الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 513

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ان سے کہا گیا آپ کو امیر المؤمنین معاویہ میں میلا ن ہے کہ وہ تو ایک ہی رکعت وتر پڑھتے ہیں ۱؎ تو آپ نے فرمایا ٹھیک کرتے ہیں وہ فقیہ عالم ہیں۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں امیر معاویہ نے عا ء کے بعد ایک رکعت و تر پڑھی ا ن کے پاس حضرت ابن عباس کے غلام تھے انہیں وہ حضرت ابن عباس کے پاس گئے انہیں یہ خبر دی فرمایا انہیں چھوڑ دو وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں ۳؎(بخاری)

شرح

۱؎ یعنی امیر معاویہ اتنی بڑی غلطی کرتے ہیں کہ وتر تین رکعت کے بجائے ایک رکعت ہی پڑھتے ہیں پھر بھی آپ کو ان سے محبت ہے آپ انہیں سمجھاتے نہیں۔

۲؎ یعنی ایک رکعت وتر پڑھنا ہے مگر امیر معاویہ عالم ہیں،فقیہ ہیں،مجتہد کو غلطی پر ثواب بھی ملتا ہے لہذا نہ میں انہیں سمجھا سکتا ہوں اور نہ تم ان پر اعتراض کرو۔

۳؎ یعنی اگرچہ ان کا یہ عمل غلط ہے لیکن بزرگوں خصوصًا صحابہ کی غلطی پکڑنا اور ان پر زبان طعن دراز کرنا سخت غلطی ہے،یہ حدیث امام اعظم کی بہت قوی دلیل ہے کہ وتر تین رکعت ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ تین رکعت وتر پر صحابہ کا اجماع ہوچکا تھا صرف امیر معاویہ کسی غلط فہمی سے یا بے خبری سےا یک رکعت وتر پڑھتے تھے اسی لیئے حضرت ابن عباس کے خادم کو اس پر تعجب ہوا اور انہوں نے حصرت ابن عباس سے شکایت کی اور حیرت کی کہ آپ انہیں مسئلہ بتاتے کیوں نہیں۔حضرت ابن عباس نے یہ نہ کہا کہ مسئلہ یا ان کا فعل صحیح ہے بلکہ صرف یہ فرمایا کہ وہ بوجہ صحابی اور مجتہد ہونے کے ملامت کے لائق نہیں اور نہ اس بنا پر ان سے قطع تعلق کرنا جائز۔