قرآن مجید کا اصلی ماخذ:

قرآن مجید کا اصلی ماخذ اور سرچشمہ اللہ تعالیٰ کاعلم اور اس کی وحی ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَلَقَدْ جِئْنٰہُمۡ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ہُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوۡنَ ﴿۵۲﴾‘‘ (اعراف: ۵۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک عظیم علم کی بنا پربڑی تفصیل سے بیان کیا، (وہ) ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

اور ارشاد فرمایا: ’’وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الْہَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾‘‘ (نجم: ۳،۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ اپنی خواہش سے نہیں کہتے۔وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں کی جاتی ہے ۔ 

اس لئے قرآنِ مجید کی وہ اصطلاحات جن کے معنی و مفہوم کو قرآن اور صاحب ِقرآن کی وضاحت کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے جیسے ایمان ،اسلام ، نفاق،شرک، کفر، روح ، نفس، بَعث، صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج، صوم،رِبا،صدقہ اور اِنفاق وغیرہ،

ان سب کا معنی نہ توعربی لغت سے متعین کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سمجھا جا سکتا ہے بلکہ ان کے معنی و مفہوم کے تعین کے لئے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی طرف رجوع کرنا بہر صورت لازمی ہے اور ان کا جو معنی و مفہوم آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بیان فرمایا ہے اسے بلا تَرَدُّد تسلیم کرنا ضروری ہے اور جو لوگ قرآنِ مجید کی ان اصلاحات کے معاملے میں صراطِ مستقیم سے بہک گئے ان کے بہکنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے وحیِ ربانی کی بجائے لغت ِعرب کوقرآنِ عظیم کا اصلی ماخذ قرار دیا اور لغت میں ان اصطلاحات کا جو معنی مذکور تھا وہی ان کے لئے متعین کر دیا۔