نئے شمسی یا قمری سال کے آغاز پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : نئے سال کی مبارک باد کے متعلق مختلف احباب اپنے خیالات کا اظہار فرماتے رہتے ہیں کچھ احباب نے فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی کو اس کے متعلق میسج کیئے کہ اس بارے میں لکھوں سو فقیر نے تمام مکاتب فکر کے علماء کے فتاویٰ جات اور مزید کچھ دلائل پیش کر دیئے ہیں امید ہے اس مسلہ کے متعلق کافی ہونگے :

سال نو کا آغاز یقینا اللہ کی نعمت ہے ، ایک مدت کا اختتام اور دوسری مدت کا آغاز عطاء الہی ہے ، اس انعامِ خداوندی اور عطاءِ الہی پر پیش گاہ ذوالجلال میں نذرانۂ شکر پیش کرنا چاہئے لیکن اس موقع پرباہم مبارکباد دینا ، تہنیت پیش کرنا سلف صالحین وبزرگان دین کا طریقہ نہیں رہا ، ان نفوسِ قدسیہ نے ہمیشہ تکلفات عرفیہ سے بالاتر ہوکر مقاصد کوپیش نظر رکھا ، دینی اغراض کو اپنا مطمح نظربنایا ۔ البتہ اس اعتبار سے کہ نیا سال اللہ تعالی کی نعمت وعطا ہے ایک دوسرے کے حق میں خیر وبرکت کی دعاء کی نیت سے کلمات تبریک کہے جائیں تو شرعا کوئی مضائقہ نہیں – اسلامی سال کا آغاز توخلیفۂ دوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اورامام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوتا ہے اوراختتام حج اورقربانی کے مہینہ پرہوتا ہے ، سال کا آغاز واختتام اس جانب اشارہ کررہاہے کہ اہل اسلام کے شب وروز، ماہ وسال خالص اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے لئے وقف ہونے چاہئے ۔ نئے شمسی یا قمری سال کے آغاز پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے خیر و برکت کی دعا دینے اور نیک تمناؤں کا اظہار کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہيں، خاص طور پر جب اس کا مقصد محبت و الفت کا تعلق قائم کرنا اور خوشدلی کے ساتھ پیش آنا ہو۔ نئے سال کی مبارکباد دینے والا اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے ہمیں زندگی کا ایک اور سال بھی دکھا دیا ہے ، جس میں ہمیں توبہ و استغفار اور نیک عمل کمانے کا مزید موقع میسر آسکتا ہے ۔ یہ مبارکباد خوشی اور اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار ہے ۔ یہ نہ تو شرعی حکم ہے اور نہ اس کی قطعی ممانعت ہے ، یہ ایک مباح عمل ہے ۔

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو چھ حقوق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب اسے خوشی پہنچے تو اسے مبارکباد دے۔ حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت جسے امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں درج کیا، اس میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ نئے سال یا مہینے کی آمد پہ وہ ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے : اللّٰهُمَّ أدْخِلْهُ عَلَیْنَا بِالأمْنِ وَ الإیْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَازٍ مِّنَ الشَّیْطَانِ ۔

ترجمہ : اے اللہ! اس (نئے مہینے یا نئے سال) کو ہمارے اوپر امن و ایمان ، سلامتی و اسلام اور اپنی رضامندی ، نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما ۔ (الطبرانی المعجم الاوسط، 6: 221، حدیث: 6241،چشتی)

علاّمہ مفتی سید ضیاءالدین صاحب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ کا فتویٰ

سرخی : f 1510 نئے سال کی مبارکباد دینا کیسا ہے ؟ مقام : اسپین,

نام : لئیق احمد ۔ سوال : مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ہجری ہو یا عیسوی ، نئے سال کی مبارکباد دینا کیسا ہے ؟

………………………………………………………………….

جواب : سال نو کا آغاز یقینا اللہ کی نعمت ہے ، ایک مدت کا اختتام اور دوسری مدت کا آغاز عطاء الہی ہے ، اس انعامِ خداوندی اور عطاءِ الہی پر پیش گاہ ذوالجلال میں نذرانۂ شکر پیش کرنا چاہئے لیکن اس موقع پرباہم مبارکباد دینا ، تہنیت پیش کرنا سلف صالحین وبزرگان دین کا طریقہ نہیں رہا ، ان نفوسِ قدسیہ نے ہمیشہ تکلفات عرفیہ سے بالاتر ہوکر مقاصد کوپیش نظر رکھا ، دینی اغراض کو اپنا مطمح نظربنایا ۔ البتہ اس اعتبار سے کہ نیا سال اللہ تعالی کی نعمت وعطا ہے ایک دوسرے کے حق میں خیر وبرکت کی دعاء کی نیت سے کلمات تبریک کہے جائیں تو شرعا کوئی مضائقہ نہیں – اسلامی سال کا آغاز توخلیفۂ دوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اورامام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوتا ہے اوراختتام حج اورقربانی کے مہینہ پرہوتا ہے ، سال کا آغاز واختتام اس جانب اشارہ کررہاہے کہ اہل اسلام کے شب وروز،ماہ وسال خالص اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے لئے وقف ہونے چاہئے – واللہ اعلم بالصواب سید ضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن ۔

وہابی مکتبہ فکر کے مفتی صاحبان کے فتوے

مفتی سعودی عبر عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کا فتویٰ

سوال ہوا : فضیلۃ الشیخ نئے سال کی آمد آمد ہے اور بعض لوگ آپس میں مبارکبادیوں کا تبادلہ کررہے ہیں ، یہ کہتے ہوئے کہ ’’كل عام وأنتم بخير‘‘ (آپ ہرسال یا صدا بخیر رہیں) ، اس مبارکبادی کا شرعی حکم کیا ہے ؟

جواب : بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على عبده ورسوله، وخيرته من خلقه، وأمينه على وحيه، نبينا وإمامنا وسيدنا محمد بن عبد الله وعلى آله وأصحابه ومن سلك سبيله، واهتدى بهداه إلى يوم الدين. أما بعد : نئے سال کی مبارکباد دینے کی ہم سلف صالحین سے کوئی اصل نہیں جانتے ، اور نہ ہی سنت نبوی یا کتاب عزیز اس کی مشروعیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی آپ سے اس کی پہل کرے تو اس کے جواب میں خیرمبارک کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ اگرکوئی آپ سے کہے کہ ’’کل عام وأنت بخیر‘‘ یا ’’فی کل عام وأنت بخیر‘‘ کہے تو کوئی مانع نہیں کہ آپ بھی اسے ’’وأنت کذلک‘‘ (آپ بھی ہرسال بخیر رہیں) اور ہم اللہ تعالی سے ہر بھلائی کے اپنے اور آپ کے لئے دعاءگو ہیں یا اسی سے ملتا جلتا کوئی کلمہ کہہ دے۔ البتہ خود اس میں پہل کرنے کے بارے میں مجھے کوئی اصل بنیاد (دلیل) نہیں معلوم ۔ (نور علی الدرب فتوی متن نمبر 10042 عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کی آفیشل ویب سائٹ سے ماخوذ)

سعودی محقق و مفتی محمد بن صالح العثیمین کا فتویٰ

کتاب ’’الضياء اللامع‘‘ صفحہ نمبر 702 میں لکھتے ہیں : یہ سنت میں سے نہیں کہ ہم نئے ہجری سال کی آمد پر عید منائیں یا مبارکبادیوں کا تبادلہ کریں ۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی سعودی محقق و مفتی محمد بن صالح العثیمین سے یہی سوال کیا گیا :

سوال : فضیلۃ الشیخ! آپ نے نئے سال کا ذکر فرمایا، ذرا یہ بھی بتادیجئے کہ نئے ہجری سال پر مبارکباد دینے کا کیا حکم ہے ؟ اور مبارکباد دینے والوں سے کیسا سلوک کرنا واجب ہے ؟

جواب : اگر کوئی آپ کو مبارکباد دے تو اس کا جواب دے دیجئے ، لیکن خود کبھی پہل نہ کریں ۔ یہی اس مسئلہ میں صواب مؤقف ہے ۔ اگر کوئی شخص مثلاً آپ کو کہے ، آپ کو نیا سال مبارک ہو تو آپ جواباً کہیں کہ آپ کو بھی مبارک ہو اور اللہ تعالی آپ کے اس سال کو خیر وبرکت والا بنادے ۔ لیکن آپ خود سے اس کی ابتداء نہ کیجئے ، کیونکہ مجھے سلف صالحین سے یہ بات نہیں ملی کہ وہ نئے سال پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوں ۔ بلکہ یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ سلف تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور سے قبل محرم الحرام کو نئے سال کا پہلا مہینہ ہی تصور نہیں کرتے تھے ۔ (اللقاء الشھري: 44، سن 1417ھ کے آخر میں)

سوال : فضیلۃ الشیخ آپ کی کیا رائے ہے نئے ہجری سال کی مبارکبادیوں کے تبادلے کے بارے میں ؟

جواب : میری رائے میں نئے سال کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ شریعت سے ثابت نہیں ۔ یعنی ہم لوگوں سے یہ نہیں کہیں گے کہ آپ کے لئے یہ سنت ہے کہ نئے سال کی ایک دوسرے کو مبارکباد دیں ، لیکن اگر کوئی ایسا کرلے تو کوئی حرج نہیں ۔ اور چاہیے کہ جب کوئی نیا سال مبارک کہہ دے تو وہ اسے اچھا جواب دے یعنی اللہ تعالی آپ کے اس سال کو خیروبرکت والا بنادے ۔ ہماری اس مسئلے میں یہی رائے ہے ، اور یہ امورِ عادیہ (عام عادات) میں شمار ہوتے ہیں ناکہ امورِ تعبدیہ (عبادت) میں ۔ (لقاء الباب المفتوح: 93، بروز جمعرات 25 ذی الحجۃ سن 1415ھ،چشتی)

دیوبندی مکتبہ فکر کے مفتی صاحبان کے فتوے

نئے اسلامی سال کی مبارک باد دینا ؟

سوال(۴۸) : – کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: پہلی محرم کو اگر ہم نئے سال کی مبارک بادی ایک دوسرے کو دیں، تو کیا یہ بدعت میں شمار ہوگا، یا یہ کہنا بہتر ہوگا ؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ التوفیق : اگر مبارک باد دینے کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کو اِسلامی مہینوں کے متعلق اَہمیت کا احساس ہو اورمحض رسم مقصود نہ ہو ، تو اِسلامی سال پر مبارک باد دینے کی گنجائش ہے ۔

عن عبید اللّٰہ عن أبیہ عن جدہ طلحۃ بن عبید اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان إذا رأی الہلال، قال : اللّٰہم أہلِلہ علینا بالیمن والإیمان والسلامۃ والإسلام ربي وربک اللّٰہ۔ (سنن الترمذي، أبواب الدعوات / باب ما یقول عند رؤیۃ الہلال ۲؍۱۸۳، عمل الیوم واللیلۃ ۵۹۶) فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔ املاہ : احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۴؍۲؍۱۴۳۱ھ ، الجواب صحیح : شبیر احمد عفا اللہ عنہ ۔ (کتاب النوازل جلد 17)

پہلی جنوری کو سب ایک دوسرے کو خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ہیپی نیو اِیئر(happy new year.)کا میسیج بھی بھیجتے ہیں ، تو کیا ہم بھی اس کے جواب میں ہیپی نیو اِیئر کہہ سکتے ہیں ؟ کیا ایسا کہنا حرام ہے ؟ کیا ایسا کہنے سے ایمان ختم ہو جائے گا ؟ بسم الله الرحمن الرحيم الجواب => ہیپی نیو ایر (happy new year) کہنا حرام تو نہیں اور نہ ہی ایسا کہنے سے آدمی ایمان سے خارج ہوتا ہے ، تاہم پہلی جنوری کو ہیپی نیو ایر کہنا نصاریٰ وغیرہ کا طریقہ ہے ، اس لیے ”ہیپی نیو ایئر“ کہنے سے احتراز کرنا چاہیے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند۔

نئے سال(New Year) کی آمد پر خوشی منانا : مسئلہ : نئے سال کی آمد پر جو خوشی منائی جاتی ہے ، اور اس خوشی کے اظہار کیلئے جو افعال اختیار کئے جاتے ہیں مثلاً : پٹاخے پھوڑنا ، تالیاں بجانا ، سیٹیاں بجانا ، ناچ گانا کرنا ، Happy New Year کہنا ، یا نئے سال کی مبارکبادی دینے کیلئے موبائل سے ایک دوسرے کو SMS بھیجنا وغیرہ ،یہ سب ناجائز ہیں ، اور اس میں شرکت یہود و نصاری کی مشابہت اختیار کرنا ہے ، جس پر سخت وعید وارد ہوئی ہے ۔ (الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما فی ’’ السنن أبی داود ‘‘: لقولہ علیہ السلام:’’ من تشبہ بقوم فہو منہم‘‘۔ (ص: ۵۵۹) ما فی ’’ مشکوٰۃ المصابیح ‘‘: عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم : ’’أبغض الناس إلی اللہ ثلثۃ ؛ ملحد في الحرم ، مبتغ في الإسلام سنۃ الجاہلیۃ ، و مطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیہریق دمہ ‘‘ ۔ رواہ البخاري ۔ (ص : ۲۷) ) (محقق ومدلل جدید مسائل۸۳/۱) واللہ اعلم بالصواب ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۱۲۹،چشتی)

نئے سال کی آمد پر خوشیاں منانا مسئلہ : نئے سال کی آمد پر جو ہولی ڈے اور چھٹی رکھ کر جشن منایا جاتا ہے ، وہ یہود و نصاریٰ کی رسم ہے ، شریعتِ اسلامی میں اس کی کوئی اصل و بنیاد نہیں ہے ، بلکہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہود ونصاریٰ کی مشابہت اور ان کی عیدوں اور تہواروں میں کسی بھی طرح کی شرکت سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور اس پر سخت وعید بیان فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ و و آلہ سلم کا ارشاد ہے : جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے ۔ اور جو شخص مسلمان ہوتے ہوئے غیروں کے رسم و رواج کا طالب ہو ، وہ عند اللہ سخت مبغوض اور ناپسندیدہ ہے اس لیے کرسمس ڈے ، برتھ ڈے ، مدر ڈے ، ویلین ٹائن ڈے ، اور دیگر تمام ڈیز کو بطورِ عید منانا شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے ۔ (الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ سنن أبي داود ‘‘ : قولہ صلی اللہ علیہ و و آلہ سلم : ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم ‘‘ ۔ (ص/۵۵۹) ما في ’’ مشکوۃ المصابیح ‘‘ :قولہ صلی اللہ علیہ و و آلہ سلم : ’’ أبغض الناس إلی اللہ ثلاثۃ : ملحد في الحرم ، و مبتغ في الإسلام سنۃ الجاہلیۃ ، و مُطّلب دم امریٍٔ مسلم بغیر حق لیہریق دمہ ۔ رواہ البخاري ۔(ص/۲۷ ، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ ، الفصل الاول) (المسائل المہمہ۱۷۲/۷) واللہ اعلم بالصواب ۔

امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا : قال القمولي في الجواهر: لم أر لأصحابنا كلاما في التهنئة بالعيدين والأعوام والأشهر كما يفعله الناس ورأيت فيما نقل من فوائد الشيخ زكي الدين عبد العظيم المنذري أن الحافظ أبا الحسن المقدسي سئل عن التهنئة في أوائل الشهور والسنين أهو بدعة أم لا ؟

فأجاب بأن الناس لم يزالوا مختلفين في ذلك

قال : والذي أراه أنه مباح ليس بسنة ولا بدعة

ونقلہ الشرف الغزی فی شرح المنھاج ولم یزد علیہ

ترجمہ : یعنی (احمد بن محمد) قمولی (شافعی) رحمۃ اللہ علیہ نے “جواہر”* میں فرمایا : میں نے عیدین , سالوں اور مہینوں کی مبارکباد دینے کے بارے میں اپنے اصحاب کا کوئی کلام نہیں دیکھا جیساکہ لوگ اسے کرتے ہیں (یعنی مبارکباد دیتے ہیں) اور میں نے اس میں دیکھا جس میں شیخ زکی الدین عبدالعظیم منذری کے فوائد سے نقل کیا گیا کہ بیشک حافظ ابوالحسن مقدسی رحمۃ اللہ علیہ سے مہینوں اور سالوں کی مبارکباد دینے کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا وہ بدعت ہے یا نہیں ؟

تو جواب دیا کہ لوگ ہمیشہ اس بارے میں مختلف رہیں ہیں ، (اور) فرمایا : اور وہ جسے میں خیال کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ (مبارکباد دینا) مباح (جائز) ہے, نہ سنت ہے اور نہ بدعت ہے ۔ اور اس کو شرف غزی نے *”شرح المنہاج”* نقل فرمایا ہے اور اس پر زیادتی نہیں کی ۔ (وصول الامانی باصول التھانی صفحہ 51, 52 )

شریعت نے نئے عیسوی سال کی مبارکباد دینے سے منع نہیں کیا اور جس کام سے شریعت منع نہ کرے وہ بالکل جائز ہوتا ہے ۔

چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں ہے : اَلْحَلاَلُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَ الْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ مِمَّا عَفَا عَنْہٗ ۔

ترجمہ : یعنی حلال وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی (یعنی منع نہ فرمایا) وہ معاف ہے (یعنی اس کے کرنے پر کوئی گناہ نہیں) ۔ (جامع ترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی لبس الفراء ،سنن ابن ماجہ ،المستدرک للحاکم)

کسی کو نیا عیسوی سال دیکھنا نصیب ہوجائے تو گویا اس کو نیکیاں کرنے کیلیے مزید مہلتِ زندگی دے دی گئی ہے اور یہ بات باعثِ سعادت و برکت اور اچھی ہے اور مبارک و اچھی بات کی مبارک باد دینے کی اصل صحیح حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے ۔ چنانچہ معراج کی رات جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر آسمانوں سے ہوا تو انبیائے کرام علیٰ نبینا و عليهم الصلاة والسلام نے آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو معراج پر مبارک باد پیش کی ۔ (کما فی کتب الاحادیث مشھور)

ان تمام حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مباح عمل سمجھتے ہوئے نئے شمسی یا قمری سال کے آغاز پر مبارکباد دینا ، دعا دینا ، نیک تمناؤں اور جذبات کا اظہار کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ (طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)