جاہل فسادی گستاخ پلمبر مرزا جہلمی کا امام ترمذی پر اعتراض و بہتان کہ وہ ناصبی فرقہ واریت پھیلانے والے تھے…..اسکا تحقیقی رد

اول اسلام کون لایا سیدنا علی یا سیدنا ابوبکر…..؟

.

مرزا جہلمی کہتا ہےکہ…خلاصہ:

امام ترمذی نے صحابی کے قول کو بعض محدثین کے قول کی وجہ سے رد کرکے فرقہ واریت بابائیت پھیلائی…. ناصبیت پھیلائی

.

جواب…و.تحقیق:

امام ترمذی نے جو کہا کہ بعض اہل علم کا قول ہے کہ ابوبکر پہلے ایمان لائے یہ محض محدثین کا قول نہیں بلکہ خود بعض صحابہ اور کئ تابعین اسلاف کا قول ہے……امام ترمذی نے محدثین نہیں کہا بلکہ اہل علم کہا اور اہل علم میں صحابہ تابعین بعد کے اسلاف سب شامل.

بعض صحابہ کرام کا فرمان ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق سب سے پہلے ایمان لائے چند حوالہ جات ملاحظہ کیجیے.

حوالہ1.2.3

صحابی سیدنا ابن عباس اور صحابی سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنھما کا قول سنیے:

شَيْخٌ لَنَا قَالَ: أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ , عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَوَّلَ إِسْلَامًا؟ فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتُ قَوْلَ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ: «

[البحر البسيط]

إِذَا تَذَكَّرْتَ شَجْوًا مِنْ أَخِي ثِقَةٍ … فَاذْكُرْ أَخَاكَ أَبَا بَكْرٍ بِمَا فَعَلَا

خَيْرَ الْبَرِيَّةِ أَتْقَاهَا وَأَعْدَلَهَا … إِلَّا النَّبِيَّ وَأَوْفَاهَا بِمَا حَمَلَا

وَالثَّانِيَ التَّالِيَ الْمَحْمُودَ مَشْهَدُهُ … وَأَوَّلَ النَّاسِ مِنْهُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا»

خلاصہ:

سیدنا ابن عباس سے پوچھا گیا سب سےپہلے اسلام کون لایا فرمایا کیا تم نےحسان بن ثابت کا قول نہی سنا…صحابی حضرت حسان بن ثابت نے سیدنا ابوبکر کی تعریف میں اشعار کہے جس میں کہا کہ ابوبکر سب سے پہلے ایمان لائے

(المصنف استاد بخاری روایت36584،

طبرانی کبیر روایت12562

مستدرک حاکم4414).

حوالہ نمبر4.5

صحابی سیدنا ابو سعید خدری اور خود صحابی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنھم کا قول ملاحظہ کیجیے

ذِكْرُ الْبَيَانِ بِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوَّلُمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ بِالْكَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ”١” بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: أَلَسْتُ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ أَلَسْتُ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ؟ أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا؟ أَلَسْتُ صَاحِبَ كذا

خلاصہ:

سیدنا ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ سب سے پہلے میں ایمان لایا

(صحیح ابن حبان روایت6863

اوائل لابن عاصم72)۔

حوالہ نمبر6

صحابیہ سیدتنا اسماء بنت ابی بکر کا قول دیکھیے

قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ. حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءِ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: أَسْلَمَ أَبِي أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ

ترجمہ:

اسماء بنت ابی بکر فرماتی ہیں کہ سب سے پہلے میرے والد ابوبکر صدیق ایمان لائے

(طبقات کبری3/128)۔

حوالہ نمبر7

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قَالَ نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ،

ترجمہ؛

امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں کہ امام شعبی نے سیدنا ابن عباس سے سوال کیا کہ سب سے پہلے اسلام کون لایا تو سیدنا ابن عباس نے فرمایا سیدنا ابوبکر صدیق

فضائل صحابہ103.

حوالہ نمبر8

صحابی سیدنا ابن عمر فرماتے ہیں

حَدَّثَنَا جَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَزَّازُ، ثنا النَّضْرُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سَيْفُ بْنُ عُمَرَ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَن ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَوَّل ُمَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ»

ترجمہ:

صحابی سیدنا ابن عمر فرماتے ہیں کے سب سے پہلے اسلام ابوبکر صدیق نے لایا

(اوائل لابن عاصم روایت73).

حوالہ نمبر9

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا النَّضِرُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «أَوَّلِ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه

ترجمہ:صحابی سیدنا ابن عمر فرماتے ہیں کے سب سے پہلے اسلام ابوبکر صدیق نے لایا

الاوائل طبرانی روایت55).

یہ تو فقط ہم نے صحابہ کرام سے چند روایتیں پیش کی ہیں باقی تابعین کرام اور دیگر اسلاف کے اقوال تو بہت ملتے ہیں

اس سے واضح ہوگیا کہ امام ترمذی نے سیدنا ابن عباس کے قول کے مقابلے میں صرف محدثین نہیں بلکہ دیگر صحابہ کے اقوال کو بھی پیش نظر رکھا ہے

لہذا ان پر ناصبیت بابائیت اور فرقہ واریت کا فتوی لگانا اور صحابی کے قول کو تابعی کے قول سے رد کرنے کا اعتراض کرنا دراصل مرزا جہلمی کی اسلاف سے نفرت اور بغض اور حسد ہے جہالت و بے باکی ہے۔۔۔مرزا جہلمی پر فرض ہے کہ وہ اپنی اس بہت بڑی غلطی یا بغض یا حسد طعن و تشنیع مذمت و گستاخی سے سرعام توبہ کرے اور آئندہ تحقیق تطبیق توفیق بین الاقوال پر عمل کرے،ظنیات میں اختلاف کرے تو باادب پر دلیل اور کسی کے قوی قول کا مقلد ہوکر اختلاف کرے تو حرج نہیں

اور حتمی رائے سے پہلے علمائے کرام سے مشاورت سوال جواب مباحثہ کرے امید ہے افھام تفھیم تقلید تحقیق تطبیق سے مسلہ حل ہوجائےگا

ورنہ

یہ مرزا جہلمی خود فسادی گستاخ اور تفرقہ انتشار پھیلانے والا کہلائے گا اور ایسے کو لگام لگانا رد و مذمت کرنا ، قید و بائیکاٹ کرنا لازم ہے…۔

اہم نوٹ:

ایسا نہیں کہ صرف سیدنا ابوبکر صدیق کے بارے میں یہ روایت ہو بلکہ سیدنا علی کے بارے میں بھی بعض صحابہ کا یہ قول ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے ایمان لایا…جب صحابہ کا قول آپس میں متضاد مختلف ہو تو اس کا حل اور جواب علماء کرام نے یہ دیا کہ بڑوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق نے اور بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی نے ایمان لایا۔۔رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

03468392475