آغاز سخن

میت کو دفن کرنے کے بعد قبر کے پاس اذان دینا ملت اسلامیہ میں رائج اور مشروع ہے۔ لیکن دور حاضر میں یہ مسئلہ منافقین زمانہ کے اختلاف کی وجہ سے عوام الناس میں ایسا الجھا ہوا ہے کہ قبر پر اذان دینے کے معاملہ میں کئی مقامات پر شدید اختلافات رونما ہوتے ہیں بلکہ کہیں کہیں تو جبر و ظلم اور مار پیٹ تک نوبت پہنچتی ہے ۔ منافقین زمانہ دفن میت کے بعد قبر پراذان دینے کو سختی سے روکتے ہیں بلکہ تشدد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لہذا قارئین کرام کی آسانی اور فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے اس مسئلہ کو عام فہم، سلیس زبا ن میں شرعی دلائل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

مسئلہ:

دفن کے بعد قبر پر اذان دینا یقینا جائز ہے ۔ اس کے منع ہونے کی شریعت مطہرہ میں کوئی دلیل نہیںاورجس کام سے شریعت نے منع نہ فرمایا ہو ، وہ کام ہرگز منع نہیں۔ صرف یہی دلیل اس اذان کو جائز کہنے والوں کے لیے کافی ہے ۔ البتہ جو لوگ منع کرتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ شرعی دلیلوں سے اپنا دعوی ثابت کریں۔

( حوالہ : إیذان الأجر فی أذان القبر ، مطبوعہ ، یونائیٹیڈ انڈیا پریس ، لکھنؤ، بار ہفتم ، ص ۲)

دلیل نمبر 1

صحیح احادیث کریمہ سے ثابت ہے کہ منکر نکیر کے سوالات کے وقت شیطان دھوکہ دینے اور بہکانے کے لیے قبر میں پہنچتا ہے ۔ حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں :

امام ترمذی اپنی کتاب ’’نوادر الاصول ‘‘میں امام اجل حضرت سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں :

’’ إذَا سُئِلَ الْمَیِّتُ مَنْ رَبُّکَ تَرَایَٔ لَہُ الشَّیْطَانُ فِی صُوْرَۃٍ یُشِیْرُ إلٰی نَفْسِہٖ أیْ أنَا رَبُّکَ، فَلِھٰذَا وَرَدَ سُؤالُ التَّثْبِیْتِ لَہٗ حِیْنَ یُسْئَلُ ۔ ‘‘

’’جب مردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے ؟ شیطان اس پر ظاہر ہوتا ہے اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ یعنی میں تیرا رب ہوں۔ اس لیے حکم آیا کہ میت کے لیے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں ۔ ‘‘

(حوالہ : نوادر الأصول فی معرفۃ أحادیث الرسول ، مطبوعہ دار صادر، بیروت ، ص ۳۲۳)

g امام ترمذی علیہ الرحمۃ و الرضوان فرماتے ہیں :

’’ وَ یُؤیِّدُہٗ مِنَ الأخْبَارِ قَوْلُ النَّبِی ﷺ عِنْدَ دَفَنِ الْمَیِّتِ اللّٰھُمَّ أجِرْہُ مِنَ الشَّیْطَانِ فَلَوْ لَمْ یَکُنْ لِلشَّیْطَانِ ھُنَاکَ سَبِیْلٌ مَا کَانَ لِیَدْعُو لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِأنْ یُجِیْرَہٗ مِنَ الشَّیْطَانِ ۔‘‘

’’ قبر میں بہکانے کے لیے شیطان آتا ہے ، اس کی تائید ان حدیثوں سے ہوتی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میت کو دفن کرتے وقت دعا فرماتے کہ الہی ! اسے شیطان سے بچا ، اگر وہاں شیطان کا کچھ بھی دخل نہ ہوتا ، تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میت کے لیے شیطان کے مکر سے حفاظت کی دعا کیوں کر فرماتے ؟ ‘‘ (حوالہ : ایضاً)

ثابت ہوا کہ منکر نکیر کے سوالات کے وقت شیطان قبر میں خلل انداز ہوتا ہے اور جواب دینے میں بہکاتا ہے ۔ یہ وہ نازک مرحلہ ہوتا ہے کہ اس وقت میت کا جواب میں ثابت قدم رہنا ضروری بلکہ اشد ضروری ہے ۔ میت کو ثابت قدم رکھنے کے لیے احادیث کریمہ میں حکم آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے اللہ! اسے شیطان سے محفوظ رکھ۔ شیطان سے محفوظ رہنے کے لیے شیطان کو بھگانا بھی ضروری ہے ۔ اگر شیطان بھاگ گیا ، تو اب بہکانا غیر ممکن ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیطان کو کس طرح بھگائیں ؟ شیطان کو بھگانے کی تدبیر بھی ہمارے رحیم و کریم آقا و مولی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم فرمائی ہے ۔

صحیح بخاری شریف اور صحیح مسلم شریف میں جلیل القدر صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس، رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

’’ إذَا أذَّنَ الْمُؤَذِّنُ أدْبَرَ الشَّیْطَانُ وَ لَہٗ حُصَاصٌ ۔‘‘

’’ جب موذن اذان کہتا ہے ، شیطان پیٹھ پھیر کر گوز زناں( پاد مارتا ہوا) بھاگتا ہے۔‘‘

(حوالہ : الصحیح لمسلم ، باب فضل الأذان و ہرب الشیطان ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ ، کراچی ، جلد ۱، ص ۱۶۷)

صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب موذن اذان کہتا ہے تو شیطان چھتیس۳۶؍ میل تک بھاگ جاتا ہے ۔

( حوالہ : ایضاً)

امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی (المتوفی ۳۶۰ ؁ھ ) اپنی کتاب ’’المعجم الاوسط ‘‘میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ :

’’حدیث میں حکم آیا ہے کہ جب شیطان کا کھٹکا ہو ، فوراً اذان کہو کہ وہ دفع ہوجائے گا۔ ‘‘ (بحوالہ : فتاوی رضویہ ( مترجم) جلد ۵، ص ۶۵۵)

یہاں تک کی گفتگو سے ثابت ہوا کہ منکر نکیر کے سوالات کے وقت قبر میں شیطان مداخلت کرتا ہے اور جواب دینے میں میت کو بہکاتا ہے اور حدیث شریف کے ارشاد کے مطابق شیطان اذان سے بھاگتا ہے اور شیطان کو دفع کرنے کے لیے اذان کہنے کا حکم حدیث شریف میں وارد ہے ۔ لہذا اپنے مسلما ن بھائی کو قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے صحیح جواب دینے میں ثابت قدم رکھنے ، شیطان کے بہکاوے اور کھٹکے سے محفوظ و مامون ، نیز اس کو دور بھگانے کے لیے اذان کہی جاتی ہے اور یہ اذان حدیثوں سے اخذ کی ہوئی ہے بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عین ارشاد کے مطابق ہے اور اس میں اپنے مرحوم مسلمان بھائی کی عمدہ امداد اور اعانت بھی ہے ۔

دلیل نمبر 2

امام احمد ، امام طبرانی اور امام بیہقی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں :

’’ لَمَّا دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَ سُوِّیَ عَلَیْہِ فَسَبَّحَ النَّبِیُّ ﷺ وَ سَبَّحَ النَّاسُ مَعَہٗ طَوِیْلًا ثُمَّ کَبَّرَ وَ کَبَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَالُوا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ سَبَّحْتَ ثُمَّ کَبَّرْتَ؟ قَالَ : لَقَدْ تَضَایَقَ عَلٰی ھَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُہٗ حَتَّی فَرَّجَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ ۔‘‘

’’ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دفن ہو چکے اور ان کی قبر درست کر دی گئی تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دیر تک سُبْحَانَ اللّٰہِ ، سُبْحَانَ اللّٰہِ فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتے رہے ۔ پھر حضور اقدس اَللّٰہُ أکْبَرُ ، اَللّٰہُ أکْبَرُ فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ اَللّٰہُ أکْبَرُ کہتے رہے ۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے ؟ ارشاد فرمایا کہ اس نیک مرد پر اس کی قبر تنگ ہوئی تھی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تکلیف اس سے دور فرماکر قبر کشادہ فرمادی ۔‘‘

( حوالہ :مسند الإمام أحمد بن حنبل ، مطبوعہ ، دار الفکر ، بیروت ، جلد ۳، ص ۳۶۰ اور ۳۷۷)

اس حدیث کی شرح میں علامہ امام شرف الدین حسن بن محمد طیبی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :

’’ أیْ مَا زِلْتُ أکَبِّرُ وَ تُکَبِّرُوْنَ وَ أسَبِّحُ وَ تُسَبِّحُوْنَ حَتَّی فَرَّجَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی ۔ ‘‘

’’حدیث کے معنی یہ ہیں کہ میں اور تم برابر ( مسلسل) اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ ، سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتے رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس تنگی سے انھیں نجات بخشی۔ ‘‘

(حوالہ : مرقات المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح ، الفصل الثالث من إثبات عذاب القبر ، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ، ملتان، جلد ۱، ص ۲۱۱)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے میت پر آسانی کے لیے دفن کے بعد قبر پر اَللّٰہُ أکْبَرُ ، اَللّٰہُ أکْبَرُ بار بار فرمایا اور یہی مبارک الفاظ اذان میں چھ۶؍ مرتبہ ہیں ۔ تو دفن کے بعد قبر پر اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ کہنا عین سنت نبوی ہوا ۔ رہا سوال یہ کہ اذان میں صرف اَللّٰہُ أکْبَرُ ، اَللّٰہُ أکْبَرُ ہی نہیں بلکہ دیگر زائد کلمات طیبہ بھی ہیں۔ حدیث شریف کا پھر ایک مرتبہ بغور مطالعہ فرمائیں ، تو معلوم ہوگا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر صرف اَللّٰہُ أکْبَرُ ، اَللّٰہُ أکْبَرُ ہی نہیں فرمایا بلکہ اللہ اکبر کے ساتھ ساتھ سُبْحَانَ اللّٰہِ ، سُبْحَانَ اللّٰہِ بھی فرمایا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے میت کی آسانی کے لیے قبر پر تکبیر اور تسبیح یعنی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا فرمائی۔ آپ للہ انصاف فرمائیے ! کہ اذان میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے یا نہیں ؟ اور یہ حمد و ثنا بھی ہم حدیث نبوی کی متابعت میں ہی کرتے ہیں۔

اذان میں جو دیگر زائد کلمات ہیں ، وہ تمام اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذکر پر ہی مبنی ہیں ۔ اور ان زائد کلمات سے معاذ اللہ کچھ نقصان نہیں، بلکہ یہ زائد کلمات زیادہ فائدہ مند اور مقصد کی تائید کرتے ہیں ۔ قبر پر اذان دینے کا مقصد صرف یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے رحمت الہی کا نزول ہو اور اس کی برکت سے میت پر قبر میں آسانی ہو۔

ہمارے لیے قبر پر بعد دفن اذان دینے کے لیے مندرجہ بالا حدیث شریف ہی ثبوت کے لیے کافی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر دیر تک اَللّٰہُ أکْبَرُ ،اَللّٰہُ أکْبَرُ فرماتے رہے اور ہم بھی اپنے مردوں کو دفن کرکے انھیں کلمات اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُکو بصورت اذان ادا کرتے ہیں۔ اس تکبیر سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مقصد ذکر خدا کے ذریعہ نزول رحمت و برکت کرکے میت پر آسانی پیدا کرنا تھا اور اذان دینے میں وہی کلمات دہراکر ہمارا مقصد بھی یہی ہے ۔

شاید اب بھی کوئی منع کرنے والا یہ رونا روئے کہ اذان میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے علاوہ جو دیگر کلمات ہیں ، ان کا کیامطلب؟ جواباً عرض ہے کہ آپ مسائل حج سے اگر واقف ہیں ، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حدیث شریف میں ’’تلبیہ‘‘ کے کون سے الفاظ وارد ہیں ؟ اگر نہیں معلوم ہے تو ہم وہ حدیث پیش کیے دیتے ہیں :

’’ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَبَّیْکَ ، اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ۔ ‘‘

’’ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعائے تلبیہ میں یہ الفاظ کہے لَبَّیْکَ ، اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ۔ ‘‘

حوالہ :

(۱) الصحیح لمسلم ، باب التلبیۃ و صفتہا ، جلد ۱، ص ۳۷۵

(۲) الجامع لابی داؤد ، باب کیف التلبیۃ ، جلد ۱، ص ۲۵۲

(۳) الجامع للترمذی ، باب ما جاء فی التلبیۃ ، جلد ۱، ص ۱۰۲

(۴) السنن للنسائی ، کیف التلبیۃ ، جلد ۲، ص ۱۳

(۵) السنن لابن ماجہ ، باب التلبیۃ ، جلد ۲، ص ۲۰۹

(۶) المسند لأحمد بن حنبل ، جلد ۱، ص ۳۰۲

حدیث شریف میں تلبیہ کے وہی الفاظ وارد ہیں ، جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہیں لیکن اجلہ صحابہ عظام مثلا :امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم = حضرت عبداللہ بن عمر = حضرت عبد اللہ بن مسعود = حضرت امام حسن مجتبیٰ وغیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تلبیہ کے الفاظ میں دیگر الفاظ ملانے کو روا رکھتے ہیں اور ان حضرات کے نقش قدم پر چل کر ملت اسلامیہ کے عظیم الشان ائمہ کرام اور فقہائے عظام نے بھی تلبیہ میں زیادتی الفاظ کو روا رکھنا اختیار فرمایا ہے ۔

فقہ کی مشہور و معروف کتاب ’’ ہدایہ ‘‘ میں ہے :

’’ لاَ یَنْبَغِی أنْ یُخِلَّ بِشَیْئٍ مِنْ ھٰذِہِ الْکَلِمَاتِ لأِنَّہٗ ھُوَ الْمَنْقُوْلُ فَلاَ یُنْقِصْ عَنْہٗ وَ لَوْ زَادَ فِیْھَا جَازَ لأِنَّ الْمَقْصُوْدَ الثَّنَائُ وَ إظْہَارُ الْعُبُوْدِیَّۃِ فَلاَ یُمْنَعُ مِنَ الزِّیَادَۃِ عَلَیْہِ ۔ ‘‘

’’ ان کلمات میں کمی نہ کرنی چاہیئے کہ یہی کلمات نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے منقول ہیں ۔ تو ان کلمات میں سے گھٹائے نہیں اور اگربڑھائے تو جائز ہے کہ مقصود اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بندگی کا اظہار کرنا ہے تو کلمات ( الفاظ) زیادہ کرنے کی ممانعت نہیں۔ ‘‘

(حوالہ: الھدایۃ ، باب الإحرام ، مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ، جلد۱،ص۳۱۷)

قبر پر بعد دفن اذان دینے سے منع کرنے والے حضرات سوچیں کہ قبر پر اذان دینے والے آخر کرتے کیا ہیں ؟ اپنے مسلمان میت کی آسانی کے لیے اللہ کا ذکر ہی تو کرتے ہیں ۔ کوئی ناچ گانا یا فلمی ترانہ یا گالی گلوج تو بکتے نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ،اس کی کبریائی اور وحدانیت کا بیان ، اس کے محبوب اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رسالت ، اور اپنی بندگی کا اقرار ہی تو کرتے ہیں۔ ان موذن کی زبان سے وہی الفاظ نکلتے ہیں جن کے کہنے اور سننے والے دونوں پر اجر و ثواب مرتب ہوتا ہے پھر انھیں اس کار خیر سے کیوں روکا جاتا ہے ؟ ارے معاملہ صرف اذان سے باز رکھنے تک ہی منحصر نہیں بلکہ ظلم و تشدد کا یہ عالم ہے کہ قبر پر اذان دینے کے معاملہ کواتنا بڑھا تے ہیں کہ مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟

دلیل نمبر 3

حدیثوں سے ثابت ہے اور کتب فقہ میں بھی یہی حکم لکھا ہوا ہے کہ میت کے پاس نزع یعنی سکرات کی حالت میں کلمہ طیبہ لاَ إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پڑھا جائے ۔ تاکہ اسے سن کر مرنے والے کو کلمہ شریف یاد آجائے اور وہ دنیا سے جاتے وقت کلمہ شریف پڑھ لے تاکہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور اس کا آخری کلمہ ، کلمہ طیبہ ہو۔

حضرت ابو سعید خدری ، حضرت ابو ہریرہ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

’’ لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لاَ إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ ۔‘‘

اپنے مرنے والوں کو لاَ إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ سکھائو ۔

(حوالہ : سنن أبی داؤد ، باب فی التلقین ، جلد ۲، ص ۸۸)

جو شخص جاں کنی کی حالت میں ہے ، وہ ابھی زندہ ہے لیکن ایسا مجبور ہوتا ہے کہ مثل مردہ اس کی حالت ہوتی ہے اور وہ مجازا ً مردہ ہے ۔ اسے کلمہ اسلام سکھانے کی حاجت اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ا سے کلمہ یاد آجائے اور اس کا خاتمہ اسی کلمہ پاک پر ہو اور وہ شیطان لعین کے بہکاوے اور بہلاوے میں نہ آئے۔

جو دفن ہو چکا ہے ، وہ حقیقۃً مردہ ہے اسے بھی کلمہ پاک سکھانے کی حاجت ہے کہ بعون اللہ تعالیٰ جواب یاد ہوجائے اور شیطان کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشک اذان میں یہی کلمہ لاَ إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ تین مرتبہ ہے ۔

بلکہ !

اذان کے کلمات منکر نکیر کے سوالات کے جوابات سکھاتے ہیں :

منکر نکیر کے تین سوال ہیں :

(۱) مَنْ رَبُّکَ ؟ یعنی تیرا رب کون ہے ؟

(۲) مَا دِیْنُکَ ؟ یعنی تیرا دین کیا ہے ؟

(۳) مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِی ھٰذَا الرَّجُلِ ؟ یعنی تو اس مرد یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا تھا ؟

اب آئیے ! دیکھیں کہ منکر نکیر کے مذکورہ تین سوالات کے جوابات اذان سے کس طرح معلوم ہوں گے؟

(۱) اذان کی ابتداء میں : اَللّٰہُ أکْبَرُ، اللّٰہُ أکْبَرُ، اللّٰہُ أکْبَرُ،

اَللّٰہُ أکْبَرُ چار مرتبہ ۔

= اذان کے درمیان : اَللّٰہُ أکْبَرُ، اللّٰہُ أکْبَرُ دو مرتبہ ۔

= اذان کے درمیان : أشْھَدُ أنْ لاَ إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ دو مرتبہ ہے۔

یہ تمام کلمات منکر نکیر کے پہلے سوال تیرا رب کون ہے ؟ کا جواب سکھائیں گے کہ ان کے سنتے ہی یادا ٓئے گا کہ میرا رب اللہ ہے ۔

(۲) اذان کے درمیان میں : حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ دو مرتبہ اور

حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ دو مرتبہ ہے ۔

یہ کلمات منکر نکیر کے دوسرے سوال تیرا دین کیا ہے ؟ کا جواب تعلیم کریں گے کہ میرا دین وہ تھا ، جس کا نماز رکن اور ستون ہے ۔ الصَّلاۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ یعنی نماز دین کا ستون ہے ۔ یعنی میرا دین اسلام ہے ۔ جس میں نماز پڑھنی فرض ہے ۔

(۳) اذان کے درمیان میں أشْھَدُ أنَّ مُحْمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ دو مرتبہ ہے ۔

یہ کلمات اسے منکر نکیر کے تیسرے سوال کا جواب سکھائیں گے کہ میں انھیں اللہ تعالیٰ کا رسول جانتا تھا۔

المختصر ! دفن کے بعد قبر پر اذان دینا عین ارشاد نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعمیل ہے ۔ یہاں تک ہم نے صرف تین دلیلیں پیش کی ہیں، جن کے مطالعہ سے قارئین کرام پر صاف ظاہر ہوگیا ہوگا کہ دفن کے بعد قبر پر اذان دینا جائز بلکہ مستحب ہے ۔ اس مسئلہ کی جن صاحب کو تفصیلی معلومات درکار ہو ، وہ امام اہل سنت مجدد دین و ملت ، امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوان کی کتاب ایذان الاجر فی اذان القبر ( سن تصنیف ۱۳۰۷؁ھ) کا مطالعہ فرمائیں۔ اس کتاب میں آپ نے پندرہ۱۵؍ دلائل قاہرہ سے اذان قبر کا جواز ثابت کیا ہے ۔