تحریر :عون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور

( تقدیر و تدبیر )

  • تقدیر سے مراد یہ ہے کہ یہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے باقاعدہ پس پردہ منصوبے، زبردست قوانین اور بہترین نظم و ضبط کے ساتھ چل رہی ہے. ہر خیر و شر اس کی تقدیر کے عین مطابق رونما ہو رہا ہے. نظام کائنات اتنا سخت پیچیدہ اور زبردست گہرا ہے کہ اس کو مکمّل طور پر سمجھنا کسی بھی انسان کے بس میں نہیں. اگر کوئی شخص اس کو مکمّل سمجھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ سوفیصد جھوٹا ہے.

  • تدبیر سے مراد کسی بھی مخلوق کی وہ کاوش ہے جو وہ اپنی خدا داد سوچ سمجھ اور طاقت و صلاحیت کے مطابق سر انجام دیتی ہے.

  • بہت سے لوگ تقدیر و تدبیر کے باہمی ربط کے حوالے سے طرح طرح کی غلط فہمیوں کا شکار رہتے ہیں، دین اسلام چونکہ ہماری ہر ہر حوالے سے دستگیری کرتا ہے، تو آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ تقدیر و تدبیر کے بارے میں کیا کہتا ہے.

  • اسلام کے مطابق تدبیر نہ تو تقدیر کے دائرے سے باہر ہے اور نہ ہی اس کی متضاد. بلکہ وہ تو تقدیر کا جزو لا ینفک (لازمی حصہ) ہے.

    لہذا تدبیر عین تقدیر ہے اور اس سے انحراف بالکل خلاف تقدیر ہے… تدبیر دراصل تقدیر ہی کی تکمیل ہے.. تدبیر اختیار کرنا عین تقدیر کی شان ہے…

  • صحت دوا کے بغیر بھی مل سکتی ہے لیکن دوا لینے کا خود شریعت نے حکم دیا ہے… اولاد مرد و عورت کے ملاپ کے بغیر بھی پیدا ہو سکتی ہے لیکن نکاح کا خود شریعت نے حکم دیا ہے …. کھانا ایندھن کے بغیر بھی پک سکتا ہے لیکن اس کو استعمال میں لائے بغیر چارہ نہیں… بھوک پیاس کچھ کھائے پیے بغیر بھی مٹ سکتی ہے، لیکن کھائے پیے بغیر چارہ نہیں… رزق بلا تدبیر بھی آسمان سے اتر سکتا ہے لیکن اس کے لیے ہاتھ پاؤں ہلانا ضروری ہے…

  • دیکھنے کے لیے آنکھ، سننے کے لیے کان، چبانے کے لیے دانت، چلنے کے لیے پاؤں ضروری ہیں، رب کی تقدیر ان کو استعمال میں لانا ضروری قرار دیتی ہے.

    پنکھا چلانے کے لیے بٹن دبانا ہی پڑتا ہے ، تن چھپانے کے لیے لباس پہننا ہی پڑتا ہے ، کپڑا کاٹنے کے لیے قینچی چلانی ہی پڑتی ہے .

  • تقدیر کی قسموں میں سے ایک تقدیر معلق بھی ہوتی ہے، جس کا مطلب ہی یہی ہے کہ اگر کسی نے یہ تدبیر اختیار کی تو یہ نتیجہ نکلے اور اگر یہ تدبیر اختیار نہ کی تو دوسرا نتیجہ نکلے گا.

  • تقدیر ساری اللہ تعالیٰ کے بس میں ہے اس پہ ہمارا کچھ زور نہیں…البتہ تدبیر ضرور ہمارے بس میں ہے، اس لیے اس کو بروئے کار لائے بغیر چارہ نہیں …اپنے حصے کی تدبیر نہ کرنا اور سب کچھ رب کی تقدیر کے سپرد کر دینا سخت ممنوع ہے.

    شریعت میں تدبیر اختیار کرنے کا باقاعدہ حکم ہے، اس لیے اسے اختیار نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی ہے. جب تک بندہ اپنی تدبیر مکمّل نہ کر لے تب تک تقدیر پہ بھروسے کی بات نہ کرے..

    قوم موسی نے کہا؛ اے موسی! تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے قتال کرو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں..ان کی اس جاہلانہ اور بھونڈی بات پر اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا، کیونکہ انہوں نے اپنی تدبیر خدا کی تقدیر کے سپرد کر کے اپنی جان چھڑا لی تھی، ان پر لازم تھا کہ وہ تدبیر اختیار کرتے اور نتائج خدا کی تقدیر کے سپرد کر دیتے.

  • یہ دنیا عالم تقدیر بھی ہے اور عالم تدبیر بھی ، یہ اسباب کا جہان بھی ہے اور مسبب الاسباب کا بھی، اگر اسباب و تدبیر کی اس دنیا میں رہتے ہوئے اسباب و تدبیر کو اختیار نہ کیا تو یہ خود دنیا کے مقصد وجود کے ہی خلاف ہو گا. حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان سے بغیر کسی سیڑھی کے اتریں گے لیکن جیسے ہی مسجد کے مینار پہ پہنچیں گے تو نیچے اترنے کے لیے سیڑھی طلب فرمائیں گے، کیونکہ اب اسباب و تدبیر کو استعمال میں لانا ان کے لیے لازم ہو چکا.

  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری دینی جد و جہد بھی تدبیر سے عبارت ہے، ورنہ تقدیر سے تو ماحول چند لمحوں میں بدلا جا سکتا تھا ، لیکن تدبیر کرتے کرتے تیئیس سال لگ گئے.

  • تمام شرعی احکام کا تعلق تدبیر سے ہے، اسی لیے ان پر جزا و سزا ہے، نماز روزہ حج زکوٰۃ تبلیغ جہاد سب کا تعلق تدبیر سے ہے، اگر کسی مسلمان نے ان کی تدبیر نہ کی تو یہ حرام ہو گا..

  • شرعا جو کام فرض ہے اس کی تدبیر بھی فرض ہے، جو واجب ہے اس کی تدبیر بھی واجب ہے، جو سنت، مستحب، مباح ہے اس کی تدبیر بھی سنت، مستحب مباح ہے.. جو کام حرام ہے اس کی تدبیر بھی حرام ہے، اور جو کام مکروہ ہے اس کی تدبیر بھی مکروہ ہے..

  • بہت مرتبہ تقدیر تدبیر کے عین مطابق چلتی ہے، جیسی تدبیر ویسی تقدیر، جیسی کرنی ویسی بھرنی.. لیکن بہت مرتبہ تدبیر کا نتیجہ برعکس بھی نکلتا ہے، تب تقدیر اپنی طاقت کا لوہا منواتی ہے، تاکہ بندے کو خدا کے وجود کا یقین حاصل ہو.

  • پھر جہاں تدبیر اختیار کرنے کا حکم ہے، وہاں یہ بھی حکم ہے کہ اس کے لیے طریقہ بھی وہی اختیار کیا جائے جو شریعت نے بتایا، غیر شرعی تدبیر اختیار کرنا ممنوع ہے… اس میں دنیا و آخرت کا نقصان ہے.

  • یہ بھی ذہن میں رہے کہ تقدیر تدبیر سے کھربوں گنا زیادہ طاقت ور ہے، ہزار تدبیر کے باوجود بالآخر معاملہ تقدیر پہ ہی چھوڑنا پڑتا ہے، اس سے قطعا کوئی نہیں بھاگ سکتا.

.* جو کام بندے کے دائرہ اختیار میں ہو اسے رب کی تقدیر کے سپرد کر کے بیٹھ جانا جہالت، سفاہت اور حماقت ہے، حکم یہ ہے کے لیے اپنا پورا زور لگاؤ .

ہاں جو کام اختیار سے ہی باہر ہو اسے تقدیر کے حوالے کر دینا بالکل درست ہے.

  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سے معاملات میں تقدیر و تدبیر دونوں کو ملحوظ رکھا.. کبھی تدبیر کو ترک بھی کر دیا تاکہ تقدیر کی شان کا پتہ چلے.. اور کبھی تدبیر کو اختیار بھی کیا تاکہ اس کو اختیار کرنا سنت بن جائے.تحریر :عون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور