تقویٰ کی افادیت و اہمیت

از: مولانا افتخار اللہ مصباحی، پرنسپل: دار العلوم غوثیہ، باندرہ

یوں تو اس عالمِ رنگ و بو میں ہر شیٔ کو خلاق عالم نے انسان ہی کے انتظام و انصرام میں پیدا فرمایا، ساری روئے زمین اس کے مسکن کے لئے مفروش کی گئی اور چھت کے طور پر نیلگوں آسمان کی بساط تانی گئی۔ غذائیات کے لئے بے شمار چیزیں رب نے زمین سے اس کے لئے پیدا فرمائی۔ طمانیت کے لئے نرم اور گدیلے قالین اور بچھونے تیار ہوئے۔ غرض یہ کہ ہر شیٔ کو انسان ہی کے زیر تصرف دیا گیا۔ مگر انہیں میں سے کچھ ایسی اشیاء ہیں جن کے استعمال کے لئے سخت ممانعت اور وعیدیں آئی ہیں۔ اور خدائے قدیر و جبار کے نزدیک وہ ناپسند ٹھہریں۔ بس انہیں سے اجتناب و احتراز کا نام تقویٰ ہے۔ بظاہر تو یہ ایک چھوٹا سا عربی لفظ ہے۔ مگر بے شمار معانی و مفاہیم کے خزانے اپنے جلو میں سموئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مقدس میں جا بجا تقویٰ کے تعلق سے بہت تاکیدیں آئی ہیں۔ بیشتر قرآنی آیات میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ دنیا کی فلاح و کامرانیاں نیز توشۂ آخرت کا بہترین سامان تقویٰ و پرہیزگاری ہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ‘‘ (سورئہ بقرہ، پ:۲ آیت:۱۹۷) اور توشہ ساتھ لے لو کہ سب سے بہترین توشہ پرہیزگاری ہے۔ اس آیۂ کریمہ میں رب قدیر نے حجاج کرام سے ارشاد فرمایا کہ جب تم سفر حج کے لئے نکلوگے تو راہ میں جن اشیاء کی تمہیں ضرورت ہو انہیں اپنے ساتھ توشہ کے طور پر لے لینا۔ ہاں اگر خوشنودیٔ خدا چاہتے ہو تو سنو! اللہ کے نزدیک دنیا و آخرت دونوں جہاں میں سب سے بہترین توشہ تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔

اسی طرح دوسرے مقام پر ارشاد خداوندی ہے: ’’یایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصّٰدقین‘‘ ( سورئہ توبہ، آیت:۱۱۹) اے ایمان والوں! اللہ سے ڈرو ، تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ ہو جائو۔ اس آیت کریمہ میں رب قدیر نے ایمان کے بعدتقویٰ کا درجہ رکھا ہے۔ نیز اس بات کو بھی باور کرایا گیا ہے کہ اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی حفاظت و صیانت کے لئے اللہ تعالیٰ کے متقی بندوں کی معیت اختیار کی جائے۔ ان کے دامنِ لطف و عطا سے وابستہ ہو جائے۔

اور اس سے بڑھ کر کے خوش نصیبی اور سعادت مندی کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقین کے لئے مژدئہ جانفزا بایں طور ارشاد فرمارہا ہے: ’’واللہ ولی المتقین‘‘ اور اللہ تعالیٰ متقیوں کا رفیق و مددگار ہے۔ اہل تقویٰ کادوست ہے، اس دنیا میں جس کا رفیق ومددگار خلاق عالم خدائے عزیزوغفار ہو،پھر اس کے لئے دنیا کی تمام تر تکالیف کو راحت وسرورمیں بدل دیا جائے گا دنیا کی تمام مخلوقات کو اس کے قدموں میں جھکا دیا جائے گا، دنیاکی تمام کامیابیاں وظفرمندیاں تو ان کے قدم چومتی ہی ہیں مگر جاں گداز روز، محشر میں جہاں کوئی جان کسی جان کو نفع نہ دے سکے گی مگر متقین کے لئے بشارت خداوندی کیف وسرور کا ساماں مہیا کررہی ہیں۔’’والعاقبۃ للمتقین‘‘(سورۂ: قصص،آیت :۸۳ )اور آخرت کا اچھا انجام متقیوں ہی کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ متقین کو ہر شیٔ سے نجات دے کر فردوس میں پہونچا دے گا اسی رب قدیر نے فرمایا:’’وانجینا الذین اٰمنواو کانوا یتقون‘‘(سورۂ:نمل،آیت:۵۳، )اور ہم نے مومنین اور متقین کو بچالیا وحشت قبر، عتاب محشر، عذاب ناراور ہر بری جگہ سے بچالیا، کیونکہ وہ دنیا میں جب تک تھے ’’ولباس التقویٰ ذلک خیر‘‘(سورۂ: اعراف، آیت: ۲۶ )پر مکمل عمل پیرا تھے۔ان کا ہر کام تقویٰ کے سائے میں ہوا کرتا تھا معاملات دنیا کو انہوں نے تقویٰ کے ذریعہ نمٹنا سیکھا تھا،جس کی وجہ اللہ نے بھی یہ فرمادیا:’’واعلمواان اللہ مع المتقین‘‘(سورۂ:بقرہ، آیت: ۱۹۴) جان لو کہ جو اس تقویٰ اور پرہیز گاری میں اپنی زندگی کے لمحات گذارے تو اللہ انہیں ایسے ہی بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا بلکہ ہر جگہ اللہ ان کے ساتھ رہے گا۔ جب پر ورد گار عالم ان کے ساتھ ہو تو پھر ان کے مرتبہ و عظمت کا کیا کہنا اسی لئے خدائے قدیر و جبار نے ارشاد فرمایا تم دنیا و عقبیٰ کی ظفرمندی اور ارجمندی متاع دنیا میں نہ تلاش کرنا۔ عزت و وقار کو دنیا کے عظیم محلات تعمیر کرنے میں نہ سمجھنا، بلکہ ہم نے عزت و وقار کو تو ایسی شیٔ میں رکھا ہے کہ اگر کوئی انسان اس کو اپنائے تو وہی ہمارے نزدیک سب سے معظم ہے۔ اور وہ شیٔ تقویٰ ہے۔ ’’ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم‘‘ (سورئہ: حجرات، آیت: ۱۳) یہ تھے وہ کلمات ربانی اور آیات حقانی جو غیر مبدل کتاب قرآن مقدس میں متقین کے فضائل ومناقب میں آئے،اسی طرح نائب پرور دگار تاجدار کائنات سید الانبیاء ا کی زبان فیض ترجمان بھی تقویٰ وپرہیز گا ری اختیار کرنے والوں کو جابجا مژدۂ جانفزا سنارہی ہے۔حبیب کردگار ا ارشاد فرماتے ہیں: قیامت کے دن اللہ کو پرہیزگاروں کا حساب کرتے شرم آئے گی اسی لئے سرکار ا نے ارشاد فرمایا:’’ حاسبوا قبل ان تحاسبوا‘‘ (الحدیث)تم سب قبل اس کے کہ حساب لیا جائے اپنے نفس کا محاسبہ کرو۔جب رب قدیر نے اہل تقویٰ کو اتنی بشارتیں دی ہیں تو سرور کائنات ابھی یہی فرمارہے ہیں کہ: ’’ان اولی الناس لی المتقون من کانو وحیث کانو‘‘بے شک میرے نزدیک لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو متقی وپر ہیزگار ہو جس کا دل خشیت ربانی سے معمور ہو۔ اس حدیث مبارکہ سے یہی واضح ہوتا ہے کہ اگر کو ئی قربت رسول کا طلب گار ہو، محبوب دَر نظر رسول محتشم ہونے کی تمنا ہو تو وہ سب سے پہلے راہ تقویٰ پر گامزن ہوجائے اور اپنے دل کو خواہشات دنیا اور اوہام معاصی کی آماجگاہ بنانے کے بجائے مخافت خداوندی والفت نبی عربی ا کا مدینہ بنائے تو وہ حدیث رسول: ’’اکرم الناس اتقاہم ‘‘ کے مطابق تمام لوگوں میں سرخرووسرفراز تو ہوگا ہی مگر اللہ اور اس کے حبیب ا کے نزدیک بھی ارجمندوظفرمندہوگا۔ مذکورہ احادیث کریمہ اور آیات قرآنیہ سے تقویٰ کی اہمیت وافادیت ،ضرورت اور فضیلت ظاہر وباہر ہے۔

اسی طرح صحابہ کرام ، تابعین عظام و دیگر اولیاء ذوی الاحترام نے خود تقویٰ کو اپنایا بھی اور اسکی الگ الگ تشریحات بھی فرمائی ہیں۔ سیدنا عمر فاروق ص نے دنیاوی مثال کے ذریعہ تقویٰ اور متقی کی کتنی بہترین اور جامع تعریف فرمائی ہے: ارشاد فرماتے ہیں : مثال کے طور پر ایک انسان ریشم کے نرم و ملائم کپڑے کو پہن کر نہایت ہی خاردار جھاڑیوں کے بیچ ایک تنگ راستے سے گذرے تو ظاہر سے بات ہے کہ اگر وہ ریشم کا کپڑا ان جھاڑیوں میں کسی بھی کانٹے سے الجھ جائے تو اس کے تارو پود بکھر جائیں گے اور وہ اپنی اصلی ہیئت پر باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ وہ ریشم کی بجائے ایک کھردری کھال بن جائے گا۔ ہاں اگر بصحیح و سلامت مکمل راستہ عبور کر لے تو پھر کامیابی و کامرانی کا سہرہ اس کے سر رکھا جائے گا۔ بعینہٖ انسان اللہ کی بنائی ہوئی ایک ریشم سے نرم و ملائم صاف و شفاف مخلوق ہے ۔ اور دنیا نیز اسکی تمام رنگینیاں و رعنائیاں مثل خار کے ہیں بے شمار گناہ حسین ٹائٹل میں اس کے استقبال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ قدم قدم پر اسے نفس کے لذات و خواہشات کے سامان مہیا ہیں اور دوسری طرف کفر و شرک کے دیوتا اپنے دامن میں جگہ دے کر ہر طرح کی آسائش و آرائش سے مالا مال کرنے کی دعوت بھی دے رہے ہوں مگر انسان اپنے پاک دامن کو ان تمام واہیات سے بچتا بچاتا آگے بڑھ کر معرفت خداوندی کے دروازے میں داخل ہوجائے تو اسی شیٔ کا نام تقویٰ ہے اور وہی شخص متقی ہے۔

اسی طرح ایک اور صحابیٔ رسول حضرت عبداللہ ابن عباس ص فرماتے ہیں: جو شخص دنیا میں تمام لوگوں کے نزدیک باعزت و معظم ہوجانا چاہے تو وہ تو وہ تقویٰ اور پرہیزگاری کو اپنائے۔ نیز ایک اور جلیل القدر صحابیٔ رسول حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ اگر تم نمازیں پڑھتے پڑھتے کمان کی طرح جھک جائو اور روزے رکھتے رکھتے تانت کی طرح دبلے بھی ہو جائو تو ہر گز بغیر تقویٰ اختیار کئے اور مال حرام سے بچے بغیر کچھ بھی قبول نہ ہو گا۔ معلوم ہوا کہ مال حرام سے بچنا اور تقویٰ اختیار کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ حضرت ابراہیم بن ابراہیم فرماتے ہیں: تقویٰ یہ ہے کہ مخلوق تیری زبان میں اور ملائکہ تیرے کاموں میں اور اللہ رب العزت تیرے دل میں کوئی عیب نہ پائے۔ اسی طرح اہل فہم کبا ر و اسلاف میں سے ہر ایک نے اس کی علیٰحدہ علیٰحدہ توضیح کی ہے ۔ اپنے زمانے کے مشہور و معروف فصیح و بلیغ فارسی مدبر شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ تقویٰ کے تعلق سے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ ایک خوفناک جنگل میں گیا جہاں پر چٹیل سنسان زمین ہو کا عالم طاری کی ہوئی تھی، بڑے بڑے سایہ دار درخت سینہ تانے دیوتا کی مانند کھڑے تھے ، جہاں دور دور تک انسانی وجود اور نوائے انسانی کا پتہ نہیں تھا اور معمولی سی آواز بھی خوف و وحشت کو دو بالا کر رہی تھی کہ اچانک ایک بڑا بھیانک شیر آگے بڑھتا دکھائی دیا مزید تعجب خیز بات یہ تھی کہ اس پر ایک سفید پوش بزرگ انسان سوار تھے میں اس منظر کو دیکھ کر لرزنے لگا میرے جسم میں کپکپی طاری ہو گئی ، میں اس خوف کی بناء پر بھاگنے ہی والا تھا کہ وہ بزرگ میرے قریب آئے اور کہنے لگے:

تو ہم گردن از حکم داور مپیچ کہ گردن نہ پیچد زحکم تو ہیچ

اے سعدی! تو خوف و تعجب کیوں کر رہا ہے تجھے معلوم نہیں یہ شیر کیوں میرے تابع ہے؟ صرف اس لئے کہ میں نے اپنے سر کو خدائے عزیز و غفار کی بارگاہ میں جھکا لیا ہے اور دل میں خوف خداوندی کو بسایا ہے تو پھر اس شیر کی مجال کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ میرے حکم سے بر گشتہ ہو۔ اے سعدی اگر تم بھی اپنے سر کو اللہ کی بارگاہ میں خم کر دو اور دل میں تقویٰ پیدا کر لو تو یہ شیر ہی کیا دنیا کی ہر چیز تمہارے قدموں میں جھکنے پر مجبور ہوگی۔

اب اس کے بعد تقویٰ کے کچھ لغوی اور اصطلاحی تعریف اور اس کے مراتب و درجات نیز اس کے دینی و دنیاوی فوائد و منافع بھی ملاحظہ ہوں۔

تقویٰ کی لغوی تعریف: حفاظت کرنا، بچنا ، بچانا، ڈرنا، پرہیز کرنا ہے۔ جس کا مادّہ ’’وقیٰ، وقایۃ‘‘ ہے۔ یعنی کسی کو کسی شر سے یا کسی چیز کے ضرر سے بچانا اور محفوظ کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’یایہا الذین آمنوا قوا انفسکم و اہلیکم ناراً‘‘ (سورئہ تحریم، آیت: ۶) اے ایمان والوں اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو عذاب نار سے بچائو۔ اور ڈرائو۔

نیز اس کے دیگر چند معانی اور بھی ہیں اخلاص، توبہ، ایمان، فرمانبرداری، ترکِ معصیت بھی تقویٰ کے معنیٰ کو شامل ہے۔ مگر خیال رہے کہ خوف دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک ایذا کا خوف جو موذی سے ہوتا ہے جیسے سانپ یا بچھو کا خوف۔ دوسرا طاقت و قوت کا خوف جو سلطان اور قدرت سے ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق بایں طور ہے کہ ایذا کے خوف میں نفرت اور بھاگنا ہوتا ہے اور طاقت و قدرت کے خوف میں اطاعت و فرمانبرداری ہوتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دوسری طرح کا خوف ہونا چاہئے۔ اسی طرح اس تقویٰ کی اصطلاحی تعریف میں امام غزالی ارشاد فرماتے ہیں: تقویٰ دل کو ایسے گناہ سے پاک اور ستھرا رکھنے کا نام ہے کہ اس جیسا گناہ پہلے کبھی نہ ہوا ہو۔ تاکہ انسان گناہوں کے ترک کرنے کا پختہ ارادہ اور عزم مصمم کر لے۔ اور اس کے اور اس کے گناہ کے درمیان محافظ و نگہبان ہو جائے۔ اور حضرت شیخ ابوبکر وراق رحمۃ اللہ علیہ نے بھی تقویٰ کی یہی تعریف بیان فرمائی ہے۔ کہ تقویٰ کو تقویٰ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب بندہ گناہ و نافرمانی نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے اور اس کا دل ترک معاصی پر قائم و مضبوط ہو جاتا ہے تو ایسے پاکیزہ بندے کو متقی کہتے ہیں اور گناہوں سے بچنے اور ایسے پختہ ارادہ اور ثابت قدمی کو تقویٰ کہتے ہیں۔ لہٰذا اب تقویٰ کی جامع و مانع تعریف یہ ہوئی ہے۔ کہ ہر اس چیز اور کام سے بچنا جس سے دین اور عاقبت کو نقصان و ضرر پہونچنے کا خوف و اندیشہ ہو۔ بلکہ در حقیقت تقویٰ، سرکار دوعالم ا اور صحابۂ کرام ث کی کما حقہٗ پیروی کرنے کا نام ہے۔

تقویٰ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ظاہری اور باطنی۔ تقویٔ ظاہری وہ ہوتا ہے جس کا تعلق قالب سے ہو۔ اور باطنی وہ ہے جس کا تعلق قلب سے ہو۔ اسی اعتبار سے اس کے چار مراتب و درجات ہیں : اول شرک و کفر سے بچنا۔ یہ تقویٰ ہر مومن کو حاصل ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سے انسان کو دوزخ میں ہمیشگی اور دوام نہ ہوگا۔ دوم حرام چیزوں سے بچنا۔ یہ تقویٰ متقی مسلمان کو حاصل ہے نہ کہ فاسق کو اور اس کا صلہ مغفرت سیئات یعنی گناہوں کو بخش دیا جانا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اگر تم گناہ کبیرہ سے بچو گے تو تمہارے چھوٹے گناہ ہم خود ہی معاف کر دیں گے۔ سوم: گناہ صغیرہ سے بھی بچنا۔ یہ تقویٰ اولیاء اللہ کو حاصل ہے اس کی جزا وحشت قبر اور پل صراط سے حفاظت نیز جنت کے بلند درجات کا پانا ہے۔ چہارم: غیر خدا سے بچنا۔ اور خواہشات دنیا کو دل میں پیدا ہونے سے بچانا۔ یہ تقویٰ انبیاء کرام علیہم السلام اور اخص الخواص بندوں کو حاصل ہے۔ یہ تھے تقویٰ اور متقین کے درجات و مراتب۔ جو آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے واضح ہوتے ہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ فطرت انسانیہ کچھ اس طرح کی ہے کہ جب تک اسے کسی کام کے فوائد و منافع معلوم نہ ہوں اس کام میں ہاتھ ڈالنا اس کے لئے ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ ازیں سبب رب قدیر نے تقویٰ کے بے شمار فوائد جو اس عالم فانی میں حاصل ہو سکتے ہیں اور جو کل بروز قیامت ملنے والے ہیں سب کو واضح فرما دیا۔ جیسا کہ خدائے عزیز و غفار کی آیتیں قرآن مقدس میں یوں پکار رہی ہیں: ’’و من یتق اللہ یجعل لہٗ مخرجاً و یرزقہٗ من حیث لا یحتسب‘‘ (سورئہ طلاق، آیت: ۳) اور جو اللہ سے ڈرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ آج کل کتنے مسلمان ایسے ہیں جو اپنے گھر میں تنگیٔ رزق کا رونا روتے ہیں، گھر میں تنگ دستی اور بے برکتی کی شکایتیں کرتے ہیں جس کے لئے وہ لوگ بابائوں اور ملائوں کے پاس تعویذ اور گنڈے کے لئے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ باوجود اس کے گھر میں رزق کی فراوانی تو دور کی بات ہے گزر بسر بھی نہیں ہو پاتا۔ لیکن خداوند قدوس کتنا آسان نسخہ اپنے بندوں کے لئے ارشاد فرمارہا ہے۔ کہ تم رب قدیر پر کامل یقین کر کے اس سے ڈرتے رہو پھر رزق تمہارے پاس خود بخود پہونچ جائے گا۔ اسی طرح ایک انسان عزت و وقار کمانے کے لئے نہ جانے کتنے حربے اپنا لیتا ہے۔ کوئی کرسیٔ اقتدار کو ذریعۂ عزت سمجھتا ہے کوئی اعلیٰ عہدے کی نمائندگی کو سبب وقار سمجھتا ہے ۔

مگر حدیث میں فرمایا گیا کہ اگر کوئی انسان تقویٰ اختیار کر لے اووہ ستّر حجابات کے اندر بھی کیوں نہ پوشیدہ ہو اللہ تعالی اس کی عزت و محبت کولوگوں کے دلوں میں خود بخود ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح اخروی فوائد بھی بے شمار ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیا‘‘ (سورئہ مریم، آیت:۶۳) یہ وہی جنت ہے جس کا وارث اور حقدار ہم نے اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو بنایا ہے جو متقی تھے۔ تقویٰ کا اتنا عظیم فائدہ ہے کہ متقی ہی کوجنت کا وارث کہا جارہا ہے۔ اسی طرح فرمان خداوندی ہے: ’’یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا‘‘ (سورئہ مریم، آیت : ۸۵) جس دن ہم پرہیز گاروں کو مہمان بنا کر رحمن کی طرف لے جائیں گے۔ سبحان اللہ قیامت کے اس ہولناک دن جہاں ہر کسی کو اپنے اعمال کی اور اپنے نجات کی فکر ہوگی مگر متقین کے لئے رب قدیر نے یوں ارشاد فرمایا: کہ ہم انہیں بطور مہمان جنت میں داخل کریں گے۔

آخر میں خدائے قدیر و جبار کی بارگاہ میں دعا ہے کہ تمام اہل ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے اور اعمال حسنہ پر گامزن ہونے کی توفیق رفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم۔