شیر میسور ٹیپو سلطان: حیات اور کارنامے

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی
(ولادت20نومبر1750شہادت4 مئی1799)
بانئِ راکِٹ کے یوم شہادت پر خصوصی تحریر
خدا داد مملکت میسور کے سلطان ٹیپو کی شخصیت شجاعت وصلاحیت، غیر ت وحمیت، حلم ومروّت، عفت وعصمت، رحم و کرم اور محنت و مشقت کا معمورہ تھی۔ اس مرد مجاہد کی لیاقت و قابلیت کا ثبوت وہ مکتوبات ہیں جو اپنی جودت وکثرت کے لحا ظ سے رقعات عالمگیری سے کم نہیں ہیں۔ شہید ٹیپو صرف ایک سلطان ہی نہیں بلکہ سلوک ومعرفت کے شناوراور عابد شب زندہ دار بھی تھے انکی ریاضت و عبادت کا عالم یہ تھا کہ نو تعمیر مسجد اعلیٰ کی افتتاحی نماز کی امامت صاحب ترتیب ہونے(یعنی کبھی کوئی نماز قضا نہ کرنے) وجہ سے آپ ہی کا مقدر بنی.جہاں آپ خدا ترسی وبندگی کے معاملے میں اپنے زمانے میں سب پر شرف تفوق رکھتے تھے وہیں عسکریت و جنگی مہارت میں کوئی آپ کا ثانی نہیں تھا وہ مجاہد اور مرد میدان تھے.وجاہت اور رعب ووقار کا ایک مجسمہ تھے اپنے حسن تدبیر وحکمت کے باعث ایک مدت تک ناقابل شکست تصور کیے جاتے رہے۔ کم عمری ہی سے وہ اپنے والد حیدر علی کی فوج کے سب سے نامور جنرل سمجھے جانے لگے۔ ان کی مہمات پرلوگ معجزات کا گمان کرنے لگے تھے۔
 ولادت ونام: تاريخ ہند میں سرفروشی اور عزم استقلال کا استعارہ کہے جانے والے ٹیپو سلطان کی ولادت 20 نومبر 1750ء بروز جمعۃ المبارکہ مطابق 20 ذوالحجہ 1163ھ کو دیوانہال بنگلور میں ہوئی 
 دادا کے نام کی مناسبت سے آپ کا نام فتح علی رکھا گیا پورا نام فتح علی خان شہاب ہے کنیت ابوالفتح اور مشہور و معروف نام ٹیپو سلطان ہے والد کا نام حیدر علی اور والدہ کا نام فخرالنسا تھا 
ٹیپو نام رکھنے کی وجہ: ریاستِ میسور کے’’ارکاٹ‘‘ نامی علاقے میں ایک بزرگ حضرت ٹیپو مستان ولی کا مزار مبارک ہے۔ سلطان حیدر علی کے یہاں چونکہ کوئی اولاد نہ تھی اس لئے وہ اپنی والدۂ محترمہ مجیدہ بیگم اور زوجۂ محترمہ فاطمہ بیگم کے ہمراہ حضرت ٹیپو مستان ولی کی درگاہ پر حاضر ہوئے اور فاتحہ خوانی کے بعد اولادِ نرینہ کے لئے دعا مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مستان کے وسیلے سے سلطان حیدر علی کی دعا قبول فرمائی اور چاند سا بیٹا عطا فرمایا۔ سلطان حیدر علی نے صاحبِ مزار سے اظہارِ عقیدت کے طور پر اپنے بیٹے کا نام ٹیپو سلطان رکھ دیا.ٹیپو سلطان کی ولادت سے گویا سلطان حیدر علی کے مقدر جاگ اٹھے اور وہ تیزی سے ترقی کرتے میسور کے حکمران بن گئے.
 علم دوستی: ٹیپو سلطان ماہر ہفت لسان حکمران کہے جاتے تھے۔آپ کو عربی ،فارسی، اردو ، فرانسیسی ، انگریزی ، کنڑ، ملیالم سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔علم شناس اور علم نواز تھے علماء وفضلا اصفیا وادبا کا بڑا احترام کرتے تھے آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور بجائے خود ذاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں نادرونایاب مخطوطات کے علاوہ کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کوبرصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے۔
 انداز حیات: بھارت کے حریت پسند حکمران بین المذاہب ہم آہنگی کی زندۂ جاوید مثال فوجی راکٹ کے موجد ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی۔ وہ مذہبی تعصب سے پاک تھے۔ یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا۔ حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے تھے۔ با وضو رہنا اور تلاوتِ قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے۔ ظاہری نمودونمائش سے اجتناب برتتے تھے۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ وقت سلطان ہونے کے باوجود زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے
 کارنامے: (1) سلطنت کے انتظام میں رعایا کو شریک کرنے کے لئے ٹیپو سلطان نے ایک ’’مجلس وطنی‘‘ (پارلیمنٹ) قائم کی جس کا نام ’’زمرہ غم نہ باشد‘‘ رکھا گیا۔ مطلب یہ کہ شخصی اقتدار کے بجائے مشاورتی حکومت کے قیام سے باشندگان ریاست کے دلوں سے وہ خطرے اور اندیشے دور ہو گئے جو مطلق العنان بادشاہت یا آمریت سے پیدا ہوتے ہیں اور سلطان وقت اب ایک آئینی حکمراں بن گیا جسے اب دستور اور ضابطۂ اخلاق کی پابندی کرنا تھی۔(2) ٹیپو کا بڑا کارنامہ اٹھارہویں صدی کی ایک چھوٹی سی ریاست میں جاگیرداری کا خاتمہ اور ایک قسم کی جمہوریت کا آغاز تھا۔ پالیگاروں کی زمین داری کے مظالم کو ختم کر کے سلطان نے زمین کو حکومت کی ملکیت قرار دیا۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ کسان بیچ کے دلالوں کو چھوڑ کر براہ راست سرکار کو لگان دینے لگے اور یہ قانون بنادیا گیا کہ جب تک کسان زمین کو آباد رکھے اس کو زمین سے بے دخل نہ کیا جائے اور زمین لازماً اس کی ملکیت سمجھی جائےگی۔ اس طرح ریاست میں زمین کی ایک نئی تقسیم عمل میں آئی جو کسانوں اور مزدوروں کی خوش حالی کا باعث ہوئی۔ سلطنت کا فرمان تھا کہ جو شخص بھی زمین آباد کرنے کے لئے درخواست دے اس کو زمین مفت دی جائے اور اس وقت تک اس سے لگان نہ لیا جائے جب تک زمین میں پیداوار نہ ہو۔اپنے انہیں عوام دوست کاموں اور فلاحی منصوبوں کی وجہ سے وہ اپنے عوام میں بہت مقبول تھا۔ اس کی زیادہ تر رعایا غیر مسلم تھی، مگر وہ بھی اپنے عادل حکمران پر جان چھڑکتی تھی(3)ٹیپو سلطان جدید جنگی ہتھیاروں کی اہمیت سے کماحقہ آگاہ تھے ۔ اس امر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں فوجی مقاصد کے لئے راکٹ (میزائل) کا استعمال سب سے پہلے آپ ہی نے کیا۔ (4)بحریہ کا قیام بھی سلطان کا ایک زبردست کارنامہ ہے‘ وہ پہلا ہندوستانی حکمراں تھا جسے جنگوں میں سمندری راستوں کی نہ صرف اہمیت کا احساس ہوا بلکہ اس نے ان کا باضابطہ انتظام کرنے کی بھی کوشش کی۔ اس نے ہندوستان کے ساحلوں کی حفاظت کے لئے بحر ہند میں بصرہ‘ ابو شہر عمان اور عدن کی بندرگاہوں کی نگرانی ضروری سمجھی۔ سلطان کی بحری فوج میں تیس امیر البحر تھے۔ جن میں دس ساحل پر اور بیس جہازوں پر رہتے تھے۔ ملاحوں یعنی بحری جہازوں کے عملہ ( Crew) کی تعداد 10 ہزار 520تھی۔ 1794ء میں ایک سو جنگی جہازوں کی تیاری کا حکم دیا گیا تھا۔ پورا جہاز اپنے تمام کل پروزں کے ساتھ ریاست کے ا ندر ہی بنایا جاتا تھا۔
(5)صنعتوں کے قیام، (6)تیل کی دیگر مصنوعات‘ (7)صندل‘ رسی اور قالین‘(8) ہاتھی کے دانت کا کام (9)نمک بنانا (10)ایشیاء پر سونے کا رنگ چڑھانا(11) اون فنون لطیفہ ریشم روئی کی مصنوعات(12) سلطنت خداداد کے محکمہ تعمیرات وغیرہ‘ اس کے وہ کارنامے ہیں جو ترقی کے تصور کے بارے میں ان کے شعور کی پختگی کو اجاگر کرتے ہیں۔
(13) غیر شرعی رسموں پر سلطان نے سخت گرفت کی۔ (14)منشیات ممنوع قرار دی گئی۔ (15)شہروں اور دیہاتوں میں شرعی عدالتیں قائم کی گئیں۔ (16)ذات پات کے نسلی فخر پر ضرب لگائی گئی۔ (17)جمعہ کے خطبوں کی اہمیت پر زور دے کر انہیں عوام کے لئے مفید بنایا گیا۔ اس مقصد کے لئے مسنون عربی خطبات کے علاوہ انہی کا ایک حصہ بنا کر عام نمازیوں کی سمجھ میں آنے والی زبان مثلاً اس وقت فارسی میں منبر سے خطاب کو رواج دیا گیا اور لوگوں کے دینی شعور کی تربیت، احکام شریعت سے آگاہی اور اخلاقی اصلاح کے لئے نئے خطبات مرتب کر کے شائع کیے
ٹیپو سلطان کا سب سے عظیم کارنامہ: آج دنیا مسلمانوں کو فرسودگی و پسماندگی کا طعنہ  دے رہی ہے جب کہ دنیا کی تاریخ ہمارے کارناموں سے بھری پڑی ہے جدید سائنس کی بنیاد مسلم محققین نے رکھا خصوصاً طب، کیمسٹری اور فزکس جیسے تجرباتی مضامین کیلئے تو مسلمانوں کی خدمات بے پناہ ہیں جنہیں دیانتدار تاریخ دان آج بھی سلام پیش کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید دور کی جنگوں میں استعمال ہونے والے اہم ترین ہتھیار راکٹ اور میزائل کی ایجاد بھی ایک نامور مسلمان جرنیل نے کی جس کا اب عالمی سطح پر اعتراف کیا جارہا ہے۔ وہ مسلم جرنیل کوئی اور نہیں بلکہ شیر میسور ٹیپو سلطان کا نام نامی اور ذات گرامی بہادری اور جرات کی مثال کے طور پر مشہور رہے لیکن ان کا ایک اور تعارف یہ بھی ہے کہ ان کی فوج نے دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ بارود سے چلنے والا راکٹ استعمال کیا جس نے انگریز فوج کے چھکے چھڑا دئیے۔ ان راکٹوں کی بنیاد ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی کے دور اقتدار میں رکھی گئی لیکن ٹیپو سلطان نے انہیں دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار بنادیا۔ اٹھارہویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج ہندوستان کو روندتی چلی جارہی تھیں لیکن جب ان کا مقابلہ ریاست میسور کی افواج سے ہوا تو ان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ ریاست میسور اور برطانوی افواج میں ہونے والی دوسری جنگ میں کرنل ولیم بیلی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کی فوج پر آسمان سے کیا قیامت برس رہی ہے۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ میسوری فوج کے راکٹوں نے انگریزی فوج کے اسلحہ خانوں کو اڑا کر رکھ دیا اور جنگ میں ڈھیروں وسائل اور کثیر تعداد کے باوجود ریاست برطانیہ کو شرمناک شکست ہوئی۔ اس کے بعد میسور کی تیسری جنگ میں بھی ان راکٹوں کا شاندار استعمال کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب برطانیہ اور یورپ میں ہلکے پھلکے راکٹ بنائے جاتے تھے جن کا خول گتے یا لکڑی کا ہوتا تھا جس کی وجہ سے یہ بہت کم طاقت کے حامل تھے۔ اس کے برعکس ٹیپو سلطان کے راکٹوں کا خول لوہے سے بنایا جاتا تھا اور ان میں زیادہ بارود بھرا جاتا تھا۔ ان کے ساتھ تلواروں جیسے تیز دھار بلیڈ بھی لگائے جاتے تھے اور ان کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ یہ دو کلومیٹر کے فیصلے تک عین نشانے پر لگتے تھے۔ انہیں چلانے کیلئے فوجیوں کو خصوصی تربیت دی جاتی تھی اور علیحدہ سے راکٹ بریگیڈ قائم کی گئی تھی جس کے پاس پہیوں والے راکٹ لانچر بھی ہوتے تھے۔ یہ لانچر بیک وقت درجن بھر راکٹ چلاتے تھے جو دشمن کی افواج پر گرتے وقت گھومنا شروع کردیتے تھے اور یوں درجنوں فوجیوں کو لمحوں میں کاٹ کر رکھ دیتے تھے۔
 شہادت: وطن عزیز ہندوستان کو راکٹ اور میزائل جیسے اسلحے سے لیس کرنے والا بطلجلیل وطن کی حفاظت کے لیے لڑتے لڑتے شہید ہوگیا ٹیپو سلطان کی شہادت کا دن 4 مئی 1799ء بمطابق 28 ذوالقعدہ 1213 ہجری ہے۔ شہادت کے وقت ٹیپو سلطان کی عمر 48 سال 5 ماہ اور 14 دن تھی۔ وہ بظاہر تو دنیا سے پردہ فرما گئے مگر ان کی روح آج بھی ہر اُس مسلمان مجاہد کے تنِ خاکی میں موجزن ہے جو دینِ اسلام کی سربلندی اور مادرِ وطن کی آزادی کے تحفظ کے لئے مصروفِ جہاد ہے۔
آرام گاہ: ٹیپو سلطان کی آخری آرام گاہ ’’گنبد سلطانی‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ صوبہ کرناٹک کے ضلع میسور میں سرنگا پٹم کے لال باغ میں واقع ہے جو آج بھی مرجع خلائق ہے۔
 آخری بات: علامہ اقبال کی نظم جو ضرب کلیم میں سلطان ٹیپو کی وصیت کے عنوان سے لکھی ہے آخر میں ہم یہاں اسے نقل کر نا چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ “شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے”کا نعرہ دینے والی شخصیت کے پیغامات کیا ہیں۔۔۔۔
نظم 
تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھو یا نہ جا صنم کدہ کائنات میں
محفل گداز گرمی محفل نہ کر قبول
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول