حاجی عمران مد ظلہ العالی کے کلپ ‘زمین ساکن ہے’ کو لیکر سوشل میڈیا پر اہل علم طبقے کا استہزاء کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ موقف آیات قرآنیہ سے ثابت ہے اور خود سائنسدان اس مسئلہ میں اختلاف رکھتے ہیں ۔۔۔۔ ذیل میں دیے گئے ایک کلپ کی ویب سائٹ میں آپ 200 دلائل کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں جو کہ انگریزوں کی بنائی ہوئی ہے اور اسی طرح ڈاکٹر رابرٹ کی پریزینٹیشن کا بھی لنک موجود ہے جس میں انہوں نے زمین کی حرکت والے فلسفہ کو غلط ثابت کیا۔


🌼زمین ساکن ہے 🌼

ہماری تمام نصابی سائنس کی کتب میں لکھا ہے کہ تمام سیارے سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اور یقینا آپ لوگوں میں سے بھی اکثر دوست مانتے ہوں گے۔ کہ ہماری زمین سورج کے گرد بڑی تیزی سے گھوم رہی ہے۔ اگر آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں تو آپ کو صرف ایک دفعہ میری یہ تحقیقی پوسٹ ضرور پڑنی چاہیئے ۔ آپ کو اس سے اختلاف کا حق ہے ۔کیونکہ ابھی تک سائنس دانوں کی اکثریت اسی بات پر قائم ہے۔لیکن اس نظریے کے مخالفین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہوچکی ہے ۔ جن میں سائنس دان ڈاکٹرز اور سائنس کے طلبہ بھی شامل ہیں جن کا ماننا ہے کہ یہ گلیلیو کی ایک غلط تھیوری تھی۔ جس کو بغیر کسی تجربے کے قبول کیا گیا۔ اور بائبل پرپختہ یقین رکھنے والے تو اس نظریے کے بہت شدت سے مخالف ہیں۔ کیونکہ بائیبل میں کئی جگہوں پر زمین کے ساکن ہونے کا ذکر خدا نے کیا ہے۔ جیسا کہ میں قرآن پاک کی چند آیات آپ کے سامنے پیش کروں گا۔

اس سلسلے میں آئن سٹائن کا جملہ بھی موجود ہے۔ جس میں اس نے کہا تھا۔

No experiment has ever shown that the earth is moving

پہلے ایک نظر سائنسی نظریے پر ہوجائے۔

اکثر سائنس دانوں کے مطابق سورج ساکن ہے۔ اور تمام سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔ جب کہ اب ایک نئی تھیوری کے مطابق سورج بھی حرکت کررہا ہے۔ اور تمام سیارے بشمول ہماری زمین بھی اس سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ یہ نظریہ سب سے پہلے گلیلیو گلیلی نے 1615ء میں پیش کیا۔جس پر اس وقت کے بہت سے لوگوں نے اعتراض بھی کیاتھا۔ کیونکہ یہ نظریہ بائیبل کے سراسر خلاف تھا۔ اور اس نظریے کے گھڑنے کی وجہ سے چرچ نے اس سائنس دان کو بہت سخت سزائیں بھی تھیں۔ لیکن بعد میں اسی نظریے کو سائنس دانوں نے قبول کرلیا ۔جو آج تک قائم ہے۔یعنی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ زمین کی حرکت کا نظریہ 1615ء سے پہلے کسی نے بھی باقاعدہ طور پر پیش نہیں کیاتھا۔

ایک نظر سائنسی نظریے پر

سائنس دانوں کے نظریے کے مطابق زمین دوطرح سے گھوم رہی ہے۔اپنےگرد اور سورج کےگرد ۔اپنے گرد465.1 میڑ فی سکینڈ (یا 1674.4 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے گھوم رہی ہے ۔ اور سورج کے گرد 29.8 کلو میڑ فی سکینڈ (یا 107300کلومیٹر فی گھنٹہ) کی انتہائی تیز سپیڈ سے گھوم رہی ہے۔ جو کہ آج تک کسی بھی عقلی دلیل سے ثابت نہیں کی جاسکی۔بہت سے ناقدین اس نظریہ پر اعترضات کرتے آئے ہیں۔ جیسے بعض ناقدین کہتے ہیں کہ اگر زمین واقعی 30 کلومیٹر فی سکینڈ کی انتہائی تیزرفتاری سے گھوم رہی ہے تو پرندےہوا میں اڑنے کے بعد اپنی جگہ پر کیسے واپس آسکتے ہیں۔جہاز کبھی بھی ائیر پورٹ پر لینڈ نہ کر سکیں گے۔کیونکہ جتنی رفتار زمین کی سائنس دان بتاتے ہیں (یعنی 1 لاکھ 7 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ) اتنی رفتار تو کسی جیٹ طیارے کی بھی نہیں ہے۔

زمین کی حرکت کے متعلق سائنس دانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ جیسے قدیم زمانے کے لوگ آسمان کی حرکت کے قائل تھے کہ آسمان حرکت کررہا ہے اور جدید سائنس کے لوگ زمین کی حرکت کے قائل ہیں۔

آئیے میرے اس نظریے پر میرے دلائل پڑھیں۔

دلیل نمبر1۔ بحثیت مسلمان ہمارے لئے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن پاک کی ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے جس میں لکھا ہو کہ زمین حرکت کررہی ہے۔ بلکہ زمین کواکثر جگہ آسمان کے ساتھ ہی ذکر کیا گیا ہے۔(والسموات والارض)۔ تو ان دونوں میں بڑی مماثلت ہی یہ ہے کہ زمین اور آسمان دونوں ساکن ہیں۔ قرآن مجید میں سورج چاند ستاروں کی حرکت کا ذکر آیا ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں تیر رہا ہے۔ لیکن پورےقرآن میں ایک بھی جگہ نہیں فرمایا گیا کہ زمین بھی تیر رہی ہے۔ بلکہ زمین کے متعلق ہمیشہ یہ ہی آیا ہے کہ ہمیں نے اس میں میخیں گھاڑی کہ ہلے نہ ہم نے اس میں لنگر ڈالے کہ حرکت نہ کرے۔ اور اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو حرکت نہ کریں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ سب سے بڑی دلیل ہے۔

دلیل نمبر 2۔ قرآن کریم کی آیت مبارکہ ہے کہ اِنَّ اللہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنۡ تَزُوۡلَا

ترجمہ:۔”بے شک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ وہ حرکت نہ کریں۔( سورہ فاطر آیت نمبر 41)

ہوسکتا ہے آپ کہیں کہ میں نے ترجمہ غلط کیا ہے یا کہیں اس آیت کا مفہوم میں غلط بیان کررہا ہوں۔کہ یہاں زلزلے کی بات ہورہی ہے۔ تو اس آیت کی تفسیر سے آپ کو واضح ہوجائے گا کہ اس سے مراد زمین کی حرکت ہی ہے۔ذہن میں رہےکہ یہ تفسیر میں نے خود ساختہ نہیں بنائی بلکہ اس کاذکر کم ازکم تین تفاسیر میں آیا ہے۔

قرآن کی بہترین تفسیر وہ ہے ۔جس میں صحابہ کا نظریہ پیش ہو جائے۔اور صحابہ بھی وہ جن کا احادیث میں بڑا مقام بیان ہوا ہو۔ ایسے صحابہ کی تفسیر اصل میں حدیث مرفوع کہلاتی ہے۔اور یہ تفسیر بھی ایسے صحابہ سے منقول ہے جن کامقام تو خود رسول کریم ﷺ کی زبان مبارک سے ثابت ہے۔یعنی سیدنا حذیفہ بن الیمان اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہم۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن چار افراد سے پڑھو۔اور سب سے پہلا نام حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا لیا۔ اسی طرح فرمان مصطفٰی ﷺ ہے کہ میں اپنی امت میں وہ پسند کرتا ہوں ۔جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ پسند کریں ۔ اور وہ ناپسند کرتا ہوں۔جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ناپسند کریں۔

جامع البیا ن (التفسیر الطبری) اور تفسیر الدرمنثور میں ہے کہ جب صحابہ کرام کے سامنے یہ مسئلہ بیان ہوا کہ آسمان گھومتا ہے ۔ جس کو بیان کرنے والے مشہور تابعی حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ ہیں جو سابقہ کتب کے بہت بڑے عالم تھے اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایمان لائے۔آسمان گھومنے کا نظریہ اس وقت کے یہودیوں کا تھا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے آسمان گھومنے کا نظریہ یہودیوں سے سن رکھا ہوگا۔ لیکن ان کو معلوم نہ تھا کہ یہ نظریہ قرآن کے خلاف ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہہ دیا کہ آسمان حرکت کررہا ہے۔ لیکن جب یہ حضرت کعب کی بات دو جلیل القدر صحابی حضرات عبداللہ ابن مسعود اور حزیفہ بن یمان رضوان اللہ علیہم تک پہنچی تو دونوں حضرات نے بالاتفاق قرآن کی آیت پڑھ دی اور فرمایا۔” کذب کعب ۔ ان اﷲ یمسک المسٰوٰت و الارض ان تزولا ۔

ترجمہ:۔کعب نے غلط کہا اﷲ تعالٰی فرماتا ہے بے شک اﷲ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکیں نہیں۔

( ۲ ؎۔جامع البیان (التفسیر الطبری) تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱ ، داراحیاء الثراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۰ )

(الدرالمنثور تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱ ، داراحیاء الثراث العربی بیروت ۷/ ۳۲ )

اب اس تفسیر اور حدیث پر غور کریں۔ مسلہ آسمان کی گردش کا تھا۔مگر صحابہ کرام نے وہ آیت پیش کی جس میں آسمانوں او ر زمین کی گردش دونوں کو رد کیا جارہا ہے۔ اس سے پتہ چلا اس وقت آسمان کی حرکت کے کچھ لوگ ضرور قائل تھے۔ لیکن زمین کی حرکت کا کوئی بھی قائل نہیں تھا۔یہ نظریہ بعد کے لوگوں نے گھڑا ہے۔ تو اب اس تفسیر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس آیت کا درست مفہوم یہ ہی ہے کہ زمین حرکت نہیں کررہی۔

دلیل نمبر 3۔ سورج کو ساکن مرکز مان کر زمین کو اس کے گرد گھومتا ہوا ماننا قرآنی آیات کے انکار کے مترادف ہے۔ بلکہ سورج کی حرکت کے متعلق تو قرآن میں کافی جگہ ارشاد باری تعالی موجود ہے۔

قرآن پاک کی سورہ یسین کی آیت نمبر 38-39-40میں اللہ تعالی نے سورج اور چاند کی گردش کا تذکرہ کیا ہے جبکہ کچھ سائنس دانوں کے مطابق سورج ساکن ہے اور تمام سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔

اورسورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لئے یہ حکم ہے زبردست علم والے کا ۔(38)

اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسی کھجور کی پرانی ڈال (39)

سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑلے اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے اور ہر ایک ایک گھیرے میں پیر رہا ہے(40)

ذہن میں رہے ذخیرہ حدیث اور قرآن پاک کی ایک بھی آیت ایسی نہیں جس میں زمین کو متحرک کہا گیا ہو۔ اللہ تعالی نے سورج چاند ستاروں کی حرکت کا کئی جگہ ذکر کیا ہے۔ لیکن زمین اور آسمان کی حرکت کا کسی جگہ بھی ذکر نہیں ۔ بلکہ زمین اور آسمان کے بارے میں کہا کہ اللہ ان کو روکے ہوئے ہے کہ حرکت نہ کریں۔

دلیل نمبر 4 ۔

حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ”جب اللہ عزوجل نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ کانپنے لگی اور الٹ پلٹ ہونے لگی تو اللہ عزوجل نے پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دیں تو وہ ساکن ہوگئی ۔یہ دیکھ کر ملائکہ کو پہاڑوں کی طاقت پر تعجب ہوا اورانہوں نے عرض کیا،” اے رب عزوجل! کیا تو نے پہاڑوں سے زیادہ طاقتور کوئی چیز پیدا فرمائی ہے؟ ”اللہ عزوجل نے فرمایا،” ہاں! وہ لوہا ہے۔” پھر فرشتوں نے عرض کیا ،”کیالوہے سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے ؟”فرمایا،” ہاں! وہ آگ ہے۔” پھر ملائکہ نے عرض کیا ،”آگ سے بھی طاقتور چیز پیدا فرمائی ہے؟” فرمایا۔” ہاں! وہ پانی ہے ۔”پھر ملائکہ نے عرض کیا،” کیاپانی سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے ؟” فرما یا،”ہا ں !وہ ہوا ہے۔”فرشتوں نے پھر عرض کیا ،”کیاہوا سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے؟” فرمایا، ”(ہاں)ابن آدم جب اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ دے اور بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔”

(ترمذی،کتاب التفسیر، باب۹۵ ،رقم ۳۳۸۰ ، ج ۵، ص ۲۴۲)

اب اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے پہاڑوں کو میخوں یعنی بڑے بڑے کیلوں سے تشبیہ دی ہے۔ کیل لگائے جاتے ہیں کہ کوئی چیز ٹھہر جائے۔ جیسے ہم دیوار پر کوئی تصویر لگانا چاہتے ہیں تو کیل ٹھوکتے ہیں تاکہ وہ چیز قرار پکڑ لے اور ساکن ہوجائے۔ تو یہ حدیث بھی زمین کے ساکن ہونے پر واضح دلیل ہے۔

دلیل نمبر 5- اللہ تعالی سورہ نحل آیت 15 میں ارشاد فرماتا ہے۔

اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے (بھاری پہاڑوں کے) کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پاؤ ۔

اس آیت میں اللہ تعالی پہاڑوں کو لنگر سے تشبیہ دے رہا ہے۔ اب دیکھیں بحری جہازوں کو جب بالکل ساکن کرنا مقصود ہو۔ تو بحری جہازوں سے بڑے بڑے لوہے کے لنگر سمندر میں پھینکے جاتے ہیں تاکہ جہاز بالکل ساکن ہوجائے اور حرکت نہ کرے تاکہ جہازوں سے سامان وغیرہ باآسانی اتارا اور چڑھایا جاسکے۔ تو زمین پر لنگر ڈالنے کی حکمت بھی یہ ہی ہے کہ زمین بالکل حرکت نہ کرے۔ تو اس آیت مبارکہ سے بھی پتہ چلا کہ زمین حرکت نہیں کررہی ۔

اچھا اب آپ کے ذہن میں سوالات آ رہے ہوں گے۔ کہ اگر زمین حرکت نہیں کرتی تو رات اور دن ‘ سردی اور گرمی کیسے آتی ہے۔ جبکہ اس پر باقاعدہ ایک ماڈل پڑھایا جاتا ہے کہ زمین حرکت کرتی ہوئی اگر اس جگہ آجائے تو رات ہوتی ہے اس جگہ آجائے تو دن اور اسی طرح سردی گرمی کا وجود ہوتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ تو میں نے جتنا مختلف سائٹس اور یوٹیوب پر زمین کو ساکن ماننے والوں کے نظریات پڑھے ہیں ان کے مطابق صرف ماڈل کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جہاں پر آپ زمین کو گھوما رہے ہیں اسی جگہ سورج کو لے آئیں تو مسلہ حل ہوجائے گا۔جیسے

دن رات کا وجود

یہ سب سورج کی حرکت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب سورج ہمارے سامنے ہے تو دن اور جب ہمارے پیچھے چلا جائے تو رات ہوجاتی ہے۔ سورج پوری زمین کا 24 گھنٹوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ جس سے دن اور رات تبدیل ہوتے ہے۔ سورج کی سپیڈ ذرا ملحاظا ہو۔ امام غزالی اپنی مشہور کتاب کیمیائے سعادت میں نقل کرتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کیا زوال ہوگیا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا ۔۔ لا یعنی نہیں اور ساتھ ہی بول دیا نعم یعنی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ السلام حیران ہوئے کہ آپ نے پہلے لا کہا پھر فورا ہی نعم اس کی کیا وجہ تھی۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ جتنی دیر میں میں نے لا اور پھر نعم کہا اتنی دیر میں سورج نے (ہمارے اعتبار سے جتنا ایک گھوڑا ) پانچ سو سال کی مسافت طے کرتا ہے سورج نے اتنا فاصلہ طے کرلیا تھا۔اس حدیث سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سورج کی سپیڈ کتنی ہوگی ۔ اور یہ بالکل ممکن ہے کہ سورج 24 گھنٹے میں زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے۔

سال میں سردی گرمی کا وجود

اسی طرح سورج ایک سال میں زمین کے گرد 365 دائروں میں حرکت کرتاہے۔ جب سورج کا زمین سے فاصلہ زیادہ ہوجاتا ہے تو سردیاں آجاتی ہیں۔ جیسے ہمارےہاں نومبر سے فروری تک۔ اور جب یہ فاصلہ یہ گھیرا تنگ ہوجاتا ہے تو سورج کے قریب ہونے کی وجہ سے گرمیاں ہوتی ہیں۔

کچھ حصوں میں سردی اور کچھ حصوں میں گرمی کا وجود

اسی طرح ایک ہی مہینے میں زمین کے کچھ حصوں میں گرمیاں اور کچھ حصوں میں سردیاں ہوتی ہیں۔ جیسا دسمبر میں پاکستان میں شدید سردی لیکن براعظم آسڑیلیا میں گرمیاں ہوتی ہیں۔ اس کی بھی وجہ سورج کی حرکت ہی ہے۔ کہ سورج کا گھیرا (سرکل) ایشیاء میں زیادہ دوری پر ہونے کی وجہ سے سردی ہوتی ہے اور آسٹریلیا میں کم ہونے کی وجہ سے گرمی ہوتی ہے۔

قطب میں چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات کا وجود

سورج حرکت کرتا ہوا 365 دائروں میں صرف ایک ہی لیول پر حرکت نہیں کرتا بلکہ 365 دائرے اوپر نیچے بھی ہوتے ہیں۔ جن کی وجہ سے زمین کے قطب (یعنی زمین کی چھت سمجھ لیں) میں جزوی چھ ماہ رات اور چھ ماہ دن رہتے ہیں۔

مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ لوگوں کے ذہن میں اور بھی بہت سے سوالات جنم لے رہیں ہوں گے۔ جن کے جوابات انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ لیکن آپ کو اختلاف رائے کا حق ہے ۔ اور میں آپ پر اپنی مرضی مسلط نہیں کررہا ۔ آپ چاہے اس کو قبول کریں چاہے نہ کریں۔ یہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔

اگر آپ نیٹ پر سرچ کریں تو آپ کو اس نظریہ(یعنی زمین کی حرکت) کے مخالفین کی ایک تعداد نظر آئے گی۔جن میں فزکس کے مضامین کے ڈاکٹرز کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ جو اس نظریے کو باطل قرار دیتے اور اس سائنسی تھیوری پر اعتراض کرتے نظر آئیں گے۔بلکہ اس تھیوری کے رد میں سائنس دانوں نے پوری پوری ویب سائٹس بنا رکھی ہیں۔ ان شاء اللہ آپ کچھ عرصہ بعد دیکھیں گے کہ قرآن کی حقانیت کو سب تسلیم کریں گے ۔ اورزمین کی حرکت کے نظریہ کو بھی تمام سائنس دان رد کردیں گے ۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ سائنسی تھیوریز تبدیل ہوتی رہتی ہیں ۔ اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ کہ ایک سائنس دان ایک نظریہ پیش کرتا ہے ۔ جس کو سچ مان لیا جاتا ہے ۔ بعد میں کچھ اور سائنس دان تحقیق سے اس تھیوری کو رد کردیتےہیں۔

جیسے سورج کے ساکن ہونے کا نظریہ۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ سورج ساکن ہے اور زمین سمیت تمام سیاروں کا مرکز ہے ۔ یعنی ہر چیز سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے جب میں نوے کی دہائی میں آٹھویں میں پڑھتا تھا تو اس وقت یونیورسل ٹرتھ( یعنی ایسی یونیورسل سچائیاں جن کو جھٹلایا نہ جاسکے) اس کے جملے انگریزی میں پڑھائے جاتے تھے

جیسے

Sun set in the west. Sun rises in the east. God is one. etc

سورج مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ سورج مشرق سے نکلتا ہے۔ اللہ ایک ہے وغیرہ وغیرہ

اس میں ایک یہ بھی تھا ۔

Sun is stationary and earth is revolving around the sun

یعنی سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے

لیکن بعد میں سائنس دانوں نے سورج کے ساکن ہونے کو رد کردیا۔ اور آج ماڈرن تھیوری کے مطابق سورج بھی اپنے دائرے میں حرکت کررہا ہے۔ اسی طرح انسان پہلے بندر تھا پھر انسان بن گیا۔ پہلے انسان کپڑے نہیں پہنتا تھا۔ انسان کو کچھ شعور نہ تھا وغیرہ وغیرہ۔حالانکہ دین ہمیں بتاتا ہے کہ سب سے پہلے انسان انتہائی عقل منداور اللہ کے نبی تھے یعنی حضرت آدم علیہ السلام۔

اسی طرح چاند پر قدم کا ڈرامہ ہے آج دنیا کی اکثریت اس کو جان چکی ہے کہ یہ ایک منصوبے کے تحت بنایا گیا ڈرامہ تھا

جس پر مفصل پوسٹ بھی کرچکا ہوں۔ اور اس ڈرامے کو بنانے کی وجوہات بھی بتا چکا ہوں۔

اسی طرح مثال کے طور پر مندرجہ ذیل مشہور تھیوریز کو آپ ذرا انٹرنیٹ پر سرچ کریں۔ جن کو کئی سالوں تک حقیقت سمجھا جاتارہا لیکن آج کی سائنس نے تحقیق سے ان کو رد کر دیا ہے۔جیسے

Einstein’s Static Universe

Fleischmann and Pons’s Cold Fusion

Phrenology

Luminiferous Aether

The Martian Canals

Phlogiston Theory

The Expanding Earth

Spontaneous Generation

The Discovery of Vulcan

پوسٹ کی طوالت کی وجہ سے میں ان کی تفصیل میں نہیں جارہا۔ آپ خود سرچ کرسکتے ہیں کہ یہ تھیوریز کیا تھیں اور کتنا عرصہ لوگ ان کو سچ مانتے رہے۔ اور بعد میں ان کو رد کردیا گیا۔اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔

اس لئے آپ ان شاء اللہ کچھ سالوں میں ہی دیکھیں گے کہ زمین کی حرکت کی تھیوری بھی باطل ہوجائے گی۔ کیونکہ اس میدان میں بہت سے سائنس دان آچکے ہیں ۔ جو اس نظریے کی مخالفت کررہے ہیں۔ اس موضوع پر بہت سے سائنس دانوں اور ڈاکٹرز حضرات نے باقاعدہ ویب سائٹس بنا رکھی ہیں جن میں انہوں نے زمین کی حرکت کا سائنسی طریقے سے رد کیا ہے۔یو ٹیوب پر بھی بے شمار وڈیوز کے پروف موجود ہیں۔ جیسے

 

Earth does not spin

Nasa Deception: Earth does not revolve

Nasa Lies: Earth is not moving

Galileo Was Wrong

وغیرہ وغیرہ

اور ایک ویب سائٹ نےتو 200 پروف دے دئیے ہیں۔ کہ زمین حرکت نہیں کررہی۔ آپ کو اس سائٹ کو بھیایک دفعہ وزٹ کرنا چاہیئے۔

https://www.amazon.com/-/es/Eric-Dubay/dp/1727646460

 

اسی طرح ایک فزکس کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر رابرٹ کی یہ پرزنٹشن بھی دیکھنی چاہئے۔ جس میں انہوں نے ماڈل بنا کر دیکھایا ہے کہ زمین حرکت نہیں کررہی۔ اوراپنے موضوع کو ثابت کرنے کے لئے بے شمار دلائل انہوں نے دئیے ہیں۔ انہوں نے شروعات بائیبل کی آیات سے کرکے پھر سائنٹفیک طریقے سے زمین کی حرکت کو رد کیا ہے۔ اس میں آئن سٹائن کا وہ قول بھی کوٹ کیا ہے۔ اسی طرح اس نظریے کا خالق گلیلیو کی پشمانی (توبہ) کا بھی ذکر کیا ہے۔ جب گلیلیو نے اپنے مرنے سے پہلے اپنی ہی تھیوری پر شرمندگی کا اظہار کیا تھا۔اس وڈیو کا لنک یہ ہے۔

 

بہرحال آپ کو اختلاف رائے کا حق ہے یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ قرآن کی دلیل کو مناتے ہیں یہ ان مفروضی سائنسی نظریات کو جن میں تبدیلی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ہمارے اکثر علماء کا بھی یہ ہی نظریہ ہے۔ کہ زمین حرکت نہیں کررہی۔ چند ماہ پہلے ایک سعودی عرب کے ایک مفتی نے بھی کہا تھا کہ زمین حرکت نہیں کررہی۔اس نے بھی قرآن و حدیث سے دلیل دی تھی۔ اس سلسلے میں ایک مفصل کتاب “فوزالمبین دَر ردِحرکتِ زمین”از امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بھی موجود ہے۔ میں نے قرآنی آیات کے حوالےاسی کتاب سے لئے ہیں۔

از ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عدنان یونس