حدیث نمبر229

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز میں دو کالی چیزوں سانپ اور بچھو کو قتل کردو ۱؎(احمد،ابوداؤد) ترمذی اور نسائی نے اس کے معنے۔

شرح

۱؎ عربی میں اسود کالے سانپ کو کہتے ہیں یا مطلقًا ہر سانپ مراد ہے اور تغلیبًا سانپ بچھو،دونوں کو اَسْوَدَ یْن فرمادیا جیسے ماں بآپ کو اَبَوَیْن اور چاند سورج کو قَمَرَ یْن کہددیتے ہیں اگر نمازی بحالت نماز سانپ یا بچھو دیکھے تو اسے مار سکتا ہے اگر عمل قلیل سے مار دیا تو نماز نہ ٹوٹے گی اور اگر اس کے لیئے کعبہ سے سینہ پھر گیا یا متواتر تین قدم چلنا پڑا یا تین چوٹیں مارنی پڑیں تو نماز ٹوٹ جاوے گی دوبارہ پڑھنی ہوگی مگر یہ شخص نماز توڑ نے کا گنہگار نہ ہوگا اس حدیث کی اجازت کی وجہ سے کسی کی جان بچانے کے لیئے نماز توڑ دینا درست ہے یا ریل چھوٹ جانے پر مسافر نماز توڑ کر سوار ہوسکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہرقسم کا سانپ مارنے کی اجازت ہے۔وہ حدیث کہ پتلا سانپ نہ مارو جو چلنے میں لہراتا نہ ہو کیونکہ وہ جنی ہے منسوخ ہے،ہاں اگر کسی سانپ میں جن کی علامت موجود ہو تو اگر دفع ضررکے لیئے اسے نہ مارے تو کوئی مضائقہ نہیں۔