🏞 *زمین کے ساکن ہونے یا گردش کرنے کے متعلق قرآن و احادیث میں کیا وارد ہے ؟*

ا======================|

 سوال:

کیا فرماتے علمائے کرام و فقہائے عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں ۔

زید کہتا ہے کہ زمین ساکن ہے ، اور دلیل میں یہ کہتا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے اپنے فتاویٰ میں قرآن و حدیث اور اقوالِ آئمہ سے اسے ثابت کیا ہے ، لہذا جو مسلمان یہ عقیدہ رکھے کے زمین ساکن نہیں بلکہ اپنے محور پر گردش کرتی ہے ، وہ قرآن شریف کا انکار کرتا ہے ایسا شخص شرعاً کافر و مرتد و اسلام سے خارج ہے ۔

جبکہ کے بکر کہتا ہے کہ زمین کے ساکن ہونے اور گردش کرنے کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے ، بہت سے علماء اس طرف گئے ہیں کہ زمین ساکن ہے اور بہتوں کا ماننا گردش کرنے کے بارے میں ہے ، اور دلیل میں کئی ایک علماء کرام کا نام پیش کرتا ہے ، نیز بکر کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایمان و عقیدے یا ضروریات دین کا مسئلہ نہیں ہے کہ آدمی اس (زمین کے ساکن ہونے) کا انکار کردے تو کافر و مرتد ہوجائے ، محض اختلافی مسئلہ ہے ، جو جس عالم کی رائے سے متفق ہوجائے اُس کے لئے وہی ٹھیک ہے ۔

*اب دریافت طلب امور یہ ہیں 

۱) زمین کے ساکن ہونے یا گردش کرنے کے متعلق قرآن و احادیث میں کیا وارد ہے ؟

۲) کیا واقعی اس مسئلے میں علمائے اہلسنّت کے نظریات و تحقیق مختلف فیہ ہیں ؟

۳) اس مسئلے کا تعلق ایمان و عقیدے اور ضروریاتِ دین سے ہے یا نہیں ؟

۴) جو مسلمان زمین کے ساکن ہونے کا منکر ہو وہ شرعاً کافر و مرتد ہے یا فقط گمراہ بدمذہب ہے یا اس پر کوئی حکم شرع نہیں ؟

۵) عندالشرع زید و بکر دونوں پر کیا حکم نافد ہوتا ہے ؟

بینواتوجروا

ا======================|

✍🏼 جواب:

🗳 اس مسئلہ کی حقیقی تصویر وہی ہے جو

؛ فوز مبین در رد حرکت زمین؛

اور

؛ نزول آیات قراٰن در سکوں زمین و آسمان؛

جیسی مبارک کتابوں سے ظاہر ہے

🗳 لیکن اس کے خلاف اگر کسی کی رائے ہو تو اس کی تکفیر نہیں کی جائیگی

🗳 اس لئے کہ اس سے ان آیات مبارکہ کا انکار نہیں بلکہ غیر مرضی تآویل کی پیروی ہے

🗳 اور اس کا قائل در اصل سکون زمیں و آسمان کے بارے میں نصوص مقدسہ کی نا مناسب

تاویلات سے متاثر ہے

مطلقا زمین کے سکون اور قرار کا انکار کفر ہے

کہ اس پر آیات قراٰنیہ موجود ہیں

🗳 لیکن کچھ لوگ اگر زمین کو اپنے محور یا مدار پر گردش کو بھی سکون سے تعبیر کرے اور اسی کو عدم زوال کہے

تو گرچہ یہ رائے جمہور مفسرین کے موافق نہیں

پھر بھی ان کی تکفیر کا ابھی حکم نہیں ہوگا

کہ انھوں نے مفسرین کرام کی مخالفت کی ہے

نہ کہ قراٰن کریم کی ؟

🗳 محور اور مدار میں حرکت زمین کا فرسودہ نظریہ اصل میں سائنس کی پیدہ وار اور اختراع ہے

اس نظریہ کا موجد نیوٹن کا علم کشش ہے

اسی سے آج کچھ علماء بھی متاثر نظر آرہے ہیں

🔷 *_اب نفس جواب پر آئیں_*

1⃣ نصوص قراٰن و احادیث زمین کے سکون پر دال ہیں

2⃣ ہمارے کچھ علماء اگر نیوٹن کے ہذیانات کے قائل ہیں تو انھوں نے محور و مدار سے زوال کو ہی حرکت مانا ہے

3⃣ قراٰن کریم کی ہرایک آیت کی تصدیق ضروریات دین سے ہے لیکن مختلف فیہ تاویلات اس میں داخل نہیں!

4⃣ مطلقا سکون و قرار بمعنی عدم حرکت و عدم زوال کا انکار یقینا کفر ہے

کہ نطق قراٰن کریم کا انکار ہے

لیکن موہوم تآویل کے اقرار سے بھی انکار قران لازم نہیں

لہذا ایسی جگہ تفسیق یا تضلیل سے آگے احتیاط مناسب ہے

5⃣ زید اور بکر دونوں تائب ہوں

کہ دونوں اپنے الفاظ میں غیر محتاط نظر آئے

کہ زید نے محور میں گردش کے قول پر بھی تکفیر کی جبکہ اس کے بارے میں سکون کے ایک معئ موہوم سے شاید زید کو بھی انکار نہو؟

🗳 اور بکر نے اس مسئلہ کو مطلقا عقیدہ سے خارج قرار دیا جبکہ اس پر قراٰن ناطق ہے

📋 *ہاں اس کے مختلف فیہ معنی میں علمائے جمہور کے خلاف معنی پر تضلیل کا حکم ہوگا تکفیر کا نہیں*

واللہ تعالی اعلم بالصواب

ا======================|

🖍از قلم:

خلیفہ تاج شریعت،

*رئیس الفقہاء حضرت علامہ مفتی رفیق الاسلام صاحب قبلہ*

(مدظلہ النوراني)

📠 المشتہر:

اسلامی سوالات و جوابات گروپ

مولانا نظر الاسلام رضوی مصباحی

(مدظلہ العالي)