اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ- وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِؕ-وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖؕ-وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۱۱)

بےشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے (ف۲۵۵) اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں (ف۲۵۶) اور مریں (ف۲۵۷) اس کے ذمہ کرم پر سچا وعدہ توریت اور انجیل اور قرآن میں (ف۲۵۸) اور اللہ سے زیادہ قول کا پورا کون تو خوشیاں مناؤ اپنے سودے کی جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے

(ف255)

راہِ خدا میں جان و مال خرچ کرکے جنّت پانے والے ایمان داروں کی ایک تمثیل ہے جس سے کمال لطف و کرم کا اظہار ہوتا ہے کہ پروردگارِ عالَم نے انہیں جنّت عطا فرمانا ، ان کے جان و مال کا عوض قرار دیا اور اپنے آپ کو خریدار فرمایا ، یہ کمال عزّت افزائی ہے کہ و ہ ہمارا خریدار بنے اور ہم سے خریدے کس چیز کو ، جو نہ ہماری بنائی ہوئی نہ ہماری پیدا کی ہوئی ، جان ہے تو اس کی پیدا کی ہوئی ، مال ہے تو اس کا عطا فرمایا ہوا ۔

شانِ نُزول : جب انصار نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شبِ عُقبہ بیعت کی تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یارسولَ اللہ اپنے ربّ کے لئے اور اپنے لئے کچھ شرط فرما لیجئے جو آپ چاہیں ، فرمایا میں اپنے ربّ کے لئے تو یہ شرط کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے لئے یہ کہ جن چیزوں سے تم اپنے جان و مال کو بچاتے اور محفوظ رکھتے ہو اس کو میرے لئے بھی گوارا نہ کرو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ایسا کریں تو ہمیں کیا ملے گا ، فرمایا جنّت ۔

(ف256)

خدا کے دشمنوں کو ۔

(ف257)

راہِ خدا میں ۔

(ف258)

اس سے ثابت ہوا کہ تمام شریعتوں اور ملّتوں میں جہاد کا حکم تھا ۔

اَلتَّآىٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۱۲)

توبہ والے (ف۲۵۹) عبادت والے (ف۲۶۰) سراہنے والے (ف۲۶۱) روزے والے رکوع والے سجدہ والے (ف۲۶۲) بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے (ف۲۶۳) اور خوشی سناؤ مسلمانوں کو(ف۲۶۴)

(ف259)

تمام گناہوں سے ۔

(ف260)

اللہ کے فرمانبردار بندے جو اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرتے ہیں اور عبادت کو اپنے اوپر لازم جانتے ہیں ۔

(ف261)

جو ہر حال میں اللہ کی حمد کرتے ہیں ۔

(ف262)

یعنی نمازوں کے پابند اور ان کو خوبی سے ادا کرنے والے ۔

(ف263)

اور اس کے احکام بجا لانے والے یہ لوگ جنّتی ہیں ۔

(ف264)

کہ وہ اللہ کا عہد و فا کریں گے تو اللہ تعالٰی انہیں جنّت میں داخل فرمائے گا ۔

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ(۱۱۳)

نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں (ف۲۶۵) جب کہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں (ف۲۶۶)

(ف265)

شانِ نُزول : اس آیت کی شانِ نُزول میں مفسِّرین کے چند قول ہیں (۱) نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب سے فرمایا تھا کہ میں تمہارے لئے استِغفار کروں گا جب تک کہ مجھے ممانعت نہ کی جائے تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل فرما کر ممانعت فرما دی ۔

(۲) سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے ربّ سے اپنی والدہ کی زیارتِ قبر کی اجازت چاہی اس نے مجھے اجازت دی پھر میں نے ان کے لئے استِغفار کی اجازت چاہی تو مجھے اجازت نہ دی اور مجھ پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔ ” مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ”

اقول : یہ وجہ شانِ نُزول کی صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث حاکم نے روایت کی اور اس کو صحیح بتایا اور ذہبی نے حاکم پر اعتماد کر کے میزان میں اس کی تصحیح کی لیکن مختصر المستدرک میں ذہبی نے اس حدیث کی تضعیف کی اور کہا کہ ایوب بن ہانی کو ابنِ معین نے ضعیف بتایا ہے علاوہ بریں یہ حدیث بخاری کی حدیث کے مخالف بھی ہے جس میں اس آیت کے نُزول کا سبب آپ کا والدہ کے لئے استِغفار کرنا نہیں بتایا گیا بلکہ بخاری کی حدیث سے یہی ثابت ہے کہ ابو طالب کے لئے استِغفار کرنے کے باب میں یہ حدیث وارِد ہوئی ، اس کے علاوہ اور حدیثیں جو اس مضمون کی ہیں جن کو طبرانی اور ابنِ سعد اور ابنِ شاہین وغیرہ نے روایت کیا ہے وہ سب ضعیف ہیں ۔ ابن سعد نے طبقات میں حدیث کی تخریج کے بعد اس کو غلط بتایا اور سند المحدثین امام جلال الدین سیوطی نے اپنے رسالہ التعظیم والمنتہ میں اس مضمون کی تمام احادیث کو معلول بتایا لہذا یہ وجہ شانِ نُزول میں صحیح نہیں اور یہ ثابت ہے اس پر بہت دلائل قائم ہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ موَحِّدہ اور دینِ ابراہیمی پر تھیں ۔

(۳) بعض اصحاب نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے آبا کے لئے استِغفار کرنے کی درخواست کی تھی ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔

(ف266)

شرک پر مرے ۔

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُۚ-فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُؕ-اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ(۱۱۴)

اور ابراہیم کا اپنے باپ (ف۲۶۷) کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کرچکا تھا (ف۲۶۸) پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا(ف۲۶۹) بےشک ابراہیم ضرور بہت آہیں کرنے والا (ف۲۷۰) متحمّل ہے

(ف267)

یعنی آزر ۔

(ف268)

اس سے یا تو وہ وعدہ مراد ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے آزر سے کیا تھا کہ میں اپنے ر بّ سے تیری مغفرت کی دُعا کروں گا یا وہ وعدہ مراد ہے جو آزر نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اسلام لانے کا کیا تھا ۔ شانِ نُزول : حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازِل ہوئی ” سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ” تو میں نے سنا کہ ایک شخص اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کر رہا ہے باوجود یکہ وہ دونوں مشرک تھے تو میں نے کہا تو مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے ، اس نے کہا کیا ابراہیم علیہ السلام نے آزر کے لئے دعا نہ کی تھی وہ بھی تو مشرک تھا ۔ یہ واقعہ میں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسّلام کا استِغفار بہ امیدِ اسلام تھا جس کا آزر آپ سے وعدہ کر چکا تھا اور آپ آزر سے استِغفار کا وعدہ کر چکے تھے جب وہ امید منقطع ہوگئی تو آپ نے اس سے اپنا علاقہ قطع کردیا ۔

(ف269)

اور استِغفار کرنا ترک فرما دیا ۔

(ف270)

کثیر الدعا مُتضرِّع ۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۱۱۵)

اور اللہ کی شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے گمراہ فرمائے (ف۲۷۱) جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کس چیز سے انہیں بچنا چاہیے (ف۲۷۲) بےشک اللہ سب کچھ جانتا ہے

(ف271)

یعنی ان پر گمراہی کا حکم کرے اور انہیں گمراہوں میں داخل فرماوے ۔

(ف272)

معنٰی یہ ہیں کہ جو چیز ممنوع ہے اور اس سے اجتناب واجب ہے اس پر اللہ تبارَک و تعالٰی اس وقت تک کہ اپنے بندوں کی گرفت نہیں فرماتا کہ جب تک اس کی ممانعت کا صاف بیان اللہ کی طرف سے نہ آجائے لہذا قبلِ ممانعت اس فعل کے کرنے میں حرج نہیں ۔ (مدارک و خازن)

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جس چیز کی جانب شرع سے ممانعت نہ ہو وہ جائز ہے ۔

شانِ نُزول : جب مؤمنین کو مشرکین کے لئے استِغفار کرنے سے منع فرمایا گیا تو انہیں اندیشہ ہوا کہ ہم پہلے جو استِغفار کر چکے ہیں کہیں اس پر گرفت نہ ہو ۔ اس آیت سے انہیں تسکین دی گئی اور بتایا گیا کہ ممانعت کا بیان ہونے کے بعد اس پر عمل کرنے سے مؤاخَذہ ہوتا ہے ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یُحْیٖ وَ یُمِیْتُؕ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ(۱۱۶)

بےشک اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت جِلاتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی والی اور نہ مددگار

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ(۱۱۷)

بےشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے (نبی)اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا (ف۲۷۳) بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں (ف۲۷۴) پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا (ف۲۷۵) بےشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے

(ف273)

یعنی غزوۂ تبوک میں جس کو غزوۂ عُسر ت بھی کہتے ہیں ، اس غزوہ میں عسرت کا یہ حال تھا کہ دس دس آدمیوں میں سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا ، نوبت بہ نوبت اسی پر سوار ہو لیتے تھے اور کھانے کی قلّت کا یہ حال تھا کہ ایک ایک کھجور پر کئی کئی آدمی بسر کرتے تھے اس طرح کہ ہر ایک نے تھوڑی تھوڑی چوس کر ایک گھونٹ پانی پی لیا ، پانی کی بھی نہایت قلّت تھی ، گرمی شدت کی تھی ، پیاس کا غلبہ اور پانی ناپید ۔ اس حال میں صحابہ اپنے صدق و یقین اور ایمان و اخلاص کے ساتھ حضور کی جاں نثاری میں ثابت قدم رہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا یا رسولَ اللہ اللہ تعالٰی سے دعا فرمائیے ! فرمایا کیا تمہیں یہ خواہش ہے عرض کیا جی ہاں تو حضور نے دستِ مبارک اٹھا کر دعا فرمائی اور ابھی دستِ مبارک اٹھے ہی ہوئے تھے کہ اللہ تعالٰی نے اَبر بھیجا ، بارش ہوئی ، لشکر سیراب ہو ا ، لشکر والوں نے اپنے برتن بھر لئے اس کے بعد جب آگے چلے تو زمین خشک تھی ، ابر نے لشکر کے باہر بارش ہی نہیں کی وہ خاص اسی لشکر کو سیراب کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ۔

(ف274)

اور وہ اس شدت و سختی میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے جدا ہونا گوارا کریں ۔

(ف275)

اور وہ صابر و ثابت رہے اور ان کا اخلاص محفوظ رہا اور جو خطرہ دل میں گزرا تھا اس پر نادم ہوئے ۔

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاؕ-حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِؕ-ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠(۱۱۸)

اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے (ف۲۷۶) یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہوکر ان پر تنگ ہوگئی (ف۲۷۷) اور وہ اپنی جان سے تنگ آئے (ف۲۷۸) اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس پھر (ف۲۷۹) ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں بےشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

(ف276)

توبہ سے جن کا ذکر آیت ” وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ ” میں ہے اور یہ تین صاحب کعب بن مالک اور ہلال بن اُمیہ اور مرارۃ بن ربیع ہیں ، یہ سب انصاری تھے ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک سے واپس ہو کر ان سے جہاد میں حاضر نہ ہونے کی وجہ دریافت فرمائی اور فرمایا ٹھہرو جب تک اللہ تعالٰی تمہارے لئے کوئی فیصلہ فرمائے اور مسلمانوں کو ان لوگوں سے ملنے جلنے ، کلام کرنے سے ممانعت فرما دی حتی کہ ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے ان سے کلام ترک کر دیا یہاں تک کہ ایسا معلو م ہوتا تھا کہ ان کو کوئی پہچانتا ہی نہیں اور ان کی کسی سے شناسائی ہی نہیں اس حال پر انہیں پچاس روز گزرے ۔

(ف277)

اور انہیں کوئی ایسی جگہ نہ مل سکی جہاں ایک لمحہ کے لئے انہیں قرار ہوتا ہر وقت پریشانی اور رنج وغم بے چینی و اضطراب میں مبتلا تھے ۔

(ف278)

شدّتِ رنج وغم سے نہ کوئی اَنیس ہے جس سے بات کریں نہ کوئی غم خوار جسے حالِ دل سنائیں ، وحشت و تنہائی ہے اور شب و روز کی گریہ و زاری ۔

(ف279)

اللہ تعالٰی نے ان پر رحم فرمایا اور ۔