حضورصدرالشریعہ اور ان کی شہرہ آفاق تصنیف

بہار شریعت

✍🏻 انصار احمد مصباحی،

9860664476 aarmisbahi@gmail.com

حضور صدر شریعت، بدر طریقت، مصنف بہار شریعت، حضرت مولانا مفتی امجد علی اعظمی (علیہ الرّحمہ) دبستانِ فکر ماتریدی کے خوشہ چیں اور گلستانِ فقہ حنفی کے سدا بہار فقیہ ہیں، جو شیراز ہند کا مردم خیز خطہ، گھوسی کی خوش گوار اور پاکیزہ پیدا وار ہیں۔ یہ وہی گھوسی ہے، جس کے بارے جناب ڈاکٹر شکیلؔ اعظمی نے کبھی کہا تھا۔ ؎

ہے گھوسی سر زمینِ ہند کا وہ محترم خِطّہ

نہ جانے کتنے گوہر ہیں، نہاں جس کے دفینے میں

پیدایشاورابتدائی تعلیم:

صدر الشریعہ، حضرت مفتی امجد علی اعظمی صاحب مدینة العلماء ”گھوسی“ میں 1300ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا مولانا خدا بخش (علیہ الرحمہ) صاحبِ کرامت بزرگ تھے، انھیں شیخ الدلائل سے ”دلائل الخیرات شریف“ کی اجازت تھی۔ والد ماجد مولانا حکیم جمال الدین مرحوم عالم دین اور ماہر طبیب تھے۔

آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ اس دوران کچھ دقتیں بھی پیش آئیں، جنھیں آپ نے صبر و تحمل سے جھیلا۔ عمر کے ساتھ ساتھ اشتیاقِ علم بھی پروان چڑھتا رہا۔ اُن دنوں پورے بھارت میں علامہ فضل حق خیر آبادی (علیہ الرحمہ) کے سب سے چہیتے شاگرد، مولانا ہدایت اللہ خان جون پوری علیہ الرحمہ کا شہرہ تھا۔ چودہ سال کی عمر میں، بے سر و سامانی میں جون پور کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ تلاشِ علم کا ذوق دیکھیے! گھوسی سے اعظم گڑھ تک 40/ کلومیٹر کا سفر پیدل ہی طے کرلیا، وہاں سے جون پور اونٹ گاڑی پر گئے۔ حافظہ قوی تھا، محنت گھٹّی میں پڑی تھی، دل میں خلوص بدرجہ اتم موجود تھا، بہت جلد حضرت مولانا ہدایت اللہ خان جون پوری کے خاص شاگردوں میں شامل ہوگئے، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ”خاص“ سے ”اخص“ بھی ہو گئے۔ قوتِ حافظہ کے بارے میں خود ہی فرماتے ہیں:

”ایک مرتبہ کتاب میں مضمون دیکھ لیا یا استاد سے تقریر سن لی، تو برسوں تک ایسا محفوظ رہتا تھا کہ جیسے ابھی دیکھا ہو، تین مرتبہ کسی عبارت کو پڑھ لیا تو وہ یاد ہو جاتی“۔ (١) وہاں، جون پور میں آپ کا یہ معمول ہوگیا کہ خود بھی پڑھتے اور نیچے درجے کے طلبہ کو درس بھی دیتے۔ اس کے لئے ”سبق پڑھنے کے بعد دن کا سارا وقت اور رات کا بھی کچھ حصہ پڑھانے میں صرف کرتے تھے“۔ (٢) معقولات کی تکمیل کے بعد، استاد کے اشارے پر، منقولات کے لیے مدرسة الحدیث، پیلی بھیت حاضر ہوئے۔ یہاں حضرت علامہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کا، علم حدیث میں طوطی بولتا تھا۔ پیلی بھیت چودہ ماہ رہ کر علم حدیث کا معتد بہ حصہ حاصل کر لیا۔ 1334ھ میں مدرسة الحدیث، پیلی بھیت سے سندِ فراغت حاصل کی اور شایانِ شان دستار بندی ہوئی۔ اس کی رپورٹ تحفہ حنفیہ، پٹنہ میں ان الفاظ میں شایع ہوئی: ”6، ذی الحجہ، 1334ھ کو طلبہ کا امتحان حضرت مولانا شاہ محمد سلامت اللہ رام پوری دام فیضہ (علیہ الرحمہ) نے لیا، مولوی امجد علی صاحب نے، بعد فراغت کتب درسیہ کے، نہایت جاں فشانی اور کمالِ مستعدی سے، سال بھر میں صحاح ستہ، مسند شریف، کتاب الآثار، موطا امام محمد، طحاوی شریف کا قرأتاً و سماعتاً درس حاصل کرکے اعلا درجے کا امتحان دیا، جس کے باعث ممتحن صاحب اور حاضرین نہایت شاداں، اور ان کی حسن لیاقت و فہم و ذکاوت سے بہت فرحاں ہوئے اور دستار فضیلت زیبِ سر کی گئی“۔(٣) آپ کے اساتذہ کی فہرست گو مختصر ہے؛ لیکن جو بھی ہیں، اپنی جگہ علوم و فنون کی یونیورسٹی ہیں۔ استاذ محدث سورتی علیہ الرحمہ نے آپ کے لئے کہیں فرمایا تھا:

”مجھے ساری عمر میں یہی ایک طالب علم ملا ہے“۔ (٤)

تدریس اور حاضری بریلی مقدسہ:

آپ کے شاگردوں کے چند منتخب نام ہی، تدریسی قابلیت کو بتانے کے لئے کافی ہیں۔ کسی نے بڑی حق بیانی سے کام لیا ہے اور خوب منظر کشی کی ہے۔ ؎

سلامی جا بجا ارض و سما دیں

مہ و خورشید، انجم پر بچھا دیں

تیرے خدام اے صدر شریعت

جدھر جائیں فرشتے پر بچھا دیں

صدر یار جنگ، جناب حبیب الرحمان خان شیروانی بر ملا کہتے ہیں: ”مولانا امجد علی صاحب پورے ملک میں ان چار پانچ مدرسین میں ایک ہیں، جنھیں میں منتخب جانتا ہوں“۔ (٥)

تدریس کی ابتدا رئیس پٹنہ حضرت قاضی عبدالوحید فردوسی علیہ الرحمہ کے ”مدرسہ اہل سننت“ سے ہوئی۔ یہیں پہلی بار مجدد اعظم، اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی، ملے تو حلقہ بگوش ہو کر رہ گئے۔ تدریس کا مشغلہ چھوڑ کر کچھ دن ”میراث پدر خواہی، علم پدر آموز“ پر عمل کرکے والد گرامی کی خواہش پوری کی، یعنی علم طب سیکھ کر مطب کھول لیے۔ قدرت نے انھیں کسی اور کام کے لئے چن لیا تھا۔ ایک بار پیلی بھیت سے واپسی میں بریلی بھی پہنچے، استاد کا خط دکھایا، پڑھ کر امام اہل سنت فاضل بریلوی نے فرمایا:

”طبابت اچھا کام ہے؛ لیکن اس میں صبح سویرے قارورہ (پیشاب) دیکھنا پڑتا ہے“۔

بس! تب سے پیشاب سے گھن ہونے لگی، بہت جلد مطب بند کرکے خدمت دین متین میں لگ گئے۔

بریلی شریف میں علم فقہ، افتا اور قضا پر آپ کو عبور حاصل ہوگیا تھا؛ یہاں تک کہ خود اعلی حضرت نے مجمع سے فرمایا: ”آپ یہاں موجودین میں تفقہ جس کا نام ہے، وہ مولوی امجد علی میں زیادہ پائیے گا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ استفتا سنایا کرتے ہیں……طبیعت اخاذ ہے“۔ (٦) آگے چل کر امام احمد رضا خان نے ایک تخت لگا کر، آپ کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اعلان فرمایا ”میں آپ کو ہندوستان کے لئے قاضی شرع مقرر کرتا ہوں“۔ (٧)

حیاتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے یہ 10 کارنامے سب سے نمایاں ہیں:

1: فقہ حنفی کا انسائکلوپیڈیا ”بہار شریعت“۔

2: ترجمہ ”کنز الایمان“ کے مراحل اور املا۔

3 : حاشیہ شرح معانی الآثار (عربی)

4: فتاوی امجدیہ۔

5: اشاعت کتب (مطبع اہل سنت)

6: ماہر شاگردوں کی شکل میں علمی اثاثے کی منتقلی۔

7: اولاد و امجاد کی دینی تعلیم و تربیت اور ان کے ذریعے فروغ اہل سنت۔

8: 20 فنون پر مشتل کتابوں سے بھری عظیم لائبریری۔

9: غیر مفتوح اور فیصلہ کن مناظرے۔

10: تقریر کے ذریعے دعوت و تبلیغ۔ #بہار_شریعت بہار شریعت، علم فقہ کی سیکڑوں مطوّلات و مختصرات، شروح و حواشی کا عطر مجموعہ اور گل سر سبد ہے۔ مولانا ارشاد عالم ساحل سہسرامی نے بجا لکھا ہے: ”یہ کتاب اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ اسے دیکھ کر اہل علم کا تاثر یہ ہے کہ دنیا کی کسی زبان میں، فقہ حنفی کی کوئی کتاب ایسی نہ ہوگی، جو بیک وقت ان اوصاف کی جامع ہو“۔ (٨)

بعض لوگ مصنف کی کتابوں کی تعداد سے مرعوب ہوجاتے ہیں، بسا اوقات اس کے لئے اوٹ پٹانگ کارنامے سر زد ہوجاتے ہیں، کبھی کبھی الٹ پلٹ کر بھی تصانیف کی تعداد بڑھا لی جاتی ہے۔ ایک جناب کا خوب صورت تبصرہ نقل کرتا ہوں، جو شاید بے محل نہیں ہوگا: ”سکاکی نے ”مفتاح العلوم“ لکھی، جو ایک مفصل کتاب تھی، بعد ازاں قزوینی نے اس کے ایک بڑے حصے کی تلخیص بنام ”تلخیص المفتاح“ لکھی، اس کے بعد تفتازانی نے تلخیص المفتاح کی شرح ”مطول“ لکھ کر اسے پھر سے مفصل کردیا، پھر اسی مطول سے ”مختصر المعانی“ لکھ کر ایک اور تلخیص بنادی گئی۔ بھائی! اگر شرح ہی لکھنی تھی تو پہلے تلخیص کیوں کی! اور مفصل پہلے سے موجود تھی تو شرح کیوں! اسی مفصل کو واپس لے آتے، اور شرح کرکے پھر مختصر کیوں کی! تلخیص تو پہلے ہی موجود تھی“۔

لیکن صدر الشریعہ نے ایسا نہیں کیا، وہ چاہتے تو اسلامی کتابوں کے اتنے بڑے ذخیرے سے، بہار شریعت کی تصنیف کی مدت میں، پچاسوں کتابیں تیار کرلیتے؛ لیکن انھوں نے ایک ہی بہار شریعت ایسی لکھ دی کہ اس سے نقل و استفادے سے اب تک پچاسوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ خود بہار شریعت کو پھیلا دی جائے تو پچیسوں کتابیں تیار ہو جائیں۔ بہار شریعت کی مندرجہ ذیل خوبیاں اور خصوصیات اسے دوسری کتابوں سے ممتاز کرتی ہیں اور اسے فقہ حنفی کا ایک شاہ کار بناتی ہیں۔

(الف) استنادی حیثیت:

ہر مسئلے اور حدیث کے آگے اصل ماخذ کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔صرف حصہ دوم کا جایزہ لیں تو اس حصے میں 395 قرآنی آیتوں کے علاوہ چالیس سے زائد کتب حدیث اور اتنی ہی (45 کتابیں) فقہی کتابوں کے حوالے ہیں۔ بہار شریعت کے پہلے سے چھٹے حصے تک اعلٰی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ نے خود حرف بہ حرف سنا اور اس کی تصدیق بھی کی ہے۔

(ب)  سلاست اور روانی:

حصہ دوم کے شروع میں لکھتے ہیں: ”اس کتاب میں حتی الوسع یہ کوشش ہوگی کہ عبارت بہت آسان ہو کہ سمجھنے میں دقت نہ ہو، اور کم علم اور عورتیں اور بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکیں“۔ اسی خوبی کی طرف اعلی حضرت فاضل بریلوی، بہار شریعت پر اپنی تقریظ میں ان الفاظ میں اشارہ کرتے ہیں: ”آج کل ایسی کتاب کی ضرورت تھی کہ عوام بھائی سلیس اردو میں صحیح مسئلے پائیں“۔ (٩) صدر الشریعہ نے بہار شریعت میں ایسے سیکڑوں اردو الفاظ کا ذکر کرکے انھیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے، آج بڑے سے بڑا ادیب جن کو بول بھی نہیں سکتا۔ جس زمانے میں یہ کتاب لکھی گئی، اردو ذخائر میں فقہ حنفی کی کسی ایسی کتاب کا سراغ تک نہیں ملتا۔ بہار شریعت کی زبان آج بھی تازہ اور فصیح ہے۔

(ج) اختصاراور جامعیت:

پیدایش سے موت تک اور مابعد موت ایصال ثواب وغیرہ کے سارے مسائل اس ایک کتاب میں جمع ہیں اور ترتیب اس خوبی سے دی گئی ہے کہ کوئی بھی اردو خواں کسی بھی مسئلے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے، جو مسئلہ جہاں ذکر کیا جانا چاہیے تھا، بالکل وہیں ہے۔

(د)  اختلافات سےپرہیز: علما کے اختلاف سے عوام کو کیا سروکار! انھیں تو بس مسائل چاہیے؛ تاکہ وہ اس پر عمل کریں۔ یہی چیز بہار شریعت میں روا رکھی گئی ہے۔

(ھ) پیچیدگی اورالجھاوپن سےگریز:

مسائل سمجھانے میں وہی زبان و بیان کا انتخاب ہوا ہے، جو افہام و تفہیم کے لیے بہتر ہو۔بہار شریعت بھارت میں علم فقہ کی، عالم گیری اور فتاوی رضویہ کے بعد سب سے اہم کڑی ہے۔ فقہ کی تاریخ بہار اور صاحب بہار کے ذکر کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔ یہ کتاب اس شان کی ہے کہ اس پر ڈکٹریٹ کی ڈگریاں دی جائیں، یونیورسٹیوں میں اس پر تحقیقات ہوں۔

ماخذ و مراجع

(١) عبد المنان اعظمی، بحر العلوم، مفتی، حیات صدر الشریعہ، ٢٤ (٢) ایضا، ص، ٢٥

(٣) آل مصطفٰی مصباحی، مفتی، سوانح صدر الشریعہ، ١٤ (٤) عبد المنان اعظمی، بحر العلوم، مفتی، حیات صدر الشریعہ،ص ٢٥

(٥) ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کا ”صدر الشریعہ نمبر“ ١٩٩٥، ص ٢١٨

(٦) امام احمد رضا خان، مجدد، الملفوظ،ص ١٠٣

(٧) برہان الحق جبل پوری، برہان ملت، اکرام امام احمد رضا، ص١٠٦

(٨) ارشاد مصباحی، مولانا، حیات و خدمات، ص٣٣٩

(٩) بہار شریعت، سوم، ص ١٥٤