وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)

اور سب میں اگلے پہلے مہاجر (ف۲۲۶) اور انصار (ف۲۲۷) اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو(پیروی کرنے والے) ہوئے (ف۲۲۸) اللہ ان سے راضی (ف۲۲۹) اور وہ اللہ سے راضی(ف۲۳۰) اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے

(ف226)

وہ حضرات جنہوں نے دونوں قِبلوں کی طرف نمازیں پڑھیں یا اہلِ بدر یا اہلِ بیت رضوان ۔

(ف227)

اصحابِ بیعتِ عُقبۂ اُولٰی جو چھ حضرات تھے اور اصحابِ بیعتِ عُقبۂ ثانیہ جو بارہ تھے اور اصحابِ بیعتِ عقبۂ ثالثہ جو ستّر اصحاب ہیں ، یہ حضرات سابقین انصار کہلاتے ہیں ۔ (خازن)

(ف228)

کہا گیا ہے کہ کہ ان سے باقی مہاجرین و انصار مراد ہیں تو اب تمام اصحاب اس میں آ گئے اور ایک قول یہ ہے کہ پیرو ہونے والوں سے قیامت تک کے وہ ایماندار مراد ہیں جو ایمان و طاعت و نیکی میں انصار و مہاجرین کی راہ چلیں ۔

(ف229)

اس کو ان کے نیک عمل قبول ۔

(ف230)

اس کے ثواب و عطا سے خوش ۔

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ﳍ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ ﳌ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ-لَا تَعْلَمُهُمْؕ-نَحْنُ نَعْلَمُهُمْؕ-سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ(۱۰۱)

اور تمہارے آس پاس (ف۲۳۱) کے کچھ گنوار منافق ہیں اور کچھ مدینہ والے ان کی خو(عادت) ہوگئی ہے نفاق تم انہیں نہیں جانتے ہم انھیں جانتے ہیں (ف۲۳۲) جلد ہم انہیں دوبارہ (ف۲۳۳) عذاب کریں گے پھر بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے (ف۲۳۴)

(ف231)

یعنی مدینۂ طیّبہ کے قُرب و جوار ۔

(ف232)

اس کے معنی یا تویہ ہیں کہ ایسا جاننا جس کا اثر انہیں معلوم ہو ، وہ ہمارا جاننا ہے کہ ہم انہیں عذاب کریں گے یا حضور سے منافقین کے حال جاننے کی نفی باعتبار ماسبق ہے اور اس کا علم بعد کو عطا ہوا جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا: ”وَلَتَعْرِفَنَّھُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ”(جمل) کلبی و سدی نے کہا کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزِ جمعہ خطبہ کے لئے قیام کر کے نام بنام فرمایا نکل اے فلاں تو منافق ہے ، نکل اے فلاں تو منافق ہے تو مسجد سے چند لوگوں کو رسوا کر کے نکالا ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضورکو اس کے بعد منافقین کے حال کا علم عطا فرمایا گیا ۔

(ف233)

ایک بار تو دنیا میں رسوائی اور قتل کے ساتھ اور دوسری مرتبہ قبر میں ۔

(ف234)

یعنی عذابِ دوزخ کی طرف جس میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے ۔

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًاؕ-عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۰۲)

اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مُقِر (اقراری) ہوئے (ف۲۳۵) اور ملا یا ایک کام اچھا(ف۲۳۶) اور دوسرا بُرا(ف۲۳۷) قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف235)

اور انہوں نے دوسروں کی طرح جھوٹے عذر نہ کئے اور اپنے فعل پر نادم ہوئے ۔

شانِ نُزول : جمہور مفسِّرین کا قول ہے کہ یہ آیت مدینۂ طیّبہ کے مسلمانوں کی ایک جماعت کے حق میں نازِل ہوئی جو غزوۂ تبوک میں حاضر نہ ہوئے تھے اس کے بعد نادم ہوئے اور توبہ کی اور کہا افسوس ہم گمراہوں کے ساتھ یا عورتوں کے ساتھ رہ گئے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب جہاد میں ہیں ۔ جب حضور اپنے سفر سے واپس ہوئے اور قریبِ مدینہ پہنچے تو ان لوگوں نے قسم کھائی کہ ہم اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیں گے اور ہر گز نہ کھولیں گے یہاں تک کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کھولیں ۔ یہ قسمیں کھا کر وہ مسجد کے ستونوں سے بندھ گئے جب حضور تشریف لائے اور انہیں ملاحظہ کیا تو فرمایا یہ کون ہیں ؟ عرض کیا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں حاضر ہونے سے رہ گئے تھے ۔ انہوں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ یہ اپنے آپ کو نہ کھولیں گے جب تک حضور ان سے راضی ہو کر انہیں خود نہ کھولیں ۔ حضور نے فرمایا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں انہیں نہ کھولوں گا نہ ان کا عذر قبول کروں جب تک کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان کے کھولنے کا حکم دیا جائے ۔ تب یہ آیت نازِل ہوئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کھولا تو انہوں نے عرض کیا یارسولَ اللہ یہ مال ہمارے رہ جانے کے باعث ہوئے ، انہیں لیجئے اور صدَقہ کیجئے اور ہمیں پاک کر دیجئے اور ہمارے لئے دعائے مغفرت فرمائیے ۔ حضور نے فرمایا مجھے تمہارے مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ اس پر اگلی آیت نازِل ہوئی ” خُذْمِنْ اَمْوَالِھِمْ ” ۔

(ف236)

یہاں عملِ صالح سے یا اعترافِ قُصور اور توبہ مراد ہے یا اس تخلُّف سے ۔ پہلے غزوات میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہونا یا طاعت و تقوٰی کے تمام اعمال ، اس تقدیر پر آیت تمام مسلمانوں کے حق میں ہوگی ۔

(ف237)

اس سے تخلُّف یعنی جہاد سے رہ جانا مراد ہے ۔

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱۰۳)

اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل(وصول) کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو (ف۲۳۸) بےشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے اور اللہ سنتا جانتا ہے

(ف238)

آیت میں جو صدَقہ وارِد ہوا ہے اس کے معنٰی میں مفسِّرین کے کئی قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ صدَقہ غیر واجبہ تھا جو بطورِ کَفّارہ کے ان صاحبوں نے دیا تھا جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس صدَقہ سے مراد وہ زکوٰۃ ہے جو ان کے ذمہ واجب تھی ، وہ تائب ہوئے اور انہوں نے زکوٰۃ ادا کرنی چاہی تو اللہ تعالٰی نے اس کے لینے کا حکم دیا ۔ امام ابوبکر رازی جصاص نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ صدَقہ سے زکوٰۃ مراد ہے ۔ (خازن و احکام القرآن) مدارک میں ہے کہ سنّت یہ ہے کہ صدَقہ لینے والا صدَقہ دینے والے کے لئے دعا کرے اور بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بِن ابی اَوفی کی حدیث ہے کہ جب کوئی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدَقہ لاتا آپ اس کے حق میں دعا کرتے ، میرے باپ نے صدَقہ حاضر کیا تو حضور نے دعا فرمائی ” اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلۤیٰ اَبِی اَوْفیٰ”

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ فاتحہ میں جو صدَقہ لینے والے صدَقہ پا کر دعا کرتے ہیں ، یہ قرآن و حدیث کے مطابق ہے ۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۱۰۴)

کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنے دستِ قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۲۳۹)

(ف239)

اس میں توبہ کرنے والوں کو بِشارت دی گئی کہ ان کی توبہ اور ان کے صدقات مقبول ہیں ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ جن لوگوں نے اب تک توبہ نہیں کی اس آیت میں انہیں توبہ اور صدقہ کی ترغیب دی گئی ۔

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ(۱۰۵)

اور تم فرماؤ کام کرو اب تمہارے کام دیکھے گا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان اور جلد اس کی طرف پلٹوگے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے تو وہ تمہارے کام تمہیں جتادے گا

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۱۰۶)

اور کچھ (ف۲۴۰) موقوف رکھے گئے ہیں اللہ کے حکم پر یا ان پر عذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے(ف۲۴۱) اور اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف240)

مُتخلِّفین میں سے ۔

(ف241)

متخلِّفین یعنی غزوۂ تبوک سے رہ جانے والے تین قِسم کے تھے ۔ ایک منافقین جو نِفاق کے خُوگر اور عادی تھے ، دوسرے وہ لوگ جنہوں نے قصور کے اعتراف اور توبہ میں جلدی کی جن کا اوپر ذکر ہو چکا ، تیسرے وہ جنہوں نے توقُّف کیا اور جلدی توبہ نہ کی ، یہی اس آیت سے مراد ہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُؕ-وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(۱۰۷)

اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی (ف۲۴۲) نقصان پہنچانے کو (ف۲۴۳) اور کفر کے سبب (ف۲۴۴) اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو (ف۲۴۵)اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے(ف۲۴۶) اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو بھلائی چاہی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بےشک جھوٹے ہیں

(ف242)

شانِ نُزول : یہ آیت ایک جماعتِ منافقین کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے مسجدِ قُبا کو نقصان پہنچانے اور اس کی جماعت متفرق کرنے کے لئے اس کے قریب ایک مسجد بنائی تھی ۔ اس میں ایک بڑی چال تھی وہ یہ کہ ابو عامر جو زمانِ جاہلیت میں نصرانی راہب ہو گیا تھا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینۂ طیّبہ تشریف لانے پرحضور سے کہنے لگا یہ کون سا دین ہے جو آپ لائے ہیں ، حضور نے فرمایا میں ملّتِ حنیفیہ ، دینِ ابراہیم لایا ہوں ، کہنے لگا میں اسی دین پر ہوں ، حضور نے فرمایا نہیں ، اس نے کہا کہ آپ نے اس میں کچھ اور ملا دیا ہے ، حضور نے فرمایا نہیں ، میں خالص ، صاف ملّت لایا ہوں ۔ ابو عامر نے کہا ہم میں سے جو جھوٹا ہو اللہ اس کو مسافرت میں تنہا اور بیکس کرکے ہلاک کرے ، حضور نے آمین فرمایا ۔ لوگوں نے اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا ، روزِ اُحد ابو عامر فاسق نے حضور سے کہا کہ جہاں کہیں کوئی قوم آپ سے جنگ کرنے والی ملے گی میں اس کے ساتھ ہو کر آپ سے جنگ کروں گا چنانچہ جنگِ حنین تک اس کا یہی معمول رہا اور وہ حضور کے ساتھ مصروفِ جنگ رہا ، جب ہوازن کو شکست ہوئی اور وہ مایوس ہو کر مُلکِ شام کی طرف بھاگا تو اس نے منافقین کو خبر بھیجی کہ تم سے جو سامانِ جنگ ہو سکے قوت وسلاح سب جمع کرو اور میرے لئے ایک مسجد بناؤ ، میں شاہِ روم کے پاس جاتا ہوں وہاں سے رومی لشکر لے کر آؤں گا اور (سیدِ عالَم ) محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب کو نکالوں گا ۔ یہ خبر پا کر ان لوگوں نے مسجدِ ضرار بنائی تھی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا تھا یہ مسجد ہم نے آسانی کے لئے بنا دی ہے کہ جو لوگ بوڑھے ، ضعیف ، کمزور ہیں وہ اس میں بہ فراغت نماز پڑھ لیا کریں ، آپ اس میں ایک نماز پڑھ دیجئے اور برکت کی دعا فرما دیجئے ۔ حضورنے فرمایا کہ اب تو میں سفرِ تبوک کے لئے پا برکاب ہوں ، واپسی پر اللہ کی مرضی ہوگی تو وہاں نماز پڑھ لوں گا جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس ہو کر مدینہ شریف کے قریب ایک موضع میں ٹھہرے تو منافقین نے آپ سے درخواست کی کہ ان کی مسجد میں تشریف لے چلیں ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور ان کے فاسد ارادوں کا اظہار فرمایا گیا تب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض اصحاب کو حکم دیا کہ اس مسجد کو جا کر ڈھا دیں اور جلا دیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ابو عامر راہب مُلکِ شام میں بحالتِ سفر بے کسی و تنہائی میں ہلاک ہوا ۔

(ف243)

مسجدِ قُبا والوں کے ۔

(ف244)

کہ وہاں خدا اور رسول کے ساتھ کُفر کریں اور نِفاق کو قوت دیں ۔

(ف245)

جو مسجدِ قُبا میں نماز کےلئے مجتمع ہوتے ہیں ۔

(ف246)

یعنی ابو عامر راہب ۔

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًاؕ-لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ-فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ(۱۰۸)

اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا (ف۲۴۷) بےشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے (ف۲۴۸) وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں (ف۲۴۹) اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں

(ف247)

اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجدِ ضرار میں نماز پڑھنے کی ممانعت فرمائی گئی ۔ مسئلہ : جو مسجد فخر و ریا اور نمود و نمائیش یا رضائے الٰہی کے سوا اور کسی غرض کے لئے یا غیرِ طیّب مال سے بنائی گئی ہو وہ مسجدِ ضرار کے ساتھ لاحق ہے ۔ (مدارک)

(ف248)

اس سے مراد مسجدِ قُبا ہے جس کی بنیاد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی اور جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قُبا میں قیام فرمایا اس میں نماز پڑھی ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ہفتہ مسجدِ قُبا میں تشریف لاتے تھے ۔ دوسری حدیث میں ہے کہ مسجدِ قُبا میں نماز پڑھنے کا ثواب عمرہ کے برابر ہے ۔ مفسِّرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مسجدِ مدینہ مراد ہے اور اس میں بھی حدیثیں وارِد ہیں ، ان دونوں باتوں میں کچھ تعارُض نہیں کیونکہ آیت کا مسجدِ قُبا کے حق میں نازِل ہونا اس کو مستلزم نہیں ہے کہ مسجدِ مدینہ میں یہ اوصاف نہ ہوں ۔

(ف249)

تمام نجاستوں سے یا گناہوں سے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت اہلِ مسجدِ قُبا کے حق میں نازِل ہوئی ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے گروہِ انصار اللہ عزوجل نے تمہاری ثنا فرمائی تم وضو اور استنجے کے وقت کیا عمل کرتے ہو انہوں نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم بڑا استنجہ تین ڈھیلوں سے کرتے ہیں اس کے بعد پھر پانی سے طہارت کرتے ہیں ۔

مسئلہ : نجاست اگر جائے خروج سے متجاوز ہو جائے تو پانی سے استنجا واجب ہے ورنہ مستحب ۔

مسئلہ : ڈھیلوں سے استنجا سنّت ہے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر مواظبت فرمائی اور کبھی ترک بھی کیا ۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۰۹)

تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر (ف۲۵۰) وہ بھلا یا وہ جس نے اپنی نیو چُنی (بنیاد رکھی) ایک گراؤ گڑھے کے کنارے (ف۲۵۱) تو وہ اسے لے کر جہنم کی آ گ میں ڈھے پڑا (ف۲۵۲) اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا

(ف250)

جیسے کہ مسجدِ قُبا اور مسجدِ مدینہ ۔

(ف251)

جیسے کہ مسجدِ ضرار والے ۔

(ف252)

مراد یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے دین کی بنا تقوٰی اور رضائے الٰہی کی مضبو ط سطح پر رکھی وہ بہتر ہے نہ کہ وہ جس نے اپنے دین کی بنا باطل و نِفاق کے گراؤ گڈھے پر رکھی ۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠(۱۱۰)

وہ تعمیر جو چنی ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی (ف۲۵۳) مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں (ف۲۵۴) اور اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف253)

اور اس کے گرائے جانے کا صدمہ باقی رہے گا ۔

(ف254)

خواہ قتل ہو کر یا مر کر یا قبر میں یا جہنّم میں ۔ معنی یہ ہیں کہ ان کے دلوں کا غم و غصہ تا مرگ باقی رہے گا ۔ ؂ بمیرتا برہی اے حسود کیں رنجیست کہ از مشقت اوجزبمرگ نتواں رست اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جب تک ان کے دل اپنے قُصور کی ندامت اور افسوس سے پارہ پارہ نہ ہوں اور وہ اخلاص سے تائب نہ ہوں اس وقت تک وہ اسی رنج و غم میں رہیں گے ۔ (مدارک)