مخلوق کی خوش نودی کے لیے خالق کی نافرمانی کا رواج

تحریر:زین العابدین ندوی
اگر ہم منتہائےکائنات پر تھوڑا بھی غور وفکر کریں تو ایک بات بدیہی طور پر نظر آئے گی، وہ یہ کہ تخلیق کائنات کا مقصد اطاعت خداوندی کے سوا کچھ نہیں، جس کا ذرہ ذرہ پروردگار عالم کی تحمید وتقدیس اور تسبیح میں ہمہ وقت اور ہمہ جہت مصروف عمل ہے، درختوں کا ثمر دار ہونا ان کی تسبیح ہے، جانوروں کا طاقت ور ہونے کے باوجود انسان کے تابع ہونا ان کی تسبیح ہے، چاند و سورج زمین وآسمان کے ہمارے حق میں نفع بخش ہونا ان کی تسبیح ہے، لیکن انسان ان کی تسبیحات کو نہیں تسبیحات کو نہیں سمجھتا، “ولکن لا تفقہون تسبیحہم ” حضرت انسان سے بھی اسی کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے حضور سراپا عبادت ہو جائے، لیکن تعجب ہوتا ہے کہ لفظ عبادت آتے ہی ہمارا ذہن چند رسومات کی طرف چلا جاتا ہے، جبکہ عبادت چند حرکتوں کا نام نہیں، مخصوص ریاضتوں کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک مکمل نظام ہے، جو زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہے، “ام كنتم شهداء اذ حضر يعقوب الموت اذ قال لبنيه ما تعبدون من بعدي “یعنی تم میرے بعد کس نظام کی پیروی کرو گے؟  یہی سب سے بڑی عبادت ہے، اور اس عبادت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کا طلبگار ہو، اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہی انسان کا مقصد حیات ہو، اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب انسان یہ طے کر لے کہ ہمیں خوشنودی رب کے حصول میں دنیا کی ہر شے کو ٹھکرا دینا ہے، اس کہ زد میں خواہ ماں باپ اور شیخ و استاذ ہی کیوں نہ آئے، اس لئے کہ مخلوق کی خوشنودی کے لئے خالق کی نافرمانی حرام ہے حرام۔ 
لیکن ہماری بد بختی کا عالم یہ ہے کہ آج کل ہم جس معاشرہ کا جزء ہیں جسے بظاہر اوروں کے بالمقابل دیندار سمجھا جاتا ہے، اس نے تو دنیاوی چند گھٹیا ذاتی مفاد کی خاطر مخلوق کی خوشنودی کے لئے رب کی نافرمانی کی قسم کھا رکھی ہے،اگر خود کو مومن کہنے والے کی حالت یہ ہو کہ وہ سراسر ظلم کے خلاف آواز صرف اس لئے نہ اٹھا سکے کہ شیخ ناراض ہو جائیں گے، اور پھر میری روزی روٹی کا سلسلہ بند ہو جائے گا، میں تو بھوکا مر جاوں گا، اور ایسا ایسا ہو جائے گا، صرف انہیں حقیر اغراض کے سبب وہ دھڑلے سے خدا کی نافرمانی کرنے میں مصروف ہے، اور خدا کے احکام کو پامال ہوتا دیکھ رہا ہے،تو کیا ایسے اشخاص کو اپنے ایمان کا جائزہ نہیں لینا چاہیے؟ چہ جائیکہ وہ اپنے کو عالم دین کہے، اور پھر یہ شکایت کہ لوگ علماء کی عزت نہیں کرتے، وہ آپ کی عزت کریں گے بھی کیوں جب آپ نے مخلوق کو خالق کا درجہ دے رکھا ہے۔ 
مخلوق کا اکرام و احترام اس کے ساتھ مودت ومحبت ہمارا جزء ایمان ہے، اور اس کے ساتھ خیر خواہی وہمدردی ہمارے رب کا فرمان ہے، اہل ایمان کی فی الحقیقت یہی شان ہے، لیکن مخلوق کی فرمانبرداری اور اس کی ہامی بھرنے میں خدا کو بھول جانا اس کے احکام کو پس پشت ڈالنا ایک طرح کا شرک ہے، جو کسی مومن کا عمل نہیں سکتا چہ جائیکہ ایسا کرنے والا کوئی عالم ہو، قوم وملت کی گاڑھی کمائی  سے بنے ہوئے بعض مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران اور اساتذہ کا یہی حال ہے جنہوں نے شخصیت پرستی کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا رکھا ہے، اور شخصیتیں بھی ایسی ہیں کہ بس خدا خیر کرے، میرے نزدیک شخصیت پرستی بھی بت پرستی جیسا ہی ایک شنیع عمل ہے اگر خامیوں میں بھی خوبیاں نظر آنے لگیں، کسی انسان سے تعلق اور محبت اسی حد تک جائز ہے کہ اس کی خرابیاں خراب لگیں اور اچھائیاں اچھی رکھیں، اللہ کی عطا کردہ شریعت اور اس کی بخشی ہوئی حریت کو باقی رکھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا کمال انسانیت ہے اور ناجائز اور سطحیانہ مفاد کے حصول کے لئے عزت نفس کا سودا کرنا اور بزبان حال مخلوق کو خالق کی جگہ دینا توہین انسانیت بھی ہےاور تحقیر پروردگا بھی۔  جبکہ خدا غنی عن العالمین ہے