روزہ قرآن کی روشنی میں

محمد عبدالمبین نعمانی قادری 
اللہ رب العالمین نے سال کو بارہ مہینوں پر تقسیم فرمایا ہے اور ہر ایک مہینے کو برابر نہیں کیا، بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور جن دنوں مہینوں کو فضیلت سے نوازا ہے ان میں عبادات کے ثواب کو بھی بڑھا دیا ہے، اس حیثیت سے ماہ رمضان المبارک کو بڑی خصوصیات اور فضائل حاصل ہیں، یہ مہینہ یقینا خیر و برکت کا مہینہ ہے، تقویٰ و پرہیزگاری کا مہینہ ہے، ہر طرف اس ماہِ مبارک میں رحمت و نور کی بارش ہوتی ہے، خدائے قدیر نے اس کی فضیلت خود قرآن میں بیان فرمائی ہے، ارشاد خداوندی ہے۔
روزہ اور قرآن
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا ان پر فرض ہوا تھا جو تم سے پہلے ہوئے تا کہ تم گناہوں سے بچو (یہ) چند دنوں کا ہے پھر تم میں کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو (اور روزے نہ رکھ سکے) تو وہ اور دنوں میں گنتی پوری کر لے (یعنی قضا کر لے) اور جو طاقت نہیں رکھتے (یعنی شیخ فانی ہوں) وہ فدیہ دیں ایک مسکین کا (دونوں وقت کا) کھانا پھر جو زیادہ بھلائی کرے (یعنی مقدار سے زیادہ دے) تو یہ اس کے لئے بہتر ہے (زیادہ ثواب کا باعث ہے) اور (ان حالات میں بھی) روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر جانو (یعنی سمجھ سے کام لو)۔
ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، لوگوں کی ہدایت کو اور حق و باطل میں جدائی بیان کرنے کے لئے، تو تم میں جو یہ مہینہ پائے تو اس (پورے مہینے کا) روزہ رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، سختی کا ارادہ نہیں فرماتا اور تمہیں چاہیے کہ (روزوں کی) گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور اس امید پر کہ اس کے شکر گزار ہو جاؤ۔ (سورہ بقرہ: ۲ / ۱۸۳ تا ۱۸۵)
ان آیات سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:
 روزہ امت محمدیہ پر فرض ہے اور جب فرض ہے تو اس کا ترک یقینا گناہ ہے۔
 مختلف اوقات اور ایام میں روزے سابقہ تمام امتوں پر فرض تھے لہٰذا امت محمدیہ کے افراد کو اس کا اور زیادہ لحاظ و اہتمام کرنا چاہیے، اور اس سے غفلت بڑی شرم کی بات ہے۔
 روزے کا مقصد تقویٰ و پرہیزگاری ہے یعنی صرف روزہ ہی نہیں رکھنا ہے بلکہ دوسرے تمام گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنا ہے، یعنی روزہ تزکیۂ نفوس اور اصلاحِ قُلوب کا ذریعہ ہے۔
 روزہ ایک مہینے کا ضرور ہے لیکن یہ ایام بھی تھوڑے ہیں کہ بہت جلد گزر جاتے ہیں اللہ کی عبادت کا شوق رکھنے والوں پر گراں نہیں ہوتے البتہ نا فرمانوں پر ضرور بھاری ہوتے ہیں، ان پر ایک دن کا بھی روزہ بھاری ہوتا ہے۔
 مریض اگر سخت مرض میں گرفتار ہے اور یقینا روزہ اس کے لئے تکلیف کا باعث ہے یا مرض کے طول پکڑنے کا تو اس کے لئے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے اور پھر دوسرے دنوں میں ان کی قضا کرے۔
 تین دن کی راہ کا جو سفر کرے (جس کی تعداد آج کل کے حساب سے ۹۲ (بانوے) کلو میٹر ہے، اس کو جائز ہے کہ روزہ نہ رکھے، اور اگر رکھ لے تو بہتر ہے، نہ رکھنے کی صورت میں دوسرے دنوں میں قضا کرنا فرض ہے۔
مریض اور مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی صرف اجازت ہے نہ رکھنا ضروری نہیں، کیوں کہ رمضان کے چھوڑے ہوئے روزوں کو دوسرے دنوں میں بھرنا (قضا کرنا) آسان نہیں بہت مشکل ہوتا ہے اور اگر ذرا سی غفلت ہوئی تو یہ روزے رہ جاتے ہیں دوسرا رمضان آجاتا ہے۔ اس لئے قرآن پاک نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ اجازت کے دنوں میں بھی روزہ رکھنا ہی بہتر ہے، اور یہ سمجھداری کی بات ہے۔
 جس بوڑھے مرد یا عورت کو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں اور نہ آئندہ ان کو ایسی طاقت کی امید کہ روزہ رکھ سکیں، اس کو شیخ فانی کہتے ہیں، ان کا حکم یہ ہے کہ ہر روزے کے بدلے نصف صاع (یعنی دو کلو پینتالیس گرام) گندم (گیہوں) یا اس کا دو گنا (۴ کلو ۹۰ گرام) جَو صدقہ کریں، یا ان کی قیمت مساکین کو دیں۔ اور اگر فدیہ کے بعد طاقت آجائے تو روزہ رکھنا ضروری ہے۔
 رمضان کا مہینہ جس میں روزے فرض کئے گئے ہیں اس لحاظ سے بھی اہمیت و فضیلت کا حامل ہے کہ اس میں خداے ذو الجلال کا مقدس کلام قرآن پاک نازل ہوا، اللہ نے اس کا بطور خاص ذکر کر کے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ جس مہینے یا دن میں کوئی با عظمت چیز ملے وہ مہینہ اور دن بھی با عظمت ہو جاتا ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ اللہ نے با عظمت مہینے میں فرض کیا ہے تا کہ بندہ روزے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی برکتوں سے بھی ہم کنار ہو جائے۔
 روزے کا فدیہ غربا و مساکین کی امداد کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔
 روزے کا فدیہ مقرر ہے کہ اتنا دینا واجب لیکن اس میں اضافہ کرنا بہتر ہے تا کہ دینے والے کو ثواب ملے اور غربا و مساکین کا بھلا ہو اور اس اضافے کی کوئی مقدار متعین نہیں یعنی جو جس قدر چاہے بڑھاتا جائے اور ثواب میں بڑھتا جائے۔
 قرآن لوگوں کے لئے ہدایت کی کتاب ہے اور جو حق و باطل کا فیصلہ چاہے صدق دل سے قرآن کا مطالعہ کرے اسے پتہ چل جائے گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟
 پورے ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں کمی کی کوئی گنجائش نہیں، اس لئے اگر کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھا تو اس کی قضا فرض ہے۔
 اللہ تعالیٰ مسافر اور مریض کو رخصت دے کر آسانی فرمانا چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا، کیوں کہ وہ غفور رحیم ہے، روزوں میں جو ذرا سختی ہوتی ہے اس کا مقصد بندوں کو پریشانی میں ڈالنا نہیں بلکہ ان کے ایمان و روحانیت میں اضافہ کرنا اور جسمانی صحت سے ہم کنار کرنا ہے، جو اس کی رحمت کی نشانی ہے۔
 اور اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے مومنو! تم رمضان کے روزوں کی مدت پوری کرو کمی نہ کرو اور اللہ نے تمہیں جو ہدایت دی اور روزوں کی عظیم عبادت سے سرفراز فرمایا اس کی تکبیر بولو یعنی اس کی بڑائی بیان کرو، اور کثرت سے اللہ اکبر کا وِرد کرو، بعض مفسرین نے فرمایا اس سے تکبیر عید مراد ہے۔
قرآن پاک کی مذکورہ آیات کے بعد ایک آیت میں بندوں کو رب عزوجل نے اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور دعا کرنے کی ترغیب دی ہے، کہ شاید بندہ روزہ رکھ کر اپنے کو بوجھل نہ سمجھنے لگے اور اس کے اندر اکتاہٹ نہ آجائے تو ارشاد فرمایا: اور اے محبوب! جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں (کہ میں دور ہوں یا نزدیک تو انھیں جواب دو) کہ میں نزدیک ہو کر، دعا کرنے والوں کی دعا سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے، تو انھیں چاہیئے کہ میری بات قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں اس امید پر کہ راہ پائیں۔    بقرہ: ۲/۱۸۶
آگے ارشاد ہوتا ہے:روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لیے حلال ہوا (جب کہ پہلے صرف عشاء تک حلال تھا) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔ اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا، تو اب ان سے صحبت کرو (راتوں میں) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو۔ اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہو جائے سپیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پَو پھٹ کر۔ پھر رات آنے تک روزے پورے کرو۔ اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔  بقرہ: ۲/۱۸۵-۱۸۷
ان آیات میں یہ مسائل و فوائد سامنے آتے ہیں: ماہ رمضان میں راتوں کو صرف عشا تک صحبت کی اجازت تھی مگر جب اس سلسلے میں بعض حضرات سے خطا سرزد ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے پوری رات جازت دے دی تا کہ بندوں کو دشواری پیش نہ آئے، اور جو غلطی ہو گئی اس کی معافی کا بھی اعلان کر دیا۔
 صحبت کرو، کا حکم اباحت کا ہے وجوبی نہیں، یعنی ایسا کرنا تمہارے لئے مباح ہے جسے حاجت پیش آئے وہ رات میں صحبت اختیار کر سکتا ہے۔
 راتوں کو کھانے پینے کا حکم دے کر وقت بھی بیان کر دیا گیا کہ طلوع فجر تک کھانے کی اجازت نہ کہ اس کے بعد۔ آیت میں رات کو سیاہ ڈورے سے اور صبح صادق کو سفید ڈورے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ معنی یہ ہیں کہ تمہارے لئے کھانا پینا رمضان کی راتوں میں مغرب سے صبح صادق تک مباح فرمایا گیا۔
 ایک مسئلہ یہ بیان کیا گیا کہ جو اعتکاف کی حالت میں ہو وہ اپنی عورت سے قربت نہیں کر سکتا، نہ مسجد میں نہ مسجد سے باہر، یعنی معتکف دن میں تو تمام ممنوعات سے بچے گا، رات میں کھانے پینے کی تو اجازت ہوگی مگر بیوی سے قربت رات میں بھی ممنوع و حرام ہوگی۔ اوپر کی آیت میں رات کو قربت کی اجازت دی گئی تھی۔