صوم کا لغوی اوراصطلاحی معنیٰ

صوم کا لغوی معنیٰ ہے بازرہنا، چھوڑنا،اورسیدھا ہونا۔ (تفسیر کبیر)

اسی لئے خاموشی کوصوم کہتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے ــ: ’’اِنِّی نَذَرْتُ للِرَّحْمٰنِ صَوْماً فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیّاً‘‘ ترجمہ: میں نے آج رحمن کے لئے روزہ مانا ہے تو آج ہر گزکسی سے بات نہ کروں گی۔ کیونکہ اس میں کلام سے بازرہنا ہے۔ اور اصطلاح شرع میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک اللہ جل جلالہٗ کی عبادت کی نیت سے اپنے آپ کو کھانے، پینے اور جماع کرنے سے روکنے کو ’’صوم ‘‘ کہتے ہیں۔ (کتب فقہ)

میرے پیارے آقاکے پیارے دیوانو !روزہ در حقیقت انسان کے اندر موجودنفسانی خواہشات کو کمزورکر دیتا ہے اورروزہ دار کے دل میں یہ عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے کہ علاّم ُ الغیوب میری تمام حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہے۔ روزہ کی حالت کے علاوہ انسان کے دل ودماغ میں یہ تصور نہیں رہتا کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اسے خدادیکھ رہا ہے لیکن صبح صادق سے غروب آفتاب تک بھوک لگتی ہے پھر بھی نہیں کھاتا،کوئی دیکھنے والا بظاہر نہیں ہوتاپھر بھی نہیں پیتا، بیوی سامنے موجود ہو تی ہے پھر بھی اپنے آپ کوصحبت سے روکے رکھتا ہے کیوں کہ اس کے دل میں اللہ جل جلالہ کا خوف ہوتا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے کوئی بندہ ایک ماہ تک ا س تصور کے ساتھ زندگی گزارے توباقی مہینوں میں بھی ا س میں یہ تصور آجائے گا کہ میں کچھ بھی کروں اللہ دیکھ رہا ہے جب اللہد کے دیکھنے کا تصور ہمیشہ کے لئے اسکے دل میں پیدا ہوگیا تو وہ ہرخلافِ شرع کا م سے بچے گااس کااپنے آپ کو بچانا یہی تقویٰ ہے اور تقویٰ مل گیاتو بندے کو دارین کی دولت حاصل ہو گئی، توروزہ اس وجہ سے فرض کیا گیا تا کہ ایمان والوں کو تقویٰ مل جائے۔