ارطغرل غازی کے پیر ابن العربی کی زندگی پر ایک نظر

تحریر: محمد ظفر نوری ازہری
جب سے لوگوں نے ارطغرل غازی سیریل دیکھنا شروع کیاہے، تبھی سے  سلطنت عثمانیہ،ارطغرل غازی، غازی عثمان اور جوبھی کیریکٹرس اس میں فلمائے گئے ہیں۔ ان کے بارے میں کافی کچھ لکھا اور بیان کیا جارہاہے۔ اسی سیریل میں ارطغرل غازی کے روحانی پشوا و مرشد کے طور ایک شخص ابن العربی کو بھی دکھایا گیا ہے۔ لوگ ان کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہ ابن العربی کون تھے؟ تاریخ میں ان کا ذکر کس طرح آیا ہے؟ قسطنطنیہ کی فتح کے بارے میں جو انہوں نے بشارت دی اس بات میں کتنی سچائی ہے وغیرہ وغیرہ۔  آج کی اس تحریر میں ان شاء اللہ ہم شیخ الاکبر ابن العربی علیہ الرحمہ کے بارے میں کچھ باتیں جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو آئیں شروع کرتے ہیں:
*قارئین کرام!*
شیخ اکبر محی الدین ابن العربی علیہ الرحمہ ایک بہت بڑے صاحب کشف و کرامت صوفی بزرگ، عظیم فلسفی ، مفکر، محقق، ادیب، دانشور گزرے ہیں۔ جنہوں نے تزکیہ نفس، اصلاح قلب و باطن پر بہت زور دیا، اور تصوف پرکئی کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ اہل علم بڑے ادب احترام سے آپ کا نام لیتے ہیں۔ آپ دُنیائے تصوف کے وہ چمکتے ستارے ہیں، جن کے علم و عرفان سے دنیا کئی صدیوں سے منور ہو رہی ہے،  بے پناہ فضل و کمال کی وجہ سے آپ کو “شیخ اکبر” کے لقب سے بھی یاد کرتے ہیں،  یہ لقب آپ کو آپ کے استاد ابو مدین غوث تلمسانی علیہ الرحمہ نے دیا، اور یہ لقب لوگوں کی زبان پر ایسا جاری ہوا کہ شیخ اکبر سنتے ہی ذہن آپ ہی کی طرف جاتا ہے، اور آپ کی شخصیت اس لقب کی حقدار بھی ہے۔(فتوحات مکیہ جلد ١ اردو مترجم)
*پیدائش*
شیخ اکبر حضرت ابن العربی علیہ الرحمہ کی پیدائش کا واقعہ بھی بہت دلچسپ  ہے۔ آپ کے والد حضرت علی بن محمد علیہ الرحمہ  اللہ کے ولی بہت متقی پرہیز گار بندے تھے، لیکن آپ کے گھر اولاد (نرینہ) نہیں تھی، کافی دعائیں کی لیکن پر بھی آپ اولاد کی نعمت سے سرفراز نہیں ہوئے، اور آپ کی عمر بھی بڑھتے بڑھتے ٥۰ سال ہوگئی تھی، پھر آپ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ  کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ حضور آپ میرے لئے دعا فرمادیں کہ اللہ پاک مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازدے۔ حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ نے آپ کے حق میں دعا فرمادی لیکن ہاتف غیبی سے آواز آئی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے تو پھر غوث اعظم نے فرمایا علی بن محمد ایسا کرو ہماری پیٹھ سے اپنی پیٹھ ملاکر بیٹھ جاؤ ہماری پشت میں ابھی ایک بیٹا ہے وہ ہم آپ کو دے دیتے  ہیں۔ حضرت علی بن محمد نے ویسا ہی کیا جیسا کہ حضور غوث اعظم نے فرمایا تھا۔ اس کے بعد غوث اعظم نے فرمایا آپ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوگا، اس کا نام ہم محمد اور اس کا لقب محی الدین رکھتے ہیں۔ یہ بچہ اولیاء میں بلند رتبہ، اور عظیم درجہ پائےگا۔ حضرت غوث پاک کی بشارت کے مطابق ۹ مہینے بعد ١۷ رمضان المبارک بروز پیر ٥٦۰ ہجری بمطابق ۲٦ جولائی ١١٦٥ء کو سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ کے وصال سے ایک سال پہلے آپ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا۔ سرکار غوث پاک کے ارشاد کے مطابق اس بچے کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا حضرت ابن العربی علیہ الرحمہ سرکار بغداد کی دعا کا فیضان تھے‍‍۔ آپ کے روحانی بیٹے تھے۔(خزینۃ الاصفیاء)
*تعلیم*
آپ کی پیدائش اندلس (اسپین) کی شرقی ریاست مرسیہ میں ہوئی، وہیں آپ کا بچپن گزرا۔ آپ نےقرآن شریف ناظرہ اور ابتدائی تعلیم ابو بکر بن خلف سے مرسیہ میں ہی حاصل کی، جب آپ کی عمر ۸ سال ہوئی تو آپ اشبیلیہ چلے گئے، اشبیلیہ اس وقت جید علماء اور بڑے بڑے صوفیائے کرام کا مرکز تھا۔ آپ نے یہاں ۲۰ سال تک تعلیم حاصل کی، اور آپ کی تصنیفات سے اس بات کا بھی  پتا چلتا ہے کہ اندلس کی سر زمین پر آپ کے  تقریبا ۷۰ کبار شیوخ ہیں۔(فتوحات مکیہ جلد ١)
*خاندان*
آپ کا گھرانہ بھی علمی گھرانہ تھا۔ آپ کے دادا حضرت محمد علیہ الرحمہ اندلس کے جید عالم دین اور قاضی تھے، آپ کے والد گرامی بھی ولی کامل تھے، شیخ اکبر محمد ابن العربی اپنے والد کی وفات کا واقعہ اس طرح بیان فرماتے ہیں، کہ میرے والد گرامی نے اپنی عمر کے اخری ایام میں کہا کہ بیٹا! ١٥ دن بعد بدھ کے دن ہمارا انتقال ہو جائے گا، آپ کے قول کے مطابق ١٥ دن بعد بدھ کے روز آپ کے والد گرامی کا انتقال ہوگیا۔(فتوحات مکیہ)
*اسفار*
شیخ اکبر ابن عربی علیہ الرحمہ نے قرطبہ، تیونس، عراق، مصر، حجاز، فلسطین، ایران، اور شام کے کئی سفر تعلیم و تعلم، اور تبلیغ کتاب و سنت کے سلسلے میں فرمائے۔ جہاں جاتے اپنے کردار عمل، وعظ و نصیحت سے تاریک دلوں کو روشن فرمادیتے، بہکے ہوئے لوگوں کو صراط مستقیم پر گامزن فرما دیتے ، آپ کے صوفیانہ لب و لہجے کی وجہ سے لوگ آپ کی مجلس میں بیٹھنے اور آپ کی باتیں سننے  کے لئے بےقرار رہتے تھے۔
وعظ و نصیحت، درس و تدریس کے ساتھ آپ نے اپنی تصنیفات کے ذریعہ بھی دین متین کی خدمت انجام دی آپ کی تصنیفات کی تعداد سنکڑوں میں ہے۔ آپ کی تصنیفات کی اہم خاصیت یہ ہے کہ آپ کی کتابوں میں دوسری کتابوں کے حوالے کم ملتے ہیں زیادہ تر مواد آپ کا ہی ہوتا ہے۔ حضرت عبد الرحمن جامی علیہ الرحمہ نے آپ کی تصنیفات کی تعداد ٥۰۰ لکھی ہے۔(نفحات الانس)امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمہ نے اپ کی تصنیفات کی تعداد ٤۰۰ سے زائد لکھی ہے۔(الیوقیت والجواہرجلد ١)
اپ کی تصنیفات میں دو کتابوں کو بہت شوہرت حاصل ہوئی فتوحات مکیہ، اور فصوص الحکم۔
*فتوحات مکیہ*: اس کتاب کے بارے خود شیخ اکبر محی الدین ابن العربی لکھتے ہیں۔”فتوحات مکیہ جیسی کتاب نہ ماضی میں لکھی گئی ہے اور نہ ہی مستقبل میں لکھی جائے گی” فتوحات مکیہ تصوف پر ایک انسائیکلو پیڈیا کی حثیت رکھتی ہے، فتوحات مکیہ تصوف پر سب سے زیادہ اثر انداز کتاب ہے۔ کئی نامور علماء کرام نے اس کی شروحات لکھیں ہیں۔ آپ نے اس کی ابتداء ٥۹۹ھ میں مکہ شریف میں کی اور ٣۰ سال بعد ٦۲۹ میں دمشق میں ایسے مکمل فرمایا۔
*فصوص الحکم*: شیخ اکبر ابن العربی علیہ الرحمہ کی تالیف کردہ یہ کتاب تصوف اسلامی پر بہت اہم ترین کتاب ہے، اس کتاب کے مقدمے میں شیخ خود لکھتے ہیں، کہ مجھے خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک کتاب تھی، آپ نے فرمایا یہ لو اور اس کتاب کو لوگوں تک پہنچاؤ تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائیں۔ تو آپ نے بہت محنت لگن سے اس کتاب کو لکھا اِس کتاب کے ستائیس ابواب میں پیغمبران خدا پر ظاہر کی گئی الہامی حکمتوں کی حالت پر بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب پر سو سے زائد شروحات لکھی جاچکی ہیں۔
*خرقہ پوشی*
آپ رحمۃ اللہ علیہ کو خرقہ کی نسبت ابو محمد یونس قصار ہاشمی کے ذریعے ایک واسطے سے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے حاصل ہے۔ اور بعض روایتوں میں یہ بھی ہے آپ کو حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے ارادت بلا واسطہ بھی حاصل ہے۔ خرقہ خلافت میں آپ کو دوسری نسبت حضرت خضر علیہ السلام سے حاصل ہے بلا واسطہ۔ اور شیخ اکبر نے اپنی کتاب “الملابس” میں لکھا ہے کہ میں نے خرقہ تصوف ابو الحسن بن عبد اللہ بن جامع سے پہنا اور انہوں نے حضرت حضر علیہ السلام سے حاصل کیا۔(خزینۃ الاصفیاء)
*سلاطین عثمانیہ*
سلطنت عثمانیہ کے سلاطین آپ کی بہت عزت کیا کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ قسطنطنیہ کی فتح شیخ اکبر ابن عربی علیہ الرحمہ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اور اس فتح کے بارے میں  آپ علیہ الرحمہ نے پہلے ہی بتادیا تھا، کہ قسطنطنیہ اس طرح فتح ہوگا۔(فتوحات مکیہ، مترجم فاروق قادری) ہو سکتا ہے اسی زمانے اپ کی ملاقت ارطغرل غازی سے ہوئی ہو۔ کافی تلاش کے باوجود رقم الحروف کو اپنے ناقص مطالعہ میں کہیں ارطغرل غازی کے نام کے ساتھ شیخ اکبر ابن العربی کا ذکر نہیں مل سکا۔
*وصال*
٦۲۰ھ میں دمشق کے حاکم المک العادل نے آپ کو دمشق انے کی دعوت دی۔ ان کی دعوت پر آپ دمشق پہونچے، اور آخری وقت تک دمشق میں ہی رہے۔ آپ کا انتقال ۸۰ سال کی عمر میں دمشق کی سرزمین پر ۲۸ ربیع الاول ٦٣۸ ھ مطابق ١٦ نومبر ١۲٤۰ میں شب جمعہ کو ہوا۔  آپ کی قبر شریف سینون پہاڑی کے دامن میں صالحیہ گاؤں میں ہے۔(فتوحات مکیہ، مترجم،فاروق قادری) 
جب سلطان سلیم خان ملک شام آیا تو اس نے آپ کے مزار کو بنوایا، اور وہاں ایک مسجد اور ایک مدرسہ بھی تعمیر کرایا۔ ابن عربی علیہ الرحمہ کی قبر آج بھی اہل عقیدت و محبت کے لئے مرجع بنی ہوئی ہے۔
*پیغام*
آخر میں ارطغرل ٹی وی سیریل دیکھنے والوں سے کہنا چاہوں گا، کہ اگر صحیح تاریخ جاننا چاہتے ہو، تو اپنی شاندار تاریخ کا مطالعہ کریں، کتابوں کوپڑھیں۔ آپ نے ایک ارطغرل غازی کے بارے میں سیریل کے حوالے سے کچھ جانا اور اسکے دیوانے ہوگئے، جب تاریخ پڑھو گے تو لگے گا ہماری تو پوری تاریخ ایسے غازیوں سے بھری پڑی ہے۔ اور پھر تمہارے آئیڈیل فلموں کے نقلی لوگ نہیں بلکہ حضرت خالد بن ولید، امام حسین، طارق بن زیاد، سلطان صلاح الدین ایوبی، ارطغرل غازی، عثمان غازی جیسی عظیم ہستیاں ہوں گی اور تمہاری زبان پر بس یہی ہوگا
دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے ……بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے