مدینہ منورہ کا محل وقوع:

مدینہ منورہ مکہ معظمہ کے شمال میں 455 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے مغرب میں ایک سو تیس میل دور سمندر اور اس علاقہ کی بندرگاہ ینبوع ہے ، یہ شہر مکہ اور شام کے تقریبا وسط میں پایا جاتا ہے ، مدینہ کریمہ سطح سمندر سے 619 میٹر بلندی پر آباد ہے تہامہ و حجاز کا صحت پرور مقام سمجھا جاتا ہے ، یہاں جاڑا اور گرمی دونوں سخت ہوتے ہیں موسم گرما میں درجہ حرارت 45 سنٹی گریڈ رہتا ہے ، جبکہ سرما میں رات کے وقت 6 سینٹی گریڈ تگ گرجاتا ہے ، لیکن جزیرہ نمائے عرب کی ہوا میں رطوبت کی کمی موسم کوزیادہ خشک بنادیتی ہے جس کی وجہ گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہوتی ہے ،

مدینہ منورہ کے طول البلد اور مکہ مکرمہ کے طول البلد میں تقریبا یکسانیت پائی جاتی ہے ، یعنی 39/1/2 درجہ مشرقی ہے ، البتہ اس کا عرض البلد 24 درجہ شمالی ہے ، جبکہ مکہ معظمہ کا عرض البلد 21 درجہ شمالی ہے ، یہ مقدس شہر ایک ایسے میدان میں آباد ہے جس کے شمال کی جانب ایک ہلکی سی پہاڑی ڈھال پائی جاتی ہے ، اور مشرقی و مغربی سمتوں سے دو حروں اور شمال و جنوبی اطراف سے دو پہاڑوں میں گھرا ہوا ، مشرق میں حرۃ الواقم اور مغرب میں حرہ الوبرۃ واقع ہیں ۔مدینہ منورہ کی حدود کا رقبہ جبل عیر اور جبل ثور کے درمیان 16 کلو میٹر پر محیط ہے

علامہ فرید وجدی کی تحقیق کے مطابق 1600 قبل المسیح 2212 قبل الھجرہ النبوی ﷺ قوم عمالقہ نے مدینہ کریمہ آباد کیا تھا ، محقق عصر علامہ سید سلیمان ندوی المتوفی 1373ھ 1957 رقمطراز ہیں ، یہ شہر 1600ق م اور 2200 ق م کے درمیانی زمانہ میں معرض وجود میں آیا کیونکہ معتبر تاریخی روایت سے ثابت ہوتا ہے ، کہ یہاں سب سے پہلے عمالیق آباد ہوئے اور یہ بات پایہ نبوت کو پہنچ چکی ہے ، کہ عمالیق 3300 ق م میں مصر کے حکمران تھے ، وہ 1600 ق م میں وہاں سے نکال دیئے گئے بنابریں اس شہر کی تعمیر کا زمانہ 1600 ق م اور 2200 ق م کے درمیان ثابت ہوتا ہے ، لیکن حسب ذیل تاریخی روایات کی بنا پر اغلب تو یہ کہ تقریبا 2200 قبل المسیح میں ‘’یثرب’’ کا شہر دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا جس کی آباد کاری کے اسباب اس طرح رونما ہوئے ۔‘’ قوم عمالقہ اور جرہم یمن میں آباد تھے جو قحط کی جاں گذار مصیبت سے نجات حاصل کرنے کی غرض سے پانی ، چارہ ، اور سرسبز وشاداب علاقوں کی تلاش میں تہامہ کی طرف نکل گئے ، انہی کے چند خاندان ‘’ یثرب ‘’ کے مقام پر آباد ہوئے ، (مروج الذہب ج 2 عنوان ذکر مکہ و اخبارہا) قبائل عمالقہ اور جرہم ایک ساتھ یمن سے ترک وطن کرکے کچھ اطراف مکہ مکرمہ اور بعض مدینہ منورہ کے مقام پر آباد ہوئے ، جیسا کے مؤرخین کا بیان ہے ، ‘’ بنو جرہم بن عبیل بن قحطان بن عابربن شائخ بن ارفحشدبن سام بن نوح علیہ اسلام مکہ مکرمہ کے قریب آباد ہوئے ، (الانساب الاشراف 6، 7) جبکہ مدینہ منورہ کے مقام پر آباد ہونے والے قبائل بنو عبیل بن مہلائیل بن عوض بن عملیق بن لاذربن سام بن نوح علیہ اسلام تھے ‘’ (سبائک الذھب ص 13) ، اس شہر کے آباد کرنے والے شخص کا نام یثرب تھا جس کا سلسلہ نسب اس طرح ہے ، ‘’ یثرب بن عبیل بن مھلائیل بن عوض بن عملیق بن لاذ بن سام بن نوح علیہ اسلام ‘’۔بعض مؤرخین نے نسب اس طرح بھی بیان کیا ہے ، ‘’ یثرب بن قانیہ بن مھلائیل بن ارم بن عبیل بن عوض بن ارم بن سام بن نوح علیہ اسلام (واللہ اعلم )اور یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ 2200 قبل المسیح میں جب سیدنا اسماعیل علیہ اسلام شیرخوارگی کے عالم میں مکہ مکرمہ جاتے ہیں تو وہاں قبیلہ بنو جرہم پہلے موجود تھا ۔ اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مدینہ منورہ کی آبادکاری بھی اسی زمانہ کے قریب عمل میں آئی تھی ، علاوہ ازیں ‘’ بنو سام کی حقیقی ترقی کا زمانہ 2200 ق م یا 2000 ق م تک کا ہے’’۔ اس سے ظاہر ہے کہ ترقی کے زمانہ سے پہلے ہی نامساعد حالات کے باعث ترک وطن کیا تھا۔ علامہ ہمدانی المتوفی 334ھ لکھتے ہیں : ارض مدینہ ، قباء، احد ، عقیق، بطحان ، سلع، حرہ ، لاتبان، سبحہ حریفہ ، اور رحابہ واجیہ آبادی پر مشتمل ہے ۔ (صفہ الجزیرہ العرب 124) ہجرت نبوی ﷺ کے بعد مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی آبادی پہلے سے پانچ سوتھی ، کچھ عرصہ بعد پندرہ سوہوگئی تھی ، جن میں مرد ، عورتیں ، بچے ، بوڑھے اور غلام سب شامل تھے۔ علاوہ ازیں عہد نبوی ﷺ میں بنوقینقاع اور بنو قریظہ کی مجموعی تعداد پانچ ہزار کے قریب تھی ، بنو قینقاع میں سات سو جنگجو اور قریظہ میں چھ سو بہادر سپاہی تھے ، علامہ فرید وجدی اپنے دور کی آبادی کے متعلق لکھتے ہیں :اس وقت آبادی 60000 نفوس پر مشتمل ہے ، ان میں اکثریت دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کی ہے ، جو ہند ، ترکی ، شام اور مصر وغیرہ سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں ، 1398ھ کی مردم شماری کے مطابق 000، 00، 2 افراد پر مشتمل تھی ،دعاؤں میں یاد رکھیئے گااور دوستوں میں شئیر لازمی کیجیئے گا ، جزاک اللہ خیر