*🌸ضاد (ض) کو پڑھنے کا شرعی حکم🌸*

ہمارے دور میں بعض دیوبندی اور غیر مقلد وہابی اور شیعہ ضاد کو ظا پڑھتے ہیں حالانکہ وہابیوں کے مرکز کے پناہ گزیں نجدی بھی ضاد کو ظا پڑھنے والے کی سخت مخالفت کرتے ہیں چونکہ غیر مقلد بدعتی ہیں اس لئے یہ بدعت میاں نذیر حسین دہلوی غیر مقلد نے نکالی محض اہلسنت کی مخالفت میں بعض دیو بندی بھی ان کے ساتھ ہو گئے ۔ اس مسئلہ میں دونوں وہابی اور دیوبندی بدعتی ہیں ۔ تفصیل علامہ فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب رفع الفساد میں پڑھیں ۔

یہاں یہ بتانا ہے کہ ضاد کو ظا پڑھنا کفر ہے اور نماز فاسد ہو جاتی ہے قصداً یا سہواً ایسا کرنا گمراہی ہے اس کے بکثرت حوالہ جات رفع الفساد اور احسن التحریر والا الضالین میں علامہ فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی ہے یہاں چند ضروری باتوں پر روشنی ڈالتے ہیں ۔

*دیوبندی وہابی بدعتی ہیں :*

ضاد کو ظا پڑھنے کی بدعت ہندوستان میں میاں نذیر حسین دہلوی غیر مقلد نے نکالی اور اس سے پہلے شیعوں نے فتنہ برپا کیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں فرقے نمازوں میں ضاد کو ظا پڑھتے ہیں اور دیوبندی چونکہ وہابیوں کی شاخ ہے اس لئے وہابیوں کی دیکھا دیکھی اور صرف و صرف اہلسنت کی مخالفت میں ضاد کو ظا پڑھتے ہیں ورنہ انکے اکابر مولوی اشرف تھانوی اور مولوی گنگوہی ہماری طرح ضاد کو ظا پڑھنے اور فساد نماز کا فتوی دیتے ہیں ۔ (فتاوی رشیدیہ و فتاوی امدادیہ ، تبیین الضاد)

مخالفین ہر بات کو نجدیوں (حرم مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ ) کے موافق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر افسوس ضاد کو ظا کے مخرج میں انکے خلاف کر رہے ہیں کیونکہ حرمین شریفین کے امام ضاد کو ظاء بالکل نہیں پڑھتے بلکہ اسی ضاد کو ضاد ہی پڑھتے ہیں ۔

ضاد کو ظاء یا مشابہ ظاء کرکے پڑھنا غلط ہے اور اس طرح پڑھنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ ایسا شخص امامت کا اہل نہیں ہے اور ایسے امام کے پیچھے جو نماز پڑھی ہیں، اس کا اعادہ واجب ہے۔ قرآن کریم کے حروف کے ہر حرف کو اس کے مخرج سے ادا کرنا ضروری ہے اور تمام حروف کے مخارج جدا جدا معین ہیں۔

عن حذیفۃ قال رسول اﷲﷺ اقرؤوا القرآن بلحون العرب ۔ (الکامل ابن عدی، ج 2،ص 78، مطبوعہ دارالفکر بیروت)

ایک حرف کو دوسرے حرف کی طرح پڑھنا ناجائز ہے۔ ض اور ظاء دونوں حرف جدا جدا ہیں۔ ان کے مخارج بھی جدا ہیں۔ لہذا جو شخص قصداً یہ جان کر ض کو ظاء پڑھتا ہے کہ قرآن کریم میں اس جگہ یہ حرف اس طرح ہے، کافر ہے۔

امام قاضی عیاض رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں۔وقد اجمع المسلمون… من نقص منہ حرفاً قاصداً لذلک او بدلہ بحرف آخر مکانہ او زاد فیہ حرفاً مما لم یشتمل علیہ المصحف الذی وقع الاجماع علیہ واجمع علی انہ لیس من القرآن عامدا لکل ہذا انہ کافر

ترجمہ: بے شک اہل اسلام کا اجماع ہے… کہ جس نے قرآن کا کوئی حرف عمداً گھٹایا یا اس کے عوض دوسرا بڑھایا یا کوئی ایسا حرف زائد کیا جو مصحف شریف کا نہیں اور عمداً ایسے کیا تو وہ شخص بالاتفاق کافر ہے (الشفاء شریف حقوق المصطفیٰ فصل فی بیان ما ہو من المقالات کفر الخ، ج 2 ص 182، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

ملا علی قاری رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں:وفی المحیط سئل الامام الفضلی ممن یقراء الظاء المعجمۃ او یقرء اصحاب الجنۃ مکان اصحاب النار او علی العکس فقال لاتجوز امامۃ ولو تعمد یکفر

ترجمہ: اور محیط میں ہے کہ امام فضلی رحمتہ اﷲ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اس شخص کا کیا حکم ہے جو ضاد کی جگہ ظاء یا اصحاب جنت کی جگہ اصحاب النار پڑھے۔ فرمایا اس شخص کی امامت جائز نہیں اور اگر قصداً ایسا کرے تو کافر ہے (شرح فقہ اکبر، ص 167 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

جامع الفصولین میں ہے:یقراء الظآء الضاد ویقراء کیف شاء اصحاب الجنۃ مکان اصحاب النار لم تجز امامتہ ولو نعمد یکفر

ترجمہ: جو آدمی ضاد کی جگہ ظاء پڑھے اور اصحاب الجنۃ کی جگہ اصحاب النار پڑھے۔ اس کی امامت جائز نہیں اور اگر قصداً ایسا کرے تو کافر ہے (جامع الفصولین کلمات کفریہ، ص 316)

منیۃ المصلی میں ہے۔

اما اذا قراء مکان الذال ظاء او مکان الضاد ظاء او علی القلب تفسد الصلوۃ وعلیہ اکثر الائمہ

ترجمہ: بہرحال جب ذال کی جگہ ظاء یا ضاد کی جگہ ظاء پڑھے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اسی پر اکثر ائمہ کا مسلک ہے (منیتہ المصلی)

امام نووی رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں:ولو قال ولا الضالین بالظاء بطلت صلاتہ ارجع الوجہین الا ان یعجز عن الضاد بعد التعلیم فیعذرہ

ترجمہ: جو ولا الضالین کو ظاء کے ساتھ پڑھے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی، زیادہ راجع کی وجہ پر، مگر اس صورت میں کہ تعلیم کے باوجود ضاد کو صحیح ادا کرنے سے عاجز ہے تو پھر معذور سمجھا جائے گا (الاذکار المنتحبۃ من کلام سید الابرار، ص 46، مطبوعہ بیروت)

فتاویٰ قاضی خان میں ہے۔ولو قرء والعدیت ظبحاً بالظاء تفسد صلاتہ

ترجمہ: اور اگر کوئی والعدیت ضبحاً کی بجائے ظبحاً ظاء سے پڑھے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے (فتاویٰ قاضی خان، ج 1ص 141) (کبیری ص 349)

نیز اسی فتاویٰ قاضی خان میں ہے/وکذا لو قرء غیرا المغظوب باظاء او بالذال تفسد صلاتہ

ترجمہ: اور اسی طرح اگر غیر المغضوب کی بجائے غیر المغظوب ظاء یا ذال سے پڑھے تو نماز ٹوٹ جائے گی (فتاویٰ قاضی خان، ج 1ص 142) (کبیری ص 349)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:قال القاضی الامام ابوالحسن والقاضی الامام ابو عاصم ان تعمد فسدت

ترجمہ: قاضی امام ابوالحسن رحمتہ اﷲ علیہ اور قاضی امام ابو عاصم رحمتہ اﷲ علیہ نے کہا اگر عمداً ضاد کو ظاء پڑھے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ (فتاویٰ عالمگیری، ج 1، ص 79) (فتاویٰ عالمگیری مترجم امیر علی دیوبندی ج 1،ص 122، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی) (فتاویٰ بزاریہ ج 1ص 32)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں لکھتے ہیں : ظاد اور دواد دونوں محض غلط ہیں، اور اس کا مخرج بھی نہ زبان کو دانتوں سے لگا کر ہے نہ زبان کی نوک کو داڑھ سے لگا کہ، بلکہ اس کا مخرج زبان کی ایک طرف کی کروٹ اسی طرف بالائی داڑھوں سے مل کر درازی کے ساتھ ادا ہونا اور زبان کو اوپر کو اٹھا کر تالو سے ملنا اور ادا میں سختی وقوف ہونا ہے۔ اس کا مخرج سیکھنا مثل تمام حرفوں کے ضروری ہے جو شخص مخرج سیکھ لے اور اپنی قدرت تک اس کا استعمال کرے اور ظ یا ذ کا قصد نہ کرے بلکہ اسی حرف کا جو اللہ عزوجل کی طرف سے اترا ہے پھر جو کچھ نکلے بوجہ آسانی صوت پر نماز کا فتویٰ دیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ۔ جلد ۳، صفحہ ۱۰۰)

’’یہ حرف دشوار ترین حرف ہے اور اس کی ادا خصوصاً عجم پر کہ ان کی زبان کا حرف نہیں سخت مشکل (ہے)۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کا مخرج صحیح سے ادا کرنا سیکھیں اور کوشش کریں کہ ٹھیک ادا ہو اپنی طرف سے نہ ظاد کا قصد کریں نہ دواد کا کہ دونوں محض غلط ہیں اور جب اسے حسب وسع و طاقت جہد کیا اور حرف صحیح ادا کرنے کا قصد یا پھر کچھ نکلے اس پر مواخذہ نہیں ، لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا خصوصاً ظا سے اس حرف کا جدا کرنا تو سخت مشکل ہے پھر ایسی جگہ ان سخت حکموں کی گنجایش نہیں تکفیر دینا امر عظیم ہے لا یخرج الانسان من الاسلام الا حجور ما ادخلہ فیہ اور جمہور متاخرین کے نزدیک فساد نماز کا بھی حکم نہیں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ۔ جلد ۳، صفحہ ۱۰۱)

مولوی قطب الدین اپنی تفسیر میں تحت آیت وماہو علی الغیب بضنین میں لکھتے ہیں۔کہ حرمین شریفین وغیرہما اکثر ممالک میں تو سب (ضاد کو) دال مفحم کی طرح پڑھتے ہیں اور دہلی وغیرہ یا اکثر ہند کے ممالک میں بھی پہلے اسی طرح پڑھتے تھے مگر اب ان ایام میں بعض دنیا سازوں نے ظاء کے طور پر پڑھنے کا فتویٰ دیا جوکہ سراسر غلط ہے۔ ایک مجلس بھی اس کی تحقیق کے لئے منعقد ہوئی، اکثر وکل قراء کی رائے بطور سابق کے ضاد پڑھنے پر غالب رہی (جامع التفاسیر ص ) یہ وہی مولوی ہیں جنہوں نے مظاہر حق لکھی ہے اس پر دیوبندیوں کو اعتماد ہے کیونکہ مولوی محمد اسحاق کے شاگرد ہیں۔ ان سے یہ پتہ چلا کہ اکابر دیوبند بھی ظاء نہیں پڑھتے تھے۔

بانی دارالعلوم دیوبند قاسم نانوتوی لکھتے ہیں:سوال: خدمت میں علماء دین کی عرض ہے کہ ایک شخص کوہ لنڈھرہ پرنگینہ ضلع بحبور کا رہنے والا آیا ہے، کہتا ہے کہ ضاد مخرج ظاء پڑھنے سے نماز باطل ہوجائے گی، جواب ہر ایک امر کا اپنی مہر سے مزین فرماکر ارسال کریں کہ اس شخص کو جواب دیا جائے۔

جواب: جناب من جیسے بے کے بجائے ت اور دال کی جگہ ڈال اور جا کے بدلے خاک اور شین کے عوض سین اور عین کے مقام غین اور لام کے مقام میم نہ کوئی پڑھتا ہے اور نہ کوئی جائز سمجھتا ہے اور ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک ہر کوئی اسی کو سمجھتا ہے۔ ایسے ہی ضاد کو چھوڑ کر ضاء پڑھنا بھی خلاف عقل و نقل ہے۔ یہ بات عقل و نقل کی رو سے منجملہ تحریف ہے جس کی برائی خود کلام اﷲ میں موجود ہے پھر معلوم نہیں آج کل کے عالم کس وجہ سے ایسی نامعلوم بات کہہ دیتے ہیں اور اہل اسلام کیوں ایسی بات تسلیم کرلیتے ہیں مگر شاید عوام فتوئوں کی مہروں کو دیکھ کر مچل جاتے ہیں اور یہ کون جانے کہ کتابوں کا سمجھنا اور فتوئوں کا لکھنا ہر کسی کو نہیں آتا (تصفیۃ العقائد، ص 43-42، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)

اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:سوال : ضاد کو کس طرح پڑھنا چاہئے اور اکثر فقہاء کا قول کیا ہے اور اکثر کتب دینیات میں اس ذکر میں کیا لکھتے ہیں:جواب: فی الجزریۃ والضاد من حافتہ اذا لی الاصنداس من اسیر ولیناہا ، جب مخرج معلوم ہوگیا تو ضاد کے ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اس کے مخرج سے نکالا جاوے۔ اب اس نکالنے سے بوجہ عدم مہارت خواہ کچھ ہی نکلے، عفو ہے اور اگر قصداً دال یا ظاء پڑھے وہ جائز نہیں۔ جیسا بعض نے دال پڑھنے کی عادت کرلی ہے اور بعض نے فقہاء کے کلام میں یہ دیکھ کر کہ ضاد مشابہ ظاء ہے ظائر پڑھنا شروع کردیا۔ حالانکہ مشابہت کی حقیقت صرف مشارکت فی بعض الصفات ہے اور مشارکت فی بعض الصفات سے اتحاد ذات لازم نہیں آتا رہا قاضی خان کی اس جزئی سے لو قراء الضالین لاتفسد صلٰوۃ ظاء پڑھنے کی اجازت سمجھ لینا، اس کو دوسری جزئیات قاضی خان کی رد کرتی ہے۔

وہی ہذا ولو قرأ والعادیات ظبحاً بالظاء تفسد صلواتہ اہ وکذا لوقرا غیر المغضوب علیہم بالظاء اور بالذال تفسد صلواتہ وامثال ذالک من الفروع المتعددۃ۔ واﷲ اعلم (فتاویٰ امدادیہ، ج 1،ص 127 ربیع الاول باب تجوید 1322ھ)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں:یہ قول قاری صاحب کا درست ہے کہ جو شخص باوجود قدرت کے ضاد کو ضاد کے مخرج سے ادا نہ کرے، وہ گنہ گار بھی ہے اور اگر دوسرا لفظ بدل جانے سے معنی بدل گئے تو نماز بھی نہ ہوگی اور اگر باوجود کوشش سعی ضاد اپنے مخرج سے ادا نہیں ہوتا تو معذور ہے۔ اس کی نماز ہوجاتی ہے اور جو شخص خود صحیح پڑھنے پر قادر ہے ایسے معذور کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے مگر جو شخص قصداً دال یا ظاء پڑھے اس کے پیچھے نماز نہ ہوگی۔ فقط (فتاویٰ رشیدیہ ص 57)

نیز دوسری جگہ لکھتے ہیں:اصل حرف ضاد ہے اس کو اصل مخرج سے ادا کرنا واجب ہے۔ اگر نہ ہوسکے تو بحالت معذوری دال پر کی صورت سے بھی نماز ہوجائے گی۔ فقط واﷲ اعلم بندہ رشید احمد گنگوہی الجواب صحیح عزیز الرحمن، خلیل احمد، عنایت الٰہی، محمود، اشرف علی، غلام رسول (فتاویٰ رشیدیہ، ص 51)

عوام جو مخارج اور صفات سے واقف نہیں بوجہ ناواقفیت کے حرف ضاد کے بجائے ظاء پڑھے تو نماز فاسد ہوگی یا نہیں۔ یہ الگ مسئلہ ہے کہ جان بوجھ کر باوجود قادر بالفعل ہونے کے ایسا کرے تو جمہور فقہاء کے نزدیک ان کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ ہمارے زمانہ میں اکثر دیوبندی خصوصا پنج پیری قصداً ضاد کے بجائے ظاء پڑھتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ جھگڑتے اور فساد پھیلاتے ہیں۔ ان پنج پیری دیوبندیوں کو اپنے مستند عالم مفتی زرولی خان کے اس قول پر عمل کرنا چاہئے۔ مفتی زرولی خان دیوبندی سی ڈی کیسٹ آپ کے مسائل اور ان کے حل میں کہتے ہیں:اے قاریوں (جو نماز میں ظاد پڑھتے ہیں) دوسروں کی نمازیں خراب نہ کرو (یعنی اپنی نماز تو ہے ہی خراب مگر دوسروں کی نمازیں تو خراب نہ کرو) عرب ظاد کو جانتے تک نہیں۔ اس کے بعد محیط برہانی والی عبارت بیان فرمائی ہے اور ظاد کو بالکل غلط ثابت کیا ہے۔

MPسی ڈی آپ کے مسائل اور ان کا حل جمعتہ المبارک کے موقع پر سوال و جواب کی صورت میں شائع کردہ شاپ نمبر 8، اسلام کتب مارکیٹ، بنوری ٹائون کراچی)

ہم بھی ان ضاد کے بجائے ظاد پڑھنے والوں کو یہی کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فساد نہ پھیلائو اور مسلمانوں کی نمازیں خراب نہ کرو۔

*بعض لوگ کہتے ہیں کہ پھر تم کیوں وضو ، ضرورت ، فضل الرحمن ، ضیاء الدین ، حضور وغیرہ الفاظ کہتے ہو۔*

تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عجمی لفظ ہیں اور قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

*انا انزلناہ قرآنا عربیا لعلکم تعقلون ۔*

ترجمہ: بے شک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا تاکہ تم سمجھو

یہ عجمی الفاظ ہیں اور اردو زبان میں اس کو ظاء پڑھا جاتا ہے جبکہ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے لہذا اس کو عجمی طریقہ اور تلفظ کے ساتھ نہیں بلکہ عربی تلفظ اور عربی مخارج کے ساتھ پڑھا جائے گا۔ضاد قرآن مجید کا لفظ ہے یہ ایسے ہے جیسے اب عربی لوگ قاف کو گاف بولتے ہیں مثلا موقف کو موگف (اڈہ) قریب کو گریب وغیرہ لیکن جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو صحیح قاف پڑھتے ہیں ایسے ہم عجمی ضاد اپنی عجمیت میں پڑھیں گے تو ظاد ، لیکن جب قرآن مجید پڑھتے ہیں تو ضاد کو اس کے مخرج میں پڑھتے ہیں ۔

*اللہ تعالٰی ہمیں ضد سے بچائے آمین ۔*

(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)