ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ:گوشۂِ حیات وخدمات

تحریر:محمد ہاشم اعظمی مصباحی
وصال 17 رمضان 58ھ/13 جولائی 678ء
مادر علم و ہدی پیکر صدق و صفا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فہم وفراست ذہانت و فطانت میں اتنے ارفع واعلی مقام پر فائز تھیں کہ صحابہ کرام کو کبھی بھی دین میں کوئی مشکل پیش آئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس ہی اسکا حل پایا۔ آپ کو فہم وفراست، علمی جلالت وفقاہت اور معرفت شریعت کی وجہ سے نبی کی تمام ازواج پر شرف تفوق حاصل تھا
 *ولادت با سعادت* آپ رضی اللہ عنھا کی ولادت با سعادت بعثت نبوی کے پانچویں سال ماہ شوال مطابق ماہ جولائی 614ء کو مکہ مکرمہ میں کاشانۂ صدیق میں ہوئی. حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا کاشانہ وہ برج سعادت تھا جہاں خورشیداسلام کی شعاعیں سب سے پہلے جلوہ فگن ہوئیں اسی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانامسلمان پایا(بخاری۔ج 1ص252)
 *نام و نسب* آپ کا نام عائشہ ہے آپ کے والد کا نام ابو بکر ابن قہافہ ہے اور ماں کانام ام رومان زینب بنت عامر ہے آپ رضی اللہ عنھا والد کی طرف سے قریشیہ تیمیہ ہیں اور والدہ کی طرف سے کنانیہ ہیں۔ اس لئے کہ والد کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم سے آپ کو تعلق ہے اور والدہ کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ کنانہ سے تعلق ہے۔
 *والد کی طرف سے نسب* :حضرت عائشہ بنت ابی بکر الصدیق بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک۔
 *والدہ کی طرف سے نسب:* حضرت عائشہ بنت اُمِ رومان زینب بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔
والد کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مرہ بن کعب سے آٹھویں پشت پر ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مالک بن کنانہ تک گیارہویں پشت پر ملتا ہے (تاریخ ابن اثیر ج3ص520)
 *کنیت* آپ کی کنیت اُمِ عبد اللہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں کنیت شرافت کا نشان تھا اور چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی اولاد نہ تھی اِس لیے کنیت بھی نہ تھی۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ازراہِ حسرت عرض کرنے لگیں کہ اور خواتین نے تو اپنی اپنی کنیت رکھ لی میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ فرمایا:اپنے بھانجے عبد اللہ کے نام پر(جو کہ آپ کی بہن حضرت اسماء بنت ابی بکر اورزبیر ابن عوام کے بیٹے تھے)اپنی کنیت ام عبداللہ رکھ لو 
 *خطاب والقاب* آپ رضی اللہ عنھا کا خطاب اُم المومنین ہے۔ القاب صدیقہ، حبیبۃ الرسول، المُبرۃ، المُوَفقہ، طیبہ، حبیبۃ المصطفیٰ اور حمیراء ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی آپ کو خطاب فرمایا ہے ۔علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یَا عَائش کے نام سے بھی خطاب فرمایا ہے۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد ج2ح8ص55تا70)
 *خاندانی پس منظر* عائشہ کے معنی ہیں خوشحال اور صاحب اقبال چونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک کھاتے پیتے اور خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد ماجد حضرت عبداللہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قریش کے سرداروں میں سے تھے اور قبیلہ تیم بن مرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ علم الانساب میں ماہر تھے اور ان کا کاروبار بھی دور دور تک پھیلا ہوا تھا لہذا خاندانی شرافت اور مالی خوشحالی کی بناء پر ان کے والدین نے عائشہ نام رکھا اور چشم فلک نے دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ام رومان کی بیٹی عائشہ اسم بامسمیٰ یعنی بلند اقبال ٹھہریں اور ام المومنین کے مرتبۂ عظیمہ پر فائز ہوئیں۔
 *نکاح ومہر* جس سال ام المومنین لمحضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنھا کا انتقال ہوا اسی سال حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ حضرت خولہ بنت حکیم حضورﷺ سے اجازت لے کر یار غار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا ہاتھ مانگنے تشریف لائیں۔چونکہ یہ نکاح مشیت الہی میں مقدر ہو چکا تھا اس لئے سیدنا ابوبکر بھی رضامند ہوگئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا نکاح مکہ میں ہجرت سے 3 سال پہلے چھ شوال کو ہوا جبکہ رخصتی تین سال کے بعد شوال ہی کے مہینے میں ہجرت کے بعد ہوئی۔اس بے مثال وبے نظیر نکاح پاک کا مہر 500 درہم تھا جسے حضرت صدیق اکبر کو ادا کیا گیا 
 حضرت عائشہ کا نکاح شوال کے مہینے میں ہوا تھا۔اس وقت عرب کے دستور کے مطابق اس مہینے میں شادی بیاہ کو معیوب بلکہ نحوست قرار دیا جاتا تھا جو کمزور عقیدے کی بنیاد پر تھا۔ کسی زمانے میں شوال میں طاعون کی وبا پھیلی تھی۔ تاریخ میں اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ 
حضرت ابو بکر صدیق نے یہ نکاح شوال 10 نبو ی میں منعقد کر کے عرب کے اس جاہلانہ تصور کی دھجیاں بکھیر دیں یہی نہیں بلکہ رخصتی بھی ماہ شوال میں کر کے اسلام کے نظریات کو مزید استحکام بخشا رخصتی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوئی عرب کا ایک دستور یہ بھی تھا کہ وہ منہ بولے بھائی کی بیٹی سے نکاح کو برا تصور کرتے تھے چنانچہ حضرت ابوبکر نے اپنی بیٹی حضرت عائشہ کا نکاح حضوراکرمﷺ سے کر کے ان کے باطل نظریئے کو زد پہنچائی اور یوں اسلامی نظریات و عقائد کو مزید تقویت پہنچانے کا باعث بنے
 *ازدواجی زندگی* :رسول اللہ ﷺ کی تمام زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے۔تمام امور میں پیدائش سے موت تک نبی کریم ﷺ کی ذات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔گھریلو زندگی کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ کہ ایک معمولی سا حجرہ تھا۔ بلندی اتنی تھی کہ ایک آدمی کھڑا ہوتا تو ہاتھ چھت کو لگ جاتا تھا۔چھت کھجوروں کے ٹہنیوں کی تھی۔ ایک چارپائی، چٹائی،بستر، کھجور کی چھال سے بھرا تکیہ اور چند برتن ہی کل مال ومتاع تھا۔کاشانہ مصطفیٰ تو مرکز انوار وتجلیات تھا لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا خود فرماتی ہیں کہ چالیس چالیس راتیں گزر جاتیں اور ہمارے گھر کا چراغ نہیں جلتا تھا۔کھانا پکانے کی نوبت بھی کم ہی آتی تھی۔کبھی تین دن ایسے نہیں گزرے کہ خانہ نبوت نے پیٹ بھر کر کھایا ہو۔ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفاقت کا دورانیہ نو برس رہا۔ اس تمام عرصہ آپس میں محبت و شفقت اور ہمدردی، میں گزرے۔ گھر میں خادمہ کے ہوتے ہوئے بھی رسول اللہﷺ کے کام اپنے ہاتھ سے انجام دینے کو باعث فخر و عزت گرادنتی تھیں۔کبھی کبھار نوک جھوک ہوجائے اور رسول اللہﷺناراض ہوجاتے تو اس وقت تک چین سے نا بیٹھتی کہ جب تک رسول اللہ ﷺ کو راضی نہ کرلیتیں۔
 *خصوصیات* حضرت عائشہ صدیقہ ؓ حضور اکرمﷺ کی محبوب ترین رفیقہ حیات تھیں۔ وہ حسین و جمیل ہی نہیں بلکہ نہایت ذہین، عقل مند، معاملہ فہم، دور رس نگاہ کی حامل تھیں۔ تفسیر، علم حدیث فقہ و قیاس، عقائد اور خواتین کے بارے میں خصوصی علوم کی حامل تھیں۔ آپ رضی اللہ عنھا نہایت عبادت گزار اور وفا شعار خاتون تھیں سخت گرمی میں بھی روزے رکھا کرتی تھیں۔ خادمہ کی موجودگی میں بھی آٹا خود پیستیں، حضوراکرمﷺ کو روٹی پکا کر دیتیں، آپﷺ کا بستر بچھاتیں، کپڑے دھوتیں وقت نماز وضو کیلئے پانی اور مسواک مہیا کرتی تھیں۔ بیوی کا سب سے بڑا جوہر شوہر کی فرمانبرداری ہوتا ہے جو آپ میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ آپ ﷺ کے ساتھ نو برس تک خلوت وجلوت میں رہیں
 *حضرت عائشہ اور خدمت حدیث* احادیث مصطفیٰ خواتین میں سب سے زیادہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، حضرت عائشہ مکثرین الروایة صحابیات میں سے ہیں، آپ کی مرویات کی تعداد 2210بیان کی گئی ہے(القرطبی ص79)، جن میں286 حدیثیں بخاری ومسلم میں موجود ہیں مرویات کی کثرت کے لحاظ سے صحابہ کرام میں ان کا چھٹا نمبر ہے(خدمت حدیث میں خواتین کا حصہ ص17)، مرویات کی کثرت کے ساتھ احادیث سے استدلال اور استنباط مسائل، ان کے علل واسباب کی تلاش وتحقیق میں بھی ان کو خاص امتیاز حاصل تھا اور ان کی اس صفت میں بہت کم صحابہ ان کے شریک تھے کتب حدیث میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں۔
امام زہری جو کبار تابعین میں سے ہیں وہ فرماتے ہیں:”کانت عائشة اعلم الناس یسالھا الاکابر من اصحاب رسول اللہ ﷺ“(سیرالصحابیات ص28)، یعنی حضرت عائشہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی تھیں اجِلہ صحابہ کرام ان سے مسائل دریافت کرتے تھے دوسری جگہ یوں رقمطراز ہیں:”اگر تمام ازواج مطہرات کا علم بلکہ تمام مسلمان عورتوں کا علم جمع کیا جائے تو حضرت عائشہ کا علم سب سے اعلی وافضل ہوگا“(الاستیعاب 1883/4)۔
 *حضرت عائشہ کی فقہی بصیرت*  ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ فقہی میدان میں سب سے آگے تھیں ان کے ذہن میں جو بھی اشکال پیدا ہوتا وہ فوراً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا اظہار کرتیں اور آپؐ اس کی وضاحت فرمادیتے۔ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:مَن حُوسِبَ عُذِّبَ( روزِ قیامت جس کا حساب لیا گیا وہ گرفتارِ عذاب ہوگا۔) اس پر حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! قرآن میں تو کہا گیا ہے:فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَاباً یَسِیْراً ً( اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔)اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ اس سے مراد اعمال کی پیشی ہے۔جس کے اعمال میں جرح شروع ہو گئی وہ توہلاک ہوگیا ‘‘ ( بخاری، کتاب العلم،۱۰۳)حضرت عائشہ کے شاگردِ خاص اور بھانجے حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں: ’’ میں حضرت عائشہ ؓ کی صحبت میں رہا۔ میں نے ان سے زیادہ آیات کی شانِ نزول، فرائض، سنت ، شعر و ادب ، عرب کی تاریخ اور قبائل کے انساب وغیرہ اور مقدمات کے فیصلوں، حتیٰ کہ طب کا جاننے والا کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔(سیر اعلام النبلاء، ذہبی :۲؍۱۲۸۔۱۲۹) عطا بن ابی رباح کہتے ہیں:’’حضرت عائشہؓ لوگوں میں سب سے بڑی فقیہ سب سے زیادہ علم رکھنے والی اور عوام میں سب سے اچھی أصابت رائے رکھنے والی تھیں۔‘‘(تلخیص المستدرک، ذہبی:۴؍۱۴)امام ذہبی ؒفرماتے ہیں:’’رسول اللہ ﷺ کی امت میں، بلکہ مطلقاً سب ہی عورتوں میں ان سے زیادہ علم والی کسی عورت سے میں واقف نہیں ہوں۔‘‘(سیر اعلام النبلاء، ذہبی:۱؍ ۱۰۱) حضرت عائشہ فتوی اور درس دیا کرتی تھیں، یہی نہیں بلکہ آپ نے صحابہ کرام کی لغزشوں کی بھی نشاندہی فرمائی، علامہ جلال الدین سیوطی اور زرکشی رحمہما اللہ نے اس موضوع پر”الاصاب فیما استدرکتہ عائشة علی الصحاب“ کے نام پر مستقل کتاب لکھ رکھی ہے، حضرت عائشہ سے روایت کرنے والے صحابہ وتابعین کی تعداد سو سے متجاوز ہے“(تھذیب التھذیب: 12/461، 463) حافظ ابن حجر نے ان سے متعلق لکھا ہے:’’انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی باتیں یاد رکھیں۔ وہ آپ کے بعد تقریباً پچاس سال زندہ رہیں، چنانچہ لوگوں نے ان سے بہت زیادہ اخذ و استفادہ کیا اور بہت سے احکام و آداب ان سے نقل کیے یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ شریعت کے ایک چوتھائی احکام ان سے منقول ہیں۔‘‘ ( فتح الباری، ابن حجر:۷؍۴۷۹)
حافظ ابن حجر ؒ نے تہذیب التہذیب میں حضرت عائشہ ؓ سے استفادہ کرنے والے اٹھاسی(۸۸) افراد، جن میں صحابہ اور تابعین، مرد اور عورت، آزاد اور غلام سب ہیں،ان کے نام گنانے کے بعد لکھا ہے: و خلق کثیر ، یعنی ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد نے ان سے روایت کی ہے۔( تہذیب التہذیب، ابن حجر:۱۲؍۳۸۵)
 *دیگر علوم وفنون* حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نہ صرف قرآن و حدیث پر مہارت رکھتی تھیں بلکہ آپ رضی اللہ عنہا کو تاریخ ادب، خطابت اور شاعری میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ علم طب میں بھی انہیں اچھی خاصی واقفیت حاصل تھی۔ تذکرۃ الحفاظ للذہبی میں ہشام بن عروہ کا بیان ہے کہ میں نے قرآن، فرائض، فقہ، شاعری، عرب کی تاریخ اور علم الانساب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ عالم اور واقف کسی کو نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا اسی قسم کا فرمان زرقانی نے بھی نقل کیا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک شخص نے پوچھا: آپ شاعری کرتی ہیں اس لئے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں۔ اسی طرح عرب کی تاریخ اور علم الانساب میں بھی آپ رضی اللہ عنہا کے والدماجد خاصی مہارت رکھتے تھے۔ ان علوم کی آشنائی آپ رضی اللہ عنہا کی وراثت ہے مگر آپ رضی اللہ عنہا کو علم طب سے کیسے واقفیت ہوئی؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری عمر میں بیمار رہا کرتے تھے۔ عرب کے طبیب آکر جو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بتاتے وہ یاد کرلیتی تھی۔ (مستدرک حاکم، مسند احمد)
 *فضائل وکمالات* : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ رسول اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ !آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : عائشہ عرض کی مردوں میں کون ہے؟ فرمایا : اس کا باپ ایک دفعہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ام المئومنین کو سمجھاتے ہوئے کہا :بیٹی عائشہ کی ریس نہ کیا کرو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اس کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے ۔رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مردوں میں بہت کامل گزرے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا کوئی کامل نہ ہوا اور عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر۔امام ذہبی لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ پوری امت کی عورتوں سے زیادہ عالمہ ،فاضلہ ، فقیہہ تھیں. عروہ بن زبیر کا قول ہے : میں نے حرام وحلال ، علم وشاعری اور طب میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاسے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھافرماتی ہیں کہ میں فخر نہیں کرتی بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر کہتی ہوں کہ دنیا میں ۹ چیزیں ایسی ہیں جو صرف اللہ نے مجھے عطا کی ہیں میرے سوا کسی کو نہیں ملیں(1)خواب میں فرشتے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری صورت پیش کی۔(2) جب میں سات برس کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا (3) جب میرا سن ۹ برس کا ہوا تو رخصتی ہوئی (4) میرے سوا کوئی کنواری بیوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ تھی (5) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے بستر پر ہوتے تب بھی وحی آتی تھی (6) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھی (7) میری شان میں قرآن کی آیتیں اتریں (8) میں نے جبریل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا (9) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔
 *وفات* :سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات حسرت آیات 17 رمضان المبارک 58 ھ منگل کے دن بیماری کے باعث اپنے گھر میں ہوئی۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے لہذا وصیت نافذ کی گئی اور جنت البقیع میں مدفون ہیں 
آپ رضی اللہ عنھا کی نماز جنازہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے رات میں نماز وتر کے بعد پڑھایا تھا۔(البداية والنهاية، لابن کثير، ج 4، جز، 7، ص،97)
بنت  صدیق    آرام   جان    نبی
 اس حریم برأت پہ لاکھوں سلام
یعنی ھے سورہ نور جن کی گواہ
 ان کی  پر نور صورت  پہ لاکھوں