اُمُّ المُؤمِنِین زوجہ حضور رحمتہ للعالمین حَضرَتِ عَائِشَہ صِدِّیِقَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰیٗ عَنہَا کی سیرت کے درخشاں پہلو

تحریر: مفتی شاکرالقادری فیضی
زوجئہ حضور رحمتہ للعالمین، اُمّ المؤمنین حضرتِ سیدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا* کی عظمت ورفعت فضائل و کمالات اور  محاسن وخوبیاں بیان سے باہر ہیں. زبان وقلم  میں یہ سکت نہیں کہ ان کی شان عظمت مقام رفعت کو بیان کرسکے. 
 شیخ الاسلام والمسلمین اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں 
*بنتِ   صدیقِ    آرامِ    جانِ   نبی*
*اُس حریمِ برأت پہ لاکھوں سلام*
*یعنی ہے سورۂ  نور جسکی گواہ*
*انکی پر نور صورت پے لاکھوں سلام*
*ولادت باسعادت* 
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت امیرالمومنین  حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ولادت باسعادت 5سال بعد اظہار نبوت مطابق شوال المکرم 615 عیسوی مکہ المکرمہ میں ہوئی.
 نام نامی *عائشہ*  لقب *صدیقہ*   خطاب *حمیرا* اور *ام عبداللہ* کنیت – 
والد محترم کی طرف سے قریش کے خاندان بنوتمیم سے تھیں. 
*سلسلہ نسب*  حضرت عائشہ بنت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بن عثمان ابی قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب بن لوئ .
اور ماں صاحبہ کی طرف سے آپ کنانیہ مشہور تھیں اس کی تشریح اس طرح ہے حضرت عائشہ بنت حضرت ام رومان بنت عمیر بن عامر بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ (طبقات ابن سعد ج 8 ص 39)
والدہ محترمہ کا نام ام رومان بنت عامر تھا اور یہ بھی جلیل القدر صحابیہ تھیں . 
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا زمانہ طفولیت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے جلیل القدر باپ کے زیر سایہ بسرہوا. وہ بچپن ہی سے بے حد ذہین ‘ہوشمند تھیں ‘ اپنے بچپن کی تمام باتیں انھیں آخری عمر تک یاد تھیں کہاجاتا ہے کہ کسی دوسرے صحابی یاصحابیہ کی یادداشت اتنی قوی نہ تھی.
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پیدائشی مسلمان تھیں, آپ سے روایت ہے کہ جب میں نے اپنے والدین کو پہچانا تو انھیں مسلمان پایا. اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ پر روز ازل سے ہی کفروشرک کا سایہ تک نہ پڑا. 
*شادی خانہ آبادی*
حضور اقدس رحمت تمام صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ و سلم سے پہلے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نسبت "جبیر بن مطعم ” کے بیٹے سے ہوئی تھی مگر جبیر نے اپنی ماں کے ایماء پر یہ نسبت اس لئے فسخ کردی کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عتیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے اہل مسلمان ہوچکے ہیں. اس کے بعد حضرت خولہ بنت حکیم کی تحریک پر حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے عقد مبارک مکہ مکر مہ ماہ شوال المکرم  میں ایک روایت کے مطابق ہجرت سے ایک سال قبل بروایت دیگر تین سال قبل 621 عیسوی میں انتہائی سادہ و سادگی سے ہوا. امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خود نکاح پڑھایا, پانچ سو درہم حق مہر مقررہوا. 
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کے تین سال بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ ہجرت فرما کر مدینہ شریف تشریف لے گئے. مدینہ منور پہنچ کر سرور کائنات نورمجسم صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن حارثہ, حضرت ابورافع ‘اور حضرت عبداللہ بن اریقط رضی اللہ عنہم کو اپنے اہل وعیال کولانے کیلئے مکہ مکرمہ بھیجا. واپسی پر حضرت زید بن حارثہ کے ہمراہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا ‘حضرت ام کلثوم ‘ حضرت سودہ بنت زمعہ ‘حضرت ام ایمن اور حضرت اسامہ بن زید تھے. اور حضرت عبداللہ بن اریقط کے  ہمراہ حضرت عبداللہ بن ابوبکر’ حضرت ام رومان’ حضرت عائشہ صدیقہ اورحضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہم اجمعین تھیں.
 مدینہ منورہ پہونچ کر 
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا محلہ بنوحارث میں اپنے والد مکرم کے گھر اتریں. ماہ شوال المکرم 2ہجری میں مطابق 624عیسوی میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی اس وقت آپ کی عمر مبارک نو سال کی تھی. اس طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کے در دولت میں پہنچ کر شادی خانہ آبادی کی عظیم نعمت سے مالا مال ہوئیں. حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم نے بہت سادگی ایک پیالہ دودھ سے  لوگوں کی دعوت ولیمہ فرمائی-
(ملخص مدارج نبوۃ جلد دوم ‘ازواج مطہرات) 
*اُمُّ المؤمِنینٗ کا مقام ومرتبہ*
   محبوب رب المشرقین والمغربین تاجدارِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ و سلم کی نگاہ میں آپ کا مقام و مرتبہ اور آپ سے جو محبت تھی وہ نا قابلِ بیان ہے 
   حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ جب غزوۂ سلاسِل سے واپس آئے تو انہوں نے حضورِ اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم "آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا *عائشہ*، انہوں نے عرض کی مردوں میں؟ فرمایا ان کے والد (حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ) – {بخاری شریف} 
*علم وفضل*
    ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالٰی عنہن  میں آپ کا درجہ فقہ وحدیٹ علم وفضل میں بہت ہی بلند ترین اورممتازہے – خود آقائے کائنات صل اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :” اپنے دین کا نصف علم اس حُمیرا یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سیکھو“ –
  اور حضرت امام زہری کے یہ پیارے الفاظ آپ کے علم و ہنر میں مہارت تامہ ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں – فرماتے ہیں: اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے علم کے مقابلے میں تمام امّھات المؤمنین، بلکہ تمام عورتوں کے علوم کو رکھا جائے تو حضرتِ عائشہ صدیقہ کے علم کا پلہ بھاری ہوگا -ام المومنین  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ‘امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم اور امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہم کے دور میں آپ فتوی دیاکرتی تھیں ‘اکابر صحابہ ‘صحابیہ آپ کے علم وفضل کے معترف تھے اورمسائل میں آپ سے استفسار کیا کرتے تھے آپ سے دوہزار دوسو دس(2210) حدیثیں مروی ہیں جن میں سے ایک سوچوہتر(174)حدیثوں پر بخاری و مسلم نے اتفاق کیاہے. علمائے کرام فرماتے ہیں کہ احکام شرعیہ کا ایک چوتھائی آپ سے منقول ہے. تفسیر ‘ حدیث ‘ اسرار شریعت ‘خطاب, ادب اور انساب میں آپ کو بہت کمال حاصل تھا –
{زرقانی جلد دوم’ جلد سوم فضائل اہلیت ‘شان صحابہ }
*ازواجِ مُطہّرات پر فوقیت*
   اوصاف وکمالاتِ ‘علم و فضل ‘فہم و فراست ‘ تبلیغِ دین ‘ زہد وتقوی اور حبِ رسول اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کے لحاظ سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا  کو کافی فوقیت حاصل تھی. 
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ خود فرماتی ہیں
 دس خوبیوں (اوصاف) سے مجھے دیگر ازواجِ مطہرات پر فوقیت حاصل ہے –
(1)  حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا –
(2)  میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مُہاجر ہوں –
(3)  اللہ تعالٰی نے میری پاکدامنی کا بیان آسمان سے قرآن میں نازل فرمایا –
(4)  نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کو دکھلا دی تھی اور آپ تین راتیں مجھے خواب میں دیکھتے رہے –
(5)  میں اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی برتن میں سے پانی لے کر غسل کیا کرتے تھے یہ شرف میرے سوا ازواجِ مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا –
(6)  حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نمازِ تہجد پڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی امہات المؤمنین میں سے کوئی بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس کریمانہ محبت سے سرفراز نہیں ہوئی –
(7)  میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خدا کی وحی نازل ہوا کرتی تھی یہ اعزازِ خداوندی ہے جو میرے سوا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی کسی زوجہ محترمہ کو حاصل نہیں ہوا –
(8)  وفاتِ اقدس کے وقت میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی گود میں لئے ہوئی تھی اور آپ کا سرِ انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا وصال ہوا –
(9)  حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا –
(10)  آقائے کائنات علیہِ التّحیتہ والثناء کی قبرِ انور خاص میرے گھر (حجرۂ عائشہ) میں بنی – { سیرت المصطفی}
 *عِبادَت و رِیاضَت*
   عبادت و ریاضت میں بھی آپ کا مقام و مرتبہ بہت ہی اَرفع و اعلیٰ ہے – آپ بکثرتِ فرائض کے علاوہ نوافل پڑھتیں اور اکثر روزہ دار رہتیں، ہر سال حج کرتیں – آپ کے بھتیجے حضرتِ قاسم بن محمدبن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہم کا بیان ہے کہ بی بی عائشہ صدّیقہ  رضی اللہ تعالٰی عنہا بلا ناغہ تہجد کی نماز پڑھنے کی پابند تھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہا کرتیں –
(ازواج مطہرات) 
*خَشیتِ ربّانی*
   خوفِ خداوندی اور خشیتِ ربانی کا یہ عالم کہ ایک بار دوزخ کی یاد آگئی تو رونا شروع کر دیا – سرکارِ مدینہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے رونے کا سبب دریافت فرمایا تو عرض کیا کہ مجھے دوزخ کا خیال آگیا اسلئے رو رہی ہوں –
*شاعری*
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو شعروشاعری میں بھی بہت مہارت حاصل تھی- جب کوئی ضرورت درپیش ہوتی تو فی البدیہ اشعار میں گفتگو کرتی تھیں. 
ام المومنین رضی اللہ عنہا کے یہ دو شعر حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی مدح میں مروی ہیں
*لوسمعوافی مصر اوصاف خدہ*
*لمابذلو فی سوم یوسف من نقد*
*لواحی زلیخالوراین حبیبۂ*
*لاثرن بالقطع القلوب علی الایدی*
(زرقانی جلد سوم)
*وصَالِ اُمّ المؤمِنین*
   ماہ رمضان المبارک کی سترہ تاریخ 57یا58ہجری مطابق 13جولائی 678عیسوی چھیاسٹھ (66) سال کی عمر میں آپ کا وصال مدینہ منوّرہ میں ہوا-انا للہ و انا الیہ راجعون 
(طبقات ابن سعد جلد8)
 – حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیّت کے مطابق رات میں آپ کو جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی قبروں کے پہلو میں تدفین ہوئی- 
ام المؤمنین حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی ذاتِ مبارکہ حُسن علم و ادب فضل وکمال ‘ ریاضت و روحانیت’ پیکرِ شرم و حیا ‘ مجسمۂ عفّت و عصمت ‘ سیرت و خصلت ‘ ذہانت و فطانت ‘ علم و ہنر کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں کا مجموعہ کمالات تھیں  آپ کی ذاتِ مبارکہ خواتین کے لئے حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کا ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے جن کی زندگی کے آئینہ میں دنیا اور دین دونوں سنوارے جا سکتے ہیں – حضرت ام المؤمنین کی سیرتِ مبارکہ سے ہماری ماں بہنوں کو اپنی زندگی سنوارنی چاہیے اور ہم سب کو زیادہ سے خراج عقیدت پیش کرکے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی بارگاہ اقدس کا قرب حاصل کرنی چاہئے. 
اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔