درسِ قرآن موضوع آیت : کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوۡرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ؕ ۔ (سورہ العمران آیت نمبر 185)

ترجمہ : ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا ۔

انسان ہو ں یا جن یا فرشتہ ، غرض یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر زندہ کو موت آنی ہے اور ہر چیز فانی ہے ۔

جنگ احد کی ہزیمت پر جو مسلمان رنجیدہ اور غمزدہ تھے اس آیت میں بھی گذشتہ آیات کی طرح ان کو تسلی دی گئی ہے اور منافقوں کے طعن کا جواب دیا ہے ‘ منافق یہ کہتے تھے اس جنگ میں ہمارے مشورہ پر عمل کیا جاتا اور مسلمان شہر بند ہو کر لڑتے تو اس جنگ میں اس قدر مسلمان مارے نہ جاتے ‘ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ ہر شخص نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اگر بہ فرض محال وہ مسلمان اس جنگ میں نہ مارے جاتے تب بھی انہوں نے ایک نہ ایک دن مرنا تھا ‘ پہلے کوئی ہمیشہ پہلے زندہ رہا نہ اب ہمیشہ زندہ رہے گا ‘ پھر تم ان مسلمانوں کے مرنے پر غم کیوں کرتے ہو ! خصوصا اس لیے کہ وہ شہادت کی موت مرے ہیں اور شہداء اللہ کے نزدیک زندہ ہیں ان کو رزق دیا جاتا ہے اور وہ اللہ کی ان نعمتوں پر بہت خوش ہیں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو دنیا میں ایمان اور اعمال صالحہ کا اجر عطا فرمایا ہے ‘ تم کو جنگ بدر میں فتح عطا کی ‘ اور جب تک تم مکہ مکرمہ میں رہے تم کو کفار کے قتل کرنے سے بچائے رکھا حتی کہ تم ہجرت کر کے مدینہ میں آگئے اور جہاد میں اللہ تم کو جو فتح وظفر ‘ مال غنیمت اور دشمن پر تسلط عطا فرماتا ہے ‘ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دنیا میں تھوڑا سا اجر ہے اس کا پورا پورا اجر تم کو قیامت کے دن دیا جائے گا ‘ ’ توفیہ “ کا معنی کسی چیز کو پورا پورا کرنا ہے ‘ مومنوں کو دنیا میں جو نعمتیں دی ہیں وہ تھوڑی ہیں ان کو پوری پوری نعمتیں آخرت میں دی جائیں گی ۔

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٤١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا دنیا مومن کا قیدخانہ ہے اور کافر کی جنت ہے ۔ (کتاب الزھد ص ٣٧‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٤ ھ،چشتی)

اسی طرح کفار کو جو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہوتا ہے یا ان کا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے یہ بہت تھوڑ عذاب ہے انکو پورا پورا عذاب آخرت میں دیا جائے گا جو دائمی عذاب ہوگا ۔

موت کی یاد اور اس کی تیاری کی ترغیب

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار پر موت مقرر فرما دی ہے اوراس سے کسی کو چھٹکارا ملے گا اور نہ کوئی اس سے بھاگ کر کہیں جا سکے گا ۔ موت روح کے جسم سے جدا ہونے کا نام ہے اور یہ جدائی انتہائی سخت تکلیف اور اذیت کے ساتھ ہو گی اور اس کی تکلیف دنیا میں بندے کو پہنچنے والی تمام تکلیفوں سے سخت تر ہو گی ۔ موت اور اس کی سختی کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ۔ (سورہ ق ۱۹)

ترجمہ : اور موت کی سختی حق کے ساتھ آگئی ، (اس وقت کہا جاتا ہے) یہ وہ (موت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔

حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا ’’اے کعب رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُُ ، ہمیں موت کے بارے میں بتائیے ۔ حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، موت ایک ایسی کانٹے دار ٹہنی کی طرح ہے جسے کسی آدمی کے پیٹ میں داخل کیا جائے اور اس کا ہر کانٹا ایک ایک رگ میں پیوست ہو جائے ، پھر کوئی طاقتور شخص اس ٹہنی کو اپنی پوری قوت سے کھینچے تو اس ٹہنی کی زد میں آنے والی ہر چیز کٹ جائے اور جو زد میں نہ آئے وہ بچ جائے ۔ (احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثالث فی سکرات الموت وشدتہ۔۔۔ الخ، ۵/۲۱۰)

حضرت شداد بن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’مومن پر دنیا اور آخرت کا کوئی خوف موت سے بڑھ کر نہیں ، یہ خوف آروں سے چیرنے ،قینچیوں سے کاٹنے اور ہانڈیوں میں ابالنے سے بھی زیادہ سخت ہے ۔ اگر کوئی میت قبر سے نکل کر دنیا والوں کو موت کی سختیاں بتا دے تو وہ نہ زندگی سے نفع اٹھا سکیں گے اور نہ نیند سے لذت حاصل کر سکیں گے ۔ (احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثالث فی سکرات الموت وشدتہ۔۔۔ الخ، ۵/۲۰۹)

مروی ہے کہ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وصال ہو ا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اے میرے خلیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، تم نے موت کو کیسا پایا ؟ آپ نے عرض کی : جس طرح گرم سیخ کو تر روئی میں رکھا جائے پھر اسے کھینچ لیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ہم نے آپ پر موت کو آسان کیا ہے ۔ (احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثالث فی سکرات الموت وشدتہ۔۔۔ الخ، ۵/۲۰۹)

حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں : بے شک رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے سامنے پانی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اپنے دونوں ہاتھ پانی میں داخل کرتے ، پھر انہیں چہرۂ انور پر ملتے اور کہتے : بے شک موت میں تکلیف ہوتی ہے ۔ پھر دستِ مبارک اٹھاکر فرماتے ’’رفیق اعلیٰ میں ۔ یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی روح قبض کر لی گئی اور دستِ مبارک جھک گیا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت، ۴/۲۵۰، الحدیث: ۶۵۱۰،چشتی)

حضرت عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا نے فرمایا ’’میں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے وصال کے وقت جو سختی دیکھی اس کے بعد مجھے کسی کی آسان موت پر رشک نہیں ہے ۔ (ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی التشدید عند الموت، ۲/۲۹۵، الحدیث: ۹۸۱)

جب حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے بیٹے نے ان سے کہا : اے بابا جان! آپ کہا کرتے تھے کہ کوئی عقلمند انسان مجھے نَزع کے عالَم میں مل جائے تو میں اس سے موت کے حالات دریافت کروں ، تو آپ سے زیادہ عقل مند کون ہو گا ،برائے مہربانی آپ ہی مجھے موت کے حالات بتا دیجئے ۔ آپ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’اے بیٹے ! خدا کی قسم،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرے دونوں پہلو ایک تخت پر ہیں اور میں سوئی کے نکے کے برابر سوراخ سے سانس لے رہا ہوں اور ایک کانٹے دار شاخ میرے قدموں کی طرف سے سر کی جانب کھینچی جا رہی ہے ۔ (التذکرہ للقرطبی، باب ما جاء انّ للموت سکرات۔۔۔ الخ، ص۲۴)

ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم تو سر تا پا گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اورہمارے اوپر موت کی سختیوں کے علاوہ نجانے اور کتنی مصیبتیں آئیں گی اس لئے عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ موت کو بکثرت یاد کیا جائے اور دنیا میں رہ کر موت اور اس کے بعد کی تیاری کی جائے ۔

حضرت شداد بن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنا تابعدار بنا لے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے اور عاجز وہ شخص ہے جو اپنی خواہشات پر چلتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی کرتا ہو ۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۲۵-باب، ۴/۲۰۷)

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ تھا کہ ایک انصاری آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو سلام کیا اور عرض کی :یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، کونسا مومن افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’جس کے اخلاق عمدہ ہوں ۔ اس نے عرض کی : سب سے زیادہ عقلمند کون ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہو اور اس کی اچھی طرح تیاری کرتا ہو تو وہی سب سے زیادہ عقلمند ہے ۔ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ، ۴/۴۹۶، الحدیث: ۴۲۵۹،چشتی)

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں وہاں موجود افراد میں سے دسواں تھا ۔ اسی دوران ایک انصاری شخص آئے اور عرض کی :یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند اور محتاط کون ہے؟نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’وہ لوگ جوموت آنے سے پہلے اسے زیادہ یاد کرتے اور اس کے لئے زیادہ تیاری کرتے ہیں وہی عقلمند ہیں ،وہ دنیا کی شرافت اور آخرت کی بزرگی لے گئے ۔ (معجم الکبیر، ۱۲/۳۱۸، الحدیث: ۱۳۵۳۶)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ موت کی یاد اور اس کے بعد کی تیاری کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’جب اس دار فنا سے ایک نہ ایک دن کوچ کرنا ہی ہے تو عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہاں کی تیاری کرے جہاں ہمیشہ رہنا ہے ۔ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے فرمایا ، دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر بلکہ راہ چلتا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : کن فی الدنیا کانّک غریب۔۔۔ الخ، ۴/۲۲۳، الحدیث: ۶۴۱۶)

تو مسافر جس طرح ایک اجنبی شخص ہوتا ہے اور راہ گیر راستے کے کھیل تماشوں میں نہیں لگتا کہ منزل مقصود تک پہنچنے میں ناکامی ہو گی اسی طرح مسلمان کو چاہیے کہ دنیا اور اس کی رنگینیوں میں نہ پھنسے اور نہ ایسے تعلقات پیدا کرے کہ مقصود اصلی حاصل کرنے میں آڑے آئیں اور موت کو کثرت سے یاد کرے کہ دنیا اور اس کی لذتوں میں مشغول ہونے سے روکے گی، حدیث میں ہے : لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو کثرت سے یاد کرو ۔ (ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی ذکر الموت، ۴/ ۱۳۸، الحدیث: ۲۳۱۴)

مگر کسی مصیبت پر موت کی آرزو نہ کرے کہ حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے اور ناچار کرنی ہی پڑے تو یوں کہے، یااللہ ! مجھے زندہ رکھ جب تک میری زندگی میرے لئے بہتر ہو ، اور موت دے جب میرے لئے بہتر ہو ۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب تمنّی المریض الموت، ۴/۱۳، الحدیث: ۵۶۷۱،چشتی)

یونہی مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھے اوراس کی رحمت کا امیدوار رہے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ایک نوجو ان کے پاس اس حال میں تشریف لے گئے کہ وہ مرنے کے قریب تھا ۔ ارشادفرمایا : تو اپنے آپ کو کس حال میں پاتا ہے ؟ عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، اللہ تعالیٰ سے امید ہے اور اپنے گناہوں سے ڈر ۔ ارشاد فرمایا : ’’یہ دونوں خوف اور امیداس موقع پر جس بندے کے دل میں ہوں گے اللہ تعالیٰ اسے وہ دے گا جس کی امید رکھتا ہو اور اس سے امن میں رکھے گا جس سے خوف کرتا ہے ۔ (ترمذی، کتاب الجنائز، ۱۱-باب، ۲/۲۹۶، الحدیث: ۹۸۵)

یاد رکھئے رُوح قبض ہونے کا وقت بہت ہی سخت وقت ہے کہ اسی پر سارے اعمال کا دارومدار ہے بلکہ ایمان کے اُخْرَوی نتائج اسی پر مُرَتَّب ہوں گے کہ اعتبار خاتمہ ہی کا ہے اور شیطان لعین ایمان لینے کی فکر میں ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس کے مکر و فریب سے بچائے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے وہ ہی مراد کو پہنچا ۔ (بہار شریعت ، موت آنے کا بیان ، حصہ چہارم،۱/۸۰۶-۸۰۷)

موت سے مستثنی رہنے والے نفوس کا بیان

اس آیت میں پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی ذات پر نفس کا اطلاق کیا ہے ارشاد ہے : کتب علی نفسہ الرحمہ ۔ (سورہ الانعام : ١٢)

ترجمہ : اس نے (محض اپنے کرم سے) اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے ‘

ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شآء اللہ ۔ (سورہ الزمر : ٦٨)

ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب بےہوش ہوجائیں گے مگر جن کو اللہ چاہے ۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سب لوگوں کو موت نہیں آئے گی اور کچھ مخلوق ایسی ہوگی جو قیامت کے صور سے بھی صرف بےہوش ہوگی مرے گی نہیں اور زیر بحث آیت کا تقاضا ہے کہ ہر نفس پر موت آئے حتی کہ اللہ پر بھی اور ان پر بھی ۔ اس کا جواب یہ ہے یہ زیر بحث آیت عام عام مخصوص نہ البغض ہے ‘ اللہ تعالیٰ اور جن کا اللہ تعالیٰ نے استثناء فرمایا ہے (مثلا انبیاء علیہم السّلام اور شہدائے کرام) وہ اس آیت کے عموم سے مستثنی ہیں ‘ امام رازی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت میں نفس سے مراد وہ مکلف ہیں جو دار تکلیف میں حاضر ہیں ۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١١٢) لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا تقاضا ہے کہ پھر بچوں اور دیوانوں پر موت نہ آئے اسی طرح جمادات اور نباتات پر موت نہ آئے حالانکہ ان سب پر موت آئے گی صحیح جواب وہی ہے جس کو ہم نے ذکر کیا ہے 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جو شخص دوزخ سے دور کیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہی کامیاب ہے اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے ۔ (سورہ آل عمران : ١٨٥)

اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کا اس کے سوال اور کوئی مقصود نہیں ہونا چاہیے کہ اس کو دوزخ کے عذاب سے نجات مل جائے اور وہ جنت میں پہنچ جائے اور جو شخص دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہو جائے اس کیلیے یہ دنیا دھوکے کا سامان ہے اور جس نے اللہ کے احکام کی اطاعت اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی سیرت پر عمل کرنے کے لیے دنیا سے تعلق رکھا اس کے لیے دنیا اچھی متاع ہے ‘ اس آیت کے دو جز ہیں ‘ ایک جہنم سے دوری اور جنت کا وصال اس کو کامیابی فرمایا ہے اور دنیا کی بےثباتی ہے پہلے جز کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو سو جو شخص دوزخ سے دور کیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہی کامیاب ہے ۔ (سورہ آل عمران : ١٨٥)

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا اللہ کی راہ میں صبح یا شام کرنا دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تم میں سے کسی ایک کے کوڑے جتنی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے ۔ (کتاب الزھد ص ٢٩۔ ٢٧ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٤ ھ،چشتی)

امام احمد بن شعیب نسائی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ نماز پڑھی آپ جب عذاب کی آیت پڑھتے تو ٹھہر کر اس سے پناہ مانگتے اور جب بھی رحمت کی آیت پڑھتے تو ٹھیر کر اس کی دعا کرتے۔ (سنن نسائی ج ١ ص ١٥٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابودؤاد سجستانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٥ ھ نے اس حدیث کو حضرت عون بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٤١ ھ نے اس حدیث کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٢٩‘ رقم الحدیث ٨٧٣‘ مطبوعہ دارلجیل بیروت ‘ مسند احمد ج ٦ ص ١١٩‘ مطبوعہ بیروت)

امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ حاکم نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی یہ دعا ہوتی تھی : اے اللہ ! ہم تجھ سے تیری رحمت کے موجبات اور مغفرت کے موکدات کا سوال کرتے ہیں اور ہر گناہ سے محفوظ رہنے کا اور ہر نیکی کے حصول کا اور جنت کی کامیابی کا ‘ اور تیری مدد سے دوزخ سے نجات کا ‘ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ (علامہ ذہبی نے بھی اس کو مقرر رکھا ہے) ۔ (المستدرک ج ١ ص ٥٢٥‘ مبطوعہ دارالباز مکہ مکرمہ،چشتی)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا وجہ اللہ کے وسیلہ سے صرف جنت کا سوال کیا جائے (سنن ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١‘ رقم الحدیث ١٦٧١‘ مطبوعہ دارالجیل بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ میں سستی ‘ بڑھاپے ‘ قرض اور گناہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ اے اللہ ! میں دوزخ کے عذاب ‘ دوزخ کے فتنہ ‘ قبر کے فتنہ ‘ قبر کے عذاب ‘ مال کے شر کے فتنہ ‘ فقر کے شر کے فتنہ اور مسیح دجال کے شر کے فتنہ سے تیری پناہ میں میں آتا ہوں ‘ اے اللہ میری (بہ ظاہر) خطاؤں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھودے ‘ اے اللہ ! میری (بظاہر) خطاؤں سے میرے دل کو اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صفا کردیا جاتا ہے ‘ اے اللہ ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اس طرح دوری کر دے جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کی ہے۔ (صحیح البخاری ج ٧ ص ٣٠٧‘ ٦٣٧٥‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ،چشتی)(صحیح مسلم ج ٤ ص ٢٠٧٨‘ رقم الحدیث ٢٧٠٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)(الجامع الصحیح ج ٥ ص ٥٢٥‘ رقم الحدیث ٣٤٩٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)(سنن نسائی ج ٢ ص ٣١٥‘ مطبوعہ نور محمد کراچی)(مسنداحمد ج ٦ ص ٣٠٧‘ ٥٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام محمد بن یزید ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہمیں اس دعا کی قرآن کی سورت کی طرح تعلیم دیتے تھے : اے اللہ ! میں عذاب جہنم سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ اے اللہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ اے اللہ ! میں مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ اے اللہ ! میں زندگی اور موت کے فتنہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ١٢٦٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

علامہ شہاب الدین احمد بن ابوبکر بوصیری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٤٠ ھ نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ (زوائد ابن ماجہ ص ٤٩٣‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٤ ھ)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت کا سوال کیا جنت کہتی ہے اے اللہ ! اس کو جنت میں داخل کر دے اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ طلب کی جہنم کہتی ہے اے اللہ اس کو جہنم سے پناہ میں رکھ ۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٧٠٠‘ رقم الحدیث ٢٥٧٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)(سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ١٤٥٢‘ رقم الحدیث ٤٣٤٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت،چشتی)(المستدرک ج ١ ص ٥٣٥‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٦٧٥‘ رقم الحدیث ٢٥٣٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ١٥٢ ‘۔ ١٥‘ مطبوعہ نشر السنہ ملتان ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٧١‘ مطبوعہ بیروت ‘ تاریخ کبیر للبخاری ج ٤ ص ١٤٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣١٨٣)

امام ابو یعلی احمد بن علی موصلی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٣٠٧ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے پاس ایک اعرابی آیا آپ نے اس کو عزت بخشی ‘ وہ آپ کے بلانے پر آیا تھا ‘ آپ نے اس سے فرمایا تم اپنی حاجت کا سوال کرو ‘ اس نے کہا ہمیں ایک اونٹنی دیجئے تاکہ ہم اس پر سوار ہوں اور ہمارے گھروالے اس کا دودھ دو ہیں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کیا تم بنواسرائیل کی بڑھیا کی مثل ہونے سے بھی عاجز ہو ‘ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ! بنو اسرائیل کی بڑھیا کیسی تھی ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت موسیٰ بنواسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو راستہ بھول گئے حضرت موسیٰ نے فرمایا اس کا کیا سبب ہے ؟ تو علماء بنواسرائیل نے کہا جب حضرت یوسف علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ ہم اس وقت تک مصر سے نہ نکلیں جب تک کہ ان کی نعش کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا ان کی قبر کا کس کو علم ہے ؟ تو انہوں نے کہا بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا کو اس کا علم ہے ‘ اس کو بلایا گیا وہ آئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ہماری حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر کی طرف رہنمائی کرو ‘ اس بڑھیا نے کہا جب تک تم میری ایک بات نہیں مانو گے میں نہیں بتاؤں گی ‘ پوچھا تمہاری بات کیا ہے ؟ اس نے کہا میں جنت میں تمہارے ساتھ رہوں ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو یہ مرتبہ دینا مکروہ جانا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ اس کو یہ مرتبہ دے دیں ‘ تب وہ ان کو ایک ایسی جگہ لے گئے جو سمندر کے پانی میں ڈوبی ہوئی تھی ‘ اس بڑھیا نے کہا اس جگہ کو پانی سے خالی کرو ‘ سو اس جگہ کو خالی کیا گیا ‘ بڑھیا نے کہا اس جگہ کھدائی کرو ‘ پھر انہوں نے وہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نعش کو نکالا ‘ جب انہوں نے ان کی نعش کو اوپر اٹھایا تو ان پر گم شدہ راستہ روز روشن کی طرح واضح ہوگیا۔ (اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ کے رسول جنت عطا کرتے ہیں اور ان سے جنت کا سوال کرنا جائز ہے)

مسندابو یعلی ج ٦ ص ٣٩٢، ٣٩١‘ رقم الحدیث ٧٢١٨‘ مطبوعہ مؤسسہ علوم القرآن بیروت ‘ حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ امام ابو یعلی کی اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٧١‘ ناصر البانی نے بھی یہی لکھا ہے ‘ سلسلۃ الصحیحہ رقم : ٥٣١٢ حاکم نیشا پوری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق ہے اور حافظ ذہبی نے اس کی تائید کی ہے ‘ المستدرک ج ٢ ص ٥٧٢‘ ٥٧١‘ ٤٠٥‘ ٤٠٤‘ امام ابن حبان نے بھی اس کو روایت کیا ہے الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج ٢ ص ٧١‘ موارد الظمان ص ٦٠٣‘ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس کو درج کیا ہے ‘ المطالب العالیہ ج ٣ ص ٢٧٤‘ امام طبرانی نے بھی اس کو روایت کیا ہے المعجم الاوسط ج ٨ ص ٢٦٩۔ ٢٦٨‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض،چشتی)

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جس بندہ نے سات بار جہنم سے پناہ مانگی جہنم دعا کرتی ہے کہ اے اللہ اس کو مجھ سے پناہ میں رکھ اور جس شخص نے سات بار جنت کا سوال کیا ‘ جنت دعا کرتی ہے کہ اے اللہ ! اس کو مجھ میں سکونت عطا فرما ‘ اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یونس بن خباب ایک ضعیف راوی ہے ۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٧١‘ مطبوعہ دارالکتاب العرابی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

ہر چند کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع معتبر ہوتی ہے اور اس کی تائید میں ہم احادیث صحیحہ نقل کرچکے ہیں نیز قرآن مجید میں تصریح ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قیامت کے عذاب سے پناہ کی دعا کی اور جنت کے حصول کی دعا کی : ” ولا تخزنی یوم یبعثون “ (الشعراء : ٨٧)

ترجمہ : اور حشر کے دن مجھے شرمندہ نہ کرنا ۔

” واجعلنی من روثۃ جنۃ النعیم “۔ (الشعراء : ٨٥)

ترجمہ : اور مجھے نعمت والی جنت کے وارثوں میں شامل کردے ۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو جنت نہیں مدینہ چاہیے اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں مدینہ کے محبوب ہونے سے انکار نہیں لیکن مدینہ اس لیے محبوب ہے کہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا مسکن ہے لیکن جس جگہ آپ کا جسد اطہر رکھا ہوا ہے وہ جنت ہے آپ نے فرمایا میرے منبر اور بیت کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ١٠١٠ مطبوعہ بیروت ‘ سنن کبری للبیہقی ج ٥ ص ٢٤٦‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ج ٢ ص ٥٦)

خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اب بھی جنت میں ہیں اور آخرت میں بھی جنت میں ہوں گے تو اول آخر جنت ہی مطلوب ہے ۔ البتہ یہ واضح رہے کہ جس جگہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا جسد اطہر ہے وہ جگہ کعبہ ‘ جنت حتی کہ عرش سے بھی افضل ہے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا میرے منبر اور بیت کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ١٠١٠ مطبوعہ بیروت ‘ سنن کبری للبیہقی ج ٥ ص ٢٤٦‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ج ٢ ص ٥٦،چشتی)

محترم قارئینِ کرام : اس عنوان پر کافی طویل بحث اس لیئے کی ہے کیونکہ آج کل بعض جعلی صوفی اور بناوٹی درویش جنت کی بہت تحقیر کرتے ہیں اور جنت طلب کرنے سے اپنا مقام بہت بلند سمجھتے ہیں ‘ الہ العلمین ! جنت تو بہت اعلی اور ارفع مقام ہے ہم جنت کے کب لائق ہیں اگر تو نے ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لیا تو تیرا یہ بھی ہم پر بہت بڑا کرم ہوگا ‘ اے ارحم الراحمین ‘ ہم تیری اور تیرے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی اطاعت میں جنت کی طلب کرتے ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ہم جنت کے اہل نہیں ہیں :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے ۔ (سورہ آل عمران : ١٨٥)

دنیا کی رنگینیوں اور دل فریبیوں سے بےرغبتی پیدا کرنے کے متعلق آیات : ” انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو وزینۃ و تفاخر بینکم وتکاثر فی الاموال والاوالاد کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ ثم یھیج فتراہ مصفرا ثم یکون حطا ماوفی الاخرۃ عذاب شدید و مغفرۃ من اللہ ورضوان وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور ۔ (سورہ الحدید : ٢٠ )

ترجمہ : یقین کرو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے ‘ اور عارضی زینت اور ایک دوسرے پر فخر و برتری ہے اور مال اور اولاد میں زیادتی طلب کرنا ہے ‘ اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جس سے پیدوار کسانوں کو اچھی لگتی ہے پھر وہ (پیداوار) خشک ہوجاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے اور آخرت میں (نافرمانوں کے لیے) سخت عذاب ہے اور (فرمانبرداروں کے لیے) اللہ کی مغفرت ہے ‘ اور (اس کی) خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے ۔

زین للناس حب الشھوات من النسآء والبنین والقناطیر المقنطرۃ من الذھب والفضۃ والخیل المسومۃ والانعام والحرث ذالک متاع الحیوۃ الدنیا واللہ عندہ حسن الماب ۔ (سورہ آل عمران : ١٤)

ترجمہ : لوگوں کے لئے عورتوں سے خواہشات کی اور بیٹوں کی اور سونے اور چاندی کے خزانوں کی اور نشان زدہ گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتی باڑی کی محبت خوش نما بنادی گئی ہے یہ دنیا کی زندگی کا (عارضی) سامان ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانا ہے ۔

من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لایبخسون۔ اولئک الذین لیس فی الاخرۃ الا النار وحبط ما صنعوا فیھا وبطل ماکانوا یعملون ۔ (سورہ ھود : ١٦۔ ١٥)

ترجمہ : جو لوگ (صرف) دنیا اور اس کی زینت کے طالب ہیں ہم انہیں دنیا میں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیں گے اور اس میں ان سے کمی نہیں کی جائے گی ‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ‘ اور دنیا میں انہوں نے جو کام کیے وہ ضائع ہوگئے اور انہوں نے جو عمل کیے وہ رائیگاں چلے گئے۔

دنیا کی رنگینیوں اور دل فریبیوں سے بےرغبتی پیدا کرنے کے متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا تم دنیا میں اس طرح رہو جیسے مسافر ہو یا سڑک پار کرنے والے اور حضرت ابن عمریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کہتے ہیں تھے کہ جب شام ہو تو تم صبح کا انتظار نہ کرو ‘ اور جب صبح ہو تو تم شام کا انتظار نہ کرو (یعنی مسلسل نیک عمل کرتے رہو) اور اپنی صحت کے ایام میں بیمار کے لیے عمل کرلو ‘ اور زندگی میں موت کے لیے عمل کرلو ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث ٦٤١٦)

حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا دنیا سفر کرتی ہوئی جارہی ہے اور آخرت سفر کرتی ہوئی آرہی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں تو تم ابن الآخرت بنو الدنیا نہ بنو ‘ کیونکہ آج عمل کا موقع ہے اور حساب نہیں ہے اور کل حساب ہوگا اور عمل کا موقع نہیں ہوگا ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث ٦٤١٦،چشتی)

عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ پڑھی پھر آپ منبر کی طرف گئے اور فرمایا میں تمہارا پیش رو ہوں ‘ اور میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا ‘ اور خدا کی قسم ! بیشک میں اب بھی ضرور اپنے حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں ‘ اور بیشک مجھے روئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم بیشک مجھے تمہارے متعلق ہرگز یہ خدشہ نہیں ہے کہ تم سب میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے ‘ لیکن مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرو گے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٤٢٦)

حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا اگر ابن آدم کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا ‘ اور ابن آدم کے پیٹ کو مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی ‘ اور توبہ کرنے والے کی توبہ کو اللہ قبول فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٤٣٦)

حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا تم میں سے کون اپنے اس مال کا وارث ہے جو اس کو اپنے مال میں بہت پسند ہو ‘ صحابہ نے کہا ہم میں سے ہر شخص اپنے مال کو بہت پسند کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا اس کا مال تو وہ ہے جو اس نے پہلے بھیج دیا اور جو اس نے بچا کر رکھا ہے وہ اس کے وارث کا مال ہے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٤٤٢)

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا : سامان کی کثرت غنی نہیں ہے غنی نفس کا استغناء ہے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٤٤٦)

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے خوان پر نہیں کھایا حتی کہ آپ کا وصال ہوگیا اور آپ نے پتلی چپاتی نہیں کھائی حتی کہ آپ فوت ہوگئے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٤٥٠)

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی آل نے جس دن بھی دو قسم کے طعام کھائے تو ان میں ایک قسم کھجور تھی ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٤٥٥)

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا بستر ایک چمڑا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٤٥٦)

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا بیان کرتی ہیں کہ ہم پر ایسا مہینہ آتا تھا کہ پورے مہینہ آگ نہیں جلتی تھی ‘ ہم صرف کھجور کھاتے تھے اور پانی پیتے تھے الا یہ کہ کبھی گوشت آجاتا ۔

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے دعا کی اے اللہ ! آل محمد کو اتنا رزق دے جس سے رشتہ حیات برقرار رہ سکے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٦٤٦٠)،(صحیح البخاری ج ٧ ص ٢٣٢۔ ٢١٨‘ ملتقطا “ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ،چشتی)

امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ مدینہ آئے آپ کی آل نے تین دن مسلسل گندم نہیں کھایا حتی کہ آپ رفیق اعلی سے جا ملے ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٤٧٠)

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کبھی ایک دن میں دو مرتبہ روٹی اور زیتوں کا تیل پیٹ بھر کر نہیں کھایا ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٤٧٤)

حضرت عتبہ بن غزوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ ساتواں شخص تھا اور ہمارا طعام درخت کے پتوں کے سوا اور کوئی چیز نہیں تھی ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٤٦٧)

حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ایک بازار سے گزرے تو لوگوں نے آپ کو گھیر لیا ‘ آپ چھوٹے کانوں والے ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے آپ نے اس کا کان پکڑ کر فرمایا تم میں سے کون شخص اس کو ایک درہم کے بدلہ میں خریدنا پسند کرتا ہے لوگوں نے کہا ہم اس کو کسی چیز کے بدلہ میں خریدنا پسند نہیں کرتے ‘ ہم اس کا کیا کریں گے ! آپ نے فرمایا کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ یہ تم کو مل جائے ؟ لوگوں نے کہا بہ خدا اگر یہ زندہ ہوتا پھر بھی اس میں عیب تھا کیونکہ اس کے کان چھوٹے ہیں اور اب تو یہ مردہ ہے ! آپ نے فرمایا بہ خدا اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی کم تر ہے ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٥٧)

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا : میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں دو لوٹ آتی ہیں اور ایک رہ جاتی ہے ‘ اس کے ساتھ اس کے گھر والے ‘ اس کا مال اور اس کا عمل جاتا ہے اس کا اہل اور اس کا مال لوٹ آتے ہیں اور اس کا عمل رہ جاتا ہے ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٠، ٢٩،چشتی)

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مالی اور جسمانی حالت میں افضل دیکھے تو فورا اس شخص کو دیکھے جو اس سے کمتر ہو اور جس سے یہ افضل ہو۔ (رقم الحدیث : ٢٩٦٣) ۔ (صحیح مسلم ج ٤ ص ٢٢٨٣۔ ٢٢٧٣‘ ملتقطا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمای : ابن آدم ان تین چیزوں کے سوا اور کسی چیز میں حق میں نہیں ہے ‘ اس کے رہنے کے لیے گھر ہو ‘ اس کا ستر ڈھانپنے کے لیے لباس ہو ‘ روٹی کا ٹکڑا اور پانی ہو ۔ (جامع ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤١)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا اگر اللہ کے نزدیک دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ اس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ۔ (رقم الحدیث : ٢٣٢٠)

حضرت ابوبکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ! کون سا شخص سب سے اچھا ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے عمل اچھے ہوں ‘ اس نے کہا کون سا شخص سب سے برا ہے ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے عمل برے ہوں ۔ (جامع ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٣٠)

حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے بھوک کی شکایت کی اور ہم نے اپنا پیٹ کھول کر ایک ایک پتھر بندھا ہوا دکھایا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اپنے پیٹ سے (بندھے ہوئے) دو پتھر دکھائے ۔ (جامع ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٧١)

حضرت خولہ بنت قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے جس کو یہ مال حق کے ساتھ ملے اس کے لیے اس مال میں برکت دی جائے گی ‘ بسا اوقات لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مال سے ناحق لے لیتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ کے سوا کچھ نہیں ۔ (جامع ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٧٥)،(الجامع الصحیح ج ٤ ص ٥٨٢۔ ٥٦٠‘ ملتقطا مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی خلیفہ مجاز پاکپتن شریف خطیب لاہور پاکستان)