اولیاء اللہ کے دشمنوں سے اللہ عزّوجل کا اعلان جنگ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : اولیاء کرام اللہ تعالی کے محبوب بندے ومقربان بارگاہ ہوتے ہیں ، اللہ تعالی یہ گوارا نہیں کرتا کہ کوئی شخص انہیں کسی قسم کی اذیت پہنچائے یا ان کی شان میں نامناسب الفاظ کہے ، اللہ تعالی اولیاء کرام کو تکلیف دینے والوں کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حدیث قدسی ہے : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا، فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ، كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ ۔

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : جس شخص نے میرے ولی سے عداوت رکھی میں اس سے اعلان جنگ کردیتا ہوں، جس چیز سے بھی بندہ میرا تقرب حاصل کرتا ہے اس میں سب سے زیادہ محبوب مجھے وہ عبادت ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے اور میرا بندہ ہمیشہ نوفل سے میرا تقرب کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور جب میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے ، میں اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پیر ہوجاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اس کو ضرور بنا دیتا ہوں اور میں جس کام کو بھی کرنے والا ہوں کسی کام میں اتنا تردد (اتنی تاخیر) نہیں کرتا جتنا تردد (جتنی تاخیر) میں مومن کی روح قبض کرنے میں کرتا ہوں ۔ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اسے رنجیدہ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں ۔

(صحیح البخاری کتاب الرقاق رقم الحدیث : ٦٥٠٢)(حلیتہ الاولیاء ج ١ ص ١٥، طبع جدید)(صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٤٧،چشتی)(السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٣ ص ٣٤٦، ج ١٠ ص ٢١٩، کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ٤٩١)(صفوۃ الصفوۃ ج ١ ص ١٥)(مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٢٢٦٦)(کنزالعمال رقم الحدیث : ٢١٣٢٧)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٥٢ ھ اور حافظ محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٥٥ ھ نے لکھا ہے کہ عبدالواحد کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں اس کا دل ہوجاتا ہوں جس سے وہ سوچتا ہے اور میں اس کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ کلام کرتا ہے ۔ (فتح الباری ج ١١ ص ٣٤٤، مطبوعہ لاہور، عمدۃ القاری جز ٢٢ ص ٩٠، مطبوعہ مصر)

اللہ اپنے محبوب بندے کے کان اور آنکھیں ہوجاتا ہے اس کی توجیہ اللہ تعالیٰ بندہ کے کان اور آنکھیں ہوجاتا ہے اس کی کیا توجیہ ہے ؟ عام طور پر شارحین اور علماء نے یہ کہا ہے کہ بندہ اپنے کانوں سے وہی سنتا ہے جس کے سننے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور پانی آنکھوں سے وہی دیکھتا ہے جس کے دیکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو بندہ کا سننا ، اللہ کا سننا اور بندہ کا دیکھنا ہوتا ہے ، اس لیے فرمایا : میں اس کے کان ہوجاتا ہوں اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا محبوب نہیں بنے گا جب تک کہ اس کا سننا ، اس کا دیکھنا ، اس کا تصرف کرنا اور اس کا چلنا اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق نہ ہو اور جب اللہ اس کو اپنا محبوب بنا لے گا تو پھر اس کے کان ہوجاتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہے کا معنی یہ نہیں ہوسکتا ۔

اس حدیث کی بہترین توجیہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے وہ فرماتے ہیں : بندہ جب عبادت پر دوام کرتا ہے تو وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں اور اس کے کان ہوجاتا ہوں پس جب اللہ کا نور جلال اس کے کان ہوجاتا ہے تو وہ قریب اور دور سے سن لیتا ہے اور جب اس کا نور جلال اس کی آنکھ ہوجاتا ہے تو وہ قریب اور بعید کو دیکھ لیتا ہے اور جب اس کا نور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہے تو وہ مشکل اور آسان چیزوں پر اور قریب اور بعید کی چیزوں کے تصرف پر قادر ہوجاتا ہے ۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٤٣٦، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ،چشتی)

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کا ولی فراٌص پر دوام اور نوافل پر پابندی کرنے سے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوجاتا ہے لیکن بندہ ، بندہ ہی رہتا ہے خدا نہیں ہوجاتا جیسے آئینہ میں کسی چیز کا عکس ہو تو آئینہ و چیز نہیں بن جاتا اس کی صورت کا مظہر ہوجاتا ہے بلاتشبیہ تمثیل جب بندہ کامل کی اپنی صفات فنا ہوجاتی ہیں تو وہ اللہ کی صفات کا مظہر ہوجاتا ہے ۔

شیخ الحدیث دیوبند جناب انور شاہ کشمیری متوفی ١٣٥٢ ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فلما اتھانودی من شاطئی الوادالایمن فی البقعۃ المبارکۃ من الشجرۃ ان تموسی انی انا اللہ رب العلمین ۔ (القصص : ٣٠) پھر جب موسیٰ آگ کے پاس آئے تو انہیں میدان کے داہنے کنارے سے برکت والے مقام میں ایک درخت سے ندا کی گئی کہ اے موسیٰ بیشک میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پروردگار ۔ دکھائی یہ دے رہا تھا کہ درخت کلام کر رہا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کلام کی اپنی طرف نسبت فرمائی کیونکہ اللہ جل مجدہ نے اس درخت میں تجلی فرمائی تھی اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لیے وہ درخت واسطہ بن گیا تھا تو جس میں تجلی کی گئی تھی اس نے تجلی کرنے والے کا حکم لے لیا اور ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ تجلی میں صرف صورت نظر آتی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضرورت کی وجہ سے آگ میں (یا درخت میں) تجلی فرمائی تھی اور جب تم نے تجلی کا معنی سمجھ لیا تو سنو جب درخت کیلیے یہ جائز ہے کہ اس میں یہ ندا کی جائے کہ بیشک میں اللہ ہوں تو جو نوافل کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے وہ اللہ کی سمع اور بصر کیوں نہیں ہوسکتا وہ ابن آدم جو صورت رحمن پر پیدا کیا گیا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درخت سے کم تو نہیں ہے (یعنی جب شجر موسیٰ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کا مظہر ہوسکتا ہے تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا ولی جو اللہ کا محبوب ہوجائے وہ اللہ کی صفت سمع اور بصر کا مظہر کیوں نہیں ہوسکتا) ۔ (فیض الباری ج ٤ ص ٤٢٩، مطبوعہ مجلس علمی ہند ١٣٥٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کے تردد کرنے کی توجیہ اس حدیث کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں جس کام کو بھی کرنے والا ہوں کسی کام میں اتنا تردد (اتنی تاخیر) نہیں کرتا جتنا تردد (جتنی تاخیر) میں مومن کی روح قبض کرنے میں کرتا ہوں ۔ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے رنجیدہ ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کرتا جب تک کہ وہ اپنی موت پر راضی نہ ہوجائے۔ امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی صفت میں تردد جائز نہیں ہے اور نہ ہی بداء جائز ہے ۔ (ابداء کا معنی یہ اللہ کوئی کام کرے پھر اس کو اس کام میں کسی خرابی کا علم ہو تو وہ اس کام کو تبدیل کر دے اس لیے ہم نے یہاں تردد کا معنی تاخیر کیا ہے) لہٰذا اس کی دو تاویلیں ہیں :(1) انسان اپنی زندگی میں کسی بیماری یا کسی آفت کی وجہ سے کئی مرتبہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی اور اس مصیبت کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کو اس بیماری سے شفا عطا فرماتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے اور اس کا یہ فعل اس طرح ہوتا ہے جیسے ایک آدمی کو تردد ہوتا ہے وہ پہلے ایک کام کرتا ہے پھر اسے اس کام میں کوئی خرابی نظر آتی ہے اس پر لازماً موت آتی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے : دعا مصیبت کو ٹال دیتی ہے اس کا بھی یہی معنی ہے ۔ حصرت سلمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تقدیر کو صرف دعا بدل دیتی ہے اور عمر صرف نیکی سے دعا ہوتی ہے ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٩،چشتی)(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٦١٢٨) ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عمر صرف خیر سے زیادہ ہوتی ہے ۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٣١٦)(2) اس کی دوسری تاویل یہ ہے کہ میں جس کام کو کرنے والا ہوں میں اس کام کے متعلق اپنے رسولوں (فرشتوں) کو کسی صورت میں واپس نہیں کرتا جیسا کہ میں بندہ مومن کی روح قبض کرنے کے معاملہ میں اپنے رسولوں (فرشتوں) کو واپس کرلیتا ہوں جیسا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ملک الموت علیہما السلام کے واقعہ میں ہے اور حضرت موسیٰ نے تھپڑ مار کر ملک الموت کی آنکھ نکال دی تھی اور ملک الموت ایک بار واپس لوٹنے کے بعد دوبارہ ان کے پاس گیا تھا اور ان دونوں تاویلوں میں اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ پر لطف و کرم اور اس پر اس کی شفقت کا اظہار ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ملک الموت کے واقعہ کی تفصیل اس حدیث میں ہے : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہما السلام کی طرف بھیجا گیا جب ان کے پاس ملک الموت آیا تو حضرت موسیٰ نے ان کے تھپڑ مارا ۔ (مسلم کی روایت میں ہے : س ان کی آنکھ نکال دی) ملک الموت اپنے رب کے پاس لوٹ گئے اور کہا تو نے مجھے ایسے بندہ کی طرف بھیجا ہے جو مرنے کا ارادہ ہی نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا : دوبارہ جائو اور ان سے کہو کہ اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھ دیں ، آپ کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے بدلہ میں آپ کی عمر میں ایک سال بڑھا دیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ نے کہا : اے رب ! پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا : پھر موت ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا : پھر اب ہی موت آجائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کو ارض مقدسہ کے اتنے قریب کر دے جتنے قریب ایک پتھر پیھنکینے کا فاصلہ ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا ، رسول اللہ نے فرمایا : اگر میں اس جگہ ہوتا تو تم کو حضرت موسیٰ کی قبر دکھاتا جو کثیب احمر (سرخ ریت کے ٹیلہ) کے پاس راستہ کے ایک جانب ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٣٩)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٧٢)(سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٨٩)(مسند احمد ج ٣ ص ٣١٥)(کتاب الاسماء و الصفات ص ٤٩٣، ٤٩٢ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

اللہ تعالیٰ اولیاء اللہ کو اذیت پہونچانے والے کے خلاف اعلان جنگ کردیتا ہے بعض مرتبہ اللہ تعالی اپنے دوستوں کا امتحان ان کے مخالفین اور دشمنوں کے ذریعہ فرماتا ہے ، مگر پھر بہت جلد مخالفین پر غضب نازل ہونے لگتا ہے ، یہ نہ سمجھو کہ ہم نے بزرگوں کی مخالفت کی لیکن ہمارا کچھ نہ بگڑا ، اولیاء اللہ کو ستانا کبھی خالی نہیں جاتا ۔ اللہ تعالی کا حلم تیرے ساتھ لطف ونرمی کا معاملہ کرتا ہے لیکن جب تو حدسے بڑھ جاتا ہے تو پھر تجھے وہ رسوا کردیتا ہے ۔ اولیاء اللہ کے ساتھ بے ادبی کرنے سے بھی خاتمہ خراب ہوتا ہے ۔ یاد رکھو آج کل یہ بھی شروع ہو گیا ہے کہ اولیاء اللہ کے ساتھ بڑی بے ادبی ہو رہی ہے معلوم نہیں ان کا خاتمہ کیسا ہوتا ہے ۔ افسوس اولیاء اللہ کی یہ قدر ہے آپ کے پاس اللہ کے دوستوں کے ساتھ یہ معاملہ ہے ، یہ حال ہے تو تب کیا حال ہوگا آپ کا ، خیال کرلو اس کو یاد رکھو ہر گز ایسا راستہ اختیار نہ کرنا ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)