اسلام اور تعدُّدِ ازدواج

مولانا نفیس احمد مصباحی استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور اعظم گڈھ

اسلام ایک مہذب ،پاکیزہ ،ہمہ جہت اور ہمہ گیر عملی مذہب ہے، جس نے اپنے ماننے والوں کوایسا منصفا نہ جامع دستور حیات عطا فرمایا ہے جو ان کیلئے ہر وقت اور ہر جگہ قابل عمل ہے‘انسان فطری طور پر مدنی الطبع واقع ہوا ہے ‘جو تنہا اپنی معاشرتی زندگی نہیں گزار سکتا ۔انسانی زندگی کی گاڑی آگے بڑ ھانے اور اسے صحیح اور مناسب رفتار سے چلانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کسی عورت سے ازدوا جی تعلق ہو، جو ہر طرح کی گندگی اور آلود گی سے پاک ہو ‘جس کے لئے اسلام نے نکاح کا تصور دیا اور اس کی صاف و شفاف عملی شکل بھی دنیا کے سامنے رکھی۔پھراس نے یہ بھی اجازت دی کہ جو شخص روٹی‘کپڑا ‘مکان شب باشی اور دیگر حقوق زوجیت کی ادائیگی میں عدل کرنے اور مساوات برتنے کی طاقت رکھتا ہو وہ ایک سے زیادہ عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے اور بیک وقت چار تک عورتوں کو اپنی زوجیت میںرکھ سکتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے :فَانْکِحُوْامَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنیٰ وَثُلٰث وَّرُبٰع فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَّاتَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃًاَوْ مَا مََلَکَتْ اَیْمَا نُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنیٰ اَنْ لَّاتَعُوْلُوْا o(النساء:۳)

ترجمہ : تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ،انھیںنکاح میںلاؤ،دودو، تین تین،چار چار،پھراگر ڈروکہ دوبیویوں کوبرابرنہ رکھ سکوگے تو ایک ہی کرو ،یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو ۔یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو ۔

یوں تو اسلامی تعلیمات اور اس کے احکام پر کیچڑ اچھالنا اور ان پر طعن وتشنیع کے تیر چلانا اسلام د شمن عناصر کا شب ورو زکا محبوب مشغلہ بن چکا ہے مگر ان میں تعدُّدِ اِزدواج کا مسئلہ اہل مغرب اور اسلام دشمن طاقتوں کے طعن و تشنیع کا بطور خاص نشانہ بناہے ، اس پر نکتہ چینی کرنے میں اہل کلیسا ،مستشرقین اہل سیاست ہم زبان و ہم قلم ہیں ۔ مغرب سے اٹھنے والی اس اسلام دشمن آندھی نے اہل مشرق کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس نے ان کے ذہن وفکر ،قلب و نظر کو اپنا غلام بنالیا ہے ۔

احساس کمتری اور مغرب کی غلامی

یوں تو مغرب کی غلامی سے مشرق کو بہت سے نقصانات پہنچے اور پہنچ رہے ہیں لیکن سب سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ خطرناک نقصان یہ پہنچا کہ مشرق احساس کمتری اور مغرب کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہو گیا ،مشرق سیاسی ، معاشی،صنعتی اور فوجی میدان میں مغرب کے ہاتھوں بری طرح مات کھا چکا تھا ،اور تنہا یہی بات اس کے اندر شکست خوردگی اور احساس کمتری پیدا کرنے کے لئے کا فی تھی ۔مگر اس سے بڑھ کر مصیبت یہ تھی کہ مغرب جدید علوم و فنون ،سائنسی ایجادات واکتشافات اور بحث واستدلال کی تازہ ترین تکنیک اور نو بہ نو اسلحوں سے پوری طرح مسلح تھا ،جب کہ مشرق ان تمام ہتھیاروں سے محروم تھااور اس کے اپنے ہتھیار زنگ خوردہ اور کند ہو چکے تھے نتیجہ یہ نکلا (اور اس کے علاوہ کچھ اور نکل بھی نہ سکتا تھا) کہ مشرق مادی میدان کی طرح علمی، فکری اور تہذیبی میدان میں بھی یورپ سے شکست کھا گیا اور اپنے ذہن وفکر سے سوچنے کے بجائے مغرب کے ذہن وفکر سے سوچنے لگااور ہر چیز کو مغرب کی رنگین عینک سے دیکھنے لگا اور اپنی سوچی سمجھی بات کہنے کے بجائے یورپ کی بولی بولنے لگا۔

مغرب نے کہاکہ تہذیب تو بس مغرب کی تہذیب ہے، مشرق کے پاس جہا لت وناشا ئستگی کے سوا کچھ نہیں،اور قدیم ترین زمانے سے تہذیبوں کے گہوارے مشرق نے سرِ تسلیم خم کر دیا۔مغرب نے کہا :خدا اور مذہب ،وہم اور دقیا نوسیت کی پیدا وار ہیں،علمی و تمدنی ارتقا کے لئے انہیںخیر باد کہنا نا گریزہے اور مشرق نے جو مذا ہب کاسر چشمہ تھا، بے چون و چرا یہ نقطئہ نظر اپنالیا۔ مغرب نے کہا:حیا،پردہ ،عفت و عصمت ،نکاح اور جنسی و فا داری فر سودہ اور لا یعنی با تیں ہیں،انسان حیوان ہے اور اسے حیوانی فطرت ہی پر زند گی کی عمارت تعمیر کرنی چاہئے ،اور حیوانی فطرت سے قریب تر روش یہ ہے کہ مردوںاور عورتوں کو جنسی تعلق قائم کر نے کی غیر محدود آزادی ہو ،وہ جس سے چا ہیںاور جب تک چا ہیںلطف اندوزہوں اور جب ان کا دل بھر جائے تو ملاطفت اور ملاعبت کو ختم کر کے الگ ہو جائیں۔اور مشرق نے مغرب کی اس حیوانیت کوبھی گلے سے لگانا شروع کردیا ۔مختصر یہ کہ وہ تمام چیزیںجو مشرقی روایات ہی نہیںمسلمہ اخلاقی اقدار کی رو سے بھی گناہ عظیم کا درجہ رکھتی تھیں ،مغرب کے زیر اثر تہذیب ،دانائی اور شا ئستگی قرار پائیں۔ہندوستان کاحال اس معاملہ میںدوسرے مشرقی ممالک سے مختلف نہیںہے ۔

یہ مغرب کی ذہنی غلامی ہی کا کرشمہ تو ہے کہ جب مغرب نے تعدد اذدواج پر اعتراض کیاتو مغرب زدہ طبقہ کو اس میں کیڑے نظرآنے لگے اور اس کا ارتکاب بدترین جر م کا ارتکاب قرارپایا ۔مغرب زدگی نے انہیںیہ سوچنے کی مہلت نہ دی کہ ایک سے زائد شادی میں قباحت کس پہلو سے ہے ۔کیا تعدد ازدواج اس حیوانی فطرت کے خلاف ہے جس پر اہل مغرب اپنی پوری زندگی ،خصوصا جنسی زندگی کی تعمیر کر رہے ہیں؟ بلاخوف ِتردیدکہا جاسکتا ہے کہ حیوانی فطرت کی شہادت تعدد ازدواج کے امتناع نہیں ، اس کی اجازت کے حق میں ہے ،جسے ادنیٰ سی بصیرت رکھنے والا ہر شخص محسوس کرتا ہے ،کیا تعدد ازدواج اس پہلو سے غلط ہے کہ وہ عورت پر ظلم ہے ؟ہر عورت کے لئے یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ دوسری عورت شو ہر کی محبت میں اس کی شریک ہو۔ لیکن ’’یک زو جگی ‘‘کا قانون بد ترین ظلم کا باعث بنتا ہے اور وہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے کر دوسری عورت سے شادی کرلے یا اپنی بیوی کے علاوہ دوسری عورتوں سے نا جائز تعلقات کرتا پھرے ، اور ان پر نہ صرف روپیہ پیسہ ،بلکہ اپنی وفاداری اور محبت بھی نچھاور کرے ۔کیاتعددازدواج کو اسلئے ختم کردیا جائے کہ اس سے کچھ معاشی پیچیدگیاں ہو گئی ہیںیا ہوتی ہیں؟اگر یہ بات ہے تو یک زوجگی کے قانونی نفاذکو بدرجۂ اولیٰ ختم ہو نا چا ہئے کیوں کہ اس سے یورپ بہت ہی لا ینحل اخلاقی پیچید گیوںکا شکار ہو گیا ہے ،جن سے پریشان ہو کر خود مغرب کے چوٹی کے مفکرین تعدد اِزدواج کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔

تعدد ازدواج کے مسئلہ پر اس اجمالی گفتگو سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس مسئلہ کی مخالفت کے لئے فی الواقع کوئی بنیاد موجودنہ تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ طویل غورو فکراور سالہا سال کے عملی تجربات نے یہ ثابت کر دیا ہو کہ تعددازدواج کا رواج انسانی معاشرے کیلئے تباہ کن ہے بات صرف اتنی تھی کہ مغرب نے تعدد ازدواج کا ذکر حقارت سے کیا تھا اور وہ اسے خلاف تہذیب و تمدن سمجھتاتھا ،ذہنی غلامی کے مارے ہوئے افراد کیلئے اتنی بات کا فی تھی ۔چنانچہ انہوں نے مغرب کی آواز میںآواز ملا کر تعدد ازدواج کی مخالفت شروع کردی ۔

کیا اسلام تعدد ازدواج کا موجد ہے ؟:

قبل اس کے ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ تعددازدواج انسانی معاشرہ کیلئے ایک معاشرتی ضرورت اور رحمت ہے یا سراسر زحمت؟مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہم یہ دیکھ لیں کہ تعدد ازدواج کی بدعت اسلام نے شروع کی ہے یا قدیم مذاہب اور غیر اسلامی معاشرہ میں بھی اس کا سراغ ملتا ہے ۔اس ضمن میں قدیم مذاہب اور گزشتہ معاشروں کا جائزہ لیتے ہوئے مشہور اہل قلم ’’ڈاکٹر مصطفی السباعی ‘‘اپنی مشہور کتاب ’’المرأۃبین الفقہ والقانون‘‘میں لکھتے ہیں : ’’اسلام پہلا مذہب نہیںہے جس نے تعددازدواج کی اجازت دی ہے بلکہ تقریبا تمام قدیم اقوام مثلایونانیوں،جینیوں،ہندوؤں،اہل بائیبل، اشوریوں،مصریوںکے یہاں بھی تعدد ازدواج کا رواج رہا ہے ۔بلکہ ان میںسے بیشتر قوموں کے نزدیک بیویوں کی تعداد محدود ومقرر نہیںتھی ۔ چینی مذہب لیکی میں ۱۳۰؍تک بیویاں رکھنے کی اجازت تھی۔چین کے ایک بادشاہ کی بیویوں کی تعداد ۳۰۰۰ تھی یہودی مذہب میں بلا تحدید و تعیین تعدد ازدواج کی اجازت تھی ۔تمام انبیائے توراۃ کے یہاںبہت سی بیویوںکا پتہ چلتا ہے ۔عیسائی مذہب میں تعدد ازدواج کی کوئی صراحت نہیں ملتی بلکہ ان کے بعض رسائل سے معلوم ہو تا ہے کہ عیسائیوںکے یہاں کثیر زوجگی کا رواج رہا ہے۔ چنانچہ ایک خط میں لکھا ہے کہ پادری کیلئے لازم ہے کہ اس کی صرف ایک بیوی ہو ۔پادری پر اس پابندی سے معلوم ہو تا ہے کہ دوسروں کیلئے ایک سے زیادہ بیویوںکی اجازت تھی ۔تاریخ سے اس کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ قدیم عیسائیوں میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا رواج تھا ۔بعض پوپ ایسے بھی گذرے ہیں جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں ۔ایک یورپین مورخ Western Marker نے اپنی کتاب ’’HISTORY OF MARRIAGE SHORT‘‘ میں لکھا ہے کہ تعدد ازدواج کا سلسلہ کلیسا کی اجازت سے سترہویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔اس سلسلہ میں مصنف نے متعدد بادشاہوں کے نام گنائے ہیں ،جن کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں ،اور کلیسا نے صرف یہی نہیں کیا کہ کوئی اعتراض نہیں بلکہ اس کی تائید اور سر پرستی بھی کی مثلا آئر لینڈکے حکمراںڈائر میٹ کی دو سوبیویاںاوراتنی ہی باندیاں تھیں ۔شارلمان کی دو بیویاں اور کثیر تعداد میں باندیاں تھیں۔ مشہور عیسائی ادیب اور مصنف جرجی زیدان نے لکھا ہے کہ :عیسائیت میں کوئی ایسی نص موجود نہیں ہے جو اسکے پیرو کاروں کو دو یا دوسے زائد عورتوں سے شادی کرنے سے روک سکے ،اگر یہ لوگ چاہتے تو تعددازدواج کی اجازت ہوتی ۔لیکن انہوں نے سوچا کہ خاندانی نظام کی حفاظت میں یک زوجگی زیادہ مناسب ہے اس لئے انھوںنے ایک بیوی پر اکتفا کیا ۔

موجودہ عیسائیت نے سیاہ افریقہ میں جہاں افریقی بت پرستوں کے معاشرہ میں تعدد ازدواج کا رواج زمانۂ قدیم سے چلا آرہا تھاوہاں اسکی اجازت دی ہے ۔

مسٹر نواجیہ نے اپنی کتاب ’’سینٹرل افریقہ میں عیسائیت اور اسلام ‘‘ میں لکھا ہے کہ؛مشنری کے یہ افراد کہتے ہیں کہ بت پرستوں کے معاشرتی امور جو پہلے سے ان کے یہاں رائج ہیں ان میں مداخلت سیاست کے خلاف ہے۔جب تک یہ لوگ عیسائیت پر قائم ہیں ،ان پر تعدُّدِ ازدِواج کو حرام کرنے میں دور اندیشی نہیں ہے۔عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کرنے میں کوئی نقصان نہیں ہے جب کہ عیسائیت کی اساس تورات پر ہے اور تورات میں اس کی اجازت ہے ۔چہ جائے کہ خود مسیح علیہ السلام نے یہ کہہ کر کہ’’میں تکمیل کرنے کے لئے آیا ہوں،ڈھانے کے لئے نہیں آیا ہوں ‘‘ایک طرح سے تورات کی تعلیمات کا جس میں تعدّد ازدواج بھی شامل ہے اقرار و اعتراف کیا ہے۔

دوسری عالمگیر جنگ سے کثرت سے اموات کے نتیجہ میں جب مردوں اور عورتوں کی تعداد میں عدمِ توازن ہوا تو اس مسئلہ پر غور کرنے کے لئے جرمنی کے مشہور شہر میونح میں نوجوانوں کی عالمی تنظیم کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ شرکائے کانفرنس کی جانب سے مختلف تجویزیں پیش ہوئیں لیکن بحث و مباحثہ میں ان کی کمزوریاں عیاں ہوتی گئیں،بالآخر بعض مسلم نوجوانوں نے تعدّد ازدِواج کی تجویز پیش کی ،بحث و تمحیص کے بعد شرکاء اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے تعدّد ازدواج سے بہتر کوئی دوسرا حل نہیں ہو سکتا۔چنانچہ کانفرنس نے اس تجویز کی سفارش کی۔اگلے سال ۱۹۴۹ء؁ میں جرمنی کی راجدھانی بون کے باشندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملکی دستور میں تعدّ د ازدواج کی دفعہ شامل کی جائے،چنانچہ اس کی معلومات حاصل کرنے کے لئے پہلے شیخ الازہر کے پاس خط روانہ کیا گیا،بعد میں با ضابطہ وفد روانہ کیا گیا۔

تعدّدِ ازدِواج کا اصل محرک:خلاصۂ کلام یہ کہ تعدد ازدواج کی اجازت دے کر اسلام نے کسی بدعت کا ارتکاب نہیں کیا ہے ، اسلام سے قبل جو تہذیبیں ہوئی ہیں ان میںایک سے زائد بیوی رکھنے کا رواج رہا ہے ۔ قدیم ادیان خواہ آسمانی ہوں یا انسانی کسی میں تعدد ازدواج کی ممانعت صراحۃً موجود نہیں ہے ۔ بلکہ اسلام نے اس میں اصلاحی قدم یہ اٹھا یا ہے کہ غیر محدود تعداد کو محدود اور متعین کر دیا ہے ۔ بالفاظ ِدیگر ازدواج کے مسئلہ میں اسلام کی حیثیت کسی مبتدع یا اولین طور پر رائج کرنے والے کی نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک مصلح کی ہے ، اس نے اس کو شخصی اور معاشرتی ضرورت کے تحت جائز قرار دیا ہے ، تعدد ازدواج کا امکان اسی وقت ہوگا جب مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد میں عدم توازن زیادہ ہو جائے ۔ در اصل یہی عدم توازن اس کا داعی اور محرک بھی ہے ۔ دونوں کی تعداد میں عدم توازن پیدا ہونے کے مختلف اسباب ہیں ۔ ہم ان میںسے چند کو اختصار کے طور پر بیان کرتے ہیں ۔

(۱) عام حالت میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی شرح پیدائش کم ہے ۔ ڈاکٹر مصطفی سباعی ہی کا بیان ہے کہ انگلینڈ کے میرینٹی سینٹر کے ایک ڈاکٹر نے ان سے بیان کیا کہ ہر تین یا چار بچوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کا تناسب ایک اور تین کا ہوتا ہے ۔ یعنی ان میں ایک لڑکا ہوتا، باقی لڑکیاں ہوتی ہیں ۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے فراہم کردہ اعداد وشمارمندرجہ ذیل چارٹ کی وضاحت سے ظاہر ہوتے ہیں:

عورتیں

مرد

ملک

شمار

۹۳ء۵۲%

۷ء۴۷%

آسٹریلیا

۱

۱۹ء۵۱%

۸۱ء۴۸%

برطانیہ

۲

۹۸ء۵۱%

۰۲ء۴۸%

جرمنی

۳

۰۱ء۵۱%

۹۹ء۴۸%

فرانس

۴

۱۱ء۵۱%

۸۹ء۴۸%

اٹلی

۵

۲۹ء۵۱%

۶۱ء۴۸%

پولینڈ

۶

۰۶ء۵۱%

۹۴ء۴۸%

اسپین

۷

۳۳ء۵۱%

۶۷ء۴۸%

سوئزر لینڈ

۸

۴۱ء۵۱%

۵۹ء۴۸%

سوویت یونین

۹

۴۲ء۵۱%

۵۸ء۴۸%

امریکہ

۱۰

 

کی طرح شرح اموات سے بھی عورتوں اور مردوں کی تعداد میں عدمِ توازن پیدا ہوتا ہے۔انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ۱۹۸۴ء؁ کے مطابق عمومی طور پر عمر کے ہر مرحلہ میں موت کا خطرہ عورتوں کے لئے کم پایا گیا ہے اور مردوں کے لئے زیادہ۔شرح اموات میں جنگ کے نتیجہ میں بھی عدم توازن پیدا ہوتا ہے ۔پہلی عالمی جنگ۱۹۱۴ء؁تا ۱۹۱۸ء؁میں اسّی لاکھ سے زیادہ فوجی آدمی مارے گئے ۔شہری لوگ جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ان میں بھی اکثریت مردوں کی تھی۔دوسری عالمی جنگ ۱۹۳۹ء؁تا ۱۹۴۵ء؁میں ۲؍ا ۶ کروڑ آدمی ہلاک ہوئے یا جسمانی طور پر نا کارہ ہو گئے۔اس میں زیادہ مرد تھے۔ایران و عراق جنگ ۱۹۷۴ء؁تا ۱۹۸۸ء؁میں ایران کی بیاسی ہزار عورتیں بیوہ ہوئیں۔عراق میں ایسی عورتوں کی تعداد تقریباََ ایک لاکھ ہے جن کے شوہر اس دس سالہ جنگ میں مارے گئے۔

(۳) جیل اور قید کی وجہ سے بھی سماج میں مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ہر روز تقریباََ تیرہ لاکھ آدمی کسی نہ کسی جرم میں پکڑے جاتے ہیں۔انھیں میں سے ایک بڑی تعداد لمبی مدت تک کے لئے جیل میں ڈال دی جاتی ہے۔ان سزا یافتہ قیدیوں میں ۹۷؍فیصد مرد ہی ہوتے ہیں۔

(۴) اسی طرح جدید صنعتی نظام نے حادثات کو بہت بڑھادیا ہے،موجودہ زمانے میں حادثاتی موتیں روز مرہ کا معمول بن گئی ہیں۔سڑکوں کے حادثے،ہوائی حادثے،کارخانوں اور دوسرے مشینی حادثے ہر ملک میں اور ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔۱۹۴۷؁ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس ایک سال میں پچاس ملکوں کے اندر مجموعی طور پر ایک لاکھ پچھتر ہزار حادثاتی موتیں ہوئیں ۔ان میں زیادہ تر مرد تھے۔اس طرح کے مختلف اسباب کی بنا پر عملی صورتِ حال اکثر یہی ہوتی ہے کہ سماج میں مردوں کی تعداد نسبتاََ کم ہو جاتی ہے۔

امریکہ کی سوسائٹی نہایت ترقی یافتہ سوسائٹی سمجھی جاتی ہے،مگر وہاں بھی یہ فرق پوری طرح نمایاں ہے۔۱۹۸۷؁ء کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کی آبادی میں مردوں کے مقابلہ میں ۷۱لاکھ عورتیں زیادہ تھیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ کا ہر مرد شادی شدہ ہو جائے تو اس کے بعد بھی امریکہ میں تقریباََ اکہتر لاکھ عورتیں ایسی باقی رہیں گی جن کے لئے ملک میں غیر شادی شدہ مرد موجود نہ ہونگے کہ جن سے وہ شادی کر سکیں۔مذکورہ بالا جائزہ سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ عورت اور مرد کی تعداد میں عدمِ توازن ہماری دنیا کا ایک مستقل مسئلہ ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس عدمِ توازن کے مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے ؟ایک زوجگی کے اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جن بیوہ یا غیر بیوہ عورتوں کو شوہر نہ ملیں تو وہ اپنے فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لئے کیا کریں؟وہ سماج میں کس طرح اپنے لئے باعزت مقام حاصل کریں؟ایک طریقہ وہ ہے جو ہندوستان کی روایات میں بتایا گیا ہے۔یعنی ایسی بیوہ عورتیں اپنے وجود کو ختم کر ڈالیں ،یا پھر ایسی عورتیں گھر سے محروم ہو کر سڑکوں کی بے کس زندگی گزارنے پر راضی ہو جائیں۔اس اصول پر عمل کرنے کی بنا پر ہندوستان کا جو حال ہوا ہے اس کی ایک مختصر باتصویر رپورٹ انڈیا ٹوڈے کے ۱۵؍نومبر۱۹۸۷؁ ء کے شمارہ میں شائع ہوئی ہے ،جس کا عنوان ہے ’’Vidows wrecks of huminity‘‘بیوائیں انسانیت کا برباد شدہ ملبہ۔ظاہر ہے کوئی باہوش انسان اس حل کی وکالت نہیں کر سکتا ۔

دوسرا حل یہ ہے جسے مغربی ممالک کی مہذب سوسائٹی نے اپنایا ہے یعنی کسی ایک مرد کی دوسری منکوحہ بیوی بننے پر راضی نہ ہونا ، البتہ بہت سے مردوں کی غیر منکوحہ بیوی بن جانا ۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ تمام ممالک جہاں تعدد ازدواج پر قانونی پابندی ہے ، وہاں داشتائوں کا بازار گرم ہے ۔ گرل فرینڈ، کال گرل ، سکریٹری مختلف ناموں سے داشتائیں رکھنے کا عام معمول ہے ۔ اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ لاوارث اور غیر قانونی بچوں اور کنواری مائوں کا مسئلہ مغربی ممالک کے لئے درد سر بنا ہوا ہے ۔ ایک عام اندازہ کے مطابق ۳۰ سے ۴۰ فیصد بچے غیر قانونی پیدا ہوتے ہیں ، جنہیں کوئی اپنی اولاد کہنے کو تیار نہیں ۔ یہ بچے لاوارث گھروں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔

مذکورہ بالا دونوں غیر فطری حلوں کے مقابلے میں اسلام نے جو حل پیش کیا ہے وہ فطری اور شریفانہ ہے ۔ وہ حل یہ ہے کہ مخصوص شرائط کے مطابق کچھ مردوں کے لئے ایک سے زائد نکاح کی اجازت دی جائے ۔ تعدد ازدواج کا اصول جو اسلامی شریعت نے مقرر کیا ہے ، وہ در اصل عورتوں کو مذکورہ بالا قسم کے بھیانک انجام سے بچانے کیلئے ہے ۔ وہ عورتوں کو جنسی آوارگی سے بچا کر معقول اور مستحکم خاندانی زندگی گزارنے کا ایک شریفانہ انتظام ہے۔ تعدد ازدواج کے حکم کو اگر مجرد طور پر دیکھا جائے تو بھی ایک ایسا حکم معلوم ہوتا ہے جو مردوں کی موافقت میں بنایا گیا ہو ، لیکن اگر اس کو سماج کی عملی صورت حال کے اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ خود عورتوں کی موافقت میں ہے ۔ وہ عورتوں کے مسئلہ کا ایک زیادہ معقول اور فطری بند و بست ہے ۔

ایک نو مسلم دانشور جنہوں نے مغربی ماحول میں پرورش پائی اور اس کے حسن و قبح سے بخوبی واقف ہیں ، وہ تعدد ازدواج پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے یں کہ ’’واقعہ یہ ہے کہ چند بیویوں سے تعلق ایک عالمی حقیقت ہے جو رہتی دنیا تک موجود رہے گی ۔ چاہے اس کے خلاف کرنے ہی قانون بنائے جائیں اور اس پر کتنی ہی مصنوعی پابندیاں لگائی جائیں ، پس اب سوچنے اور بء کرنے کی بات یہ ہے کہ قانونی بور پر ایک محدود تعداد سے شادی کرنے کی اجازت دینا بہتر ہوگا یا بغیر کسی قید و پابندی کے منافقانہ بور پر چھپ چھپ کر جنسی تعلق قائم کرتے رہنا مفید ہوگا ‘‘۔ ٭٭٭ بقیہ آئندہ…

تعدد ازدواج ایک شخصی ضرورت

معاشرتی ضرورت کے علاوہ انسان کی ذاتی ضرورت بھی تعدّدِازدواج کی داعی اور محرک بن سکتی ہے۔غور کرنے پر اس کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں جو درج کی جاتی ہیں :

(۱) عورت بانجھ ہے مرد کی خواہش ہے کہ اولاد پیدا ہو اور خاندانی سلسلہ باقی رہے ، اب اگر تعدد ازدواج کی اجازت نہ دی جائے تو مجبور ہو جائے گاکہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اور دوسری شادی کر لے ۔ یہ صورت انسانی شرافت اور اخلاق سے بھی بعید ہے اور پہلی بیوی کے لئے ہر طرح سے نقصان رساں ہے ۔ دونوں برائیوں سے بچنے کی صورت یہی ہے کہ بانجھ عورتیں اپنے شوہروں کے لئے دوسری رفیقۂ حیات تلاش کرلیں ۔

(۲) پہلی بیوی کو کوئی ایسی بیماری لگ گئی جس کی وجہ سے شوہر کا اس سے تعلق قائم کرنا دشوار ہوتو ایسی صورت میں مرد کیا کرے؟ پہلی بیوی کو طلاق دے دے ؟ یا اپنی فطری خواہشات کی تکمیل کے لئے ناجائز ذرائع تلاش کرے ؟ یا پہلی بیوی کو رکھتے ہوئے دوسری شادی کر لے ؟ کوئی بھی ہوش مند تیسری ہی صورت پسند کرے گا ۔

(۳) بسا اوقات ایسی صورت پیش آجاتی ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات ناخوشگوار ہو جاتے ہیں ۔ ثالثی اور مصالحت کی کوئی کوشش کار گر نہیں ہوتی، شوہر کے سامنے دوراستے ہوتے ہیں، پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسری شادی کر لے یا پہلی کو اپنی زوجیت میں باقی رکھتے ہوئے دوسری عورت سے شادی کر لے ۔ خود عورت کے مفاد کے نقطۂ نظر سے پہلی کے مقابلہ میں دوسری صورت بہتر قرار پائے گی ۔

(۴) کسی خاص وجہ یا اتفاقی سبب سے ایسا ہو جاتا ہے کہ شادی شدہ مرد کا کسی غیر منکوحہ عورت سے تعلق خاطر ہوجاتا ہے، دوسری جانب سے بھی اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ ایسی صورت میں اگر تعدد ازدواج کی گنجائش نہ نکالی گئی تو مرد اِن دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔ ہوگا یا تو ناجائز اور حرام طریقہ سے اپنی خواہش پوری کریگا۔ یا پہلی بیوی کو ہٹا کر دوسری شادی کر یگا ۔ مذکورہ بالا دونوں صورتوں کے مقابلے میں تعدد ازدواج کی برائی نسبتاً ہلکی مانی جائے گی۔

(۵) تندرستی اور خوش حالی کے سبب بعض مردوں میں جنسی خواہشات زیادہ ہوتی ہے اس کے مقابلے میں عورت حمل، ولادت، حیض، نفاس، غرض مختلف اسباب و امراض میں مبتلا رہتی ہے ۔ ایسی حالت میں مرد اپنی جنسی خواہشات کیسے پوری کرے ؟ جہاں جائز اور ناجائز کا تصور ہی ختم ہو گیا ہو وہاں مسئلہ آسان ہے۔ لیکن اسلامی معاشرے میں جہاں حدود اللہ کی بندش رہتی ہے تعدد ازدواج کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں ہو سکتی ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ معاشرتی اور ذاتی وجوہ کی بنا پر تعدد ازدواج ایک ناگزیر ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ مسئلہ ایک بیوی یا ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان اعتدال و برابری، یا انتخاب کا نہیں ہے، بلکہ انتخاب اس امر کا کرنا ہے کہ چند زوجگی کی وہ صورت اختیار کی جائے، جو قانونی اخلاقی اور شریفانہ ہے، یا وہ صورت اختیار کی جائے جو اس وقت مغربی معاشرہ میں رائج ہے، جو نہ قانونی ہے نہ اخلاقی، اور نہ ہی اسے شرافت انسانی سے کوئی تعلق ہے ۔

تعدد ازدواج کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر :

اسلام نے ایک سے زائد بیوی رکھنے کی اجازت بطور آرٹیکل نہیں دی بلکہ ایک عملی ضرورت سمجھ کر دی ہے، چنانچہ تعدد ازدواج کے سلسلہ کی ایک آیت ہے : ’’وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتٰمیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و رباع، فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ او ما ملکت ایمانکم ذلک ادنیٰ ان لا تعولواo‘‘

اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں انہیں نکاح میں لائو دودو، تین تین، چار چار، پھر اگر ڈرو کہ دو بیویوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے تم سے ظلم نہ ہو ۔

یہ آیت غزوئہ احد کے بعد اتری ۔اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس جنگ میں ستر مسلمان شہید ہوگئے، اس کی وجہ سے اچانک سترگھرمدینہ میں مردوں سے خالی ہوگئے ۔اس کے نتیجے میں یہ صورت حال پیش آئی کہ وہاں بہت سے بچے یتیم اور بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں ۔اب سوال پیدا ہوا کہ اس معاشی مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے اس وقت قرآن کی مذکورہ آیت اتری اور کہا گیا کہ جولوگ استطاعت رکھتے ہوں وہ بیوہ عورتوں سے نکاح کرکے یتیم کو اپنی سرپرستی میں لے لیں ۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ عربوں میں ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کا رواج تھا ۔اس آیت کاپیش منظر یہ ہوگا کہ ایک سے زیادہ شادیاں بے قید نہ ہوں بلکہ ان کی تعداد چار تک محدود ہونی چاہئیے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے اس آیت کو اجازت تعداد ازدواج کے ساتھ ہی ساتھ تحدید ازدواج کے مفہوم میں بھی لیا ہے چنانچہ ابن رشد مالکی اپنی کتاب ’’ہدایۃالمجتہد‘‘میں لکھتے ہیں ۔

’’واتفق المسلمون علی جواز نکاح اربعۃمن النساء معا واما فوق الاربع فان الجمہور علی انہ لا تجوز الخامسۃ بقولہ تعالی :فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ وثلاث ورباع ۔ولما روی عنہ علیہ السلام :انہ قال لغیلان لما اسلم وتحتہ عشر نسوۃ امسک علیک اربعاًوفارق سائرہن ۔‘‘(ہدایۃالمجتہد ج ؍۱۲ص؍ ۷۰)

ایک ساتھ چار عورتوں سے نکاح باجماع مسلمین جائز ہے، البتہ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح جمہور کے نزدیک ناجائز ہے ۔کیونکہ قرآن کریم میں ہے :’’فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنیٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ‘‘ اور حدیث پاک میں ہے غیلان جب مشرف بہ اسلام ہوئے اس وقت انکی زوجیت میں دس عورتیں تھیں تو سرکار انے ان کو مخاطب کرکے فرمایا ’’کوئی بھی چار عورتیں اپنی زوجیت میں رکھ لو، بقیہ سے جدائی کر لو۔‘‘

الغرض اس آیت سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیک وقت چار بیویاں رکھ سکتے ہیں وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ چار سے زائد کی اجازت نہیں ۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ:بعض افراد جن کی آنکھیں تہذیب فرنگ کی ظاہری چمک دمک سے خیرہ اور جن کا ذہن دانشوران فرنگ میں باتوں سے مرعوب ہے اور جو اپنی دانست میں اسلام کے عائلی قوانین میں اصلاح کے خواہش مند ہیں ان کا خیال ہے کہ’’ فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً‘‘کے ذریعہ تعداد ازدواج پر پابندی لگائی گئی ہے کیونکہ سورئہ نسا ء کی آیت نمبر۱۳۹میں ارشاد ہے :’’وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْااَنْ تَعْدِلُوْابَیْنَ النِّسَائِ وَلَوْ حَرِصْتُمْ‘‘ پہلی آیت میں ہے کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو،جب کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے کہ تم خواہش کے باوجود عدل کی استطاعت نہیں رکھتے، لہٰذا پہلی آیت میں جو شرط اجازت تھی وہ اس آیت میں واپس لے لی گئی ہے۔

جو لوگ ایسی باتیں کہتے ہیں ان کی مجبوری یہ ہے کہ دانشوران فرنگ کی باتیں تو انہیں یاد ہیں لیکن اسلامی تعلیمات سے وہ بقدر ضرورت بھی واقف نہیں ہیں ۔یا پھر انہیں دانشوری یا روشن خیالی کا خبط سوار ہے ۔ورنہ وہ اس نتیجے سے قطعاً مختلف ہے جو پندرہ سوسال قبل سے لے کر اب تک علماء اور دانشوروں نے اخذ کیا ہے۔ دورصحابہ سے لے کر ابتک کے مفسرین نے سورئہ نساء کی آیت نمبر۳ میں مذکورہ عدل کا مصداق نان ونفقہ ودیگرحقوق زوجیت کو قرار دیا ہے ۔چنانچہ تفسیر قرطبی میں مشہور تابعی حضرت ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت کی تفسیر یوں نقل کی گئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ:’’اگر تم کو چند بیویوں کے درمیان عدل نہ پانے کا اندیشہ ہو تو ایک بیوی پر اکتفا ء کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کی اتنی تعداد رکھنے سے منع کیا ہے جن کے درمیان رات گذارنے، اور دوسرے حقوق ادا کرنے کے سلسلے میں مساوات نہ برتی جاسکے ۔‘‘اس حکم سے اس مساوات کا ضروری ہونا بھی معلوم ہوتا ہے ۔

قاضی ابو بکر بن العربی مالکی اپنی مشہور کتاب ’’احکام القرآن ‘‘ جلد اول صفحہ۱۳۰ میں لکھتے ہیں :’’ہمارے علما نے کہا ہے کہ اس آ یت کا مطلب یہ ہے کہاگر تمہیں چند بیویوں کے حقوق ادا نہ کرنے اور سب کے ساتھ مساویا نہ برتائونہ کر سکنے کااندیشہ ہو توایک ہی بیوی پر اکتفا کرو ـــــ۔ کیو ں کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا فرض ہے ۔اور شرعی احکام ظاہری حالات کے اعتبار سے متعلق ہو تے ہیں کیوں کہ اسی کو معیار بنانا ارباب عقل کیلئے آسان ہے۔ لہٰذا جو شخص بظاہرجسمانی قوت اور مالی وسعت اتنی رکھتا ہو کہ اس سے چار بیویوں کے حقوق پورے طور پر ادا ہو سکیں تو اس کو اجازت ہے کے ایسا کرنا چاہے تو کرے ۔اور جو جسمانی قوت اورمالی اعتبار سے اس کامتحمل نہیں ہو سکتا تو اسے صرف اس تعداد پر اکتفا کرنا چاہیے جس کا وہ آسانی سے تحمل کر سکے ۔‘‘

اس کے بر عکس سورہ نساء آ یت نمبر ۱۳۹میں جو بات کہی گئی ہے وہاںعدل کا مصداق میلان طبع اور قلبی لگائو ہے ۔دل پر کسی کا زور نہیں چلتا، اس لئے حقوق زوجیت میں کامل مساوات کے با وجو د اگر کسی ایک کی طرف قلبی جھکائو زیادہ ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے کسی کی حق تلفی نہیں کر رہا ہے تو شریعت نے اس پر کوئی پا بندی نہیں لگائی ہے اور نہ اس پر کوئی مواخذ ہ ہو گا ۔چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ا دعا مانگا کرتے تھے: ’’اللہم ہذا قسمتی فیما املک فلا تلمنی فیما تملک ولا املک‘‘ اے اللہ ! جتنا میرے بس میں تھا میں نے مساوات برتی مگر جو بات میرے بس سے باہر ہے اور جو سراسر تیرے اختیار میں ہے یعنی قلبی میلان اس پر ملامت نہ فرمانا۔

جو حضرات ’’ ولن تستطیعوا ان تعد لوابین النساء ولو حرصتم‘‘ کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اس کے ذریعہ تعداد ازدواج کی دی ہوئی اجازت واپس لی گئی ہے، وہ لوگ اس آیت کے اگلے حصے کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیوں کہ اس کے معاََ بعد ہے :’’ فلا تمیلواکل المیل فتذ روھا کالمعلقۃ‘‘یعنی دونوں سے تم یکساں تعلق خاطر نہ رکھ سکو تو کم از کم اتنا ہو کہ ایک بیوی سے بالکل منھ نہ پھیر لینا کہ وہ لٹکی رہ جائے ۔

اگر آیت کے پہلے حصے سے تعددازدواج کی اجا زت کا سلب مقصودہوتا تو بعد والی ہدایت نہ دی جاتی ۔کیوں کہ اس صورت میںآیت کے دونو ں حصوں کے درمیان کھلا ہوا تضاد پا یا جائے گا۔ اس لئے کہ ایک کی طرف مکمل جھکائو رہے اور دوسری کی جانب سے مکمل بے التفاتی یہاں تک کہ وہ معلق ہو کر رہ جائے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ ایک سے زائد شادی کی ہو ۔خود حضور ا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا عمل بھی یہی تھا کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد کے پاس ایک سے زیادہ بیویاں تھیں،لیکن حضور ا نے نکیر نہیں فرمائی ۔صحابہ کرام کے بعد بھی امت کے اندر ہر زمانے میں قول وعمل دونوں طرح سے علمائے کرام تعددازدواج کے قائل رہے ہیں ۔

تعددازدواج کی خرابیاں:تعددازدواج جہاں ایک معاشرتی ضرورت، بیوائوں اور عورتوں کی فاضل تعداد کے لئے ایک انسانی، اخلاقی اور شریفانہ حل ہے، وہیں اس میں چند خرابیاں بھی ہیں :(۱) ایک شخص کی جب چند بیویاں رہتی ہیں تو عام طور سے ان کے درمیان ناچاقی رہتی ہے، بغض و حسد کا جذ بہ فروغ پاتا ہے جس کے نتیجہ میں شوہر کی خانگی زندگی تلخ ہو جاتی ہے۔ معمولی باتوں کی وجہ سے بیویوں کے درمیان جو جھگڑے ہوتے ہیں ان کو سلجھانے ہی میں مرد پڑا رہتا ہے ۔ اس طرح ان میں سے ہر ایک کی زندگی وبال بن جاتی ہے ۔ سکون و راحت کی خاطر شوہر باہر رہنے کو ترجیح دیتا ہے ۔

(۲) یہ جھگڑے ماں باپ اور بڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ عام طور پر دیکھا گیا کہ سوتیلے بھائیوں میں محبت کے بجائے عداوت و دشمنی پائی جاتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں آئے دن لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں، اور کوئی گھر کے اندر خوشی سے نہیں رہ پاتا ہے ۔

(۳) شوہر کا قلبی لگائو ہر ایک سے یکساں ہوتا ہے ۔ عام طور سے نئی بیوی کی طرف اس کا جھکائو زیادہ ہوتا ہے ۔ اس کو دیکھ کر پہلی بیوی کو اذیت ہوتی ہے، اس کے نسوانی وقار کو ٹھیس لگتی ہے، محبت بہت غیور واقع ہوئی ہے، اس کو شرکت اور مزاحمت برداشت نہیں ہے ۔ کل تک وہ تنہا شوہر کی محبت سے لطف اندوز رہتی تھی، آج نہ صرف یہ کہ ایک ساجھے دار پیدا ہو گئی ہے بلکہ شوہر کے دل کی مالک اور اس کی محبت پر قابض ہو گئی ہے ۔ اس سے انتقام کا جذبہ پیدا ہو تا ہے، پھر وہ سب کچھ ہوتا ہے جو گھر اور خاندان کے امن و سکون کو غارت کرنے کے لئے کافی ہے ۔

(۴) گھریلو ناچاقی اور خلفشار کے نتیجہ میں بچے صحیح تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں، اور آوارہ گردی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں ۔

جواب: مذکورہ بالا خرابیوں کے تعلق سے عرض ہے کہ یہ خرابیاں عموما اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے اور ان پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اور جس گھرانے میں شوہر اپنی تمام بیویوں اور ان کی اولاد کا پورا خیال رکھتا ہے اور اہل و عیال کے اسلامی و اخلاقی حقوق کی رعایت کرتا ہے وہاں یہ خرابیاں دور دور تک نظر نہیں آتیں ۔ اس معاملہ کی تہ میں جانے والا ہر شخص اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ان خرابیوں کا سر چشمہ تعدد ازدواج نہیں بلکہ اہل و عیال کے حقوق کی خلاف ورزی اور ان کی پامالی ہے ۔ یہی تو وجہ ہے کہ صرف ایک بیوی کے شوہر کے حبالۂ عقد میں ہونے کی صورت میں بھی حقوق کی پامالی کی صورت میں آئے دن جھگڑے ہوتے ہیں، شوہر کا ذہنی سکون غارت ہو جاتا ہے ۔ وہ باہر رہنے کو ترجیح دینے لگتا ہے، اور کبھی کبھی تو بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کا نظام بھی تہ و بالا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ تو کیا ان خرابیوں کی بنا پر سرے سے نکاح ہی کو نادرست قرار دے دیا جائے اور اس طرح توالد و تناسل کے جائز طریقے کو بند کر کے ناجائز اولادوں سے پوری دنیا کو بھرنے کا راستہ صاف کر دیا جائے ۔

خلاصۂ بحث : تعدد ازدواج کے سلسلہ میں اب تک کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ : (۱) اسلام نے چند زوجگی کو پہلی مرتبہ رواج نہیں دیا ہے، گزشتہ تمام اقوام اور جملہ مذاہب میں اس کی اجازت اور عملًا اس کا رواج رہا ہے ۔

(۲) گزشتہ ملتوں میں چند زوجگی کا رواج بے قید اور لا محدود تھا، اسلام نے اس کو چار کی تعداد میں محدود کر دیا ہے، اس نے اس سے زیادہ کی مطلقا اجازت نہیں دی ہے ۔

(۳)تعدد ازدواج اگر مطلوبہ شرائط کے ساتھ ہو تو وہ معاشرتی برائی نہیں ہے بلکہ ایک ناگزیر سماجی ضرورت ہے ۔

(۴) شرح پیدائش میں تفاوت، حوادث جنگ اور دیگر اسباب کی نبا پر مردوں اور عورتوں کی تعداد میں برابری نہیں رہتی ۔ اس وقت بھی اور آئندہ بھی اس عدم توازن کا شریفانہ حل وہی ہے جو اسلام نے تعدد ازدواج کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مغربی تہذیب اور ہندومتھ نے جو حل پیش کیا ہے وہ غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر شریفانہ ہے ۔ کیوں کہ دونوں میں عورت کا نسوانی وقار مجروح ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک غیر مسلم صحافی نے ان کی حالت زار دیکھ کر انہیں ’’انسانیت کا برباد شدہ ملبہ ‘‘ قرار دینے پر اپنے کو مجبور پایا ہے ۔

(۵) اسلام نے تعدد ازدواج کی اجازت بے قید نہیں دی ہے، اس نے پہلی قید تو یہ لگا دی ہے کہ بیویوں کی تعداد چار سے زائد نہ ہو دوسری قید لگا ئی ہے کہ اس رخصت سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو روٹی، کپڑا، مکان، شب باشی اور دیگر حقوق زوجیت کی ادائیگی میں عدل کرنے اور مساوات برتنے پر قادر ہو ۔

(۶) اسلامی شریعت کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کو نظر انداز کر کے جو شخص تعدد ازدواج کی اجازت سے فائدہ اٹھائے ۔ دنیا و آخرت دونوں جگہ اس کا مواخذہ ہو گا ۔ اخروی مواخذہ گناہ اور پھر سزائے گناہ کی شکل میں ہوگا ۔ اور دنیاوی مواخذہ یہ ہو گا کہ اگر تنبیہ کے بعد بھی اس نے اپنی اصلاح نہیں کی تو اس میں تفریق کرا دی جائے گی ۔

(۷) اس سے انکار نہیں کہ تعدد ازدواج کی وجہ سے بعض دفعہ سنگین معاشرتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ لیکن یہ مسائل چند زوجگی کے سبب نہیں ہوتے بلکہ اسلامی ہدایات اور تعلیمات کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ان کی شدت اور سنگینی کو اسلامی ہدایات پر عمل کر کے ختم کیا جاسکتا ہے ۔

(۸) اسلامی معاشرت نے تعدد ازدواج کے سلسلہ میں جو شرطیں اور پابندیاں عائد کی ہیں وہ کافی ہیں، اس میں انسانی اصلاح کی پیوند کاری کی قبعا کوئی اجازت نہیں۔

(۹)اسلامی ممالک میں انسانی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے۔تجربہ بتاتا ہے کہ حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ بہتری پیدا نہیں ہوئی ہے۔ وہاں حقوق نسوانی کی نگہداشت تو نہیں ہوئی البتہ وہ برائیاں ضرور فروغ پا گئی ہیں جو مغربی تہذیب کا خاصہ تھیں۔

٭٭٭