ،بستی

صبر وتحمل کا تعلق ان اعلیٰ صفات سے ہے جن کا حامل ہر کس ونا کس نہیں ہواکرتا یوں تو اس صفت حمیدہ سے متصف ہونے کا دعویٰ ہر کوئی کرتا ہے مگر حقیقت میں اس سے آراستہ ہونا بڑے دل اور گردے کا کام ہے۔

صبر کا مفہوم:۔ اس خوبی سے مزین ہونے کیلئے انسان کو جہاں عزائم مصممہ، بلند حوصلگی اور قوت بر داشت کی شدید ضرورت درکار ہوتی ہے وہیں اپنے نفس پر قابو پانا ایک نا گریز امر ہے۔

دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ صبرو تحمل دل کی کمزوری خاموشی اور بیکسی کے مجبورانہ درگزر کا نام نہیں بلکہ دل کی انتہائی قوت، ہمت کی بلندی، عزم کی استواری اور مشکلات ومصائب کو خدا کے بھروسے پر خاطر میں نہ لانے کا نام صبر وتحمل ہے اسی لئے قرآن پاک میں صبر وتحمل کرنے والوں کا انعام بے حساب بتایا گیا ہے۔

انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب

ترجمہ:۔صبر کرنے والوں کوتو ان کی مزدوری بے حساب ملے گی(زمر پ؍۲۳)

صبر قرآن واحادیث کے آئینے میں :۔صبرو تحمل کی تعلیم پر قرآن مجید میں جابجا مختلف طریقوں سے زور دیا گیا ہے اور صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے چناچہ عرب کے بدّو جب حضور ﷺ کے حجرہ کے سامنے آکر بد تمیزی سے آپ کو پکار تے تھے تو ان سے کہا گیا اتنی گھبراہٹ کیا تھی ذرا ٹھہر جاتے’’ولو انھم صبرو حتی تخرج الیھم لکان خیرالہم‘‘اگر وہ ذرا صبر کرتے یہاں تک کہ تم (اے رسول )نکل کر ان کے پاس آتے تو ان کیلئے بہتر ہوتا (حجرات پ؍۲۶)

حضورﷺ نے جب اسلام کے ابتدائی دور میں لوگوں کو دعوت توحید دی اور اسلام کی تبلیغ پیش کی اورہرطرف سے مخالفتیں شروع ہوگئیں اور کفارِ مکہ مشتعل ہوکرطرح طرح سے اذیتیں دینے لگے اس وقت آپ کو کامیابی کی منزلیں دور نظر آنے لگیں اور صدمہ لاحق ہوگیا اسی وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے آپ کو صبر کا پیغام ملاکہ آپ اضطراب وگھبراہٹ میں نہ پڑیں بلکہ پوری مستعدی اور تندہی سے اپنا کام کرتے جائیں اللہ آپ کا محافظ ہے چناچہ ارشاد باری ہے:’’واصبربحکم ربک فانک باعیننا‘‘‘(اے رسول)تواپنے پروردگار کے فیصلہ پرثابت قدم رہ کر منتظر رہ کیونکہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ (طورپ؍۲۷)

اس کے علاوہ دوسری آیات میں صبر کی تلقین کچھ اس طرح کی گئی ہے: ’’واصبر حتی یحکم اللہ وھو خیر الحاکمین ‘‘اور ثابت قدم رہ کر منتظر رہو یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے وہ سب فیصلہ کرنے میں بہتر ہے۔

(یونس پ؍۱۱)

’’فاصبر ان العاقبۃ للمتقین ‘‘ثابت قدم رہ کے وقت کے منتظر رہو بیشک کامیابی پر ہیز گاروں کے لئے ہے(ہود، پ؍۱۲)

ایک جگہ تو براہ راست مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’یاایھا الذین استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین‘‘(پ؍۲بقرہ)اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

مذکورہ بالا آیات میں صبر کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے اورساتھ ہی صبر کرنے کی بار بار تلقین بھی کی گئی ہے اسی طرح اور دیگر آیات میں صبر کی تعلیم بڑے شدومد کے ساتھ دی گئی ہے جن کے ذکر کا یہ مختصر مضمون محتمل نہیں ہے۔

درج ذیل سطرو ں میں صبر کی اہمیت وافادیت حدیث رسول کی روشنی میں بھی دیکھتے چلیں اثبات دعویٰ اورحصول برکت وعبرت کی خاطر کچھ احادیث پیش کی جارہی ہیں :

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے بیان فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے اے فرزند آدم ! اگر تو نے شروع صدمہ میں صبر کیا اور میری رضا اور ثواب کی نیت کی تو میں نہیں راضی ہوں گا کہ جنت سے کم اور اس کے سوا کوئی ثواب تجھے دیا جائے۔ (ابن ماجہ)

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بندہ مومن کا معاملہ عجیب ہے اس کے ہر معاملے اور ہر حال میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہے اگر اس کو خوشی اور راحت و آرام پہونچے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کیلئے خیر ہی خیر ہے اگر اس کو کوئی دکھ اور رنج پہونچتا ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اور یہ صبر بھی اس کیلئے سراسر خیر اورموجب برکت ہے (ریاض الصالحین صفحہ ؍ ۲۴ )

نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا :ایماندار شخص کو کوئی دکھ، تکلیف،بیماری اور غم نہیں پہونچتا ہے جس کی وجہ سے تکالیف کی بنا پر جو اسے تردد میں ڈال دے اس کے گناہ دور نہ ہوں۔(ترمذی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ حق سبحانہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے بھلائی کے کام کراتا ہے (اسے نرمی صبر اور پرہیز گاری کی توفیق دیتا ہے )۔ (ترمذی)

گذشتہ سطور سے صبرو تحمل کی حقیقت،فضیلت اور اس صفت سے متصف ہونے والوں کو کن مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے،اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے، اس تناظر میں جب ہم رحمۃاللعالمین ﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کی ذات بالکل یگانہ و منفرد نظر آتی ہے اور آپ ا صبر و تحمل کی اعلیٰ منزل پر فائز نظر آتے ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ رسول اکرم انے پوری زندگی مذہب اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اصلاح امت میں گذاری اس طویل دعوتی عرصے میں آپ کو کیسی کیسی اذیتیں پہونچائی گئیں اور آپ کو کن کن دشوار مراحل سے گذرنا پڑا، اسے پڑھ کر اور سن کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے لیکن قربان رسول کے صبرو تحمل اور رحمت کے، کہ آپ نے تمام تر صعوبتیں نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کر لیں لیکن کہیں بھی آپ کا پائے ثبات متزلزل نہ ہوا اور آپ پوری زندگی سراپا صبر و تحمل بنے رہے، امت کے درس کی خاطر ہم ذیل میں تاریخ کے حوالے سے ان جگر سوز واقعات کا اجمالی خاکہ ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔

رحمت عالم ﷺ جب حکم خداوندی کے بموجب اعلانیہ طور پر تبلیغ اسلام فرمانے لگے تو تمام قریش بلکہ پورا عرب آپکی مخالفت پر اتر آیا اور آپکو اور آپ کے متبعین کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگا۔

چادر کا پھندہ:ایک دفعہ حضورﷺ حرم کعبہ میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ عقبہ ابن ابی محیط نامی گستاخ اور سنگدل کافرنے آپکے گلے میں چادر کا پھندہ ڈال کر اس زور سے کھینچا کہ آ پ کا دم گھٹنے لگا یہ دل دوز منظر دیکھ کر حضرت ابو بکر صدیق بے قرار ہو اٹھے اور جلدی سے عقبہ بن ابی محیط کو دھکا دے کر دفع کیا اور کہا اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللّٰہ کیا تم ایک شخص کو صرف اس قصور پر مار ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے، صحیح بخاری میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔(مدارج النبوۃمترجم جلد ؍۲ صفحہ ؍۶۱)

نوع بنوع ظلم وستم کاطویل سلسلہ:۔شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے مدارج النبوۃ میں حضور پر کئے جانے والے ظلم وستم کے درازسلسلے کا ذکر کچھ اسطرح کیا ہے۔

بعض بد بخت کافر حضور اکرمﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکتے آپ کے دروازہ پر خون ڈالتے راستوں میں کانٹے بچھاتے او ر آپ کے بدن اطہر پر پتھر پھینکتے یہ بد بخت ایسے خبیث تھے کہ ان میں سے ایک نے سجدہ کی حالت میں اتنی شدت سے گردن کو دبایا کہ قریب تھا کہ چشمان مبارک باہر نکل پڑیں۔

ایک مرتبہ ایک شخص نے حضور کا گلا خوب شدت سے گھونٹا ابو بکر درمیان میں آگئے اور حضور کو بچایا اس بد بخت نے حضرت صدیق اکبر کی داڑھی اور سرکو اس زور سے گھسیٹا کہ داڑھی کے اکثر بال نچ گئے اور اس نے ان کا سر پھوڑ دیا، ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کے سر اور منھ پر اتنی جوتیاں ماری کہ وہ بے ہوش ہوکر گر پڑے مگر حضرت ابو بکر صدیق برابر یہی نصیحت فرماتے رہے: ’’اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللّٰہ وقد جاء کم بالبینات من ربکم‘‘کیاتم ایسے شخص کو مار ڈالنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ یقینا اپنے رب کی جانب سے دلائل و براہین لائے ہیں۔ (مدارج النبوۃ، ج؍۲ص؍۶۱)

صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضور اکرم ﷺ حرم کعبہ میں نماز ادا کر رہے تھے کہ عین حالت نماز میں ابو جہل نے کہا کہ ہے کوئی جوفلاں کے ذبح کئے ہوئے اونٹ کی اوجھڑی لا کر سجدہ کی حالت میں اس کے کندھوں پر ڈالدے؟ یہ سن کر عقبہ بن ابی محیط کافر اٹھا اور اوجھڑی لا کر حضور کے دوش اقدس پر رکھدیا حضور اکرم سجدہ میں تھے دیر تک اوجھڑی گردن اورکندھے پر پڑی رہی، اور کفار ٹھٹھا مارمار کر ہنستے رہے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ رہے تھے آخر فاطمہ رضی اللہ عنہا جو ابھی کمسن تھیں آئیں اور ان کافروں کو برا بھلا کہتے ہوئے اس اوجھڑی کو دوش مبارک سے ہٹا دیا حضور اکے قلب نازک پر کفار قریش کی اس شرارت سے بڑا صدمہ گذرا اور نمازسے فارغ ہو کر تین مرتبہ دعا مانگی ’’اللہم علیک بقریش ‘‘یعنی اے اللہ قریش کو اپنی گرفت میں لے لے۔ (بخاری، ج؍ ۱ص؍۷۴ مطبع رضا اکیڈمی ممبئی )

جب حضور رحمت عالم ﷺ مکہ والوں کے عناد و سر کشی اور شدید مخالفت و مزاحمت کو دیکھ کر نا امید ہو گئے کہ دعوت حق کا قبول کرنا تو دور کی بات اسے بند کرنے کے لئے کفار اپنی تمام تر کوششیں بروئے کارلا رہے ہیں اور ہر ممکن حربی و ضربی صورتوں کا بے تامل استعمال کر رہے ہیں تو آپ نے تبلیغ و اشاعت کے لئے قرب و جوار کا قصد کرنا شروع کیا طائف کا سفر بھی اسی تبلیغی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

حضور نے طائف کے سفر کو اس لئے بھی ضروری سمجھا کہ وہاں بڑے بڑے امراء اور صاحب ثروت و حشمت لوگ آباد تھے اور اگر ان رئیسوں میں سے کسی نے بھی اسلام قبول کر لیا تو تبلیغ دین میں کافی مدد ملے گی اور اس طرح سے تبلیغی کام کا کچھ اور راستہ ہموار ہو جائے گا۔

چناچہ اس سفر میں آپ کے غلام زید بن حارثہ بھی آپ کے ہمراہ تھے روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت طائف کی سرداری عمر بن عمیر کے تین لڑکوں عبد یا لیل، مسعود، حبیب کے ہاتھوں میں تھی آپ نے ان تینوں سے ملاقات کی اور انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن ان بد بختوں نے حضور کی اس دعوت کو ٹھکرا کر نہایت ہی گستاخی آمیز اور بیہودگی بھرا جواب دیا طرفہ ظلم یہ کیا کہ ان سنگدلوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ طائف کے اوباش اور شریر غنڈوں کو ابھارا کہ یہ حضور اکرم کے ساتھ برا سلوک کریں پھر کیا تھا ان شریر لچّوں لفنگوں کا گروہ آپ پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑا اور سراپا شرارت حضور پر پتھروں کی بارش کرنے لگے یہاں تک کہ آپ زخموں سے لہو لہان ہو گئے، آپ کے مقدس پائوں زخموں سے چور موزے اورنعلین مبارک خون سے بھر گئے، ان بد بختوں نے شرارتوں اور شقاوتوں کی انتہا تو یہاں تک کر دی تھی کہ جب حضور زخموں سے نڈھال اور بیتاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اٹھاتے اور جب آپ چلنے لگتے تو پھر اینٹ اور پتھروں کی بارش برساتے اور ساتھ ہی ساتھ طعنہ زنی کرتے اور گالیاں بھی دیتے تالیاں بجاتے ہنسی اور مذاق بھی اڑاتے، حضرت زید بن حارثہ نے اس روح فرسا اور سنگین گھڑی میں حضور پر جس ایثار و قربانی اور غلامی کا ثبوت دیا ہے تاریخ میں اس جذبۂ ایثار کی مثال بہت کم ملتی ہے، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ دوڑ دوڑ کر حضور ا پر آنے والے پتھروں کو اپنے بدن پر لیتے اور حضور کو بچاتے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے اور زخموں سے نڈھال ہو کر بے قابو ہو گئے بالآخر آپ نے انگور کے ایک باغ میں پناہ لی۔ (زرقانی علی المواہب ج؍۱ ص؍ ۳۰۰ بحوالہ سیرت المصطفی، ص؍ ۱۱۳)

اس کے بعد آپ کی زبان مبارک سے یہ دعائیہ کلمات نکلے ’’الٰہی اپنی کمزوری بے سرو سامانی اور لوگوں کی نگاہوں میں اپنی بے قدری کی فریاد تجھی سے کرتا ہوں اے رحم کرنے والے !تو ہی در ماندہ عاجزوں کا مالک ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے مجھ کو کس کے سپرد کیا جاتا ہے ؟ بیگانہ ترش رو یا اس دشمن کے جسے میرے معاملے پر قابو ہے ؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کسی مصیبت کی پرواہ نہیں کیونکہ تیری حفاظت و عافیت میرے لئے بہت وسیع ہے، تیری ذات کے نور کی پناہ میں آتا ہوں جن سے تمام اندھیرے اجالے بن جا تے ہیں، دنیا وآخرت کے تمام کام سنور جاتے ہیں،تیری ناراضی یا غصہ مجھ پر نہ ہو مجھے تیری ہی رضا مندی اور خوشنودی درکار ہے نیکی کرنے اور بدی سے محفوظ رہنے کی طاقت تیری ہی طرف سے ملتی ہے‘‘۔ (سیرت ابن ہشام، ج؍ ۱، ص؍ ۴۶۹۷۰ بحوالہ داستان حرم ص؍ ۵۰)

درس عبرت:مزکورہ بالا جگر سوز واقعات کو پڑھکر مجموعی طور سے جو ہمیں درس ملتا ہے وہ یہی ہے کہ رسول اکرم انے اشاعت دین کی خاطر نہ جانے کیسی کیسی آفتیں جھیلیں، آپ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور ہر ممکن طور سے آپ کے پائے صبر و استقلال کو متزلزل کرنے کی ناپاک سعی کی گئی لیکن آپ نے راہ خدا میں پیش آنے والی ان ساری صعوبتوں پر جس غیر معمولی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے یقینا تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر وعاجز ہے۔

رسول کا امتی ہونے کے ناطے ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم رسول گرامی وقار کے ہر ہر نقش قدم پر چلیں اور سیرت طیبہ کو اپنائیں اور مشکل سے مشکل مقام پر بھی صبر کا دامن ہاتھوں سے نہ چھوڑیں اسی میں ہماری کامیابی و کامرانی کا راز مضمر ہے اور قرآن حکیم کا بھی یہی اعلان ہے:’’لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ‘‘(پ؍۲۱ احزاب) یعنی رسول کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونۂ عمل ہے۔