ایک اعتراض کا جواب

کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے  حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کا جلا وطن کیا تھا ؟

اس سلسلے میں سیف بن عمر کے حوالے سے تاریخ الطبری وغیرہ میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت امیر امعاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف سا ہوگیا تھا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ہم سے بدظن کرنا شروع کردیا ہے تو انہوں نے جواباََ پیغام بھجوایا کہ انہیں میرے پاس بھیج دو تو حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان کی طرف بھیج دیا گیا ۔

چنانچہ آپ نے انہیں ملامت کی تو وہ ربذہ کی طرف نکل گئے ، (تاریخ الطبری 3/ 335)

یہ ہے سیف بن عمر (متہم بالکزب اور متروک راوی ) کی روایت ” لیکن ہمارے پاس اس قضیہ کے متعلق اس سے زیادہ مستند اور صحیح روایات ہیں جنہیں امام بخاری رحمۃ اللہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے چنانچہ انہوں نے حضرت زید بن وھب سے بیان کیا :

میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ دکھائی دیئے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں آ گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں شام میں تھا تو معاویہ رضی اللہ عنہ سے میرا اختلاف ( قرآن کی آیت ) ” جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے “ کے متعلق ہو گیا ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہنا یہ تھا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں یہ کہتا تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ ہمارے متعلق بھی یہ نازل ہوئی ہے ۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخی پیدا ہو گئی ۔ چنانچہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ ( جو ان دنوں خلیفۃ المسلمین تھے ) کے یہاں میری شکایت لکھی ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا کہ میں مدینہ چلا آؤں ۔ چنانچہ میں چلا آیا ۔ ( وہاں جب پہنچا ) تو لوگوں کا میرے یہاں اس طرح ہجوم ہونے لگا جیسے انہوں نے مجھے پہلے دیکھا ہی نہ ہو ۔ پھر جب میں نے لوگوں کے اس طرح اپنی طرف آنے کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مناسب سمجھو تو یہاں کا قیام چھوڑ کر مدینہ سے قریب ہی کہیں اور جگہ الگ قیام اختیار کر لو ۔ یہی بات ہے جو مجھے یہاں ( ربذہ ) تک لے آئی ہے ۔ اگر وہ میرے اوپر ایک حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیں تو میں اس کی بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا ۔ (صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ حدیث نمبر 1406)

اس مستند اور صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو ربذہ کی طرف جلاوطن نہیں کیا تھا اور نہ ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں شام سے بے عزت کرکے مدینہ بھجوایا تھا ( ان کے متعلق اس طرح کی کہانیاں) سفید جھوٹ ہیں ،

بلکہ (شہرہ آفاق محدث اور مؤرخ ) ابن سعد نے اس قصے کو جید سند کے ساتھ روایت کیا کہ جب وہ ربذہ کی طرف نکلے تو فرمایا : میں نے حضرت رسول اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا : کہ آبادی سلع (مدینہ میں ایک پہاڑ ہے مسجد خندق کی پچھلی جانب ) تک پہنچ جائے تو یہاں سے نکل جانا ۔۔۔۔۔۔ (طبقات ابن سعد جلد 4/ 224)

اس بناپر ان کا نکلنا گویا نبی کریم ﷺ کے حکم کی بنا پر تھا ،

اور آنحضرت ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ : ” اللہ تعالٰی حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے وہ تن تنہا چلے گا اور تنہا ہی وفات پائے گا اور تن تنہا ہی اٹھے گا ۔۔۔۔

ربذہ مشہور چراہ گاہ کے علاوہ درب کوفہ کی پڑاو گاہ بھی تھی۔ قبل اسلام عراقی تجارت کے لئے یہی راستہ تھا۔۔ بلکہ دور فاروقی سے ہی ربذہ میں اسلامی حکومت کا ایک عامل مقرر تھا ، ابو ذر رض کے علاوہ بھی بیسیوں لوگ وہاں اس وقت رہتے تھے۔ تاہم جس سال ابو ذرد رض کا انتقال ہوا اسی سال کافی عرصے بعد خود حضرت عثمان رض بطور امیر حج مکہ تشریف لے گئے تھے تو اسلئے قریب قریب تمام ہی علاقوں سے عام لوگ بھی حج پر چلے گئے تھے کہ امیر المومنین خود حج پر آئیں ہیں ، ابو ذرد رض بیماری کے باعث تشریف نہ لے جا سکے جبکہ ربذہ کے دیگر احباب سب مکہ روانہ ہو گئے تھے یہی وجہ ہے کہ بوقت انتقال آپ رض ربذہ میں اکیلے تھے ، خود عبداللہ بن مسعود رض بھی عراق سے حج کے لئے قافلے کے ہمراہ مکہ ہی تشریف لے جا رہے تھے اسی لئے ربذہ میں انہیں جنازہ پڑھانے اور دفنانے کا موقع مل گیا۔۔۔ رضی اللہ و عنہم