❤ میاں بیوی کی باہمی محبت ۔

حضرت ابو سعيد الخدري – رضي الله عنه – سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :

(( إن الرجل إذا نظر إلى امرأته, ونظرت إليه, نظر الله تعالى إليهما نظرة رحمة , فإذا أخذ بكفها تساقطت ذنوبهما من خلال أصابعهما ))

📗 الجامع الصغير از امام سیوطی ۔

* التدوین فی اخبار القزوین از عبد الکریم قزوینی

☘ جب کوئی مرد ( پیار بھری نظروں سے ) اپنی بیوی کو دیکھے اور بیوی اسے دیکھے تو اللہ تعالی ان دونوں کو نظر رحمت سے دیکھتے ہیں اور ( مزید اظہار پیار کرتے ہوئے ) اس کے ہاتھ کو پکڑ لے تو ان کی انگلیوں کے درمیان میں سے ان کے گناہ گرنے لگتے ہیں ۔

✅ فقیر خالد محمود عرض گذار ہے کہ ذرا غور فرمائیں کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کو پیار بھری نظروں سے دیکھنا نہایت درجہ آسان ہے، کوئی تکلیف نہیں اٹھانا پڑتی ، کچھ خرچ نہیں، گرہ سے کچھ جاتا نہیں لیکن اللہ کی رحمت دونوں کے لیئے کھینچ لاتا ہے ۔ رحمت خداوندی جو ہر خیر ، ہر برکت، ہر سعادت ، ہر نوع کی سلامتی و عافیت کو اپنے دامن میں لیئے ہوتی ہے ۔ رزق قریب کر دیتی ہے ، مشکل آسان بنا دیتی ہے ، تنگی کو وسعت میں بدل دیتی ہے ۔ رب راضی تو جگ راضی والا ماحول بنا دیتی ہے

🔎 فقیر مزید عرض گذار ہے کہ سیوطی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔ البتہ البانی نے ایک جگہ اسے ضعیف اور دوسری جگہ اسے موضوع کہا ہے۔ ان کو محدث سمجھنے والے حسب رواج اسی لکیر کو ہی پیٹتے ہیں لیکن ان ہی کے ایک صاحب سلیمان بن عبد اللہ الماجد نے اپنے فتوی میں البانی کو بطور دلیل لکھنے کے بعد لکھا ہے ۔

، ولكن معناه من حيث الجملة ، وثبوت الأجر لملاطفة كل من الزوجين للآخر صحيح ؛ لعموم الأدلة . والله أعلم.

لیکن مجموعی لحاظ سے اس کا معنی صحیح ہے ۔ زوجین کے ایک دوسرے کے ساتھ لطف کے اجر کا ثبوت بھی صحیح ہے کہ دلائل عام ہیں