امام شرف الدین بوصیری علیہ الرحمہ متوفی 696ھ کے صحابہ کرام کے مقام و مرتبہ پر چند اشعار 🌹🌹🌹🌹🌹

„ان بدا شمساً و صاروا نجوماً

وطی بحراً وفروا ثعابا

ترجمہ: اگر نبی کریمﷺسورج بن کے ظاہر ہوئے تو صحابہ ستارے ہوگئے ، اور اگر آپﷺ (علم کا) سمندر ٹھاٹھیں مارتا بنے ، تو یہ بھرے ہوئے جل تھل تالاب بن گئے۔

„اقلعت سحب سفنھم سجالا

من علوم ووردنا انصابا

ترجمہ: ان کے سفینوں کے بادلوں نے علوم سے بھرے ہوئے ڈول نکالے ، ہم اس میں سے حصہ لینے کیلئے (درِصحابہ) پر وارد ہوئے۔

„وتبارانا من النصب والرف

ض و اوجبنا لکل جنابا

ترجمہ: ہم نصب اور رفض دونوں سے بری ہیں(ناصبی اہل بیت کے دشمن رافضی صحابہ کے دشمن) ہر ایک صحابی کی عزت کرنا ہم نے خود پر واجب کیا ہے۔

„ان قوما رضی اللہ عنھم

مالنا نلقی علیھم غضابا

ترجمہ: یہ قوم وہ ہے کہ جس سے اللہ راضی ہوا ہمارلے لیے درست نہیں ، ہم ان کی مخالفت کریں۔

„اننی فی حبھم لا احابی

احداً قط ومن ذا یحابی

ترجمہ: میں تو صحابہ کی محبت سے سرشار ہوں نہ میں کسی ایک صحابی کی کبھی بھی توہین کروں گا ، نہ ہی ان سے محبت رکھنے والوں کی ۔

„صلوات اللہ تتری علیہ

وعلیھم طیبات عذابا

ترجمہ : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے لگاتار درود آپﷺ پر اور تمام کے تمام صحابہ پر پاک میٹھا درود۔

„یفتح اللہ علینا بھا من

جودہ والفضل بابا فبابا

ترجمہ: اسی محبت کے سبب اللہ تعالیٰ ہم پر نبی کریمﷺ کی سخاوت (کے دروازے) کھولے گا ، اور فضل کے دروازے بھی کھولے گا ، اور پھر دروازہ کھولے گا (پے در پے)

(دیوان امام بوصیری ، ص 147-146 ، بک کارنر شوروم جہلم)

امام بوصیری علیہ الرحمہ کے ان اشعار سے پتا چلا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ تمام صحابہ کرام کی بابت کس قدر خوش عقیدہ تھے ، اور نہ صرف ان کے مقام و مرتبہ سے بہ خوبی واقف تھے ، بلکہ ان کی ذوات سے فیوض وبرکات حاصل کرنے والے بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین!!!!!

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

5/1/2020ء