غزوہ بدر: ایک تاریخ ساز معرکہ

تحریر: ازہرالاسلام ازہری نعمانی
جنگ بدر تاریخ اسلام کا پہلا اور عظیم الشان معرکہ تھا جس میں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کی ایک قلیل جماعت کو ان کی بے سروسامانی کے باوجود مشرکین کے ایک بڑے اور ہر طرح کے جنگی آلات سے لیس گروہ پر ایک روشن فتح عطا فرمائی تھی جسے مورخین نے ”غزوہ بدر الکبری“ اور غزوہ ب سے موسوم کیا ہے مگر قرآن کریم میں اسے یوم الفرقان (یعنی حق و باطل اور خیر و شر کے درمیان حد فاصل کھینچنے والے دن) سے تعبیر کیا گیا ہے.
غزوہ بدر وہ فیصلہ کن اور تاریخ ساز جنگ تھی جس نے امت اسلامیہ کی تفسیر اور دعوت اسلام کے مستقبل کا فیصلہ ہوا اس کے بعد آج تک مسلمانوں کو جتنی بھی فتوحات اور کامیابیاں نصیب ہوئیں وہ سب اسی ”فتح مبین“ کی مرہون منت ہیں جو بدر کے میدان میں اس مٹھی بھر جماعت کو حاصل ہوئی۔
معرکہ بدر کے اسباب:
مکہ مکرمہ میں اسلام کا سورج جیسے ہی طلوع ہوا کفار و مشرکین اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے درپے ہوگئے پھر جیسے جیسے اسلام کا دائرہ بڑھتا گیا ان ریشہ دوانیاں بھی بڑھتی رہیں۔ دامن اسلام سے وابستہ ہونے والوں پر نت نئے مظالم ڈھائے گئے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو اپنا گھر بار،قیمتی مال و متاع چھوڑ کر پہلے حبشہ پھر مدینہ کی جانب ہجرت کرنا پڑا، 
ہجرت کے بعد بھی ظلم وزیادتی کا سلسلہ جاری رہا بلکہ اور زور پکڑ گیا، کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو زیارتِ کعبہ سے روکا، املا کِ مومنین ضبط کیں، مدینہ منورہ پر لشکر کشی کی تیاری کی، اسلام کے خلاف ماحول سازی کی، رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے قتل کے منصوبے بنائے، اہلِ ایماں پر ستم ڈھائے کہ وہ دین سے باز آجائیں … اِسی کے نتیجے میں اسلام کی پہلی جنگ ”بدر“ کے میدان میں ہوئی۔ماہِ رمضان کے شروع میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ اہلِ قریش کا تجارتی مال و اسباب سے بھرا ہوا قافلہ شام سے مکہ آرہا ہے اس کے ساتھ تیس یا چالیس آدمی خاص اہلِ قریش کے ہیں جن کا سردار ابو سفیان ہے اور اس کے ہمراہیوں میں عمرو بن العاصی و محزمۃ بن نوفل ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مسلمانانِ مہاجرین و انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جمع کرکے اس قافلے کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ (ابن خلدون /اول/۷۱)
 اتفاق سے یہ خبر رفتہ رفتہ ابو سفیان تک پہنچ گئی اس نے مسلمانوں سے ڈر کر ضمضم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر مکہ کی طرف روانہ کیا اور یہ کہلا بھیجا کہ تمہارا قافلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور انکے تابعین کی وجہ سے معرض زوال میں ہے، دوڑو اوراپنے قافلے کو بچاؤ۔ چنانچہ اہلِ مکہ یہ سنتے ہی سب کے سب نکل کھڑے ہوئے سوائے چند افراد کے جن میں ابو لہب بھی تھا۔ ابو سفیان اپنے قافلے کو ساحل کے ساتھ ساتھ لے کر مکہ کی جانب چلا تو راستے میں اہلِ مکہ بھی مل گئے اس نے خوش ہو کر کہا چلو واپس چلو ہمارا قافلہ صحیح و سالم بچ آیا مگر ابو جہل نے ابو سفیان کے مشورے کو رد کر دیا اور فوج کو بدر تک جانے پر اصرار کیا۔ اس نے بڑے تکبر اور غضب سے کہا، خدا کی قسم! ہم واپس نہیں جائیں گے ہم بدر تک جائیں گے اور تین دن وہاں ٹھہریں گے اور اونٹ ذبح کریں گے اور کھائیں گے کھلائیں گے اور شراب نوشی کریں گے اور گلوکارائیں ہمارے لیے گانے گائیں گی اور عرب ہمارے متعلق اور ہماری پیش قدمی سے متعلق سنیں گے تو ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں گے۔
(سبل الہدی و الرشاد، ۴:۲۹)جب سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ کی پیش قدمی، ان کی تعداد اور ان جنگی تیاریوں کے بارے میں پتا چلا
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مہاجرین و انصار کوجمع کرکے مشورہ کیا۔ پہلے مہاجرین نے نہایت خوبصورتی اور بسرو چشم ہر حکم بجالانے کا اقرار کیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے انصار کی طرف رخ کیا ان میں سے حضرت سعد بن معاذ نے نکل کر عرض کیا ”اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم! ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم دریا میں کودنے کوفرمائیں گے تو ہم اس میں بھی غوطہ لگا دیں گے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اللہ کے نام پر ہمارے ساتھ چلئے، ہم ساتھ چھوڑنے والوں میں سے نہیں ہیں۔“ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم یہ سن کر خوش ہوگئے اور یہ ارشاد فرمایا: ”کہ تم لوگوں کو بشارت ہو،کہ اللہ جل شانہٗ نے مجھ سے فتح و نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔“(طبقات ابن سعد، ۱:۳۱۵)
?? رمضان المبارک سن? ہجری بروز جمعہ 
اشراق کے بعد کفار کی فوج اپنے دلدلی حصہ زمین سے اسلامی فوج کی طرف بڑھی اور بدر کی بے شجر وادی میں دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں، ایک جانب لوہے میں ڈھکے ہوئے سرتا پا مسلح فنِ جنگ کے خوب ماہر قہر مجسم ایک ہزار قریشی سرداروں، پہلوانوں اور نامور بہادروں کی پیش قدمی ہے تو دوسری جانب ۳۱۳ اسلامی لشکر کے افراد کہ جن کے پاس مکمل جنگی سازو سامان بھی نہیں ہے اکثر کے لباس بھی پھٹے پرانے ہیں۔ تمام ظاہری آثار بتاتے ہیں کہ قریشی لشکر اسلامی لشکر کا صفایا چند لمحوں میں بڑی آسانی سے کردے گا۔
سب سے پہلے مغرور سردارعتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولیدکے ساتھ آگے بڑھا اور بڑے زعم سے مبارزت طلب کی، انصار اصحاب میں سے حضرات عوف، معاذ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مقابلہ کیلئے آگے بڑھے تو عتبہ نے کہا کہ ہم انصار مدینہ سے مقابلہ نہیں چاہتے تم ہمارے جوڑ کے نہیں مہاجرین میں سے کسی کو جرا?ت ہو تو آ گے آئے، تب چیلنج دینے والے اس مغرور کے سردار کے ایک فرزند (جو مسلمان ہو چکے تھے) حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے چاہا کہ اپنے کافر باپ کا مقابلہ کریں مگر حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے آپ کو روک دیااور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے محترم چچا اسد اللہ و اسد الرسول حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت عبیدہ ابن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو آگے بھیجا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے شیبہ بن ربیعہ کو ایک ہی وار میں واصل جہنم کردیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اسی آنِ واحد میں ولید بن عتبہ کا خاتمہ کیا اور عتبہ بن ربیعہ اور حضرت عبیدہ کے باہم مقابلے میں حضرت عبیدہ کے پاؤں کٹ گئے تو حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عتبہ کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔
(تاریخ طبری، ۱:۱۷۹)
تین ممتاز و معزز و نامور سردارانِ قریش کے اس طرح مارے جانے پر کفار کی فوج میں صف ماتم بچھ گئی اور عجیب ہیبت کی دھاک بیٹھ گئی۔ اسلامی لشکر میں فرطِ فرحت و تشکر سے احد…احد …اور اللہ اکبر…اللہ اکبر … اللہ اکبر…. کے فلک بوس نعرے گونجنے لگے جو کفار کے حق میں جگر شگاف تھے۔ بعد ازاں کفار نے اپنے مقام سے تیر برسائے جن سے حضرت مہجع بن صالح اور حضرت حارثہ بن سراقہ شہید ہو گئے۔ اور پھر گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی۔لشکر اسلام کے علم بردار حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے حقیقی بھائی جو مشرک تھا عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت سیدنا فارقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔
میدانِ کارزار کا ایسا ہولناک  منظر تھا کہ گویا زمین پر زلزلہ تھا، پہاڑ لرز رہے تھے، اور آسمان پھٹ رہا تھا، حضور انور و اقدس  سپہ سالارِ لشکر اسلام علیہ افضل التحیاۃ والصلوٰۃ والسلام داخل عریش ہوئے اور دونوں مبارک ہاتھوں کو پھیلا کر حق تعالیٰ جلِ جلالہٗ عم نوالہٗ سے نہایت خلوص و عجز سے عرض کرنے لگے ”یا الٰہ العالمین، یا ذوالجلال والاکرام اگر آج اس میدان میں یہ نہتے مسلمان کٹ جائیں اور مٹ جائیں توپھر تیری عبادت کرنے والے بندے دنیا میں کوئی باقی نہ رہیں گے، یا الٰہی تیری عبادت کرنے والے ان نہتے مسلمانوں کو آج فتح سے نواز، اے مولیٰ تیرا وہ وعدہ کہ مسلمانوں کو فتح سے سرخرو فرمائے گا اب پورا فرما…الخ۔ (سیرت ابن ہشام، ۲:۶۲۷ و مسلم ۲:۹۳)
چنانچہ اس دن صحابہ کرام رضی? عنہم کی مختصر سی جماعت نے جو تعداد اور ساز و سامان دونوں لحاظ سے دشمن سے کم تھی ایسی جرأت،ہمت اور استقلال سے مقابلہ کیا اور اپنے امیر جناب رسول خدا ﷺ کی ایسی اطاعت کی اور رسول خدا ﷺ نے ایسے بروقت اور بر محل ماہرانہ فیصلے فرمائے کہ جن سے جنگ کا نتیجہ حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کے حق میں نکلا اس جنگ میں ستر کافر مارے گئے۔ ستر گرفتار ہوئے اور چودہ مسلمان مقام شہادت سے سرفراز ہوئے۔? تعالیٰ نے اپنے نبی برحق ﷺ کی دعا قبول کر لی اور کفا ر کو ذلیل و خوار کر دیا۔
شہداء و شرکائے بدر کی فضیلت
رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے
”جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا آپ اہلِ بدر کو مسلمانوں میں کیسا سمجھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا! سب مسلمانوں سے افضل سمجھتا ہوں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ فرشتوں میں سے جو فرشتے بدر میں حاضر تھے ان کا درجہ بھی ملائکہ میں ایسا ہی سمجھاجاتا ہے۔“ (بخاری: کتاب المغازی، باب شھود الملٓئکۃ بدرا، فتح الباری، ۷:۳۶۲
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے روایت کیا کہ
”رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اہلِ بدر کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ہے اب تم جو چاہو سو کرو۔“(ابو داؤدشریف، ۲:۲۹۱۔۲۹۲، مطبوعہ امدادیہ ملتان
اندلس کے مشہور سیاح محمد بن جبیر (متوفی ۲۷ شعبان ۶۱۴ھ) نے بدر کے حال میں یوں لکھا ہے۔
”اس موضع میں کھجور کے بہت باغات ہیں۔ اور آبِ رواں کاایک چشمہ ہے۔موضع کا قلعہ بلند ٹیلے پر ہے۔ اور قلعہ کاراستہ پہاڑوں کے بیچ میں ہے۔ وہ قطعہ زمین نشیب میں ہے جہاں اسلامی لڑائی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت اور اہلِ شرک کو ذلت دی۔ آج کل اس زمین میں کھجور کا باغ ہے اور اس کے بیچ میں گنج شہیداں ہے۔ اس آبادی میں داخل ہوتے وقت بائیں طرف جبل الرحمۃ ہے۔ لڑائی کے دن اس پہاڑ پر فرشتے اترے تھے۔ اس پہاڑ کے ساتھ جبل الطبول ہے۔ اس کی قطع ریت کے ٹیلے کی سی ہے۔ کہتے ہیں ہر شب جمعہ کواس پہاڑ سے نقارے کی صدا آتی ہے۔ اس لیے اس کا نام جبل الطبول رکھا ہے۔ ہنوز نصرت نبوی ا کا یہ بھی ایک معجزہ باقی ہے۔ اس بستی کے ایک عرب باشندے نے بیان کیا کہ میں نے اپنے کانوں سے نقاروں کی آواز سنی ہے اور یہ آوا زہر جمعرات اور دو شنبے کو آیا کرتی ہے اس پہاڑ کی سطح کے قریب حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے تشریف رکھنے کی جگہ ہے اور اس کے سامنے میدانِ جنگ ہے۔“ (سیرت رسول عربی:۱۳۷ و رحلۃ ابن جبیر: ۱۹۲)
ظہورِ معجزات:
معرکہ بدر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کئی معجزات ظاہر ہوئے، میدانِ جنگ میں اپنی صفوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میدان کے وسط میں تشریف لائے اور جنگ سے ایک روز قبل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے عصائے مبارکہ سے مختلف لکیریں میدان میں کھینچتے ہوئے فرمایا: ”کل یہاں عتبہ بن ربیعہ کی موت ہوگی، اور یہاں اس دور کے فرعون ابو جہل کی موت واقع ہوگی، الغرض مشرکین کی موت اور ان کے مقتل کی جیسی نشاندہی فرمائی گئی تھی اس سے ہٹ کر وقوع نہ ہوا۔“ (مسلم شریف، ۲:۱۰۲)
حضرت عکاشہ کے پاس ایک زنگ آلود پُرانی تلوار تھی جو ٹوٹ گئی تو رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے میدان سے ایک سوکھی جنگلی جلانے والی لکڑی اپنے دست مبارک سے اٹھا کر انہیں دے دی اور ارشاد فرمایا: ”جاؤ اس سے لڑو“ وہ لکڑی حضرت عکاشہ کے ہاتھ میں ایک سفید چمکدار فولادی تیز تلوار بن گئی اور عرصہ? دراز تک (۱۱ہجری) ان کے پاس رہی۔ اسی طرح حضرت سلمہ بن اسلم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو بھی حضور ا نے کھجور کی سوکھی شاخ دی جو کہ فوراً ایک تیز دھار تلوار بن گئی۔ حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک خزرجی انصاری و حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی زخمی آنکھوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے لعابِ دہن سے تندرست کر دیا۔ (ابن کثیر،۲:۴۴۶۔۴۴۷)
کفر و اسلام کے پہلے معرکہ میں نہ صرف رسول عربی ﷺ کی قائدانہ صلاحیتیں اور حربی امور کی ماہرانہ اصول اجاگر ہوئے۔بلکہ اس عظیم معرکے میں مجاہدین اسلام کے لئے بہت سے قیمتی اسباب پوشیدہ ہیں۔غزوہ بدرمیں ابتداء سے آخر تک آپ ﷺ نے دفاع،حملہ اور دوسرے اہم مراحل میں لشکر اسلام پر مکمل کنٹرول قائم رکھا۔صحابہ کرام رضی? عنہم کے جذبہ جہاد و شہادت کو اجاگر کیا اور ہر حال میں امیر کی اطاعت کا حکم دیا۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی? عنہم نے میدان جہاد میں جتنے بھی کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔یہ تمام ”اطاعت امیر“ کا نتیجہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس ”تین سو تیرہ“ کے بظاہر معمولی لشکر نے وہ غیر معمولی کام کر دکھایا جو تاریخ اسلام کے ماتھے کا ”جھومر“ ہے۔صحابہ کرام رضی? عنہم میں جذبہ جہاد اور جذبہ اطاعت اس قدر موجزن تھا کہ? تعالیٰ نے ان کو کبھی مایوس نہ کیا۔بلکہ ان کی نصرت کے لیے فرشتوں کے غول کے غول بھیج کر فتح و نصرت کو مسلمانوں کی جھولی میں لا ڈالا۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی معرکہ بدر نے یہ ثابت کر دیا کہ محض وسائل اور سپاہیوں کی کثرت فتح و نصرت کے لئے کافی نہیں۔بلکہ ایمان کی قوت اور جذبہ جہاد و شوق شہادت کی بدولت کوئی بھی اقلیت اکثریت پر غالب آسکتی ہے۔ بس پختہ ارادوں کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے حبیب مکرم ﷺ کے وسیلہ سے دین و دنیا میں کامیابی عطا فرمائے۔آمین