یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے

تحریر: محمد اسلام فیضی
روئے ارض پر انسانی پیدائش کی تاریخ جتنی قدیم ہے اتنی ہی قدیم تاریخ بات کرنے کی بھی ہے۔ انسان کی پیدائش اور گفتگو دونوں ہم عمر ہیں۔ قرآن مجید میں تخلیق آدم کے فوری بعد حضرت آدم کے بولنے کا ذکر آیا ہے۔”فرمایا! اے
آدم ان چیزوں کے نام بتادو، پھر جب آدم نے انہیں ان کے نام بتادیئے فرمایا،کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپا تے ہو اسے بھی جانتا
ہوں۔“(القرآن33:2)۔اس آیت مبارکہ سے جہاں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے فوری بعد آپ کے بات کرنے کا ہمیں علم ہوتا ہے وہیں پتہ چلتا ہے کہ زبان اللہ تعالی کی عطاکردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اللہ تعالی
ہی نے انسانوں کو اعجاز نطق سے سرفراز فرمایا۔نبی اکرم ﷺ نے گفتگو کے فن کو معراج عطا کی۔آپ ﷺ کو جوامع الکلم سے سرفرازکیا گیا تھا۔ایمان کی دولت سے مالا مال اور نبی اکرم ﷺ کی محبت سے سرشار انسانوں کے لئے
ضروری ہے کہ وہ گفتگو کے آداب سیکھیں کیونکہ الفاظ و محاورات بھی انسان کے لباس کی طرح شخصیت کے عکاس ہوتے ہیں۔الفاظ و محاورات کیحرمت سے واقف آدمی کو دنیا میں وقار و تمکنت حاصل ہوتاہے۔الفاظ و
محاروں کا غیر مناسب استعمال انسانی کردار کو مسخ کردیتا ہے۔انسان گفتگوکے ذریعے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتا ہے۔گفتگو کے لئے بہترالفاظ کا استعمال آدمی کو جہاں بلند و بالا مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے وہیں غیر
مناسب الفاظ کے استعمال سے آدمی کی عزت گھٹ جاتی ہے اور معاشرے میںوہ اپنی حیثیت گنوا بیٹھتا ہے۔
حضرت لقمان سے ان کے آقانے کہاکہ ایک بکری ذبح کرو اور اس میں سےجو سب سے اچھی چیز ہے اس کو پکا کر لاؤ۔حضرت لقمان نے بکری کو ذبحکیا اور اس کے دل اور زبان کو پکا کر اپنے آقا کوپیش کیا۔دوسرے دن بادشاہ
نے پھر سے حضرت لقمان کو ایک بکری ذبح کر کے اس میں سے سب سےبدترین چیز کو پیش کرنے کو کہا۔آپ نے اپنے آقا کے حکم کے مطابق پھرایک بکری ذبح کی اور اس میں سے پھر ایک بار دل اور زبان پکاکر پیش
کی۔یہ دیکھ کر ان کا مالک انھیں تعجب سے دیکھنے لگااور پوچھا یہ کیاہے؟میں نے جب آپ کو ذبح کردہ بکری سے بہترین چیز پکا کر لانے کو کہاتوآپ نے دل اور زبان لا کر دی اور جب میں نے بدترین شئے کو لانے کو کہا
تب بھی آپ نے دل اور زبان ہی پیش کیئے۔بھلا یہ کیا بات ہوئی؟اس پر حضرت لقمان نے فرمایاجناب اگر یہ دونوں چیزیں صحیح ہوں تو یہ بہترین چیزیں ثابتہوتی ہیں اور اگریہ دونوں چیزیں خراب ہوں تب ان سے بدتر کوئی اور ہو ہی
نہیں سکتا۔
اکثر آدمی اپنی گفتگو یعنی کہ زبان کی وجہ سے کرب و اذیت اور ہلاکت کاشکار ہوجاتا ہے۔زبان کی جب حفاظت کی جاتی ہے تب انسان ناگہانی مصائبسے خود کو محفوظ رکھتا ہے۔انسانی جسم میں گوشت کا ایک ایسا لوتھڑا زبان
ہی ہے جو اسے پستی سے بلندی اور بلندی سے پستی تک پہنچا دیتا ہے۔زبانکے صحیح استعمال سے انسان جہاں سرخرو اور کامیاب ہوجاتا ہے اور اس کاشمار نیکو کار وں میں ہونے لگتا ہے وہیں بدزبانی کی وجہ سے وہ معاشرے
کا سب سے غیر پسندیدہ شخص گردانا جاتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ”پہلےتو لو پھر بولو“۔ بالکل یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان میں ہڈی نہیں ہوتی ہے لیکنیہ انسان کی ہڈیاں باآسانی تڑواسکتی ہے۔  انسان کی گفتگو اس کی شخصیت
کی آئینہ دار ہوتی ہے۔اچھی اور پر اثر شخصیت کے لئے پر اثر انداز گفت وشنید بھی بے حد ضروری ہے۔آدمی بات کرنے سے پہلے غور و فکر کرےاور الفاظ کے انتخاب و استعمال میں محتاط رہے۔گفتگو کے دوران آواز دھیمی
رکھے اور لہجہ بھی مناسب رکھے۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔زندگیکے ہر موڑ پر شریعت اسلام ہماری رہنمائی و رہبری کے لئے کافی ہے۔زندگیکے تمام معاملات کی طرح اسلام گفتگوکرنے کے بھی ہمیں آداب،طور،طریقے
سکھاتا ہے۔ سنت رسول ﷺ سے ہر گھڑی ہمیں کب،کہاں،کیا اور کیسے باتکرنا ہے،رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔گفتگو کی وجہ سے آدمی لوگوں کے دلوںمیں اترتا ہے یا پھر لوگوں کے دل سے اترجاتا ہے۔اللہ تعالی نے انسان کوزبان
و بیان کی عظیم صلاحیت سے نوازا ہے۔انسان اپنی زبان کی وجہ سے جہاںکامیاب و کامران ہوتا ہے وہیں اپنی زبان کی وجہ سے ذلت و رسوائی اس کامقدر بن جاتی ہے۔ اسلاف نے تعلیم و تربیت کا جو منہج اختیار کیا تھاوہ انسان
کو فوز و فلاح کی جانب گامزن کرنے والا تھا۔ معاشرہ جدیدیت کے نام پراسلاف کے انداز تعلیم و تربیت سے انحراف کرتے ہوئے آج تباہی کے دہانےپر پہنچ چکا ہے۔ آج تعلیم کے حصول کے لئے والدین بہت زیادہ سرگرم
نظرآتے ہیں لیکن تربیت کے شعبے میں والدین تو کجا اساتذہ بھی تن آسانیسے کام لینے لگے ہیں۔دانشوروں کا کہنا ہے کہ پرندے جال میں دانےاورانسان اپنی زبان سے پھنس جاتے ہیں۔جو انسان اپنی زندگی خوشی و عافیت
سے بسر کرنے کے متمنی ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبانوں پرقابو رکھیں اور گفتگو کرنے کے طور طریقوں سے خود کو متصف کریں۔
ارسطو کے مطابق گفتگو تین قسم کی ہوتی ہے۔:Ethos(1)گفتگو کی وہ قسمہے جو یقین و سچائی سے پر ہوتی ہے۔کہنے او ر سننے والے کے مابیناعتماد کی فضاء پیدا ہوجاتی ہے۔یہ گفتگو واضح، بامعنی اور پر اثر ہوتی ہے۔با
ت کرنے والا مقابل کی ذہنی حیثیت سے بخوبی واقف ہوتا ہے اور اس کی ذہنیصلاحیت کو مد نظر  رکھتے ہوئے گفتگو کرتا ہے جس کی وجہ سے گفتگوبے یقینی اور تشکیک سے بالکل پاک ہوتی ہے۔ Pathos(2)؛۔ اس قسم کی
گفتگو میں سننے اور کہنے والے کے بیچ ایک جذباتی تعلق پایا جاتا ہے۔یہگفتگو جذباتی عنصر کو اپنے اندر سموئے رہتی ہے۔Logos(3)؛۔یہ حقائق اورمنطقی عناصر پر مبنی گفتگو کی تیسری قسم ہے جو تجزیاتی فکر،مشاہدے اور
حکمت عملی پر منحصر ہوتی ہے۔دور اندیش اور عقل مند لوگ بولنے سےپہلے سوچتے ہیں جبکہ بے وقوف لوگ بات کرنے کے بعد سوچتے ہیں اوراس طریقہ کار میں سوائے تاسف اور افسوس کے کچھ ہا تھ نہیں آتا۔کسی بھی
ملک و معاشرے کی خوشحالی، نظم و ضبط کی پابندی و باقاعدگی کی اہم وجہشہریوں کے گفتگو کا معیار ہوتا ہے۔کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک عظمتکی معراج کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کے افراد کی زبانوں سے ادا کیئے
جانے والے الفاظ سے کسی کی دل آزاری نہ ہو،کسی کی عزت نفس کو ٹھیسنہ پہنچے۔گفتگو خوشامد اور خودستائی پر مبنی نہیں ہونی چاہیئے۔لفظوں کیحساسیت اور حرمت کا احساس جس معاشرے میں نہ ہو وہ بدحالی،بد اخلاقی
اور معاشی ابتری کا مرقع بن جاتے ہیں۔جب کسی معاشرے میں افرادسچائی،یقین،معیار واقدار سے متنفرو عاری ہوں وہاں معاشی اور اخلاقیآسودگی کسی بھی طور نہیں پائی جاسکتی۔معاشرے کی خوشحالی و آسودگی کا
راست تعلق گفتگو سے ہوتا ہے۔اس مضمون میں گفتگو کو موثر و مدلل بنانےکے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل ہم کو گفتگو کے آداب و سلیقے سےآراستہ کیا۔آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”لوگو ں میں سب سے محبوب اورآخرت میں مجھ سے زیادہ قریب اچھے ا خلاق والے لوگ ہوں گے“(سنن
الترمذی)۔ اچھے اخلاق والے افراد وہ ہوتے ہیں جن کی گفتگو فحشگوئی،جھوٹ،افترا،چغل خوری اور کذب بیانی سے پاک ہوتی ہے۔اللہ تبارکتعالی فرماتا ہے”لوگوں سے اچھی باتیں کہو“(القرآن)۔ قرآن ایمان والوں کو اپنی
آواز پست رکھنے کا حکم دیتا ہے،چیخنے چلانے سے سخت منع کرتا ہے۔”اپنیرفتار میں میانہ روی(اعتدال) اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو،یقیناآوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے۔“)القرآن(۔نبی ا کرم ﷺ نے
فرمایا کہ فضول گفتگو سے سکوت بہتر ہے۔”جو شخص اللہ اور قیامت کے دنپر ایمان رکھتا ہے تو اس کو چاہیئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموشرہے۔“(بخاری)یاوہ گوئی اور لایعنی گفتگو سے خاموشی بہتر ہوتی ہے کیونکہ
خاموشی کو نجات اور فضول گفتگو کو تباہی قرار دیا گیا ہے۔اسلام پاک گوئیاور صالح گفتگو کو رواج دیتا ہے۔اللہ تعالی گالی گلوچ اور بیہودہ گفتگو سے
پاک معاشرے کو پسند فرماتا ہے ۔کیونکہ جنت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعا لیفرماتا ہے ”وہاں نہ بے ہودہ باتیں سنیں گے اور نہ گالی گلوچ۔“(القرآن)۔ اسلامگفتگو کو گالی گلوچ سے پاک رکھنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ ایمان والے کبھی
لغو اور فحش گوئی سے کام نہیں لیتے ہیں۔آپﷺ نے فحش اور بے ہودہ گفتگوکو سخت نا پسند فرمایا ہے۔آ پ ﷺ نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا بڑا گناہ ہےاور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔“(بخاری)۔اس حدیث کی آڑ میں ہم کسی غیر
مسلم کی دل آزاری و دل شکنی ہر گز نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے نبیﷺ نے ہمیں برائی کو بھی اچھائی سے دور کرنے کا حکم دیا ہے۔گالی دینا بہتبڑا گناہ ہے۔گالی دینے والا کامقصد گالی دے کر دوسرے انسان کی تحقیر و
تذلیل کرناہوتا ہے جو اللہ تعالی کو سخت ناپسند ہے۔”اور بعض لوگ  ایسے بھیہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہسے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں۔یہی و ہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے
والا عذاب ہے۔“(القرآن)رسول اکرم ﷺ کا انداز تکلم تمام انسانوں کے لئے مشعلراہ ہے آپ ﷺ کی گفتگو صاف اور واضح ہوتی تھی جسے ہر سننے والا سمجھ لیتا تھا(سنن ابوداؤد)۔نبی اکرم ﷺ کے انداز تکلم سے ہمیں درس ملتا ہے کہ
ہماری گفتگو صاف واضح ہونے کے ساتھ مختصر اور جامع ہو۔بات کرتے  وقت ہم کو ٹھہر ٹھہر کر بات کرنی چاہیئے تاکہ سننے والے ہماری بات آسانیسے سمجھ پائیں۔طویل گفتگو سے پرہیز کرنے کی آپﷺ نے ہم کو تلقین
فرمائی ہے۔.”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ گفتگو میں توسط اختیار کروں کیونکہدرمیانے انداز میں ہی خیر ہے۔“(سنن ابو داؤد)۔آپ ﷺ نے گھوما پھرا کر باتکرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔”لہذا انہیں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے اور جو
بات کر یں صاف اور سیدھی بات کریں۔“(القرآن)۔گفتگو میں ضد،ہٹ دھرمی سے ہر گز کام نہیں لینا چاہیئے۔بحث و مباحث کے وقت بات دلیل اور شعورسے کریں،کسی کی عزت نہ اچھا لیں۔سیرت رسول ﷺ ہم کو دوران گفتگو
الجھنے سے منع کرنے کے علاوہ جہلا کو قائل کرنے کے بجائے ان سےاحسن طریقے سے اعراض کر نے کی تعلیم دیتی ہے۔”اور خدا کے بندے تو وہہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے(جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں (سلام کر کے گزر جاتے ہیں)“۔(القرآن)۔اسضمن میں رسول اکرمﷺ نے لوگوں کے عقلی معیار اور رتبے کے مطابقگفتگو کرنے کی ہم کو تعلیم دی ہے۔لوگو ں کو اکتا ہٹ سے محفوظ رکھنے اوراپنی گفتگو میں تاثیر پیدا کرنے کے لئے مخاطب کے معیار کا لحاظ رکھنا بےحد ضروری ہوتا ہے۔لوگوں کو اتنی ہی باتیں بتانے چاہیئے جس قدر ان کوضرورت ہوتی ہے۔گفتگو انسان کی پہچان ہوتی ہے۔بالمشافہ گفتگو و شنید کےذریعے پچاس فیصد سے زائد مسائل از خود ختم ہوجاتے ہیں۔
اچھی گفتگو خوش خلقی کا ایک بنیادی وصف ہے اسی لئے اللہ رب العزت نےحکم دیا ہے کہ”لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آؤ“(القرآن)۔خوش خلقیمعاشرے کو امن کی مضبوط بنیادیں فراہم کرسکتی ہیں۔آج معاشرے کا امن و
چین ایک دوسرے کے خلاف زبانی محاذ آرائی،برے الفاظ و القاب کے استعمالکی وجہ سے مکدر ہوگیا ہے۔دینی مجالس ہو یاسماجی تقریبات یا نجی محفلیںاجتماعی بات چیت کے بجائے گروہی گفتگو کی وباء عام ہوچکی ہے جہاں
مخالفین پر کیچڑ اچھا لا جاتا ہے اور ایسی تقریر یا گفتگو کو بہتر سمجھا جارہاہے جس میں مخالفین پر زیادہ سے زیادہ کیچڑاچھالا جائے۔ہر شخص کے لئےضروری ہے کہ وہ گفتگو کرتے وقت ہر انسان کی ضرورت اور معاشرتی امن
کا خاص خیال رکھے۔کسی کو خوش کر نے کے لئے کسی پر فقرے کسنادانائی و دانشوری نہیں ہے۔الفاظ کے انتخاب کے متعلق مشہور نقادلونگنس(Longinus)اپنی شہرۂ آفاق تصنیف “On the sublime”میں رقمطراز ہے”آپ کے خیالات و تصورات کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں جب تک آپکے پاس صحیح اور موزوں الفاظ نہ ہو تو آپ اپنی تحریر و تقریر کو رفعتعطا نہیں کر سکتے۔“بعض لوگ کہتے ہیں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے اور اسی مقولہکی آڑ میں بد تمیزی اور بد اخلاقی کا مظاہر ہ کرنے لگتے ہیں۔اگر دیکھا جائےتو بیشتر موقعوں پر سچ کڑوا نہیں ہوتا ہے بلکہ سچ بولنے کا انداز کڑوا ہوتاہے۔کڑوی سے کڑوی بات بھی اگر سلیقے،تہذیب و شائستگی سے کی جائے تبیہ بھی کانوں میں شہد کھول دیتی ہے۔اگر سچ بولنے کی آڑ میں مخاطب کی دلآزار ی ہے تب یہ سچائی کی تبلیغ نہیں بلکہ ہماری خباثت،تکبر کا پرچار اور
انا کی تسکین کا ایک حیلہ ہے۔سلیقہ مند گفتگو کی ایک بہترین مثال خلیفہہارون رشید کے دیکھے گئے خواب کی تعبیر کے بیان میں دیکھنے میں آتیہے۔خلیفہ ہارون رشید نے خواب میں دیکھا کہ اس کے تمام دانت ٹو ٹ گئے ہیں
اس نے تعبیر کے لئے ایک درباری کو طلب کیا جس نے کہا کہ آپ کی آنکھوںکے سامنے آپ کے تمام رشتے دار ہلاک ہوجائیں گے۔اس تعبیر سے بادشاہبہت ملول ہوا اور ناراض ہوکر تعبیر بتانے والے کو دربار سے نکال باہر
کیا۔دوسرے شخص کو تعبیر کے لئے طلب کرنے پر اس نے بتا یا کہ بادشاہکوبہت طویل عمر ملے گی اور آپ کا انتقال خاندان میں سب سے آخر میںہوگا۔بادشاہ بہت خوش ہوا اور تعبیر بتانے والے کو انعام و اکرام سے نوازا۔اسی
لئے سچ کڑوا ہوتا ہے کہنے کے بجائے ہمیں سچ کو پیش کرنے کا سلیقہسیکھنا چاہیئے۔گفتگو کے دوران ہمیں چند باتو ں کا خاص خیال رکھنے کیضرورت ہوتی ہے جیسے زبان سے خیر کا کلمہ ہی نکالیں،کسی کی غلطی کی
اصلاح میں حکمت کا پہلو ہر گز نہ چھوڑیں،مخاطب کی قابلیت کا لحاظ رکھتےہوئے بات کریں،ہمیشہ حق،سچائی و صداقت کو اپنا شعار بنائیں،بے جا بحثسے اجتناب کریں،حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑے سے اجتناب کریں، گفتگو
کو تکلف و تصنع سے پاک رکھیں،درمیان میں کسی کی بات نہ کاٹیں،باچھیںکھول کر یعنی چیخ چیخ کر بات نہ کریں اور غیبت و چغل خوری سے بہرصورت بچیں۔گفتگو میں تاثیر پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ گفتگو کے
ماحول کا خیال رکھ کر بات کریں۔گفتگو کرنے کے لئے مناسب و موضوع وقتکا انتخاب انتظار کریں۔بات کرنے سے پہلے سننے والی کی طبیعت و مزاجیعنی موڈ کا خیال رکھیں۔بات کرتے وقت یا بات کرنے سے پہلے سننے والے
کو ذہنی طور پر تیار کریں۔گفتگو کے وقت مناسب پوسچر (انداز نشست وبرخاست)آپ کی شخصیت کا تعارف پیش کرتاہے اسی لئے گفتگو میں تاثیر ووزن پیدا کرنے کے لئے لب و لہجے اور پوسچر کا خاص خیال رکھیں۔
گفتگوسلیقے سے کریں۔بے جا تنقید اورتنقید برائے تنقید سے پرہیز کریں۔ہر باراپنے مسائل اور پریشانیوں کو موضوع گفتگو نہ بنائیں۔گفتگو میں تنوع پیدا کریں اور ایک ہی موضوع پر باربار بات نہ کریں۔گفتگو کو موثر بنانے کے لئے
بولنے سے زیادہ سننے کی عادت ڈالیں۔الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتیںکیونکہ الفاظ بے جان نہیں ہوتے ہیں ان میں روح اور زندگی ہوتی ہے۔تقریر ہویا تحریر دونوں بھی الفاظ کے محتاج ہوتے ہیں۔الفاظ شخصیت کے ہی نہیں بلکہ
حالات اور روایات کے بھی آئینہ دار ہوتے ہیں۔الفاظ زندگی بناتے بھی ہیں اورزندگی برباد بھی کرتے ہیں۔ جہاں الفاظ کسی کے اشتعال کو بڑھا تے ہیں وہیںغصہ کم کرنے میں کلیدی کردار انجام دیتے ہیں۔ہمارے زبان سے نکلے ہوئے
لفظ کسی کے دل کو مجروح کرسکتے ہیں تو وہیں کسی کے غم کے مداوےمیں نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں۔گفتگو اور الفاظ کا انتخاب انسان کے باطنیحسن کو اجاگر کرتا ہے اسی لئے گفتگو اور الفاظ کے انتخاب میں احتیاط سے
کام لینے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔گفتگو کو نشتر نہ بنائیں کیونکہ اللہ نے ہمکو دلوں کو جوڑنے کے لئے پیدا کیا ہے نہ کہ دلوں کوتوڑنے کے لئے، وسیمبریلوی کے شعر پر اپنی تحریر کو ختم کرتا ہوں۔
کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے یہ سلیقہ ہو تو ہر باتسنی جاتی ہے