حدیث نمبر 367

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم نماز کو آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرلو اور اسے کچھ شمار نہ کرو ۱؎ اور جس نے رکوع پالیا اس نے رکعت پالی ۲؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی سجدہ ملنے سے رکعت نہ ملے گی ہاں ثواب مل جائے گا،شیئًا سے یہی مراد ہے۔

۲؎ اس حدیث کے دو مطلب ہیں:ایک یہ کہ رکعت سے مراد رکوع ہے اور صلوۃ سے مراد رکعت یعنی رکوع مل جانے سے رکعت مل جاتی ہے۔معلوم ہوا کہ مقتدی پر سورہ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں ورنہ فرض رہ جانے پر رکعت نہ ملتی،۔دوسرے یہ کہ رکعت سے مراد رکعت ہے اور صلوۃ سے مراد نماز یعنی جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پالی اسے جماعت مل گئی۔اس لیئے امام محمد نے فرمایا کہ جمعہ اسے ملے گا جسے امام کے ساتھ ایک رکعت مل جائے کیونکہ اس سے کم ملنے پر جماعت نہیں ملتی اور جماعت جمعہ میں شرط ہے مگر شیخین فرماتے ہیں کہ جو سلام سے پہلے جماعت میں داخل ہوگیا اس کو جمعہ مل گیا حتی کہ اگر امام کے سجدہ سہو میں مل گیا تب بھی جمعہ مل جائے گا،تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔

واقعہ عجیبہ: اس جگہ ملا علی قاری نے حدیث کے ضعف اور قوت پر بحث کرتے ہوئے مرقاۃ میں فرمایا کہ شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ مجھے حدیث پہنچی تھی کہ جو ستر ہزار بار کلمہ شریف پڑھ لے یا پڑھ کر کسی کو بخش دیا جائے تو اس کی مغفرت ہوتی ہے میں نے اتنا کلمہ پڑھ لیا تھا،ایک دن میرے ہاں دعوت میں ایک صاحب کشف جوان حاضر تھا اچانک رونے لگا،سبب پوچھا بولا کہ میں اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں،میں نے اپنے دل میں پڑھا ہوا وہ کلمہ اس کی ماں کو بخش دیا وہ جوان اچانک ہنس پڑا اور بولا کہ اب میں اسے جنت میں دیکھتا ہوں،میں نے اس حدیث کی صحت اس ولی کے کشف سے معلوم کی اور اس کے کشف کی صحت حدیث سے۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اولیاء کے سامنے جنت دوزخ وہاں رہنے والے سب ہیں۔اور مروجہ تیجہ جس میں چنوں پر سوا لاکھ کلمہ طیبہ پڑھوا کر بخشا جاتا ہے درست ہے۔یہ واقعہ مولوی محمد قاسم نے بھی تحذیر الناس میں حضرت جنید بغدادی کی طرف منسوب کیا ہے۔