حدیث نمبر 254

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ حج کو اس طرح بزرگی دی گئی کہ اس میں دو سجدے ہیں فرمایاہاں جویہ دو سجدے نہ کرے ۱؎ وہ ان دونوں کو نہ پڑھے۔(ابوداؤد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۲؎ اور مصابیح میں ہے کہ سورۂ حج نہ پڑھے جیسا کہ شرح سنہ میں ہے۔

شرح

۱؎ یہ حدیث حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل ہے کہ سورۂ حج میں دو سجدے ہیں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حج میں صرف ایک سجدہ ہے یعنی پہلا دوسری آیت میں سجدہ نماز مراد ہے نہ کہ سجدۂ تلاوت کیونکہ وہاں ارشاد ہوا”ارْکَعُوۡا وَاسْجُدُوۡا”یعنی سجدہ کا رکوع کے ساتھ ذکر ہوا اور جہاں رکوع سجدہ مل کر آویں وہاں سجدہ نماز مراد ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:”وَاسْجُدِیۡ وَارْکَعِیۡ”،نیز طحاوی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی کہ سورۂ حج میں پہلا سجدہ عزیمت ہے اور دوسرا سجدہ تعلیم،نیز یہ حدیث علاوہ ضعیف ہونے کے امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ قرآنی سجدے واجب نہیں مانتے سنت مانتے ہیں اور اس حدیث سے وجوب ثابت ہوتا ہے کہ فرمایا یہ جو سجدے نہ کرے وہ یہ سورۃ ہی نہ پڑھےیہ بہرحال اس حدیث سے استدلال قوی نہیں۔

۲؎ کیونکہ اس کی اسناد میں ابن لہیعہ شوافع کے نزدیک ضعیف ہے اور ابن شرع ابن ہامان عام محدثین کے نزدیک مجروح لہذا اس حدیث سے استدلال درست نہیں۱۲