مسجد کی جائیداد ، مال سامان اور آمدنی کے متعلق :-

مسئلہ: ایک مسجد کی جائیداد اور وقف کی آمدنی دوسری مسجد کے مصارف میں خرچ کرنا ہرگز جائز نہیں۔ یہاں تک کہ اگر ایک مسجد میںلوٹے حاجت سے زیادہ ہوں اور دوسری میں لوٹے نہیں ، تو بھی ایک مسجد کے لوٹے دوسری مسجد میں بھیجنے کی اجازت نہیں ۔ (درمختار ، ردالمحتار ، فتاوٰی افریقہ ، مسئلہ نمبر ۱۰۷ ، ص ۱۷۷ ،اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۳۸۴)

مسئلہ: مسجد کی آمدنی دوسرے اوقاف میں صرف ( خرچ) کرنا حرام ہے اگرچہ مسجد کو حاجت بھی نہ ہو ۔ مسجد کی آمدنی دوسرے اوقاف میں صرف کرنا حرام ، حرام ، اشد حرام ہے ۔ اگر کسی مسجد کا مال کسی دوسرے وقف یا کسی دوسری مسجد میں دے دیا اور وہ مال بعینہ موجود ہے تو واپس لے لیا جائے اور اگر وہ مال خرچ ہوگیا تو اس کا تاوان (حرجانہ =Recompense ) منتظمین پر لازم ہے ۔ان سے وصول کیا جائے اوران منتظمین کو معزول(Expel) کرنا واجب ہے کہ وہ غاصب (Dishonest) اور خائن (Traitor) ہیں۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۴۶۰)

مسئلہ: مسجد کے کسی حصہ کو تجارت کی دوکان کردینا حرام ، حرا م ، سخت حرام اور مذہب اسلام میں دست اندازی ہے ۔ ان دوکانوں میں کسی کار دنیا کے لئے بیٹھنا ، یا اس کا کرایہ لینا ،یا اس میں کوئی چیز بیچنا ، خریدنا یا بیچنے خریدنے کے لئے اس میں جانا حرام قطعی ہے ۔ ان دوکانو ںکو زائل کرکے اسے واپس خاص مسجد بنادینا واجب ہے ۔ مسلمانوں پر اسے مسجد باقی رکھنا اور تاحدّ قدرت ہر جائز طریقہ سے اسے مسجد رہنے دینے میں پوری کوشش کرنا فرض قطعی ہے ۔ جو اس میں کوتاہی کرے گا سخت عذاب الٰہی کا مستحق ہوگا۔( درمختار، بحر الرائق ، ردالمحتار، فتاوٰی رضویہ، جلد ۶ ، ص ۴۷۱)