نمازی کے آگے سے گزرنے کے متعلق :-

نمازی کے آگے سے گزرنا بہت سخت گناہ ہے ۔نمازی کے آگے سے گزرنے والا گنہگار ہوتا ہے ۔نمازی کی نماز میںکوئی خلل نہیں آتا ۔ ( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص۱۵۷ ، اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۴۰۱)

 نمازی کے آگے سے گزرنے کی سخت ممانعت ہے ۔ احادیث میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہیں مثلاً :-

حدیث : امام احمد ابی جہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔’ ’ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس پر کتنا گنا ہ ہے تو چالیس برس کھڑا رہنا اس گزر جانے سے اس کے حق میں بہتر تھا ۔‘‘

حدیث :ابن ماجہ کی روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ لو یعلم احدکم مالہ فی ان یمر بین یدی اخیہ معترضا فی الصلاۃ کان لان یقیم مائۃ عام خیر لہ من الخطوۃ التی خطاہا ‘‘ ترجمہ :- ’’ اگر کوئی جانتا کہ اپنے بھائی کے سامنے نماز میں آڑے ہوکر گزرنے میں کیا گنا ہ ہے تو سو برس کھڑا رہنا اس ایک قدم چلنے سے بہتر سمجھتا ۔‘‘

حدیث :ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف میں حضرت عبدالحمید بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ۔ ’’لو یعلم المار بین یدی المصلی لاحب ان یکسر فخذہ ولا یمر بین یدیہ ‘‘ ترجمہ :- ’’ اگر نمازی کے آگے سے گرنے والا جانتا (کہ اس طرح گزرناکتنا گناہ ہے )تو چاہتاکہ اس کی ران ٹوٹ جائے مگر نمازی کے سامنے سے نہ گزرے ۔‘‘ ( تینوں احادیث بحوالہ فتاوٰی رضویہ شریف ، جلد ۳ ، ص ۳۱۶ ، اور ۳۱۷)

مسئلہ: اگر کوئی شخص مکان یا چھوٹی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو دیوار قبلہ تک اس کے آگے سے نکلنا جائز نہیں جب کہ بیچ میں آڑ ( سترہ)نہ ہو ۔ اور اگر کوئی شخص صحرا یا بڑی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو صرف موضع سجود(سجدہ کرنیکی جگہ ) تک نکلنے کی اجازت نہیں ۔ اس سے باہر کے حصہ سے گزر سکتاہے ۔ موضع سجود کے یہ معنی ہیں کہ آدمی جب قیام میں اپنی نگاہ خاص سجدہ کرنے کی جگہ یعنی جہاں سجدے میں اس کی پیشانی ہوگی وہاں جماتا ہے اور اگر جب سامنے کوئی روک نہ ہو تو جہاں نگاہ جماتا ہے وہاں سے کچھ آگے کو نگاہ بڑھتی ہے تو نگاہ آگے بڑھ کر جہاں تک جائے وہ سب جگہ موضع سجود میں شامل ہے ۔اس جگہ کے اندر نمازی کے آگے سے نکلنا حرام ہے اور اس سے باہر جائز ہے ۔(درمختار ، ردالمحتار ، بدائع ،نہایہ ، فتح القدیر ، منحۃ الخالق ، تجنیس ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ص ۱۵۸ ،اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۴۰۱)

نوٹ:- بڑی مسجد صرف وہی مسجد ہے جس میں صحراء کی طرح صفوں کا اتصال شرط ہے جیسے مسجد خوارزم کہ جو سولہ ہزار ستونوں پر ہے باقی عام مساجد اگرچہ دس ہزار مکسر(مربع) ہوں وہ تمام مساجد چھوٹی مسجد کے حکم میں ہیں ان مساجد میں قبلہ کی دیوار تک بلا حائل نمازی کے آگے سے گزرنا جائز نہیں ہے ۔(ماخوذ از:- فتاوی رضویہ جلد سوم، ص ۴۰۲ )

مسئلہ: مسجد الحرام شریف یعنی خانہ ٔکعبہ میںکوئی نماز پڑھتا ہو تو اس کے آگے سے طواف کرنے والے لوگ گزر سکتے ہیں ۔ ( ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۶۰)

مسئلہ: نماز پڑھنے والے کے آگے سترہ ہویعنی کوئی ایسی چیز ہو جس سے آڑ ہوجائے توسترہ کے بعد سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ ( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص۱۵۸ ، اور فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۴۰۱)

مسئلہ: سترہ ایک ہاتھ جتنا اونچا اور انگلی کے برابر موٹا ہونا چاہئے ۔ ( درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ: سترہ بالکل ناک کی سیدھ ( محاذی) پر نہ ہو بلکہ داہنی یا بائیں آنکھ کے بھَوں کی سیدھ پر ہو اور داہنے کی سیدھ پر ہونا افضل ہے ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص۱۵۸)

مسئلہ: درخت ، آدمی ،لکڑی ، لوہے کی سلاخ ، جانور وغیرہ کا بھی سترہ ہوسکتا ہے کہ ان کے بعد گزرنے میں حرج نہیں مگر آدمی کا سترہ اس حالت میںکیا جائے جب اس کی پیٹھ نمازی کی طرف ہوکہ نمازی کی طرف منہ کرنا منع ہے ۔ ( غنیہ ،بہار شریعت ، حصہ۳، ص ۱۵۹)

مسئلہ: نمازی کے سامنے سترہ نہیں اور کوئی شخص اس نمازی کے آگے سے گزرنا چاہتاہے یا سترہ ہے مگر کوئی شخص سترہ اور نمازی کے درمیان سے گزرنا چاہتا ہے تو نمازی کو رخصت (اجازت) ہے کہ اسے گزرنے سے روکے ۔ خواہ سبحان اللہ کہے یا بڑی آواز (جہر) سے قرأت کرے یا ہاتھ یاسر یا آنکھ کے اشارے سے منع کرے ۔اس سے زیادہ کی اجازت نہیں مثلاً گزرنے والے کے کپڑے پکڑ کر جھٹکنا یامارنا ۔ اگر نماز کی حالت میں ایسا کیا تو عمل کثیر ہوجائے گا اور نمازفاسد ہوجائے گی ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ۳،ص۱۶۰)

مسئلہ: عورت نماز پڑھ رہی ہے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہتا ہے یا چاہتی ہے تو نماز پڑھنے والی عورت اس گزرنے والے یا والی کو ’’ تصفیق ‘‘ سے منع کرے یعنی داہنے ہاتھ کی انگلیاں بائیں ہاتھ کی پشت پر مار کر آواز پیدا کرکے گزرنے والے کو متنبہ کرے اور اسے گزرنے سے روکے ۔ ( درمختار)

مسئلہ: اگر مردنے تصفیق کی یا عورت نے سبحان اللہ کہا اور گزرنے والے کو سامنے سے گزرنے کے لئے متنبہ ( خبردار ) کیا تو بھی نماز فاسد نہ ہوگی ، البتہ خلاف سنت ہوا ۔ (درمختار)

مسئلہ: اگر کوئی شخص نمازی کے آگے سے گزر رہا ہے تو نمازی کو اختیار دیاگیا ہے کہ اسے گزرنے سے روکے بلکہ نماز پوری کرنے کے بعد اس سے جھگڑا ( قتال) کرنے کی بھی اجازت ہے۔حوالہ ذیل میںدرج ہے :-

حدیث :- امام احمد ، امام بخاری ، امام مسلم ، امام ابوداؤد اور امام نسائی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں ’’ اذا صلی احدکم الی شئی یسترہ من الناس فاراد احد ان یجتاز بین یدیہ فلیدفعہ فان ابی فلیقاتلہ فانما ہو الشیطن ‘‘ ترجمہ :-’’ جب تم میں سے کوئی شخص سترہ (آڑ) کی طرف نماز پڑھتاہو اور کوئی سامنے سے گزرناچا ہے تو اسے دفع کرے ۔ اگر نہ مانے تو اس سے قتال (لڑائی) کرے کہ وہ شیطان ہے ۔‘‘( مندرجہ بالا حدیث بحوالہ :- فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۳۱۷)

نوٹ : نمازی کے آگے سے گزرنے والے سے جھگڑا کرنے کی رخصت صرف اس صورت میں ہے کہ اسے منع کرنے پر نہ مانا اور منع کرنے کے باوجود بھی نمازی کے آگے سے قصداً گزرا۔