صدقہ فطر اور اسکے متعلق مسائل

تحریر: مفتی محمد شاکرالقادری فیضی  راجھستان
فطرہ یا “افطار “سے ہے یا
 ” فطرۃ ” سے چونکہ فطرہ ماہ رمضان المبارک گزرجانے اور عید کے دن افطار کرنے پر واجب ہوتا ہے اس لئے اس کو فطرہ کہا جاتا ہے. 
اصطلاح شرع میں عید کے دن جو صاحب نصاب پر ماہ رمضان المبارک کا صدقہ واجب ہوتا ہے وہ فطرہ ہے
 (مراۃ المناجیح سوم) 
لغت میں فطرہ کا معنی ہے عید رمضان کا صدقہ جو فی آدمی سوادوسیر گیہوں یاچار سیر جو’جو مقرر ہیں اور نماز عید سے قبل غرباء کو دیئے جاتے ہیں 
(فیروزاللغات) 
*صدقہ کی دو قسمیں ہیں* 
(1)صدقۂ واجبہ 
(2)صدقۂ نافلہ
*صدقۂ واجبہ* سے مراد ایسے صدقات ہیں جن کا ادا کرنا ہر صاحب نصاب پر لازم ہے- مثلا زکوۃ,صدقۂ فطر,عشر,نذر وغیرہ 
*صدقہ نافلہ* : اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صدقۂ واجبہ کے علاوہ اپنے مال کو غریبوں, محتاجوں, مسکینوں, اور فقیروں پر خرچ کرنا صدقۂ نافلہ ہے –
*صدقۂ فطر کی مقدار* 
حدیث شریف میں صدقۂ فطر کی مقدار  جو,کھجور ایک صاع اور گیہوں نصف (آدھا) صاع ہے جیسا کہ حدیث شریف کے اصل الفاظ اس طرح ہے 
عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ فِی آخِرِ رَمْضَانَ اَخْرِجُوا صَدْقَۃً صَومِکُمْ فَرَضَ رسول اللّہ صلّی اللّہ تعالیٰ  علیہ و سلّم ھٰذِہِ صَدَقَۃًصَائمًا مِنْ
تَمَرٍ اَوْ شَعِیرٍ اَوْ  نَصْفَ صَاعٍ مّنْ تَمْح علٰی کُلّ حُرّ اَوْ مَمْلُوکٍ ذَکَرٍ اَوْ أُنْثَی صَغِیرٍ اَوْ کَبِیرٍ (الحدیث) 
یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے رمضان کے آخر میں لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ اپنے روزوں کا صدقہ اداکرو- کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے اس صدقہ کو ہر مسلمان پر مقرر  
فرمایا ہے – خواہ وہ آزاد ہو یا غلام, مرد ہو یا عورت, چھوٹا ہو یا بڑا – ہر ایک کی طرف سے ایک 
صاع جو یا کھجور یا نصف صاع گیہوں -(ابو داؤد شریف )
ایک اور حدیث شریف میں اس طرح ہے –
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم زَکٰوۃُالْفِطْرِ صَاعًا مّنْ تَمَرٍ اَوْ صَاعًا مّن شَعِیرٍ علٰی الْعَبْدِ وَالْحُرّ وَالْذَکَرِ
وَالْاُنْثٰی وَالصّغِیرِ وَالْکَبِیرِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ و اَمَرَ بِھَا اَنْ تُؤَدّی قَبْلَ خُرُوجِ النّاسِ اِلَی الصّلَاۃِ (الحدیث) 
یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے واجب ٹھہرایا صدقہ فطر کو غلام, آزاد,مرد,عورت,بچےاور بوڑھے ہرمسلمان پر -ایک صاع جو یا کھجور, اور حکم فرمایا کہ نماز (عید) کے لئے نکلنے سے پہلے اس کو ادا کیا جاۓ
(بخاری شریف)
 اس طرح کثیر احادیث مبارکہ میں صدقہ فطر کی اداکرنے کا حکم ملتا ہے
*مسئلہ* صدقۂ فطر مالک نصاب پر واجب ہے کہ اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے نکالے جبکہ بچہ مالک نصاب نہ ہو, اگر بچہ صاحب نصاب ہو تو بچے کا صدقہ اس کے مال سے ادا کیا جائے –
*مسئلہ* صدقہ فطر کے معاملہ میں مالک نصاب وہ شخص ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کا مالک ہو –
*مسئلہ* صدقۂ فطر کی مقدار فی کس جو ایک صاع یعنی تین کلو تین سو انسٹھ گرام دو سو بیس ملی گرام اور گیہوں کا جو والے پیمانے سے نصف صاع یعنی دو کلو سینتالیس گرام تقریبًاہے
گیہوں,جو,منقی,اور کھجور کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہیں مثلا چاول,باجرہ اور کوئی غلہ تو آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جو کی قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا-
جیسا کہ اعلٰحضرت امام احمد رضا محقق بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تحریر فرمایا ہے کہ نصف صاع گندم کی قیمت میں جتنے چاول آئیں گے اتنے دیئے جائیں گے .
(فتاوی رضویہ جلد چہارم) 
*مسئلہ* صدقۂ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں اگر کسی عذر جیسے سفر, مرض, بڑھاپے کی وجہ سے یا معاذاللہ بلا عذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے –
(بہار شریعت حصہ پنجم)
*مسئلہ* صدقۂ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں لہٰذا اگر کوئی انتقال کر گیا تو اس کے مال سے ادا نہیں کیا جاۓگا ہاں اگر ورثہ بطور احسان ادا کریں اپنی طرف سے تو ہو سکتا ہے
 (حوالہ مذکور) 
*مسئلہ* اگر باپ غریب ہو یا انتقال کر گیا ہو تو دادا پر اپنے غریب یتیم پوتے, پوتی کی طرف سے صدقۂ فطر دینا واجب ہے -ماں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں.
 (درمختار, بہارشریعت حصہ پنجم) 
*مسئلہ* عید کا دن آنے سے پہلے ماہ رمضان میں بلکہ اگر کسی نے ماہ رمضان المبارک سے پہلے بھی صدقۂ فطر ادا کر دیا تو جائز ہے ادا ہوگیا. 
*مسئلہ* صدقۂ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا سنت ہے لیکن اگر اس وقت ادا نہیں کیا تو جب بھی ادا کرے ادا ہی ہے قضاء نہیں-
*مسئلہ* لوک ڈاؤن کے موقعہ پر کوئی کہیں پر مقیم ہے یا کسی کا مہمان ہے اور وہ مالک نصاب ہے تو اس کاصدقۂ فطر اس پر واجب ہے میزبان پر نہیں -اگر میزبان اپنی طرف سے دینا چاہے تو دے سکتا ہے بشرطیکہ مہمان سے اجازت لے لے –
*صدقۂ فطر کس کو دی جائے*
جن لوگوں کو زکٰوۃ دینا جائز ہے ان کو صدقۂ فطر بھی دینا جائز ہے- اور جن کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ان کو صدقۂ فطر بھی دینا  جائز نہیں -جن کی تفصیل یہ ہے-
*فقیر* یعنی وہ شخص کہ اس کے پاس کچھ مال ہے مگر نصاب سے کم –
*مسکین* یعنی وہ شخص کہ جس کے پاس کھانے کے لئے غلہ اور بدن چھپانے کیلئے کپڑا بھی نہ ہو –
*قرضدار* یعنی وہ شخص کہ جس کے ذمہ قرض ہو اور اسکے پاس قرض سے فاضل کوئی مال بقدر نصاب نہ ہو-
*مسافر* جس کے پاس سفر کی حالت میں مال نہ رہا ہو اسے بقدر ضرورت زکوٰۃ و فطرہ دینا جائز ہے-
*عامل* یعنی جس کو بادشاہ اسلام نے زکوۃ و عشر وصول کرنے کیلئے مقرر کیا ہو. 
*رقاب* یعنی مکاتب غلام تاکہ وہ مال دے کر آزاد ہوجائے.
*فی سبیل اللہ* یعنی راہ حق میں خرچ کرنا ہر نیک کام میں خرچ فی سبیل اللہ ہے. مال زکوٰۃ وفطرہ جس میں لگ اسی میں دینا شرط ہے.  وغیرہ
*مسئلہ* اپنے قریبی رشتہ دار جن کے پاس اپنی حاجت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی رقم نہ ہو-تو انھیں زکوٰۃ و فطرہ دی جائے-قریبی رشتہ دار جیسے چچا ,چچی اور ان کی اولاد,خالو خالہ اور ان کی اولاد, پھوپھا پھوپھی اور ان کی اولاد, ماموں ممانی اور ان کی اولاد, بھائی, بہن اور اس کی اولاد کو زکوٰۃ و فطرہ دینا جائز ہے –
*مسئلہ* اپنے قریبی رشتہ دار یا کسی اورکو زکوٰۃ و فطرہ دیتے وقت یہ کہنا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ و فطرہ ہے بلکہ صرف دل میں نیت کرلینا ہی کافی ہے ,زبان سے اگر یہ کہا کہ عید کے لئے ہے تو بھی جائز ہے –
(ملخص بہار شریعت حصہ پنجم و فتاوی فیض الرسول)
 *نصاب زکوٰۃ اور صدقہ فطر میں کیا فرق ہے؟*
یادرہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن پر زکوٰۃ فرض نہیں مگر صدقہ فطر واجب ہے
*پہلا* نصاب زکوٰۃ میں مال کا نامی ہونا شرط (غیر نامی مال اگرچہ حاجت اصلیہ سے خواہ کتنا ہی  زائد ہو اس پر زکوٰۃ نہیں)
*دوسرا* نصاب صدقہ فطر میں مال کا نامی ہونا شرط نہیں (یعنی وہ مال جو حاجت اصلیہ سے زائد ہے اسے بھی جوڑا جائے گا جیسے تانبا پیتل کانچ کے برتن اور  ہیرے جواہرات وغیرہ )
*تیسرا*  نصاب زکوٰۃ پر سال گزرنا (یعنی حولان حول) شرط ہے اگر سال نہیں گزرا تو زکوٰۃ واجب نہیں
*چوتھا* نصاب صدقہ فطر پر سال گزرنا شرط نہیں یوم عید الفطر کو قبل طلوع فجر مال نصاب بھر ہے تو فطرہ واجب ہے
*پانچواں* زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے مالک نصاب کا عاقل و بالغ ہونا شرط (یعنی نابالغ و مجنون اگر صاحب نصاب ہے تو اس پہ زکوٰۃ فرض نہیں)
*چھٹا* صدقہ فطر واجب ہونے کے لیے عاقل و بالغ ہونا شرط نہیں-
*ساتواں* زکوٰۃ کے لیے مال زکوٰۃ میں مستحق زکوٰۃ کو سونا چاندی روپیہ پیسہ یا کوئی دوسری چیز بھی دے سکتے ہیں اور اسکے لئے ایک مقدار متعین ہے یعنی چالیسواں حصہ سو روپیہ میں ڈھائی روپیہ
*آٹھواں* صدقہ فطر میں فقط چار چیزیں دے سکتے ہیں. گیہوں. جَو. منقی. کھجور. اور اگر اسکے علاوہ کچھ دینا چاہیں تو اسکی قیمت کے برابر ہو گیہوں دیں تو نصف صاع یعنی دوکلو 47 گرام یا اسکی قیمت جَو کھجور منقی دینا تو ایک صاع یعنی چار کلو 94 گرام دیں یا پھر اسکی قیمت یا قیمت کے برابر کوئی دوسرا سامان-
*نواں* مال زکوٰۃ قبل وجوب زکوٰۃ بھی یعنی پیشگی ادا کر سکتے البتہ بلا عذر شرعی تاخیر کیا تو گنہ گار ہوں گے-
*دسواں*  صدقہ فطر قبل رمضان یا قبل نماز عید الفطر یا بعد عید الفطر کبھی بھی دے سکتے ہیں اور یہ دینا ادا ہی کہلائے گا قضا نہیں البتہ قبل نماز عید الفطر دینا مسنون ہے-
*صدقہ فطر کی ادائیگی گیہوں سے ہی کیوں۔؟*
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
“جس طرح قربانی کے جانوروں میں تنوع ہے اور ان کی کئی اقسام ہیں، اسی طرح صدقہ فطر میں بھی تنوع ہے اور اس کی کئی اقسام ہیں اور جو لوگ جس حیثیت کے مالک ہیں ، وہ اسی حیثیت سے صدقہ فطر ادا کریں !” .
مثلاٙٙ جو کروڑ پتی لوگ ہیں، وہ چار کلو پنیر  کے حساب سے صدقہ فطر ادا کریں ، جو لوگ لکھ پتی ہیں ، وہ چار کلو کشمش کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کریں اور جو ہزاروں روپیوں کی آمدنی والے ہیں، وہ چار کلو گرام کھجور کے حساب سے صدقہ فطر ادا کریں اور جو سینکڑوں کی آمدنی والے ہیں، وہ دو کلو گندم(گیہوں) کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کریں۔
*لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل کروڑ پتی ہوں یا سینکڑوں کی آمدنی والے ہوں ، سب دوکلو گندم سینتالیس گرام کے حساب سے صدقہ فطر ادا کرتے ہیں اور تنوع پر عمل نہیں کرتے۔*
جب کہ قربانی کے جانوروں میں لوگ تنوع پر عمل کرتے ہیں اور کروڑ پتی لوگ کئی کئی لاکھ کے جانور خرید کر اور متعدد قیتی اور مہنگے دنبے اور بکرے خرید کر ان کی قربانی کرتے ہیں۔
*اس کی کیا وجہ ہے؟*
ہم اپنا جائزہ لیں ، کہیں اس کی یہ وجہ تو نہیں ہے کہ قربانی کے مہنگے اور قیمتی جانور خرید کر انہیں اپنی شان و شوکت اور امارت دکھانے کا موقع ملتا ہے۔ہم بڑے فخر سے وہ قیمتی جانور اپنے عزیزوں کو دکھاتے ہیں اور نمود و نمائش کرتے ہیں۔اور صدقہ فطر کسی غریب آدمی کے ہاتھ پر رکھ دیا جاتا ہے، اس میں دکھانے اور سنانے اور اپنی امارت جتانے کے مواقع نہیں ہیں۔*
اس لیے کروڑ پتی سے لے کر عام آدمی تک سب دوکلوسنیتالیس گرام گندم کے حساب سے صدقہ فطر ادا کرتے ہیں ۔
*سوچیے ہم کیا کررہے ہیں؟*
کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن یہ ساری قربانیاں ریا کاری قرار دے کر ہمارے منہ پر ماردی جائیں۔
حضرت رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے جانوروں کی متعدد قِسمیں اسی لیے بیان کی ہیں کہ ہر طبقہ کے لوگ اپنی حیثیت کے لحاظ سے قربانی کا تعین کریں۔
اسی طرح آپ نے صدقہ فطر کی متعدد اقسام بھی اسی لیے بیان کی ہیں کہ ہر طبقہ کے لوگ اپنی حیثیت کے لحاظ سے صدقہ فطر ادا کریں۔
*سو جس طرح ہم اپنی حیثیت کے لحاظ سے قربانی کے جانوروں کا تعین کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنی حیثیت کے لحاظ سے صدقہ فطر کی قسم کا تعین بھی کرناچاہئے اور تمام طبقات کے لوگوں کو صرف دوکلو(سینتالیس گرام) گندم کے حساب سے صدقہ فطر پر ہی نہیں ٹرخانا چاہیے“۔*
#بحوالہ: نعمة الباری شرح صحیح البخاری ، جلدج 3، ص 764)
 صدقہ فطر میں گیہوں کی شروعات حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور سے ہوئی ہے اس سے پہلے صدقہ فطر میں کھجور منفی اور جو ہی دیا جاتا تھا. 
(کیا آپ جانتے ہیں) 
صدقہ فطر کا ایک خاکہ
باعتبار گیہوں.         40روپیہ
باعتبار گیہوں کاآٹ  45روپیہ
باعتبارجو.               66روپیہ
باعتبارجو کا آٹا.       78روپیہ
باعتبارچھوہارا.        984روپیہ
باعتبارکشمس.        1107روپیہ
اپنے علاقہ کے حساب سے اشیاء کی مزید قیمت معلوم کرکے جو جس حیثیت کااہل ہو وہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کرے اور ضروتمندوں مدارس و مکاتب کی امدادواعانت کرکے کثیر ؤں ثواب سے حاصل کریں اور دارین سے نعمتوں سے مالامال ہوں. مدارس عربیہ مکاتب اسلامیہ یہاں تک کہ مرکزی درسگاہیں بہت اہم موڑ پہ ہیں اس بات کا بھر پور خیال رکھیں اور مکمل تعاون کریں. خدا عزوجل آپ سبھی ہمیشہ عروج وبہار عطافرمائے۔