انجینئر محمد علی مرزا صاحب کہتے ہیں میں اپنا مقدمہ علماء کی عدالت میں نہیں عوام الناس کی عدالت میں پیش کرتا ہوں

عاجز بھی آج اپنا مقدمہ عوام الناس کی عدالت میں پیش کرے گاااااا

میرا مخاطب وہ اندھا مقلد نہیں جو مرزا کی ہر بات پر سر جھکا دے بلکہ میرا مخاطب ہر وہ شخص ہے جو اپنے سینے میں عظمت اسلام کی بحالی کا درد رکھتا ہے

دین کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟

وہ عَلم(قرآن و سنت) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنھم کو تھمااا دیا اور انہوں نے وہ علم مشرق و مغرب میں پھیلا دیااااا

صحابہ رضی اللہ عنھم کے بعد وہ جھنڈا فقہاء و محدثین نے تھاما اور نسل در نسل تم تک پہنچا دیااا

ایک لحظہ کو سوچو کہ اگر محدثین نہ ہوتے تو کیا تم تک اسلام کی حقیقی تعلیمات پہنچتیں؟؟؟؟سوچو اور پھر اللہ کا شکر ادا کرووو کہ تمہارے اسلاف ایسے تھے

تم نے اور میں نے کیا کیا؟؟؟؟؟؟ہم وہ علم بلند تو نہ کر سکے بلکہ اس علم کو جھکاتے چلے گئے

اور آج حال یہ ہے کہ علم دین کی مسند پر وہ لوگ قابض ہو چکے ہیں جو دین کی من مانی تشریحات کرتے ہیں

آیات سے اپنی مرضی کا مطلب اخذ کرتے ہیں اور احادیث کی من منی تشریح کرتے ہیں

لوگوں!تمہیں کیا ہو گیاا ہے کہ تم تفسیر ابن کثیر،تفسیر کبیر،تفسیر قرطبی،تفسیر درمنثور کے ہوتے ہوئے بھی اس شخص کی خودساختہ تشریح کو مانتے ہوو جو وقت کا سب سے بڑا کذاب ہے؟؟؟؟کیا تمہارے لئے اس شخص کا قول مفسرین سے بڑھ کر ہے؟؟؟

چلوو تم علماء سے بدظن ہوو تو انہیں چھوڑووو آؤ تابعی ابن سیرین علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں چلتے ہیں اور ان سے ہی فیصلہ کروا لیتے ہیں،ہاں وہی محمد بن سیرین جو 70 صحابہ رضی اللہ عنھم کا شاگرد ہے

“ایک بدعقیدہ شخص نے ابن سیرین کو کہا کہ میں آپ کو قرآن سنانا چاہتا ہوں؟؟؟؟

کہنے لگے:میں نہیں سننا چاہتا چلا جا یہاں سے

وہ چلا گیا تو ابن سیرین علیہ الرحمۃ کے شاگرد کہنے لگے کہ قرآن سننے سے کیا فرق پڑتا تھا؟؟؟

وہ 70 صحابہ رضی اللہ عنھم کا تربیت یافتہ کہنے لگا:

مجھے ڈر تھا کہ یہ شخص قرآن کی خودساختہ تشریح نہ کر دے اور وہ میرے دل میں نہ بیٹھ جائے”

(سنن دارمی،414)

لوگو!!!! کیا تم کھانے پینے کی اشیاء ہر دکان سے لے لیتے ہو؟؟؟؟؟

یقینا نہیں۔تم پرکھتے ہوو،جانچتے ہو اور پھر سب سے بہترین جگہ کا انتخاب کرتے ہوو

کیا تمہارے دل میں اللہ کے دین کی دقعت کھانے کی اشیاء جتنی بھی نہیں کہ تم اسے پرکھ لو جس سے دین لیتے ہو؟؟؟؟؟

تم کہتے ہو مرزا بدعقیدہ نہیں میں سینکڑوں باتوں میں سے صرف چند پیش کرونگااا اور پھر تم بھی آخری فیصلہ اپنے دل سے لینااااا

کفار مکہ کی روش اختیار نہ کرنا کہ انہوں نے بھی حق پہچان لیا لیکن قبول کرنے سے انکار کر دیا

وہ کہتا ہے:

“خالد نے تب اسلام قبول کیا جب اسلام قبول کرنے کا مطلب تھا عیاشی”

سینکڑوں راتیں ایسی گزریں جب خالد رضی اللہ عنہ کو نیند نصیب نہ ہوئ جانتے ہو کیوں؟؟؟؟

وہ اللہ کی راہ میں جہاد کی مہمات۔۔۔وہ تم تک دین پہنچانے کا فریضہ

تم سمجھتے ہو کہ قیصر و کسری کوئ چھوٹی سی سلطنت تھی جو گر گئ؟؟؟؟؟

کبھی سوچنا کہ چند ہزار کے ساتھ لاکھوں کے لشکر سے لڑنا کیسا ہوتا ہے؟؟؟کبھی سوچناا ساری عمر اللہ کیلئے لڑنے کے بعد جب تم اس حالت میں انتقال کرو کہ تمہارے جسم پر کوئ جگہ ایسی نہ بچے جہاں تلوار کا نشان نہ ہو اور کوئ تمہاری نسبت عیاشی کی طرف کر دے تو کیسا لگتا ہے؟؟؟؟

اس نے اشارتا کہا:

“معاویہ نام کا مطلب بتا دیا جائے تو لوگ نام رکھنا چھوڑ دیں آپ خود تحقیق کریں کہ اس کا کیا مطلب ہے”(عوام الناس کو روافض کے جھوٹ کی جانب مائل کر دیا اور مرزا نے جو نام کا مطلب اشارتا پیش کیا وہ میں زبان پر نہیں لا سکتا)

ایک شخص اپنا وطن چھوڑ کر پہلا بحری بیڑہ تیار کرتا ہے اور اللہ کے دین کیلئے سمندر کی وسعتوں میں اتر جاتا ہے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین مشرق و مغرب میں پھیلا دیا جائے اور آج یہ اجہل اس کا نام رکھنے سے ہی منع کر رہا ہے؟؟؟کیا یہ انصاف ہے؟؟؟؟

وہ کہتا یے:

“مجدد الف ثانی فسادی تھا”

تمہیں اندازہ بھی ہے کہ آگرہ سے گوالیار کا سفر کیسے کٹا؟؟تمہیں اندازہ بھی ہے وہ لوہے کی زنجیریں اس کے گوشت تک میں کیسے پیوست ہوئیں؟؟؟تمہیں اندازہ بھی ہے اس ہندو نے کتنی بار اس نحیف البدن فقیر کی داڑھی اس کے خون سے تر کی؟؟؟تمہیں اندازہ بھی ہے ایک سال اس پر ظلم و ستم کے کیا کیا پہاڑ توڑے گئے؟؟؟

اور جب وہ اللہ کے دین کیلئے لڑتا خالق حقیقی سے جا ملا تو کوئ اسے فسادی کہ رہا ہے اور تمہاری غیرت نہیں جاگی؟؟؟

وہ کہتا ہے:

“جلال الدین سیوطی قصے گھڑنے والا”

فقہاء جس کے متعلق لکھتے ہیں کہ انہوں نے 70 سے زائد بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت حالت بیداری میں کی اگر وہ ہی قصے گھڑنے والا ہے تو پھر بچ کون جاتا ہے؟؟؟؟

وہ کہتا ہے:

“ابوبکر و عمر کو کوئ کافر کہے وہ کافر نہیں ہے”

ایک جگہ کہتا ہے:

“جو علماء مجھے کافر کہ رہے ہیں ان پر کفر لوٹ رہا ہے”

کیا ہی عجب وقت آگیا ناا کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافر کہنا والا مسلمان اور اس نوٹنکی باز کو کافر کہنا والا خود کافر؟؟؟؟

اس نے امام مالک علیہ الرحمۃ،امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کی نسبت تکبر کی جانب کی۔۔۔۔امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کو دنیاوی عہدے کا لالچی کہا۔۔۔۔تابعیہ سیدتنا رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیھا کو جہنمی کہا۔۔۔۔امام ابن سیرین علیہ الرحمۃ کو لعنتی کہا۔۔۔بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ پر جھوٹے الزام لگائے

اگر یہ سب حضرات ہی گمراہ تھے تو تم تک دین پہنچ کیسے گیا؟؟؟؟؟کیا انہوں نے اپنی ساری زندگی محنت کر کے تم تک دین اس لئے پہنچایا کہ تم ان پر اپنی زبانیں دراز کروو؟؟؟؟

تم اپنے سلف کا بھی ادب نہ کر سکے؟؟؟؟؟؟؟

ڈرو خدا سے،ہوش کرو کچھ،مکر و ریا سے کام نہ لو

یا اسلام پہ چلنا سیکھو یا اسلام کا نام نہ لوو

واللہ اعلم ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سنان علی

22 اپریل 2020ء