بدمذہب سیّد ہو یا غیرسیّد کا شرعی حکم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئین کرام : سَیِّد کا لغوی معنیٰ ”سردار“ ہے مگرپاک و ہند میں اِصطلاحاً وہ لوگ سَیِّد کہلاتے ہیں جو حَسَنَینِ کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی اَولاد ہیں جبکہ عرب شریف میں ہرمعزز شخص کو ”سَیِّد“ اور امامین حَسَنَینِ کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی اَولاد کو ”شریف“ کہا جاتا ہے ۔ امامِ اہلسنّت ، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : سَیِّد“ سبطین کریمین (یعنی امامین حَسَنَینِ کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کی اولاد کو کہتے ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ،١٣/٣٦١)

اگر کوئی بد مذہب سیِّد ہونے کا دعویٰ کرے اور اُس کی بدمذہبی حدِّ کفر تک پَہُنچ چکی ہو تو ہرگزاس کی تعظیم نہ کی جائے گی ۔ امامِ اہلسنّت ، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ساداتِ کرام کی تعظیم ہمیشہ (کی جائے گی )جب تک ان کی بدمذہبی حدِّ کفر کو نہ پَہُنچے کہ اس کے بعد وہ سیِّد ہی نہیں،نسب مُنْقَطَع ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَ لَّقرآنِ پاک میں اِرشاد فرماتا ہے : قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ۔ (پارہ نمبر ۱۲،سورہ ھُود:۴۶)

ترجَمہ : فرمایا اے نوح (علیہ السّلام) وہ (یعنی تیرابیٹا کنعان) تیرے گھر والوں میں نہیں بے شک اس کے کام بڑے نالائق ہیں ۔ بدمذہب جن کی بد مذہبی حدِّ کفر کو پَہُنچ جائے اگرچہ سیِّد مشہور ہوں نہ سیِّد ہیں ، نہ اِن کی تعظیم حلال بلکہ توہین و تکفیر فرض ۔ (فتاویٰ رضویہ،٢٢/٤٢١)

صَدرُالْافاضِل حضرتِ علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ بالا آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:اس سے ثابت ہوا کہ نَسْبی قَرابت سے دِینی قَرابت زیادہ قوی ہے ۔ (تفسیر خَزائنُ العِرفان،پ ۱۲،ھود،تحت الآیۃ:۴۶)

جو واقع میں سیِّد نہ ہو اور دِیدہ ودِانستہ (جان بوجھ کر) سید بنتا ہو وہ ملعون (لعنت کیا گیا) ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل۔رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم فرماتے ہیں:جو کوئی اپنے باپ کے سِوا کسی دوسرے یا کسی غیر والی کی طرف منسوب ہونےکا دعویٰ کرے تو اس پر اللّٰہ تعالیٰ،فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض قبول فرمائے گا اور نہ ہی کوئی نفل ۔ (مُسلِم،کتاب الحج،باب فضل المدینة…الخ ،ص۷۱۲،حدیث:۱۳۷۰)

مگر یہ اس کا مُعامَلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں ہے ، ہم بِلا دلیل تکذیب نہیں کر سکتے ، اَللہ ہمارے علم (میں) تحقیق طور پر معلوم ہے کہ یہ سیِّد نہ تھا اور اب سیِّد بن بیٹھا تو اُسے ہم بھی فاسِق ومُرتکبِ کبیرہ ومستحق لعنت جانیں گے ۔ (فتاویٰ رضویہ،٢٣/١٩٨)

اگر کوئی بد مذہب سیِّد ہونے کا دعویٰ کرے اور اُس کی بدمذہبی حدِّ کفر تک پَہُنچ چکی ہو تو ہرگزاس کی تعظیم نہ کی جائے گی ۔ امامِ اہلسنّت،مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ساداتِ کرام کی تعظیم ہمیشہ (کی جائے گی ) جب تک ان کی بدمذہبی حدِّ کفر کو نہ پَہُنچے کہ اس کے بعد وہ سیِّد ہی نہیں،نسب مُنْقَطَع ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں اِرشاد فرماتا ہے: )’ قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ۫٭ۖ) (پ۱۲، ھُود:۴۶) ترجَمۂ کنز الایمان:”فرمایا! اے نوح ! وہ(یعنی تیرابیٹا کنعان)تیرے گھر والوں میں نہیں بے شک اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔“بدمذہب جن کی بد مذہبی حدِّ کفر کو پَہُنچ جائے اگرچہ سیِّد مشہور ہوں نہ سیِّد ہیں،نہ اِن کی تعظیم حلال بلکہ توہین و تکفیر فرض ۔ (فتاویٰ رضویہ،٢٢/٤٢١)

صَدرُالْافاضِل حضرتِ علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْہَادِی مذکورہ بالا آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:اس سے ثابت ہوا کہ نَسْبی قَرابت سے دِینی قَرابت زیادہ قوی ہے ۔ (تفسیر خَزائنُ العِرفان،پ ۱۲،ھود،تحت الآیۃ:۴۶)

ایسا بدمذھب گستاخ جس کی گستاخی حد کفر کو پہنچ چکی ہو ، یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے ، اورایسا بد مذھب کہ کفریہ عقائد خود نہیں رکھتا مگر ایسے کفریہ و گستاخانہ عقائد والوں کو اپنا امام یا پیشوا بتاتا ہے یا انہیں مسلمان گردانتا ہے تو وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے ، کیونکہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کے منکر کو کافر نہ جاننابھی کفر ہے ، وجیز امام کردری و در مختار و شفائے امام قاضی عیاض (علیہم الرّحمہ) و غیرہ میں ہے ۔ اللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ۔

ترجمہ : شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں ،علماء کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ (کتاب الشفاء ،القسم الرابع ،البا ب ا لاول،۲/۲۰۸،مطبوعہ،دار سعادت،بیروت، در مختار ،کتاب الجھاد،باب المرتد،۱/۳۵۶،مطبوعہ ،مجتبائی،دھلی، فتاوی رضویہ اا/۳۷۸ مطبوعہ لاھور،چشتی)

ایسے بدمذھبو گستاخوں سے دوستی ، محبت ، میل جول،ان کے یہاں جانا ، انہیں اپنے یہاں بلانا ، اہل سنت کی مسجد میں آنے دینا ، درس و تبلیغ کی اجازت دینا ، ان کے ساتھ صحبت رکھنا ، ان کی طرف جھکاؤ اور مائل ہونا ،الغرض ہر وہ کام جس سے بدمذھبوں سے انسیت و تعلق و وابستگی یا میلان کا اظہار ہو بدمذھبی و سخت حرام ، اور شادی بیاہ کرنا ناجائز ، نکاح باطل محض و زناء ۔

قرآن کریم کی نصوص صریحہ و احادیث شریفہ سے ان تمام کی ممانعت ثابت اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : و لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۔ (سورہ ھود۱۱/۱۱۳)

ترجمہ : اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ۔

اس آیت کی تفسیر میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ و مرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا ۔ (تفسیر نور العرفان)

نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے : و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین }(الانعام ۶/۶۸)

ترجمہ : اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔

نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے : ومن یتولھم منکم فانہ منھم ۔ ( المائدۃ ۵/۵۱ )

ترجمہ : اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے ۔

اور بد مذھبوں کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم ۔

ترجمہ : اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو اور بیاہ شادی نہ کرو، اور میل جول نہ کرو،اور ان کے بیماروں کی عیادت نہ کرو ، اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ، اور مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھو ۔ (صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵،السنۃ لعبد اللہ بن احمد،۱/۱۲۶،اعتقاد اھل السنۃ،۱/۱۳۴،مسند الربیع،۱/۳۰۲،السنۃ لابن ابی عاصم،۱/۱۴۴،الجرح و التعدیل،۷/۵۲،میزان الاعتدال، ۲/۳۱،لسان المیزان، ۲/۵۲،المجروحین،۱/۱۸۷،تھذیب الکمال،۶/۴۹۹، العلل المتناھیۃ، ۱/۱۶۸،تغلیق التعلیق،۵/۱۲۵،الجامع لاخلاق الراوی و السامع،۲/۱۱۸،المغنی،۹/۱۱ الضعفاء للعقیلی ۱/۱۲۶ دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۰۴ھـ ،تاریخ بغداد ۸/۱۴۳، الکفایۃ فی علم الروایۃ ۱/۴۸ ،المکتبۃ العلمیۃ، المدینۃ المنورۃ،خلق افعال العباد۱/۳۰،دار المعارف السعودیۃ،الریاض،۱۳۹۸ھ،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ۔

ترجمہ : گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیںفتنہ میں نہ ڈال دیں ۔ (صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی ، بیروت)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : اصحاب البدع کلاب اھل النار ۔

ترجمہ : بد مذھبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں ۔ (التدوین فی اخبار قزوین ۲/۴۵۸، مطبوعہ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت ،۱۹۸۷ء ، فیض القدیر ، ۱/۵۲۸ المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر، ۱۳۵۶ھ رقم الحدیث ۱۰۸۰،کنز العمال ،رقم الحدیث ۱۰۹۴،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے بد مذھب سے شادی کرنے کے بارے میں فرمایا : ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ ۔

ترجمہ : کیا تم میں کسی کو پسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے تم اسے بہت برا جانو گے ۔ (سنن ابن ماجہ ،ابواب النکاح ص،۱۳۹،مسند احمد ۱/۸۶ دار الفکر بیروت، لبنان)

یعنی بد مذھب جہنمیوں کے کتے ہیں اور انہیں بیٹی یا بہن دینا ایسا ہے جیسے کتے کے تصرف میں دیا ، بہر حال ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بد مذھب سے میل جول ، ان کے یہاں جانا ، انہیں بلانا ، اہل سنت و جماعت کی مسجد میں درس و تبلیغ کی اجازت دینا ، شادی کرنا جائز نہیں ہے نیز وہ بدمذھب لوگ جن کی گمراہی و بد مذھبی حد کفر کو پہنچ چکی ہے ان کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ، نیز ایسا شخص جو خود تو کفریہ عقائد نہیں رکھتا مگر جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخیاں کی ہیں انہیں مسلمان جانتا ہے وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)