حدیث نمبر 267

روایت ہے حضرت کریب سے کہ حضرت ابن عباس اور مسور ابن مخرمہ اورعبدالرحمان ابن ازہر نے ۱؎ انہیں حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کہا کہ ہم سب کا انہیں سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے متعلق پوچھنا ۲؎ فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہیں وہ پیغام پہنچایا جو مجھے دے کر بھیجا تھا انہوں نے کہا ام سلمہ سے پوچھو ۳؎ میں ان حضرات کی طرف لوٹا انہوں نے مجھے ام سلمہ کے پاس لوٹایا ۴؎ ام سلمہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے منع فرماتے سنا پھر میں نے آپ کو یہ رکعتیں پڑھتے دیکھا پھر آپ تشریف لائے تو میں نے آپ کی خدمت میں لڑکی کو بھیجا ۵؎ اور میں نے کہہ دیا کہ آپ سے عرض کرنا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ عرض کرتی ہیں کہ میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے سنا اور آپ کو پڑھتے دیکھتی ہوں فرمایا اے ابی امیہ کی بیٹی ۶؎ تم نے عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق مجھ سے پوچھا میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ آئے تھے جنہوں نے مجھے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے باز رکھا یہ وہی دو رکعتیں ہیں ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ حضرت کریب ابن مسلم سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ عنھماکے غلام ہیں اور مسور ابن مخرمہ عبدالرحمن بن عوف کے بھانجے ہیں،ہجرت کے بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے، ۸ ھ؁ میں مدینہ منورہ آئے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آٹھ سال کے تھے۔شہادت حضرت عثمان تک مدینہ منورہ رہے پھر مکہ معظمہ آگئے۔یزید کی بیعت نہ کی۔چنانچہ واقعہ کربلا کے بعد جب یزید نے مکہ معظمہ پر منجنیق سے پتھراؤ کیا تو بحالت نماز ایک پتھر آپ کے بھی لگا اور شہید ہوگئے اور حضرت عبدالرحمن ابن ازہر حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بھتیجے ہیں حنین میں حضو ر انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

۲؎ آیا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے یا نہیں،اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ ان بزرگوں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان نفلوں سے منع فرماتے ہوئے سنا،پھر انہیں پتہ لگا کہ سرکار علیہ السلام گھر میں خود پڑھتے تھے تو اس کی تحقیق اور وجہ معلوم کرنے کے لیے انہیں بھیجا،چونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھابڑی فقیہہ عالمہ بی بی تھیں اس لیے ان سے یہ مسئلہ پوچھا،چونکہ یہ حضرات بہت سے تھے۔اس لیے خود حاضر نہ ہوئے بلکہ اپنے خادم کو بھیج دیا،معلوم ہوا کہ مسائل میں ایک کی خبر معتبر ہے ۱۲

۳؎ یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا عدل و انصاف کہ باوجودیکہ بڑی عالمہ فقیہہ ہیں مگر فرمادیا کہ اس مسئلہ کا علم مجھ سے زیادہ حضرت ام سلمہ کو ہےکیونکہ وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھ چکی ہیں میں نہ پوچھ سکی۔اس سے معلوم ہوا کہ بڑا عالم بھی بے علم فتویٰ نہ دے بلکہ دوسرے کے پاس بھیج دے اور اس میں شرم نہ کرے۱۲

۴؎ یہ حضرت کریب کا ادب خادمانہ ہے کہ بغیر آقا کے حکم کے دوسری جگہ نہیں گئے کیونکہ پہلا حکم ختم ہوچکا تھا۱۲

۵؎ یعنی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اور کسی بیوی پاک کے گھر میں یہ نفل پڑھتے دیکھا پھر جب میرے گھر میں تشریف لائے تو جس گوشہ میں سرکار علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے تھے وہاں میں خود نہ گئی بلکہ کسی لڑکی کو بھیجا۔لہذا یہ روایت در روایت ہوگئی۔

۶؎ ابو امیہ حضرت ام سلمہ کے والد کی کنیت ہے،ان کا نام سہل ابن مغیرہ مخزومی تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑی کی معرفت خود حضرت ام سلمہ سے خطاب فرمایا کیونکہ اصل سائلہ آپ ہی تھیں(رضی اللہ تعالٰی عنہار)۔

۷؎ یعنی ایک بار ہم وفد عبدالقیس کو تبلیغ کرنے کی وجہ سے ظہر کی دو رکعتیں نہ پڑھ سکے تھے،پھر وہ رکعتیں عصر کے بعد قضا کیں لیکن طریقہ ہمارا یہ ہے کہ جب کوئی نیکی ایک بار کرلیتے ہیں تو پھر ہمیشہ ہی کرتے ہیں،اس لیے اب ہمیشہ ہی پڑھ رہے ہیں۔خیال رہے کہ سنت ظہر کی قضاء کرنا بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے،پھر بعد عصر پڑھنا اور پھر ہمیشہ پڑھنا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیتیں ہی ہیں اس میں اس سے منع کیا گیا ہے،جیسے روزۂ وصال کہ آپ رکھتے تھے ہمیں منع فرمایا،چنانچہ طحاوی نے اس حدیث کے ساتھ یہ بھی ذکر کیا کہ ام سلمہ نے عرض کیا یارسو ل اﷲ ہم بھی قضا کرلیا کریں فرمایا نہیں۔شوافع نے اس حدیث کی وجہ سے فرمایا کہ سنتوں کی قضاء سنت ہے مگر یہ دلیل کمزور ہے ورنہ انہیں چاہیئے کہ ایک بار کی قضا ہمیشہ پڑھا کریں۱۲