اسلام میں حفاظت نگاہ کی اہمیت

اسلام اور قرآن کا مقصد اولین انسانوںن کی اصلاح ہے انہیں ناکامی کے تصور سے دور رکھ کرکامیابی اور کامرانی کی شاھراہ پر چلانا ہے۔ اور اس کے لئے مفید تعلیمات وہدایات بھی انسانوں کو عطا کی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید جس میں ہر رطب ویابس کا روشن بیان کا مطالعہ کرکے اور اس کے احکام وتعلیمات پر عمل کرکے نہ جانے کتنے بگڑے اور بچھڑے انسان سدھر اور اپنے آپ کو تباہی وبربادی کے دہانے پر جانے سے بچا لیا ہو اور ہوس سے غبار سے آئینہ دل کو صاف کرلیا۔

مغربی تہذیب اور تمدن میں اپنی کامیابی اور کامرانی کا تصور کرنے والے ذراگہرائی اور گیرائی میں جاکر دیکھیں کہ ان ظلمت خانۂ حیات کو اسلام وقرآن منور کرتے ہیں یایورپی کلچر؟۔یہ تو اسلام کے احسانات ہیںکہ اسنے اپنے ماننے والوں کو جو نظامہائے حیات عطا فرمائے ہیں وہ اتنے ٹھوس اور مستحکم ہیں کہ ہزاروں اعتراضات وہر زہ سرائی کرنے کے باوجود آج تک کوئی بھی مخالف ومعاند اس کی تعلیمات وقوانین کو غلط ثابت نہیں کرسکا۔ مردوں اور عورتوں کو دیگر ہدایات کے ساتھ کامیابی زندگی کے لئے اسلام نے حفاظت نگاہ کی بھی تعلیم دی ہے، ذرا رب قدیر کے مقدس کلام قرآن مجید کے یہ محبت بھرے کلمات تو ملاحظہ فرمائیے:’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم۔‘‘(النور؍۳۰)مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

اس کی تغیر میں ضیاء ملت رقمطراز ہیں:شریعت اسلامیہ فقط گناہوں سے نہیں روکتی اور ان کے ارتکاب پر ہی سزا نہیں بلکہ ان تمام وسائل وذرائع پر پابندی عائد کرتی ہے اور انہیں ممنوع قرار دیتی ہے جو انسان کو گناہوں کی طرف لیجاتے ہیں۔ تاکہ جب گناہوں کی طرف لیجانے والا راستہ ہی بند ہوگا تو گناہوں کا ارتاکاب آسان نہیں ہوگا طبیت میں ہیجان پیدا کرنے والے اور جذبات وشہوت کو مشتعل کرنے والے اسباب سے نہ روکنا اور ان کی کھلی چھٹی دے دینا۔ اور پھر یہ توقع رکھنا کہ ہم اپنے قانون کی قوت سے لوگوں کو برائی سے بچالیں گے۔ یہ بڑی نادانی اور ابلہی ہے۔ اگر کوئی نظام ان عوامل و محرکات کا قلع قمع نہیں کرتا جو انسان کو بد کاری کی طرف دھکیل کر لیجاتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس برائی کو برائی نہیں سمجھتا۔ اور نہ اس سے لوگوں کو بچانے کی مخلصانہ کوشش کرتا ہے۔ اس کی زبان پر جو کچھ ہے وہ اس کے دل کی صدا نہیں بلکہ محض ریا کاری اور ملمع سازی ہے۔

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردئہ باز می گوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش

کسی کو بہتے ہوئے دریا میں دھکا دے کے گرا دینا اور پھر اس کو یہ کہنا کہ خبردار اپنے دامن کو موجوں سے گیلا (تر)نہ ہونے دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔

اس سورت کا آگاز زنا کاروں کی سزا کے ذکر سے ہوا۔ یہاں ان راستوں کو ہی بند کیا جارہاہے جو انسان کو اس جرم شنیع کی طرف لیجاتے ہیں۔ بدکاری کا سب سے خطرناک راستہ نظر بازی ہے اسلئے سب سے پہلے اس کو بند کیا جارہا ہے۔ مردوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، جب نگاہ کسی نامحرم کی طرف نہیں اٹھنے گی تو دل میں اس کی طرف کشش پیدا نہ ہوگی جب کشش ہی ناپید ہوگی تو بس کاری کا ارتکاب ہی بعید از قیاس ہوگا۔‘‘(ضیاء القرآن ۳؍۳۱۲)

اسلام اپنے ماننے والوں کو پاکیزہ معاشرہ میں دیکھنا چاہتا ہے اس لئے انہیں پاکیز گی اور طہارت باطنی وظاہری کی تعلیم دیتا ہے۔یہ مذہب مہذب اپنے چاہنے والوں کی زندگی میں قبیح اور شنیع افعال دیکھنا بھی گوارا نہیں فرماتا۔ فحاشی عریانیت عصمت دری اور بد کاری جیسے افعال مذمومہ سے مسلمان )(مردوں اور عورتوں)کو سخت نفرت دلاتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ اسلام کا مقصد ہی انسان کے سر پر تاج کرامت رکھنا اور اسے عظمت وسربلندی کی چوٹی پر فائز کرنا ہے۔اسی لئے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی حفاظت نگاہ کی تاکید فرمائی گئی۔ مذکورہ بالا آیت کریمہ کے بعد ہی یہ کلمات مبارکہ قرآن مجید میں مرقوم ہیں۔

وقل للمؤمنٰت یغضضن من ابصار ھن ویحفظن فروجھن(النور۳۱)

’’اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں‘‘(کنز الایمان)

آج مسلمان معاشرے میں بے حیائی کا بازار گرم ہے شاید ہی ایسا وقت کسی نے دیکھا ہو۔ بے حیائی کے ناچتے ہوئے منظر کا روشن ثبوت معاشرے کا بد ترین دشمن ’’ٹی وی‘‘ہے اور اس کے ذریعہ دیکائے جانے والے عریا فوٹو اور فحش مناظر ہیں فحاشی اور شہوانی کیفیتیں پیدا کرنے والے فلمی اور عشقیہ ناول ہیں۔ جن کا مطالعہ کر کے جہاں ایک مرد برائیوںاور بے حیائیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا وہیں عورتیں بھی ای دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کرتی ہیں۔ کل تک ٹی وی اور فلمیں اپنے والدین، سرپرستوں اور رشتہ داروں سے چھپ کر دیکھی جاتی تھیں مگر مغربی کلچر اور یورپی تہذیب کے دلدادہ دنیا پرست غافل انسان اب کسی سے بھی شرم وحیا نہ کرتے ہوئے کھلم کھلا یہ گناہ کرتا ہوا نظر آتا ہے برا ہومغربی تہذیب کا جس نے مسلمانوں میں جو بچی کچی حیا تھی اس کے بھی پردے اٹھا دیئے ہیں اور اب تو ایک ہی کمرے میںماں باپ، بیٹابیٹی، اور بھائئی بہین فحش اور گندی تصاویر بڑے انہماک کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال زار پر رحم فرمائے۔ آمین

شریعت اسلامیہ نے نگاہوں کی حفاظت کا جو درس اور اصول ہمارے سامنے رکھا ہے اس میں بے شمار حکمتیں ہیں۔ جبکہ نگاہوں کی حفاطت نہ کرے اور انہیں آوارہ اور آزاد چھوڑدینے پر جو نتائج سامنے آتے ہیں وہ بڑے بھیانک ہوتے ہیں۔ اور ایک بار آدمی کسی کی طرف قصدا نظر بد اٹھا لیتا ہے تو پھر اس کے لئے کنٹرول کرلینا مشکل ہوجاتا ہے اور جو اس چکر میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ پھر اس سے اپنی جان چھڑانا بھی بڑا کٹھن مسئلہ بن جاتا ہے نتیجتا انسان اپنی تباہی اور بربادی کا سامان خود اپنے ہاتھوں سے لیتاہے۔

نگاہیں نیچی رکھنے کی حکمت میں فرمایا گیا کہ ’’اس طرح تمہارا دامن عفت پاک رہ سکتاہے۔ ذلک ازکیٰ لھم ’’یہ بہت پاکیزہ ہے ان کے لئے ‘‘تحت ضیاء ملے رقمطراز ہیں: ’’اگر نگاہیں ہوسناک ہوں ،مرد وزن کا آزادانہ اختلاط ہو ،خلوت میں نہ محرموں کے ساتھ سلسلۂ گفتگو بھی جاری ہے اور پھر انسان یہ خیال کرے کہ وہ اپنے دامن کو داغ دار نہیں ہونے دیگا تو یہ اس کی حماقت کی انتہا ہے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اور بچیاں نجیف اور عصمت شعار رہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں قرآن کریم کی ان آیات کی تعلیم دیں ‘‘۔(ضیاء القرآن۳؍۳۱۳)

قرآن مجید کی ان آیات کے مطالعہ کے بعد ایک غیرت مند انسان کبھی بھی اپنی نگاہ کو آوارہ نہیں چھوڑے گا ۔بلکہ ان حکمتوں سے بھرے ہوئے موتیوں سے استفادہ کرتے ہوا اپنی نگاہ کی حفاظت کی ہی کوشش کرے گا ۔

احادیث کریمہ میں بھی رسول اکرم ھادیٔ دوعالم ﷺنے نگاہوں کی حفاظت کی تاکید فرمائی ہے اور بڑی سختی سے نامحرم کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا ہے ۔چند ارشادات نبوی ﷺ پیش کررہا ہوں ۔

عن ابی امامۃ رضی اللہ عنہ یقول سمعت رسول اللہ ﷺ اکفلوا الی بست اکفل لکم بالجنۃاذا حدث احدکم فلا یکذب واذا اؤتمن فلا یخن واذا وعد فلا یخلف وغضوا ابصارکم وکفوا ایدیکم واحفظوا فروجکم۔

ترجمہ:۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ،اگر تم میرے ساتھ ان چھ باتوں کا وعدہ کرو تو میں تمہارے لئے جنت کا ضامن ہوں ۔

(۱)جب تم میں سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولے۔

(۲)جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے۔

(۳)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی نہ کرے۔

(۴)اپنی نگاہوں کو نیچے رکھو۔

(۵)اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔

(۶)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔(ابن کثیر بحوالہ ضیاء القرآن)

امام بخاری رضی اللہ عنہ نے اپنی صحیح میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے ’’من یکفل لی مابین تحییہ وبین رجلیہ اکفل لہ الجنۃ‘‘جو مجھے دو باتوں کی ضمانت دے کہ جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان یعنی زبان اور جو اس کے دو ٹانگوں کے درمیان ہے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔

قال رسول اللہ ﷺ ان النظر سھم من سھام ابلیس مسموم من ترکہ مخافتی ابدلتہ ایمانا یجد حلاوتھا فی قلبہ۔

ترجمہ:۔ نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیرہے جو اس کو میرے خوف سے ترک کرتا ہے میں اسے ایمان کی نعمت بخشوں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں پائے گا ۔

حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر اچانک کسی اجنبیہ پر نظر پڑجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟فامرنی ان اصرف بصری ۔حضور ﷺ نے مجھے حم فرمایا کہ میں اپنی نظر کو پھیر لوں۔

اچانک کسی نامحرم پر نظر پڑجائے تو وہ معاف ہے لیکن اگر دوبارہ دانستہ اس کی طرف دیکھے گا تو گنہگار ہوگا۔(ملخصا از ضیاء القرآن)

ذالک ازکی کے تحت حجۃ الاسلام حضت امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

’’نظر کو نیچی رکھنا دل کو بہت زیادہ پاک کرتا ہے اورطاعت وخیر میں اضافہ کا ذریعہ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اگر تم نظر نیچی نہ رکھو بلکہ اسے آزادانہ ہر چیز پر ڈالو تو بسا اوقات تم بے فائدہ اور فضول بھی ادھر ادھر دیکھنا شروع کروگے اور پھر رفتہ رفتہ تمہاری نظر حرام پر بھی پڑنا شروع ہوجائے گی اب اگر قصدا حرام پر نظر ڈالو گے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور بہت ممکن ہے کہ تمہارا دل حرام شئی پر فریفتہ ہوجائے اور تم تباہی کا شکار ہوجائو۔کیونکہ روایات میں وارد ہے ۔

ان العبد ینظر النظرۃ ینفعل فیھا قلبہ کما ینفعل الادیم فی الدباغ ۔

’’بعض اوقات بندہ کسی شئی پر نظر ڈالتا ہے تو اس سے اس طرح اثر قبول کرتا ہے جس طرح چمڑا عمل دباغت سے رنگ کو ۔

اور اگر اس طرف دیکھنا حرام نہ ہو بلکہ مباح ہو تو ہوسکتا ہے کہ تمہارا دل مشغول ہو جائے اور اس کے سبب تمہارے دل میں طرح طرح کے وسوسے اور خطرات آنے شروع ہوجائیں اور شاید وسوسے کی چیزوں تک عملی طور پر نہ پہنچ سکو اور اس طرح وسوسوں کا شکار ہوکر نیکیوں سے رہ جائوں لیکن اگر تم نے کسی طرف دیکھا ہی نہیں تو ہر فتنے وسوسے اور خطرے سے محفوظ رہو گے اور اپنے اندر راحت ونشاط محساس کروگے۔

حکیم محمد طارق محمود چغتائی لکھتے ہیں ۔

’’جدید فرنگی ذہنیت کی سوچ یہی ہے کہ دیکھنے سے کیا ہوتا ہے صرف دیکنا ہی تو ہے یہ کوئی غلط کام تو نہیں ۔تو کیا کبھی ہم یہ سوچا کہ !!!

۔شیر اگر سامنے آجائے اور انسان اسے صرف دیک لے تو صرف دیکھنے سے جسم اور جان پر کیا بنتی ہے ۔سوچیں!

۔بچہ صرف ماں کو دیکھتا ہی تو ہے ۔اس کی محبت اور چاہت کے جذبات کیا ہوتے ہیں؟

۔سبزہ اور پھول صرف دیکھے جاتے ہیں تو پھر ان کے دیکنے سے دل مسرور اور مطمئن کیوں ہوتا ہے؟

۔زخمی اور لہولہان کو صرف دیکھتے ہی تو ہیں پریشان ،غمگین اور بعض بے ہوش ہوجاتے ہیں آخر کیوں ؟

۔کسی کی بڑی دکان ،مکان ،بلڈنگ کوٹھی یا کار دیکتے ہی تو ہیں فورا دل کے اندر حسرت،امید،حسد،رشک،بے چینی اور طمع جیسی مختلف کیفیات پیدا ہوجاتی ہیں آخر کیوں؟ صرف دیکھاہی تو تھا۔

۔کسی حسین کہاں کو دیکھ کر دل دے بیٹھتے ہیں اسے صرف دیکتا ہی تھا۔

۔نوٹ اور کاغذ کا فرق نہ سمجھ بچے سے پوچھو کہ نوٹ کو دیکھتے ہی اس کی کیفیت کیا ہوتی ہے اور کاغذ کو دیکھنے سے کیا ۔تو نوٹ صرف دیکھا ہی تو تھا۔

بقول شخصے:۔

تیز نظر کا یہ اثر جس کو لگا شکار ہے !!!

الغرض آنکھیں چوری کرتی ہیں ہاتھ بڑھتے ہیں گناہ ہوجاتا ہے اسلام اسی کیفیت کے پیش نظر چہرے کو ڈھاکنے والے پردے کا حکم دیتا ہے (سنت نبوی اور جدیدسائنس جلد؍۱؍۲۲۹؍۲۳۰)