’’ اذان اور اقامت میں نام اقدس ’’محمد ‘‘ ﷺ سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں سے لگانا ۔‘‘

صدیوں سے ملت اسلامیہ میں یہ طریقہ رائج ہے کہ حضور اقدس ، رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا اسم شریف سن کر اہل ایمان و محبت اپنے انگوٹھے یا کلمے کی انگلیاں چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہیں خصوصاً اذان میں ’’ اشہد ان محمد رسول اللہ ‘‘ ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم)کا مقدس جملہ سن کر ہر عام و خاص بتقاضائے محبت و تعظیم رسول اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگاتا ہے ۔ محبتِ رسول کے تقاضا کے تحت کئے جانے والے اس مستحسن فعل سے دور حاضر کے منافقین چِڑھتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے آقاو مولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے نام اقدس کی تعظیم کرنے سے روکتے ہیں اور اس مبارک فعل کو بھی ’’ بدعت ‘‘ کہتے ہیں ۔ تقبیل ابہامین یعنی انگوٹھے چومنے کا مسئلہ آج کل عوام میں بہت زیادہ زیر بحث بلکہ متنازعہ ہے۔ نامِ اقدس سن کر انگوٹھے چومنے کی ممانعت کرنے والے فرقہ ٔ باطلہ کے متبعین ممانعت کی کوئی دلیل پیش نہیں کرتے بلکہ ’’ بدعت ہے ‘‘ ۔’’ بدعت ہے ‘‘ کی رٹ لگاتے ہیں ۔ علاوہ ازیں عوام سے اس بات کا اصرار کرتے ہیں کہ اس فعل کے جوازکی دلیل پیش کرو ۔ عوام بے چارے بے علمی کی وجہ سے دلائل پیش نہیں کرسکتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اس فعل کو ہم بزرگوں اور آباء و اجداد سے سنتے اور ان کو ایسا کرتے دیکھتے آئے ہیں ۔ بلکہ ابتدائے اسلام سے یہ فعل ملت اسلامیہ میں رائج ہے لیکن عظمت ِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے منکرین عوام کی ایک نہیں سنتے اور ممانعت پر مصر رہتے ہیں بلکہ تشدد کی حد تک ممانعت کرتے ہیں۔

اذان میں نامِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر انگوٹھے یا انگشتانِ شہادت چوم کر آنکھوں سے لگانا قطعاً جائز بلکہ مستحب ہے ۔ اس کے جواز اور استحباب میںدلائل کثیرہ موجود ہیں۔مثلاً :-

دلیل نمبر ۱ :-

دیلمی نے مسند الفردوس میں روایت کیا ہے کہ :-

’’ اصدق الصّادقین ، امام المتقین ، خلیفۃ المسلمین ، امیرالمؤمنین ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان میں مؤذن کو ’’ اشہد ان محمدًا رسول اللہ ‘‘ کہتے سنا تویہ دعا پڑھی کہ ’’ اشہدان محمدًا عبدہ و رسولہ رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نبیا ‘‘اور پھر دونوں کلمے کی انگلیوں کے اندر کی جانب کے پورے چوم کر آنکھوں سے لگائے ۔ اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ’’من فعل مثل مافعل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی ‘‘ یعنی ’’ جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا اس پر میری شفاعت حلال ہوگئی ۔

دلیل نمبر ۲ :-

امام اجل ، علامہ علی بن سلطان ہروی قاری مکی ، المعروف بہ ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’ موضوعات کبیر ‘‘ میں نامِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر انگوٹھے چومنے کے متعلق فرماتے ہیں کہ :-

’’ واذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فیکفی للعمل بہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین ‘‘ یعنی :- ’’ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس فعل کا ثبوت عمل کو بس ہے کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ میں تم پر لازم کرتا ہوں اپنی سنت اوراپنے خلفاء راشدین کی سنت ۔‘‘

لہذا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی ٰعنہ سے کسی شئے کا ثبوت بعینہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے ثبوت ہے ۔

دلیل نمبر ۳:-

امام اجل شمس الدین سخاوی نے اپنی کتاب مستطاب ’’ مقاصد حسنہ ‘‘ میں اس حدیث کو روایت فرمایا ہے اور انگوٹھے چومنے کے فعل کا استحباب فرمایاہے ۔

دلیل نمبر ۴:-

امام جلیل حضرت ابوالعباس احمد بن ابی بکر رواد یمنی صوفی نے اپنی کتاب ’’ موجبات الرحمۃ و عزائم المغفرۃ‘‘ میںا یک روایت حضرت سیدنا خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کی ہے کہ حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں کہ :-

’’ من قال حین سمع المؤذن یقول اشہد ان محمدًا رسول اللہ مرحبا بحبیبی و قرۃ عینی محمد بن عبداللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ثم یقبل ابہا میہ و یجعلہما علی عینیہ لم یرمد ابدا‘‘ ترجمہ :- ’’ ’’ جو شخص مؤذن سے ’’ اشہد ان محمداً رسول اللہ ‘‘ سن کر ’’ مرحبا بحبیبی و قرۃ عینی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہے پھر دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھے اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں ۔‘‘

دلیل نمبر ۵ :-

اسی کتاب یعنی ’’ موجبات الرحمۃ ‘‘ میں حضرت فقیہ محمد بن البابا کے بھائی سے روایت کی کہ وہ اپناحال بیان کرتے تھے کہ :-

’’ انہ ہبت ریح فوقعت منہ حصاۃ فی عینہ و اعیاہ خروجہا و المتہ اشد الالم و انہ لما سمع المؤذن یقول اشہد ان محمدا رسول اللہ قال ذالک فخرجت الحصاۃ من فورہ ۔ قال الرواد رحمہ اللہ تعالیٰ و ہذا یسیرفی جنب فضائل الرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ‘‘ ترجمہ :-’’ ایک مرتبہ تیز ہوا چلی اور ایک کنکری ان کی آنکھ میں پڑگئی ۔نکالتے تھک گئے لیکن نہ نکلی اور نہایت سخت درد پہنچایا۔اسی وقت انہوںنے مؤذن کو ’’ اشہد ان محمدًا رسول اللہ ‘‘ کہتے سنا تو انہوںنے یہی کہا ( یعنی دلیل نمبر ۴ میں مذکور دعا ’’ مرحبا بحبیبی ‘‘ آخر تک ) ان کی آنکھ سے کنکری فورًا نکل گئی ۔ حضرت رواد فرماتے ہیںکہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے فضائل کے سامنے اتنی بات کیا چیز ہے ؟‘‘

دلیل نمبر ۶ :-

مدینہ طیبہ کے خطیب و امام حضرت شمس الدین محمد بن صالح مدنی اپنی ’’ تاریخ ‘‘میں ارشاد فرماتے ہیں کہ :-

’’ روی عن الفقیہ محمد بن سعید النحولانی قال اخبرنی فقیہ العالم ابوالحسن علی بن حدید الحسینی اخبرنی الفقیہ الزاہد البلالی عن الحسن علیہ السلام انہ قال من قال حین یسمع المؤذن یقول اشہد ان محمداً رسول اللہ مرحبا بحبیبی و قرۃ عینی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ و سلم و یقبل ابہامیہ و یجعلہما علی عینیہ لم یعم و لم یرمد ‘‘ ترجمہ :- ’’ فقیہ محمد بن سعید خولانی سے مروی ہوا کہ انہوںنے فرمایا مجھے فقیہ عالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید حسینی نے خبر دی کہ مجھے فقیہ زاہد بلالی نے حضرت امام حسن مجتبیٰ علی جدہ الکریم و علیہ الصلوٰۃ والسلام سے خبر دی کہ حضرت امام حسن بن علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ :-

’’ جو شخص مؤذن کو ’’اشہد ان محمدًا رسول اللہ ‘‘ کہتے سن کر ’’ مرحبا بحبیبی و قرۃ عینی محمدبن عبداللہ صلی اللہ علیہ و سلم ‘‘ یہ دعا پڑھے اوراپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھے وہ شخص نہ کبھی اندھاہو اورنہ کبھی اس کی آنکھیں دکھیں ۔‘‘

دلیل نمبر ۷ :-

امام و خطیب مدینہ منورہ حضرت شمس الدین محمد بن صالح مدنی نے اپنی ’’ تاریخ ‘‘ میںحضرت مجد مصری کہ جو سلف صالحین سے تھے ، ذکر فرمایا ہے کہ حضرت مجد مصری فرماتے ہیں کہ:-’’ اذا سمع ذکرہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی الاذان و جمع اصبعیہ المسبحۃ والابہام وقبلہما و مسح بہما عینیہ لم یرمد ابداً ‘‘ ترجمہ :- ’’جو شخص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا ذکر پاک اذان میں سن کر کلمہ کی انگلی اور انگوٹھا ملائے اور انہیں بوسہ دے کر آنکھوں سے لگائے اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں ۔‘‘

دلیل نمبر ۸:-

حضرت امام جلیل ، ابوالعباس احمد بن ابی بکر رواد یمنی صوفی اپنی کتاب ’’موجبات الرحمۃ و عزائم المغفرۃ ‘‘میں فرماتے ہیں کہ :-’’قال ابن صالح و سمعت ذالک ایضاً من الفقیہ محمد بن الزرندی عن بعض شیوخ العراق و العجم وانہ یقول عند یمسح عینیہ صلی اللہ علیک یا سیدی یارسول اللہ ۔ یاحبیب قلبی و یانور بصری و یا قرۃ عینی و قالا لی کل منذ فعلتہ لم ترمد عینی ‘‘ترجمہ :- ’’ ابن صالح فرماتے ہیں میں نے یہ امر فقیہ محمد بن زرندی سے بھی سناکہ بعض مشائخ عراق اور عجم سے راوی تھے اور ان کی روایت میں یوں ہے کہ آنکھوں پر مس کرتے وقت یہ درود عرض کرے کہ’’صلی اللہ علیک یا سیدی یا رسول اللہ ۔ یا حبیب قلبی و یانور بصری و یا قرۃ عینی ‘‘ اور دونوں صاحبوں یعنی شیخ محمد مصری اور شیخ فقیہ محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ جب سے ہم یہ عمل کرتے ہیں ہماری آنکھیں نہ دکھیں۔‘‘

پھر حضرت ابن صالح نے فرمایا کہ :-’’ وللہ الحمد والشکر منذ سمعتہ منہما استعملتہ فلم ترمد عینی وارجو ان مافیتہما تدوم و انی اسلم من العمیٰ انشا ء اللہ تعالیٰ ‘‘ ترجمہ :- ’’ اللہ کے لئے حمداور شکر ہے کہ جب سے میں نے یہ عمل ان دونوں صاحبوں سے سنا ، اپنے عمل میں رکھا آج تک میری آنکھیں نہ دکھیں اورا میدکرتا ہوں کہ ہمیشہ اچھی رہیں گی اور میں کبھی اندھا نہ ہوں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔‘‘

دلـیـل نـمـبــر ۹ :-

فقہ کی مشہور ومعروف کتاب جامع المضمرات شرح قدوری ‘‘ کے مصنف امام جلیل ، استاذ العلماء ، علامہ یوسف بن عمر کے شاگرد امام فقیہ عارف باللہ سیدی فضل اللہ بن محمد بن ایوب سہروردی اپنے ’’ فتاوٰی صوفیہ ‘‘ اور امام اجل ، مرجع العلماء علامہ عبدالعلی برجندی اپنی مشہور و معتمد کتاب ’’شرح نقایہ ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ :-’’ واعلم انہ یستحب ان یقال عند سماع الاولی من الشہادۃ صلی اللہ تعالیٰ علیک یا رسول اللہ و عند الثانیۃ منہما قرۃ عینی بک یا رسول اللہ ثم یقال اللہم متعنی بالسمع والبصر بعد وضع ظفری الابہامین علی العینین فانہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم یکون لہ قائدًا الی الجنۃ و کذا فی کنز العباد ‘‘ ترجمہ :- ’’ خبردار ہو کہ بے شک مستحب ہے کہ جب اذان میں پہلی مرتبہ ’’ اشہد ان محمداًرسول اللہ‘‘ سنے تب ’’صلی اللہ علیک یا رسول اللہ ‘‘ کہے اور دوسری مرتبہ سنے تب ’’ قرۃ عینی بک یارسول اللہ ‘‘ کہے پھر انگوٹھوں کے ناخن آنکھو ںپر رکھ کرکہے ’’ اللہم متعنی بالسمع والبصر ‘‘ ایسا کرنے والے کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اپنے پیچھے پیچھے جنت میںلے جائیں گے اور ایسا ہی بیان کتاب ’’ کنز العباد‘‘ میں بھی ہے ۔‘‘

دلیـل نـمـبــر ۱۰:-

شیخ المشائخ ، خاتم المحققین ، سیدا لعلماء الحنفیہ بمکۃ المکرمہ ، علامہ شاہ جمال بن عبداللہ عمر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں کہ :-’’ سئلت عن تقبیل الابہامین و وضعہما علی العینین عند ذکر اسمہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی الاذان ہل ہو جائز ام لا ؟ اجبت بما نصہ نعم ۔ تقبیل الابہامین و وضعہما علی العینین عند ذکر اسمہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم جائز بل ہو مستحب ۔ صرح بہ مشائخنا فی کتب متعددہ ‘‘ ترجمہ :- ’’ مجھ سے سوال ہواکہ اذان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا ذکر شریف سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ میںنے ان لفظوں سے جواب دیا کہ ہاں ! اذان میں حضور والا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کانام پاک سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر رکھنا جائز بلکہ مستحب ہے ۔ہمارے مشائخ مذہب نے متعدد کتابوں میں اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔‘‘

قارئین کرام کی خدمت میں اس مسئلہ کے جواز کے ثبوت میں مزیددلائل بھی الحمدللہ پیش کئے جاسکتے ہیں جو زیورِ گوشِ سامعین بنیں لیکن فقیر سراپا تقصیر نے تلک عشرۃ کاملۃ پر اکتفاکیا ہے ۔ ملت اسلامیہ کے جلیل القدر ائمہ کرام نے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا نام پاک اذان میں سن کر انگوٹھے یا انگشتانِ شہادت کو چوم کرآنکھوں پررکھنے کے فعل کو جائز بلکہ مستحب فرمایا ہے ۔ فقہ کی مستند اور معتبر کتابوں میں اس کے استحباب کی تفصیل مرقوم ہے ۔ مثلاً :-(۱)امام اجل ، علامہ محقق امین الدین محمد بن عابدین شامی کی مشہور و معروف کتاب ’’ردالمحتار حاشیہ درمختار‘‘ا لمعروف بہ ’’ فتاوٰی شامی‘‘ (۲)امام جلیل، خاتم المحققین ، علامہ شمس الدین قہستانی کی کتاب ’’ جامع الرموز‘‘ّ(۳)امام اجل علامہ عبدالعلی برجندی کی کتاب ’’ شرح نقایہ‘‘(۴)امام فقیہ عارف باللہ سیدی فضل اللہ بن محمدبن ایوب سہرورد ی کے فتاوٰی کامجموعہ ’’فتاوٰی صوفیہ ‘‘ (۵)امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد سعدی کی ’’ کنزالعباد ‘‘ (۶)علامہ زین تلمیذ امام ابن حجر مکی شافعی کی ’’ قرۃ العین ‘‘

وغیرہا کتب معتمدہ میں اس فعل کے جواز کی صاف تصریح موجود ہے اور بالفرض جواز کی کوئی دلیل نہ بھی ہو پھر بھی منع ہونے کی شریعت میں دلیل نہ ہونا ہی جوازکے لئے کافی ہے ۔ جو لوگ نامِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانے کے فعل کی ممانعت کرتے ہیں ان پر لازم ہے کہ ممانعت کی صریح دلیل پیش کریں۔

ایک ضروری بات

نامِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر بتقاضائے محبت و تعظیم انگوٹھے یا انگشتان شہادت کو بوسہ لے کر آنکھوں سے مس کرنے کی ممانعت کرنے والا کوئی شخص آپ کے پاس بغرض ممانعت آئے تو اس سے پوچھو کہ جناب آپ ہمیں کیوں منع کرتے ہیں ؟ تو وہ یہی جواب دے گا کہ جناب اس فعل کا ثبوت نہیں ۔ اس کا یہ جواب سراسر غلط ہے کیونکہ اوراق سابقہ میں اس فعل کے جواز اور استحباب میںکل دس دلیلیں پیش کی گئی ہیں ۔ بالفرض مان لو کہ آپ کو وہ دلیلیں یاد نہیں تو اس سے کہو کہ جب آپ منع کررہے ہیں تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ شریعت سے کوئی ایسی دلیل پیش کرو کہ جس میں صاف تصریح ہو کہ نامِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں سے لگانا منع ہے۔

آپ کاجواب سن کر وہ منع کرنے والا بوکھلا جائے گا ۔ اگر نرا جاہل ہے تو یہی کہے گاکہ منع ہونے کی دلیل کی کیا ضرورت ہے یہ فعل بدعت ہے ۔ تب اس سے سوال کرو کہ اگر بدعت ہے تو کون سی بدعت ہے ؟ بدعت اعتقادی ہے ؟ بدعتِ عملی ہے ؟ بدعتِ حسنہ ہے ؟ بدعت ِ سیئہ ہے ؟ بدعتِ محرمہ ہے ؟ بدعتِ مکروہہ ہے ؟ بدعتِ واجبہ ہے ؟ بدعتِ جائزہ ہے؟ یا بدعتِ مستحبہ ہے ؟ ان اقسام میں سے کون سی قسم کی بدعت ہے ؟ تب وہ ممانعت کرنے والا فوراً نو- دو- گیارہ ہوجائے گا ۔

اگر وہ منع کرنے والا تھوڑا بہت پڑھا لکھا ہے تو آپ کی دلیلیں سن کر یہ جواب دیگا کہ آپ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی جو حدیث اور دیگر دلائل پیش کئے ہیں وہ تمام دلیلیں ضعیف ہیں ۔ لوہوئی نہ بات ؟ جب ممانعت کی دلیل نہ دے سکے تو جواز کی دلیلوں کو ضعیف کہہ دیا ۔ خیر ! اس منع کرنے والے سے کہوکہ جواز میں پیش کردہ ہماری دلیلیں جب آپ کے نزدیک ضعیف ہیں تو آپ پرلازم ہے کہ ممانعت کی ایسی دلیلیں پیش کرو جو ہماری دلیلوں کے مقابلہ میںزیادہ قوی اور مضبوط ہوں ۔آ پ کا یہ جواب سن کر بھی منع کرنے والا اپنی بغلیں جھانکتاہوا راہِ فرار اختیار کریگا۔

لمحہ ٔفکریہ

تبلیغ جماعت کا جاہل بلکہ اجہل مبلغ تبلیغی ٹولی کے ساتھ ایک آدھ چلہ یا گشت کرکے آتا ہے تو نہ جانے وہ کون سی شراب تکبر پی کر آتا ہے کہ نشہ ٔ انانیت ، کیفِ غرور اور خمارِ خودبینی میںمبتلا ہوکر اپنے آپ کو مولانا ، مولوی ، مفتی ،محدث یامجتہد سے کم نہیں سمجھتا ۔ جس کو طہارت اورنماز کے ضروری مسائل تک کی قطعاً معلومات نہیں وہ ایمان وعقائد کے اصولی مسائل میں اپنی بے تکی بقراطی چھانٹتا ہوا گھومتا ہے ۔ حبِ رسول اور عظمتِ رسول کے جائز اور مستحب کاموں کو عناداً اور دلیری سے ناجائز اور بدعت کے فتوے دیتا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ بدعت کا فتویٰ دینے والے کو بدعت کا صحیح تلفظ تک معلوم نہیں ہوتا اور بدعت کو ’’ بِدّت‘‘ بولتاہے ۔

ناظرین کرام بنظر عمیق غور فرمائیں کہ ایک طرف بارگاہ رسالت کے گستاخ کی عدم جواز کی بکواس ہے اور دوسری طرف ملت اسلامیہ کے جلیل القدر اماموںکے ایمانی وعرفانی اقوال زرین ہیں جو جواز اور استحباب کی تائید فرماتے ہیں ۔ مثلاً mامام دیلمی مسند الفردوس میں mامام اجل علامہ علی بن سلطان ہروی قاری مکی ’’ موضوعات کبیر‘‘میںmامام اجل ، شمس الدین سخاوی ’’ مقاصد حسنہ‘‘ میںmامام جلیل حضرت ابوالعباس، احمد بن ابی بکر رواد یمنی صوفی ’’ موجبات الرحمۃ وعزائم المغفرۃ ‘‘میں mامام و خطیب مدینہ منورہ حضرت شمس الدین محمد بن صالح مدنی اپنی ’’ تاریخ‘‘ میں mامام فقیہ عارف باللہ سیدی فضل اللہ بن محمد بن ایوب سہروردی ’’ فتاوٰی صوفیہ‘‘ میں mشیخ المشائخ ، خاتم المحققین ، سیدالعلماء الحنفیہ بمکۃ المکرمہ علامہ شاہ جمال بن عبداللہ عمر مکی اپنے مجموعہ ٔ فتاوٰی میں mخاتم المحققین ، امام اجل، علامہ محقق امین الدین محمد بن عابدین شامی ’’ ردالمحتارحاشیہ درمختار‘‘ المعروف بہ ’’ فتاوٰی شامی‘‘ میں m امام جلیل علامہ ، عبدالعلی برجندی ’’ شرح نقایہ‘‘ میں m علاوہ ازیں فقہ کی معتبر و مستند کتب مثلاً مختصر الوقایہ ، کنز العباد وغیرہا میں نام اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر انگوٹھے یا انگشتانِ شہادت کو بوسہ دے کر آنکھوں سے مس کرنے کے فعل کو جائز بلکہ مستحب فرمایا ہے ۔ تو ! اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ :-

 اگر یہ فعل بقولِ منافقِ زمانہ ناجائز یا بدعت ہے تو کیا مندرجہ بالا جلیل القدر ائمہ دین کو اس کے بدعت یا ناجائز ہونے کا علم نہیں تھا ؟ کیا کسی نے بھی اس مسئلہ کو صحیح طور پر نہیں سمجھا؟ جو کام ابتدائے اسلام سے آج تک اولیاء ، صوفیاء اور سلف صالحین میں رائج اور معمول تھا ، علماء و فقہاء نے جس پر عمل کیا بلکہ اس پر عمل کرنے کی تلقین و ترغیب فرمائی وہ کام اب چودہ (۱۴۰۰) سو سال کے بعد ناجائز اور بدعت ہوگیا ؟ جس کا صاف مطلب یہی ہوا کہ چودہ سو سال تک ہوجانے والے اولیاء ، علماء ،فقہاء ، صوفیاء صلحاء وغیرہ کسی نے اسلام کو صحیح معنی میں سمجھا ہی نہیں تھا ؟ کیا اسلام کو صحیح معنی میں سمجھنے والے اب چودھویں صدی میں ہی پیدا ہوئے ہیں؟ کیا ماضی کے تمام اسلامی افراد بے علم اور گمراہ تھے ؟

الحاصل ! نامِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا قطعاً جائز ہے ۔ ہمارے لئے صرف یہی اسکے جواز و استحباب کی دلیل کافی ہے کہ ملت اسلامیہ کے جلیل القدراماموںا ور عظیم المرتبت اولیاء نے اس فعل کوکیا ہے ۔ ہم اس فعل کے جواز کے متمسک باصل ہیں اور شرعاً متمسک باصل محتاج دلیل نہیں البتہ جوناجائز بتائے اس پر لازمی ہے کہ منع ہونے کا صریح ثبوت دے ۔ایک اہم بات خوب یاد رکھیں کہ ایک مومن کے ایمان میں تعظیم رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم عین ایمان بلکہ ایمان کی جان ہے ۔ لہٰذا جو کچھ بھی ، جس طرح بھی ، جس وقت بھی ، جس جگہ بھی ، جو کوئی بھی کام حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی تعظیم کے لئے کیا جائے ، خواہ وہ کام بعینیہ منقول ہو یا نہ ہو ، سب جائز و مندوب و مستحب و مرغوب ومطلوب و پسندیدہ و خوب ہے ، جب تک اس خاص کام سے کسی قسم کی شرعی ممانعت نہ آئی ہو اور جب تک اس خاص کام کے کرنے سے کوئی شرعی حرج نہ ہو ۔ تعظیم رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے لئے کئے جانے والے کام اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس ارشاد ِ عالی میں داخل ہیں کہ ’’ لتؤمنوا باللہ ورسولہ و تعزروہ و توقروہ ‘‘ (پارہ ۲۶ ، سورہ الفتح ، آیت ۹) ترجمہ :- ’’ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو ۔‘‘ ( کنزالایمان) لہٰذا جو مومن تعظیم رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی غرض سے اذان یااقامت یا کہیں بھی نام اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگاتا ہے وہ حکم الٰہی کی بجاآوری کرتا ہے اور فضل جلیل اسے شامل ہے۔ایک حوالہ پیش خدمت ہے :-٭ فتح القدیر ،منسک متوسط اور فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے کہ :- ’’کل ما کان ادخل من الادب والاجلال کان حسناً ‘‘ یعنی ’’ جو کام ادب اورعظمت میں داخل ہے وہ کام پسندیدہ ہے ۔‘‘

فقیرسراپا تقصیر نے انگوٹھے چومنے کی مختصر بحث امام عشق و محبت ،اعلٰحضرت امام احمد رضاؔ محدث بریلوی قدس سرہ کے مندرجہ ذیل رسائل سے استفادہ کرکے ارقام کی ہے :-

(۱) منیرا لعین فی حکم تقبیل الابہامین

(۲) نہج السلامہ فی تحلیل تقبیل الابہامین فی الاقامہ

جن حضرات کو اس مسئلہ کی مبسوط و مفصل وضاحت درکار ہے وہ ان رسائل کی طرف رجوع فرمائیں ۔

’’ ضروری مسئلہ‘‘

’’ حالت نماز میں ، قرآن شریف سنتے وقت اور خطبہ سنتے وقت نامِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سن کر تقبیل الابہامین یعنی انگوٹھے چوم کر آنکھو ںسے لگانے کا فعل نہیں کرناچاہئے کیونکہ ان مواضع و مواقع میں کسی بھی قسم کی حرکت کرنا منع ہے ۔

( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۵۴۴)

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے صدقہ اور طفیل میں ہر سنّی مسلمان کو ایمان کی سلامتی کے ساتھ نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آ مین

احقر العباد

مارہرہ اور بریلی کے مقدس آستانوںکا

ادنیٰ سوالی

عبدالستار ہمدانی ’’مصروف‘‘

برکاتی ، نوری ۔ پوربندر (گجرات)