ختم قرآن مجید میں حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمة الله تبارك وتعالى عليه کے معمولات ۔

ابتداء میں فقیر کی استدعاء

(1) قرآن مجید میں حضرت سیدنا سلیمان على نبينا و عليه الصلوة و السلام کے امتی کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس لے آنے کا واقعہ اپنے اذہان میں تازہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کر لیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے امتی کی شان یہ ہے تو افضل الانبیاء ، سید المرسلین کی امت ، جسے اللہ تبارک و تعالی نے امت وسط اور خیر امت فرمایا ہے ، اس امت کے بہترین عہد کا اتنا بڑا امام کس قدر بلند شان ولایت کا حامل ہوگا ۔

(2) اس تحریر میں عام انسانی سوچ سے کہیں بالا و زائد تلاوت قرآن مجید کرنے والے متعدد سلف صالحین کے اسمائے مبارکہ آپ پڑھ چکے ہیں اور شاید یہ نام بیشتر احباب نے پہلی بار سنے ہوں

لیکن سیدنا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا اسم گرامی تو آپ کی ظاہری حیات مبارکہ میں بھی قبول عام حاصل کر چکا تھا اور تا حال ایسا ہی ہے ۔ تو ان حضرات کے ایسے ہی محیر العقول معمولات ہیں تو امام اعظم کے کیوں نہیں ہو سکتے ؟

(3) اللہ تبارک و تعالی ممتاز قبول عام اور شہرہء دوام بھی اسے ہی عطاء فرماتے ہیں جو دیگر بندوں میں سے ممتاز و منتخب ہو ۔ اور جن کو بلند مقاصد اور نمایاں مناصب کے لیئے چنا جائے ، ان کو تنہا تو نہیں چھوڑا جاتا ۔ مفوضہ مناصب کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی تمام لیاقتیں ، صلاحیتیں، عنایتیں، حمایتیں، وسائل اور لوازمات مہیا کیئے جاتے ہیں ۔

(4) حضرت امام رحمة الله عليه پر لکھی گئی قدیم و جدید کتب کا مطالعہ کرنے سے آشکار ہوتا ہے کہ کارزار حیات کے ہر شعبہ میں آپ کا اسوہ ایک کامیاب ترین انسان نہیں بلکہ لیڈر انسان کا ہے ۔

بیٹا ، خاوند ، والد، پڑوسی، شاگرد ، معلم ، علم پرور قانون ساز بلکہ مجلس قانون کا صدر نشین ، فقیہ، سیاست دان ، معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات سے آگاہ اور ان کو پورا کرنے والا خوش اطوار اور نفیس شہری ، کامیاب تاجر ، سلطنت کے مظلوم طبقات بالخصوص سادات کرام کا حامی ، جلا وطن امام ، غرض یہ کہ ہر ہر موقع پر آپ کا مثالی کردار آج کے انسان کو ضرور ششدر کر دیتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ اللہ تبارک و تعالی نے آپ کو یہ بلند اقبالی ازل سے ہی عطاء فرما رکھی تھی ۔ فقیر بخاری ، مسلم ، ترمذی، مسند امام احمد، صحیح ابن حبان میں موجود وہ حدیث آپ کے ذہن میں تازہ کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس صحابہ کرام میں حضرت سیدنا سلمان فارسی رضى الله عنه پر دست مبارک رکھ کر ارشاد فرمایا ۔

اگر ایمان ، دین ، علم ثریا تک اونچا بھی ہو گیا تب بھی اس کی نسل کا ایک آدمی اس کو پا لے گا اور یہ بھی ہے کہ اس کی قوم کے کئی افراد پا لیں گے تو رب العالمین کی طرف سے فطرتا ہبہ فرمودہ ان دیگر امتیازات کے ساتھ یہ بھی ہے کہ آپ کی پیدائش خیر القرون میں ہوئی اور ہر لحاظ سے بابرکت ، نورانی علمی ماحول ملا ۔

جليل القدر محدث وإمام و حافظ و اسلامى مؤرخ شمس الدّين الذَّهَبِيّ ( 673 ھـ – 748 ھ

الوفاة 3 ذو القعدة 748 ھ ) فقہ شافعی کے پیرو ہیں ۔۔ ابن تیمیہ بھی ان کے پسندیدہ شیوخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ایک کتاب ہے ۔

مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن ۔

یعنی امام ابو حنیفہ اور آپ کے دو ممتاز شاگردوں ابو یوسف اور محمد بن حسن کے فضائل ۔

حضرت ذھبی نے اس میں سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کے تلاوت کے معمولات لکھے ہیں ۔

وَقَالَ ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الْقَاضِي فِي فَضَائِلِ أَبِي حَنِيفَةَ : ثَنَا الطَّحَاوِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : ” رُبَّمَا قَرَأْتُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حِزْبَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ ۔

ابن ابی العوام القاضی نے فضائل ابی حنیفہ میں لکھا ہے ۔ ہمیں ( ہمارے شیخ امام ) طحاوی نے اپنی سند کے ساتھ ابو حنیفہ کا اپنا ارشاد بتایا کہ کئی بار میں نے صبح کی دو سنتوں میں قرآن مجید کے دو حزب ( منزلیں ) پڑھے ہیں ۔

یہ کتاب فضائل ابي حنيفة نیٹ پر دستیاب ہے لیکن فقیر خالد محمود نے امام ذھبی کی تائید کو شامل کرنے کے لیئے ان کی کتاب ” مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن” سے خوشہ چینی کی ہے ۔

( تقلید و فقہ کی اس عداوت کو کیا کہیں کہ ویسے تو ذھبی بہت بڑے عالم ہیں ان کی کتب زبردست ہیں ۔ ان کی وہ تنقیدیں جو اپنے من کو پسند ہیں وہ قطعی حجت ہیں لیکن ان کی ابو حنیفہ اور ان کے دونوں شاگردوں کے مناقب والی یہ کتاب درست نہیں ۔ سیر اعلام النبلاء باقی ساری قابل استناد ہے لیکن امام ابو حنیفہ کی تعریف والے جملے قابل اعتماد نہیں ۔

۔ ابن حجر حافظ حدیث اور شارح بخاری ہیں ۔ فتح الباری ، الإصابة اور تہذیب التھذیب قابل استناد ہیں لیکن تہذیب کے وہ حصے قابل اعتماد نہیں جو ابو حنیفہ کی تعریف میں ہیں ۔ ملاحظہ ہو کلید التحقیق از حافظ زبیر علی زئی اور لقب لکھا ہوا ہے محدث العصر ۔ اس تحریر کو نیٹ پر پڑھیں تو آپ یقینا حیران ہوں گے کہ خطیب بغدادی کی کتاب میں تشنیع زیادہ ہے اور کچھ بھلے جملے بھی امام اعظم کے متعلق نکل ہی گئے ہیں سو ان ” محدث صاحب ” نے لکھا ہے کہ کچھ باتیں {طنز و تشنیع والی } ٹھیک بھی ہیں اور کچھ { تعریف والی } غلط )

امام ابو حنیفہ کا فجر کی سنتوں میں دو حزب تلاوت والا ارشاد ” عمدة القاري ” میں امام عینی نے بھی لکھا ہے .

چند اوصاف جناب بغدادی کی اسی تاریخ بغداد سے اگرچہ اور متعدد کتب میں بھی ہیں ۔

(1) خارجة بن مصعب کا قول ہے : ختم القرآن في الكعبة أربعة من الأئمة عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير وأبو حنيفة .

یعنی کعبہ مقدسہ میں 4 ائمہ نے قرآن مجید ختم کیا ہے ۔

عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير و أبو حنيفة

📘 تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356 )

كتاب الآثار از امام محمد

(2) مشہور محدث و امام سفيان بن عيينة کا قول ۔

: رحم الله أبا حنيفة كان من المصلين .

📘 تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)

اللہ کی رحمت ہو ابو حنیفہ پر آپ نمازیوں میں سے تھے ۔

(3) محمد بن فضيل نے أبو مطيع سے بیان کیا ہے ۔

كنت بمكة فما دخلت الطواف في ساعة من ساعات الليل إلا رأيت أبا حنيفة وسفيان في الطواف .

📘 تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)

میں مکہ مکرمہ میں تھا رات کے جس لمحے بھی طواف کے لیئے گیا ابو حنیفہ اور سفیان کو طواف میں ہی پایا

(4) يحيى بن أيوب الزاهد کا قول ہے

:كان أبو حنيفة لا ينام الليل .

📘 تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)

ابو حنیفہ رات کو سوتے نہیں تھے ۔

(5) أسد بن عمر کا قول ہے ۔

: صلى أبو حنيفة الفجر بوضوء صلاة العشاء أربعين سنة، فكان عامة الليل يقرأ جميع القرآن في ركعة واحدة وكان يُسمع بكاؤه بالليل حتى يرحمه جيرانه .

📘 تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ363 )

ابو حنیفہ نے 40 برس عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھی ۔ اکثر راتوں میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن مجید ختم فرماتے ۔ رات کو آپ کے رونے کی آواز آپ کے پڑوسیوں کے کانوں میں بھی پہنچتی تو وہ اس درد بھرے رونے کی وجہ سے آپ پر بڑا ترس کرتے ۔

(6) قال مسعر بن كِدَام : دخلت المسجد فرأيت رجلاً يصلي فاستحليت قراءته فقرأ سبعاً، فقلت: يركع، ثم قرأ الثلث ثم قرأ النصف فلم يزل يقرأ القرآن حتى ختمه كله في ركعة، فنظرت فإذا هو أبو حنيفة .

📘 تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356 )

كتاب الآثار از امام محمد

( سير أعلام النبلاء للذهبي جـ4 صـ602

حضرت مسعر بن کدام کہتے ہیں کہ میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا اور ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان کی قرأت مجھے بڑی شیریں لگی اور دل کو لُبھائی جب وہ ساتواں حصہ پڑھ چُکے میں نے کہا رکوع کریں گے پھر وہ قرآن کریم کے ثلث پر آگئے پھر نصف پر آ گئے اسی طرح قرآن کریم پڑھتے رہے یہاں تک کہ سارا قرآن کریم ایک رکعت میں پورا کر دیا میں نے جو آگے بڑھ کر دیکھا وہ امام ابوحنیفہ تھے .

(7) وقال يحيى بن نصر: «ربما ختم أبو حنيفة القرآن في رمضان ستين مرة».

📘 تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356

مناقب الإمام أبي حنيفة و صاحبيه از ذھبی

یحیٰ بن نصر بھی یہی کہتے ہیں کہ بہت مرتبہ حضرت ابو حنیفہ نے 60 بار ختم قرآن کریم کئے ہیں

(8) وروى ابن إسحاق السمرقندي عن القاضي أبي يوسف، قال: «كان أبو حنيفة يختم القرآن كل ليلة في ركعة».

📘 سير أعلام النبلاء ج4 ص602

ابن اسحاق سمرقندی نے امام ابوحنیفہ کے سب سے بڑے شاگرد قاضی ابو یوسف کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ہمارے استاد امام ابوحنیفہ ہر رکعت میں قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے

(9)۔وعن يحيى بن عبد الحميد الحماني عن أبيه: أنه صحب أبا حنيفة ستة أشهر، قال: «فما رأيته صلى الغداة إلا بوضوء عشاء الآخرة، وكان يختم كل ليلة عند السحر».

📘 سير أعلام النبلاء ج4 ص602

أيضاً: مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه، الذهبي، ص21

یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی اپنے والد عبدالحمید الحمانی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ ماہ امام ابوحنیفہ کے ساتھ رہے ہیں، کہتے ہیں ان 6 ماہ کے اندر میں نے نہیں دیکھا آپ کو مگر صرف اس حال میں کہ آپ نے عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی اور آپ ہر رات سحری تک ایک ختم قرآن کریم کیا کرتے تھے

(10)۔ وحُفظ عليه أنه ختم القرآن في الموضع الذي توفي فيه سبعة آلاف مرة”.

📘 تاريخ بغداد للخطيب البغدادي

کتاب الاثار از امام محمد

مرقاة المفاتيح

الخيرات الحسان

تهذيب الكمال

وفيات الأعيان

آپ کے متعلق یہ بات محفوظ ہے کہ آپ نے اپنے مقام وفات میں 7 ہزار ختم قرآن مجید کیئے ہیں ۔

(11)،اور تقریبا ان ساری کتب میں ہے کہ آپ رحمة الله عليه کے صاحبزادے حضرت حماد بن أبي حنيفة کا بیان ہے

: لما غسَّل الحسن بن عمارة أبي، قال: “غفر الله لك! لم تفطر منذ ثلاثين سنة، ولم تتوسد يمينك بالليل منذ أربعين سنة، ولقد أتعبت من بعدك، وفضحت القراء”،

أيضاً: مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه، الذهبي،

جب حسن بن عمارہ نے میرے ابو جی کو غسل دیا تو بول اٹھے ۔ اللہ کی رحمت ہو آپ پر ، 30 سال ہوئے آپ روزے رکھتے ہیں اور 40 سال ہوئے کہ رات کو آپ نے اپنی دائیں طرف میں تکیہ نہیں رکھا ۔ بعد میں آنے والوں کو آپ نے مشکل میں ڈال دیا ۔

(اس قدر عبادت و ورع و تقوی سے زندگی بسر کرنا تو بہت بلند ماننے سے بھی لوگ گریزاں ہوں گے ۔ فقیر )

(12) مليح اپنے والد سے راوی ہیں کہ : حدثني أبو حنيفة رضي الله عنه قال: “ما في القرآن سورة إلا قد أوترت بها

مجھے ابو حنیفہ نے بتایا کہ قرآن مجید کی کوئی سورت ایسی نہیں جو میں نے وتر میں نہ پڑھی ہو ۔

📘أخبار أبي حنيفة وأصحابه ص 54

المؤلف: الحسين بن علي بن محمد بن جعفر، أبو عبد الله الصَّيْمَري الحنفي (المتوفى: 436 ھ )

نیٹ پر یہ کتاب موجود ہے اور اوپر بیان کردہ اوصاف اس میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔

🤲🏽اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ وہ جل و علا حضرت سیدنا ابو حنیفہ کا تصدق اس فقیر خالد محمود کو اور اس کے جملہ اہل و عیال کو حنیف بنائے ۔ آمین آمین آمین یا رب العالمین