مسجد کے ادب و احترام کے متعلق ضروری مسائل :-

مسئلہ: مسجد محلہ میں نماز پڑھنا اگرچہ جماعت قلیل ہو، جامع مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اگرچہ وہاں بڑی جماعت ہو ۔ اگرمحلہ کی مسجد ویران ہوگئی ہو اور جماعت نہ ہوتی ہو تو اس محلہ میں رہنے والا اس مسجد میں ہی جائے ۔ اگرچہ تنہا ہو ، پھر بھی اسی مسجد میں تنہا جائے اور اذان و اقامت کہے اور تنہا نماز پڑھے ۔ اس مسجد میں تنہا نماز پڑھنامسجد جامع کی جماعت سے افضل ہے ۔ علماء اس تنہا نماز پڑھنے کو دوسری مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے سے افضل فرماتے ہیں۔(صغیری، فتاوٰی قاضی خاں ، خزانۃ المفتین ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۸۶ ، فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ص۵۷۷)

مسئلہ: مسجد کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنا مکروہ ہے ۔ (درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت، حصہ۳، ص ۱۸۲)

مسئلہ: گرمی کی وجہ سے مسجد کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے کہ مسجد کی بے ادبی ہے ۔ (عالمگیری ، غرائب ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۵۷۵)

مسئلہ: جو ادب مسجد کا ہے وہی ادب مسجد کی چھت کا ہے ۔ ( غنیہ ،بہار شریعت، حصہ ۳ ، ص۱۸۶)

مسئلہ: مسجد میں نجاست لے کر جانامنع ہے اگرچہ مسجد اس سے آلودہ نہ ہو یا جس کے بدن پر نجاست لگی ہو اس کو مسجد میں جانا منع ہے ۔ ( ردالمحتار، بہار شریعت، حصہ ۳ ، ص۱۸۲)

مسئلہ: جنبی یعنی جس کو نہانے کی ضرورت ہو یعنی اس پر جنابت کا غسل فرض ہے ، اسے مسجد میں جانا حرام ہے ۔ ( بہار شریعت ، حصہ ۲ ، ص ۳۹)

مسئلہ: مسجد کو گھِن(کراہت) کی چیز سے بچانا ضروری ہے ۔ آج کل دیکھاگیا ہے کہ وضو کرنے کے بعد اعضائے وضو پر جو پانی ہوتا ہے اسیززز کپڑے سے پونچھ کر خشک کرنے کے بجائے ہاتھ سے پانی پونچھ کر مسجدکے فرش پر جھاڑ دیتے ہیں ۔یہ ناجائز اور حرام ہے ۔ (فتاوٰی رصویہ ،جلد ۱ ، ص ۷۳۳ ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۸۳)

مسئلہ: مسجد میں سوال کرنا (بھیک مانگنا) حرام ہے اور اس سائل کو دینا بھی منع ہے ۔ (بہارشریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۸۴)

مسئلہ: مسجد میں اپنے لئے مانگناجائز نہیں اور اسے دینے سے علماء نے منع فرمایا ہے ۔ یہاں تک کہ امام اسماعیل زاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اللہ تعالیٰ کے نام پر مزید دے کہ اس پیسہ دینے کے قصور کا کفارہ ہوں۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۴۳۶ ، احکام شریعت ، جلد ۱ ،مسئلہ نمبر ۳۴، ص ۷۷)

مسئلہ: مسجد میں گم شدہ چیز تلاش کرنا منع ہے ۔ امام مسلم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ من سمع رجلا ینشد ضالۃ فلیقل لاردہا اللہ علیک فان المساجد لم تبن لہذا ‘‘ ترجمہ ’’ جو کسی شخص کو سنے کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز دریافت کرتا ہے (ڈھونڈتاہے)تو اس سننے والے پر واجب ہے کہ اس تلاش کرنے والے سے کہے کہ اللہ تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے ۔ مسجدیں اس کے لئے نہیں ہیں ۔‘‘ ( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۸۴، اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۹۳)

مسئلہ: مسجد میں خریدوفروخت کرنا بھی جائز نہیں ۔ ترمذی اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور اس حدیث کو حاکم نے صحیح کہا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ اذا رأیتم من یتباع فی المسجد فقولوا لا اربح اللہ تجارتک ‘‘ ترجمہ :-’’ جب تم کسی کو مسجد میں خریدوفروخت کرتے دیکھو تو کہو اللہ تیرے سودے میں فائدہ نہ دے ۔ (بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۸۵، اور فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۵۹۳ -۵۹۴)

مسئلہ: مسجد میں کھانا ،پینا اور سونا معتکف یعنی جس نے اعتکاف کی نیت کی ہو اسے اور پردیسی یعنی مسافر کے سوا کسی کو جائز نہیں ۔ لہٰذا اگر مسجد میں کھانے پینے کاارادہ ہوتو اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں جائے اور کچھ دیر ذکر و اذکار اور نماز و عبادت کرے اور پھر کھائے پیئے یا سوئے ۔( بہار شریعت ، حصہ۳ ، ص ۱۸۴ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۹۵- ۵۹۳)

’’ حدیث میں ہے کہ مسجد کو چوپال نہ بناؤ لیکن تبلیغی جماعت نے مساجد کو چوپال اور مسافر خانے بنارکھے ہیں اور مسجد کے ادب و احترام کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔‘‘

مسجد میں کھاناپینا اور سونا معتکف اور مسافر کو جائزہے لیکن پھر بھی ان امور سے حتی الامکان بچنا چاہئے بلکہ نہایت مجبوری اور اشد ضرورت کی حالت میں اور وہ بھی مسجد کا ادب واحترام ملحوظ رکھتے ہوئے ہی مسجد میں کھانا، پینا اور سونا چاہئے ۔ کیونکہ مسجدیں صرف عبادت کے لئے ہی بنائی گئی ہیں ۔ مسافر خانوں کی طرح ٹھہرنے کے لئے نہیں بنائی گئیں۔

لیکن افسوس ! صد افسوس ! دورِ حاضر کے منافقین کی جماعت یعنی وہابی تبلیغی جماعت کی گاؤں گاؤں اور شہر شہر پھیلی ہوئی ٹولیوں نے مساجد کو مسافر خانوں کی حیثیت دے دی ہے ۔ بلکہ مساجد کو وراثت میں ملی ہوئی جائیداد کی حیثیت سے کھانے ، پینے اور سونے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور مساجد کو ہوٹل ، سرائے ، مسافر خانہ یاگیسٹ ہاؤس کی شکل وصورت میں تبدیل کردیتے ہیں ۔ باہر سے آکر مسجد میں ٹھہری ہوئی تبلیغی جماعت کا جن حضرات نے مشاہدہ فرمایا ہے انہیں یقین کے درجہ میں علم ہوگاکہ واقعی انہو ںنے مسجد کے ادب و احترام کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور مسجد کو مسافر خانہ بنادیاہے ۔ مثال کے طور پر :

وہابی تبلیغی جماعت کے چالیس پچاس مبلغ باہر سے آکر مسجد میںٹھہرتے ہیں ۔ مسجدکے ایک حصہ میں اپنا مال و اسباب جمادیتے ہیں ۔ مسجد میں معتکف اور مسافر کو کھانے ، پینے اور ٹھہرنے کی رخصت اور اجازت کا غیر فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے عقائد باطلہ ضالہ کی نشر واشاعت کے فاسد مقصد کے لئے نماز اور کلمہ کی تبلیغ کرنے کا مکروفریب کرتے ہیں۔

 مسجد کے وضو خانہ میں اپنے گندے اور ناپاک کپڑے دھوتے ہیں اور پھر اسے سکھانے کے لئے مسجد کے صحن میں دھوپ میں پھیلادیتے ہیں ۔ گویاکہ دھوبی گھاٹ جیسا منظر کھڑا کردیتے ہیں۔ رات کے وقت اپنے کپڑے مسجد کے اندرونی حصہ میں نماز کی چٹائیوں پر پھیلادیتے ہیں اور رات بھر بجلی کے پنکھے چلاتے ہیں اور مسجد کی بجلی اپنے ذاتی استعمال میں صرف کرتے ہیں ۔ اور مسجد کامالی نقصان کرتے ہیں۔

m اپنے کھانے پکانے کی چیزیں بھی مسجد میں پکاتے ہیں ۔ کھانا پکانے کے لئے اپنے ساتھ لائے ہوئے بڑے بڑے پتیلے اور دیگر برتن وضوکے لئے لگائے گئے نلوں میں دھوتے ہیں ۔ کھانا پکانے کے لئے پیاز، لہسن کاٹتے ہیں اور اس کی بدبو مسجد میں پھیلتی ہے ۔ مٹی کے تیل کے چولہے (Stove) جلاتے ہیں ۔مٹی کے تیل کی تیز بدبو مسجد میں پھیلتی ہے ۔

m کھانا پک جانے کے بعد تبلیغی جماعت کے مبلغین مسجد میں قطار باندھ کر کھانا کھانے کے لئے بیٹھتے ہیں ۔ شادی کی تقریب کی ضیافت جیسا منظر کھڑا ہوجاتا ہے ۔ کھانے کی چیزیں شوربا وغیرہ گرتے ہیں اور مسجد کا فرش کھانے پینے کی اشیاء گرنے کی وجہ سے ملوث ہوتا ہے ۔ پھر جھوٹے برتن وضو خانہ میں دھوتے ہیں ۔

m الغرض ایسا منظر کھڑا کردیتے ہیں کہ اگر کوئی انجان شخص مسجد میں آجائے تو اسے ایسا محسوس ہوکہ شاید کسی شہر سے آئی ہوئی بارات مسجد میں ٹھہری ہوئی ہے اور کھانا پکانا ، نہانا ، دھونا ، سونا اٹھنا ہورہا ہے ۔ وضو خانہ دھوبی گھاٹ اور مسجد کا صحن باورچی خانہ محسوس ہوتا ہے ۔

m جماعت کے مبلغین رات میں قطار بند بستر جماکر مسجد میں ہی سوتے ہیں اور حالت نیند یابیداری میں ریح خارج کرتے ہیں اور مسجد کی فضا خراب کرتے ہیں ۔ بعض بے ادب تو ریح خارج کرتے وقت پٹاخے چھوڑتے ہیں ۔ علاوہ ازیں دیگر خلافِ شرع ارتکاب بھی کرتے ہیں جن کا تذکرہ یہاں مناسب نہیں ۔

ناظرین کرام ! تبلیغی جماعت کے مذکورہ بالا ارتکاب کو مندرجہ ذیل احکام شریعت کے میزان میں تولیں اور حق و باطل کا فیصلہ کریں :-