رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط اول

اللہ کریم کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے یہ توفیق بخشی، بیشک ہر نیک کام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے اور شکر بجا لاتا ہوں اسکے حبیب کریمﷺ کا جنکے وسیلہ سے ہمیں اللہ کریم کی رحمتیں میسر ہوتی ہیں جنکی نسبت کی وجہ سے ایمان ملا ہے اور شکر بجا لاتا ہوں انکے نہایت شفیق بیٹے سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا جو اسرار کا خزینہ ہیں۔ اے اللہ کریم میں شکر بجا لاتا ہوں شیخ کامل کا کہ جو بھی سعید سعادتیں نصیب ہوتی ہیں انکے پیچھے مرشد کریم کی نگاہ کرم ہے۔

امید ہے سب دوست خیر سے ہوں گے۔ اس انتہاٸی اہم موضوع کا آغاز ان شاء اللہ اس انداز سے کروں گا کہ سب پہلے مقدمہ بیان ہو گا۔ جس میں

بارگاہ رضا میں کچھ الفاظ اظہار تشکر کے لٸے پیش کروں گا۔

سیدی امام احمد رضاخانؓ نے اس موضوع کو تین رساٸل میں بیان کیا ہے تو پہلے انکا اجمالی تعرف مختصر الفاظ میں ہو گا۔ یعنی

ا۔ نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان

ب۔ معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین

ج ۔ فوز مبین در رد حرکت زمین

پھر علم ہندسہ کی تعریف یعنی What is geometry

علم ہندسہ کی کچھ اصطلاحات اور انکی تعریف

حرکت کی تعریف اور اسکی اقسام

علم ہیت اور علم نجوم کی تعریف

یہاں تک ہو گا مقدمہ کہ ان امور کا بیان کرنا اور انکا سمجھنا ہمارے لٸے بہت اہمیت کا حامل ہوگا اگر ہم نے کامل طور پہ اس مسٸلہ کو سمجھنا ہے۔

پھر تینوں رساٸل کی جو ترتیب اوپر بیان ہوٸی اسی طرح ان پہ گفتگو کا آغاز کروں گا۔ تفصیلی گفتگو ہو گی فوز مبین در رد حرکت زمین پہ جو ساٸنس اور علم ہیت کے اصولوں پر ہی لکھی گٸی ہے۔ اور ساتھ نصاری کے ساٸنسدانوں کے بیان کردہ قواٸد کا بھی جاٸزہ لیا جاۓ گا۔

اللہ کریم ہم سبکو نفع بخش علم عطا فرماۓ اور ہمیں اپنے اسلاف کے راستے پر چلاۓ کہ وہی صراط مستقیم ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط دوم

الحَمْدُ ِلله رب العلمین۔ اللھم صل علی سیدنا و نبینا محمد صلاة ترفع بھا عن قلوبنا الحجب والاستار۔ ﷺ

آج مقدمہ کے پہلے دو نکات پہ گفتگو ہو گی یعنی پیارے رضا کی بارگاہ میں اظہار تشکر اور آپکے تینوں رساٸل کا اجمالی تعرف۔

اللہ کریم کی رحمتیں ہوں اس عظیم ہستی پر کہ جس نے کہا

”اگر میرے قلب کے دو حصے کر دیٸے جاٸیں تو ایک حصہ پہ لکھا ہوگا لا الہ الا اللہ اور دوسرے پہ لکھا ہو گا محمدرسول اللہ“

یہ دین میں کامیابی و ثابت قدمی اور ایمان و عشق رسول کی وہ عظیم سند ہے جس نے آپکو علم، شریعت، طریقت، معرفت الہی اور معرفت رسولﷺ کا وہ عرفان بخشا کہ دنیاۓ اسلام کا امام بنایا، تجدید دین کی ایسی خدمت کی کہ مجدد اعظم بنے، ظاہر ہے کہ کلمہ طیبہ کی مہر آپکی نیک سیرت ماں کے بطن اقدس میں ہی آپکے قلب پر نقش کر دی گٸی تھی۔ یعنی صاحب ولی پیدا ہوۓ ہیں اور پھر علم کے کہ وہ جوہر دکھاۓ کہ کم و بیش 200 علوم پر آپ نے اجمالا و تفصیلا اپنے قلم کو حرکت دی اور پھر یہ اعلان بھی فرما دیا حداٸق بخشش میں رضا کے سامنے کی تاب کس میں فلک وار اس پہ تیرا ظل ہے یا غوث

بارگاہ غوث اعظم کا منظور نظر، سیدنا غوث اعظم کے فیض کی تجلیاں آپکو اپنے دامن میں فلک محیط کی طرح گھیرے ہوۓ ہیں۔ پس آپکی فکر، آپکا مشاہدہ، آپکی بصیرت، اور آپکا قلم خطا سے محفوظ ہے۔

اور یاد رہے یہ علم مسلمانوں کی میراث ہے کفار کی نہیں۔ یہ اولیا اللہ انبیاۓ کرام کے علوم کے وارث ہیں۔ اللہ کریم کی رحمتیں ہوں آپکے مزار پر انوار پر۔ آمین

معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین

اس رسالہ کا بنیادی مقصد امریکی منجم پروفیسر البرٹ ایف پورٹا کی پشنگوٸی کا رد کرنا تھا کہ جس نے دعوی کیا تھا کہ فلاں تاریخ کو افلاک میں سیاروں کا اجتماع ہو گا جنکی مقناطیسی لہریں شمس میں بڑے بھالے کی طرح سوراخ کر دیں گی اور اس سے بہت تباہی ہو گی۔ مگر الحَمْدُ ِلله آپ نے اسکا رد کیا افلاک میں سیاروں کے مقامات کو بیان کر کے۔ تو یہ رسالہ بنیادی طور شمس اور سیارگان کے مقامات کے حوالہ سے ہے مگر اجمالا اس میں آپ نے زمین کے ساکن ہونے پر بھی دلاٸل قاٸم کٸے۔ اور انہیں دلاٸل پہ ہم روشنی ڈالیں گے۔

نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان

اس رسالہ میں آپ نے زمین و آسمان کے ساکن ہونے کو قرآن و حدیث سے ثابت کیا ہے۔ یاد رکھیں جو چیز قرآن و حدیث سے ثابت ہو جاۓ اس پر ایمان لانا فرض ہے۔ اے کاش کہ ہمارے سکول، کالج اور یونیورسٹی کے تعلیمی نصاب کا تعین کرنے والوں کو بھی ایمان کی یہ دولت نصیب ہو جاۓ اور نصاری کی اس موضوع پر تعلیم و تحقیق کو چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہوں۔ ان شاء اللہ اس کو اسی طرز پہ سمجھیں گے۔

فوز مبین در رد حرکت زمین

آپکی یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ آپکی بصیرت تھی کہ آپ جانتے تھے کچھ ہم میں ہی ایسے لوگ ہوں گے ایمان کے کمزور جو فرمان خدا کو چھوڑ کر نصاری کی ساٸنسی روش کی تصدیق کریں گے بس پھر کیا تھا کہ کلک رضا ہے خنجر خونخوار برق بار اعدا سے کہہ دو خیر مناٸیں نہ شر کریں

آپ نے ساٸنسی دلاٸل کے انبار لگا کر نصاری کہ منہ پر وہ کلک لگاٸی کہ تاقیامت اس دروازہ کو بند کر دیا۔ ان شاء اللہ اس کتاب کی ہر دلیل پہ مفصل گفتگو ہو گی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط سوم

الصلاة والسلام علیک یا رسول اللہ ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلً

ان شاء اللہ، اس قسط میں ہم مقدمہ کے دیگر نقاط پہ گفتگو کریں گے۔ یعنی علم ہندسہ اور اسکی کچھ اصطلاحات کی تعریف۔ اسی طرح حرکت کی تعریف اور اسکی اقسام۔

علم ہندسہ: Geometry

The branch of mathematics concerned with the properties and relations of points, line and surface.

علم ہندسہ علم ریاضی کی اس شاخ کا نام ہے جس میں ہم کسی بھی وجود ، اسکی سطح ، اس سے متعلق خطوط بمع زاویہ اور نقاط کے مابین تعلق اور اس تعلق کی خصوصیات کو سمجھتے ہیں۔

علم ہندسہ کی اصطلاحات:

داٸرہ : Circle

خط مستدیر سے گھری ہوٸی وہ شکل جس کے وسط میں ایک نقطہ فرض کیا جا سکے جس سے محیط تک ہر جہت میں نکلنے والےتمام خطوط مستقیمہ برابر ہوں۔

کرہ : Sphere

سطح مستدیر سے گھرا ہوا وہ جسم جس کے وسط میں ایک نقطہ فرض کیا جا سکے جس سے سطح محیط تک نکلنے والے تمام خطوط مستقیمہ مساوی ہوں۔ یاد رہے تمام افلاک و آسمان کروی ہیں مگر عرش الہی جو کل کاٸنات کو محیط ہے وہ کروی نہیں۔

داٸرہ اور کرہ میں فرق یہ ہے کہ داٸرہ خط مستدیر سے گھرا ہوا ہوتا ہے جبکہ کرہ سطح مستدیر سے۔ اور مستدیر گول کو کہتے ہیں۔

داٸرہ عظیمہ : Great-Circle

کسی بھی کرہ میں فرض کیا جانے والا وہ داٸرہ جو کرہ کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرے۔

داٸرہ معدل النہار :

داٸرہ عظیمہ ہی داٸرہ معدل النہار ہے۔ یعنی علم ہیت میں فلک الافلاک اپنے محور پر حرکت مستدیرہ کرتا ہے جس سے وہ داٸرہ عظیمہ بنتا ہے جو کرہ عالم کو دو مساوی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔

خط استوا ٕ : Equator

روۓ زمین پر جو داٸرہ فرض کیا جاتا ہے خط استوا کہلاتا ہے یہ زمین کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یعنی نصف شمالی اور نصف جنوبی۔

داٸرہ معدل النہار اور خط استوا میں فرق یہ ہے کہ اول نے افلاک کو دو مساوی حصوں میں تقسیم کیا ہے جو کہ شمس کے 360 اینگلز کو مشتمل ہے اسی طرح دوم نے زمین کو تقسیم کیا ہے۔

قطب داٸرہ : Pole of Circle

پہلوۓ داٸرہ میں وہ نقطہ جو داٸرہ سے 90 درجہ کے فصل پر واقع ہو۔ ہر داٸرہ کے دو قطب ہوتے ہیں یعنی

قطب شمالی North Pole

قطب جنوبی South Pole

قطبین کہ اوپر اور زمین کے دیگر حصوں پہ دن رات کے دورانیہ میں بہت فرق ہے۔

حرکت : Motion

یہاں ہم یہ دیکھیں گے کہ نصاری نے حرکت کو کتنا سمجھا ہے اور کتنا بیان کیا ہے اور اگلی قسط میں جانیں گے مسلمانوں نے حرکت کے حقاٸق کیسے بیان کٸے ہیں۔ فوز مبین کو سمجھنے کے لٸے ان بنیادی امور کا جاننا بہت ضروری ہے۔

Motion Definition in Britannica :-

Change with time of the position of a body.

یعنی وقت کے ساتھ کسی بھی وجود کے مقام کی تبدیلی حرکت کہلاتی ہے۔

اسی طرح دوسری تعریف یوں بیان کی گٸی جو کہ پہلی تعریف کا ہی عکس بیاں ہے۔

Motion is the change in position of an object.

حرکت کی اقسام : Types of Motion

نصاری کے ہاں حرکت کی تین قسام پاٸی جاتی ہیں

Linear Motion

All the objects move along a single line.

یعنی کسی بھی وجود کا خط مستقیم پہ حرکت کرنا جیسے سڑک کو اگر خط فرض کر لیا جاۓ تو اس سڑک کے اوپر کار کی حرکت۔ اسکو انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے یعنی

Rectilinear motion خط مستقیم پہ حرکت

Curvilinear motion خط مستدیر پہ حرکت

Circular/Rotatory Motion

Some objects are moving even though they are fixed at some position. Rotates on its own axis.

کسی بھی وجود کا اپنے مقام کو تبدیل کٸے بغیر حرکت کرنا جیسے چھت میں نصب کٸے گٸے پنکھے کی حرکت۔ یا گھڑی کے اندر وقت کا تعین کرنی والی سوٸی کی حرکت۔

Periodic Motion

It repeats its movement after a specific time.

کسی خاص مقرر کٸے گٸے دورانیہ میں حرکت جو مقرر وقت میں دہراٸی جاۓ۔ نصاری حرکت کی اسی قسم کو زمین کی حرکت سے منسلک کرتے ہیں۔ اور اسی سے اختلاف لیل و نہار لیتے ہیں۔

قانون حرکت : Newton’s Law of Motion

A. An object will not change its motion unless a force acts on it.

جو چیز حرکت میں ہے وہ تب تک حرکت میں رہے گی جب تک کوٸی بیرونی قوت اس پر اثر انداز نہ ہو۔

B. The vector sum of the forces F on an object is equal to the mass M of that object.

کسی بھی وجود کو حرکت دینے کے لٸے لگاٸی گٸی قوت اس وجود کے وزن کے مساوی ہوتی ہے۔

ان شاء اللہ نیوٹن کے اسی قانون سے اسکو زمین کی حرکت پہ پکڑیں گے۔

When one body exerts a force on a second body, the second body simultaneously exerts a force equal in magnitude and opposite in direction on the first body.

جب کوٸی وجود حرکت کے لٸے دوسرے وجود پہ قوت لگاۓ تو دوسرا وجود بھی اسی تناسب راست کے ساتھ پہلے وجود پہ قوت لگاتا ہے۔

ان شاء اللہ اس نقطہ سے بھی نصاری کو پکڑیں گے زمین کی حرکت کو لیکر۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط چہارم

اللہ رب محمد صلی علیہ و سلما ۔ نحن عباد محمد صلی علیہ و سلما۔

حکما ٕ فلاسفہ نے حرکت کے متعلق کیا کہا ہے۔ ان شاء اللہ اختصار کے ساتھ بیان کر کے فوز مبین کا آغاز کریں گے۔

حرکت کی تعریف میں حکما ٕ فلاسفہ کے دو مذہب ہیں

متقدمین فلاسفہ

متاخرین فلاسفہ

ہر وہ شٸے جو موجود ہے تین حال سے خالی نہیں

بالفعل موجود ہو گی ۔ اس کا تعلق اللہ کریم سے ہے۔

بعض وجوہ سے بلفعل اور بعض سے بالقوہ ہو گی۔ اسکا تعلق اجسام حادث سے ہے۔

یا وہ شٸے بالقوہ موجود ہو گی۔ اس پہ اختلاف ہے کچھ کے نزدیک باطل ہے اور یہ ہمارا موضوع بھی نہیں۔ ہمارے موضوع کا تعلق دوسری حالت کے ساتھ ہے۔

”قوت کے ساتھ فعلیت کی طرف خروج دو حال سے خالی نہیں یعنی یا تو بتدریج ہو گا اس کے لٸے مسافت طے کرنی پڑے گی۔

یا بتدریج نہیں بلکہ دفعتہ آن واحد میں ہو گا جیسے کہ ملکہ بلقیس کا تخت لایا گیا اور آن واحد میں یہ حرکت حالت طبعی میں نہیں ہوتی نہ ہی یہ حرکت کواکب و شمس و قمر کے لٸے ہے۔

متاخرین فلاسفہ کہتے ہیں

شٸی موجود بالقوة کے واسطے کمال اول کا نام حرکت ہے یعنی جب جسم قوت کے ساتھ فعل کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اسکو دو کمال حاصل ہوتے ہیں

پہلا کمال حرکت اور دوسرا کمال الوصول الی المنتھی یعنی وہ متحرک جسم انتہا کو پا لیتا ہے۔

ان شاء اللہ اسکو لیکر یہ سمجھیں گے کہ اگر زمین کو حرکت درکار ہے تو کیا اب تک کمال ثانی زمین کو حاصل ہوا؟ یعنی زمین کا ”الوصول الی المنتھی“ کیا ہے؟

حرکت کے لٸے چھ امور ضروری ہیں

متحرک ۔ محرک ۔ مبدأ ۔ منتہی ۔ مسافت ۔ زمان

متحرک جو حرکت قبول کرے

محرک یعنی حرکت کی علت فاعلہ ۔ اس میں ہمیں دیکھنا ہے زمین کو کونسی علت فاعلہ حاصل ہے؟

مبدأ جس سے حرکت کا آغاز ہوا

منتہی جس پر جا کر حرکت ختم ہوٸی

مسافت کمال اول اور کمال ثانی کے مابین حالت متوسطہ

زمان یعنی مقدار حرکت

حرکت اُن چیزوں کے بغیر متحقق نہیں ہو سکتی اور اگر ہو جاۓ تو حرکت میں چھ کامل صفات پاٸی جاتی ہیں

عرض ۔ ممکنہ ۔ ترک ۔ طلب ۔ سلوک ۔ تدرج

حرکت عرض ہے ۔ حرکت ممکنہ ہے ممتنعہ نہیں کہ اس کے واسطے علت فاعلہ کا ہونا ضروری ہے۔ حرکت میں کسی شٸے کا ترک کرنا ضروری ہے لہذا مبد ٕ کو ترک کیا گیا یعنی اگر زمین حرکت کر رہی ہے تو اس نے کونسے مبد ٕ کو چھوڑا ہے ثابت کرنا ہو گا۔

حرکت میں سلوک ہوتا ہے تو اس کے لٸے ایسے مسلک یعنی طریق کا ہونا ضروری ہے جس میں سلوک پایا جاۓ جسے مسافت کہتے ہیں۔ اگر زمین حرکت کرتی ہے تو اسکا سلوک اسکا طریق یعنی افلاک میں اسکا فلک ثابت کیا جاۓ؟ ان شاء اللہ اس پہ گفتگو ہو گی۔

حرکت طبعی میں چونکہ تدرج ہے تو اس کے لٸے زمان کا ہونا ضروری ہے۔

یہاں تک الحَمْدُ ِلله مقدمہ کے بنیادی امور مکمل ہوۓ۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

فوز مبین در رد حرکت زمین

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

ہیت جدیدہ اعلحضرت کی نظر میں۔ آپ فوز مبین میں لکھتے ہیں کہ

”واقعیات کا کام فرضیات سے نہیں چلتا۔ مدعی کا مطلب شاید اور ممکن سے نہیں نکلتا یہ لوگ طریقہ استدلال سے محض نا بلد ہیں“

”اہل ہییات جدیدہ کی ساری مہارت ریاضی و ہندسہ و ہیت میں منہمک ہے۔عقلیات میں انکی بضاعت قاصر یا قریب صفر ہے۔ وہ نہ طریق استدلال جانتے ہیں اور نہ داب بحث کسی بڑے مانے ہوۓ کی بے دلیل باتوں کو اصول موضوع ٹھرا کر ان پہ بے سروپا تعریفات کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر وثوق وہ کہ گویا آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ بلکہ مشاہدہ میں غلطی پڑ سکتی ہے۔

ان میں نہیں کے اِن کے خلاف دلاٸل قاہرہ ہوں تو سننا نہیں چاہتے سنیں تو سمجھنا نہیں چاہتے سمجھیں تو ماننا نہیں چاہتے دل میں مان بھی جاٸیں تو اس لکیر سے پھرنا نہیں چاہتے۔“

”اہل ہیت جدیدہ تقلید کوپر نیکس کے نشہ میں ان عظیم خرابیوں سے غافل رہے“

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط پنجم

صلی اللہ علی حبیبہ و بارک و سلم

سیدی امام احمد رضا خانؓ فوز مبین کے مقدمہ امور مسلمہ ہیات جدیدہ کا پہلے اصول بیان کرتے ہیں پھر لفظ ”اقول“ کے تحت اپنی نقطہ نظر اور تحقیق پیش کرتے ہیں۔

اللہ کریم کے پاک نام سے اسکا آغاز کرتے ہیں۔

اصول نمبر 1۔

ہر جسم میں دوسرے کو اپنی طرف کھینچنے کی ایک قوت طبعی ہے جسے جاذبا یا جاذبیت کہتے ہیں یعنی Gravity Force.

نیوٹن کو Gravity Force کا آٸیڈیا تب ہوا جب اس نے ایک سیب کو زمین پہ گرتے دیکھا یعنی 1665 میں۔

اعلحضرت اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ

اقول:- ” سیب گرنے اور جاذبیت کا آسیب جاگنے میں علاقہ بھی ایسا ہی لزوم یعنی لازم تھا کہ وہ گرا اور یہ اچھلا کیونکہ اس کے سوا اور کوٸی سبب ہو سکتا ہی نہ تھا۔ 1665 تک ہزاروں برس کے عقلا سب اس فہم سے محروم گٸے تو گٸے تعجب یہ کہ اس سیب سے پہلے نیوٹن نے بھی کوٸی چیز زمین پر گرتے نہ دیکھی“

شرح:-

مجدد اعظم کا سوال بلکل جانب حق ہے۔ اگر آپ توجہ کریں تو سیدنا امام اعظم ابو حنیفہؓ سے لیکر مجدد اعظم تک کیسی عظیم سے عظیم تر ہستیوں نے علمی خدمات سر انجام دیں جنکے جوتے کی خاک بھی نہیں نیوٹن تو کیا انکے فہم میں یہ Gravity Force نہیں آٸی یقینا عقل سلیم اسکو نہیں مانتی تو نیوٹن کی ہی تشہیر کیوں۔ اے مسلمان کیا یہ ہے تیرا انصاف؟؟؟

چلیں دیکھتے ہیں عالم اسلام میں کس نے اور کب Gravity Force کو بیان کیا۔

مولانا رومؓ کی ولادت 1207 میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں مثنوی شریف جلد اول میں۔

ذوق جنس از جنس خود باشد یقیں

ذوق جزو از کل خود باشد ببیں

یقینا جنس کو اپنی جنس سے ذوق ہوتا ہے

دیکھو جز کا ذوق اپنے کل سے ہوتا ہے

سیب چونکہ جنس زمین سے ہے تو اسکا زمین کی طرف آنا اصل میں اپنے کل کی طرف کی لوٹنا ہے اسی ذوق کو کشش ثقل کہتے ہیں۔

اسی کشش ثقل یعنی Gravity کو شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں ۔ شیخ شہاب الدین سہروردی نے عوارف المعارف میں ۔ سیدنا غوث اعظم نے فتوح الغیب میں ۔ شیخ محقق نے اسکی شرح میں ۔ امام غزالی نے کیماۓ سعادت و احیا میں ۔ امام رازی نے تفسیر کبیر میں ۔ شاہ ولی اللہ نے حجة البالغہ میں امام اعظم ابو حنیفہ نے فقہ اکبر میں بیان کیا۔ اگر وقت کی قید نہ ہو تو میں الحَمْدُ ِلله ہر ایک کی عبارت سےاسکو ثابت کروں۔

اس Gravity کی علت کو قرآن نے یوں بیان کیا

وجعل کل شٸ من المآ

ہر جاندار چیز کو اللہ کریم نے پانی سے پیدا کیا۔ عناصر اربعہ کی اصل بھی پانی ہے۔ تبھی ہر چیز زمین کی طرف لوٹتی ہے کہ ان سب کی اصل پانی ہے جو کہ زمین کے %70 حصہ پر مشتمل ہے۔ انسان کی روح کی اصل یہ عنصر نہیں ہے اس لٸے روح کی Gravity عالم بالا کی طرف ہے جو اسکی اصل ہے۔

پس یہ بات ثابت شدہ ہے نظریہ کشش ثقل نیوٹن کا ایجاد کردہ نہیں بلکہ یہ علم مسلمانوں کا خزانہ ہے اور اسی بات کو اعلحضرت نے اصول اول میں بیان کیا ہے۔ اب اس Gravity کا تعلق حرکت کے ساتھ کتنا ہے اسکو آپ نے مقدمہ ہیات جدیدہ کے بعد بیان کیا ہے۔

الحَمْدُ ِلله اصول دوم اگلی قسط میں بیان کروں گا۔ اور اسی طرح فوز مبین ان شاء اللہ مکمل ہو گی۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط پنجم حصہ دوم

الحَمْدُ ِلله ، سبحان اللہ ، اللہ اکبر ۔ رب زدنی علما

اللہ کریم کے پاک نام سے ابتدا ہے۔ سب سے پہلے فوز مبین کا ایک اجمالی تعرف بیان کرتا ہوں۔

اعلحضرت نے اس کتاب کا آغاز مقدمہ سے کیا جس میں ہیت جدیدہ کے 35 اصول بیان کٸے اور 178 مرتبہ ان 35 اصولوں کے مقابل اقول کہہ کر اپنا نقطہ بیان کیا۔

پھر فصل اول میں نافریت کا رد اور اس سے بطلان حرکت زمین پر 12 دلاٸل قاٸم کٸے۔

فصل دوم میں جاذبیت کا رد اور اس سے بطلان حرکت زمین پر 50 دلاٸل قاٸم کٸے۔

فصل سوم میں حرکت زمین کے ابطال پر 43 دلاٸل قاٸم کٸے۔

میں نے آپ سے پچھلی قسط میں نظریہ کشش ثقل بیان کیا اور ساتھ یہ بیان کیا کہ اس نظریہ کو بیان کرنے والا پہلا شخص نیوٹن نہیں بلکہ عالم اسلام کے نفوس قدس ہیں۔

اگر آپ پچھلی قسط کا مطالعہ کریں تو اس میں کہیں بھی یہ زکر نہیں کہ یہ کشش ثقل Gravity Force یعنی جاذبیت حرکت کی بنیاد ہے۔

جاذبیت Gravity Force ایک مسلم حقیقت ہے مگر یہ Gravity Force حرکت کی علت نہیں جس پہ نیوٹن اور ہیت جدیدہ نے خطا کی۔ کہ سیب کے زمین کی طرف گرنے کو سبب جانا Gravity Force کو۔

اعلحضرت نے پوری فوز مبین میں جہاں بھی نافریت و جاذبیت کا رد کیا ہے تو نفس جاذبیت کہ حوالہ سے نہیں بلکہ جاذبیت و نافریت کو لیکر حرکت کا رد کیا ہے کہ دونوں سبب حرکت نہیں ہیں۔

پھر ہم نے کہا کہ ہر چیز کی اصل پانی ہے تو چیزیں اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہیں کہ ہر جز کو اپنے کل سے انس ہوتا ہے۔ یہاں لوٹنے کا معنی حرکت نہیں ہے بلکہ جز کا اپنے کل یعنی اصل سے ملنا ہے۔

ایک انسان ”علی“ نے دوسرے انسان ”بکر“ سے پیسہ قرض لیا تو وقت وعدہ بکر نے علی کی امانت اسکو لوٹا دی کیونکہ وہ علی کا حصہ تھی۔

انسان پہ جب موت آتی ہے تو بدن اور روح اپنی اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

جاذبیت کشش کو کہتے ہیں یعنی ماٸل ہونا۔ مانوس ہونا۔ تو وصف جاذبیت سبب حرکت نہیں اسی طرح وصف نافریت بھی سبب حرکت نہیں۔

ان شاء اللہ آنے والی اقساط میں قوت جاذبیت ۔ نافریت اور ماسکہ کے حقاٸق بیان کروں گا۔ کہ یہ کہاں موثر ہیں۔

پس فوز مبین نے بھی اسی حقیقت کو بیان کیا ہے نہ کہ مطلق جاذبیت کا انکار کیا ہے۔

بکر دہلی میں رہتا ہے جو اسکی اصل ہے جبکہ وہ لاہور میں موجود ہے تو بکر سواری میں بیٹھا اور اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا۔ اب یہاں حرکت بکر نے نہیں کی بلکہ سواری نے کی ہے جس نے بکر کو اسکی اصل کی طرف لوٹایا۔

اب اگر کہیں کہ سواری نے جو حرکت کی لوٹانے میں اسکا سبب جاذبیت ہے تو یہ غلط ہے۔ پس اسی چیز کو فوز مبین نےثابت کیا۔

ان شاء اللہ چیزیں جب اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہیں تو محل کیا ہوتا ہے اس پہ بھی گفتگو ہو گی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر چھ

الحَمْدُ ِلله الذی زین النبیین بحبیبہ المصطفی و من علی المومنین بنبیہ المجتبی۔

اللہ کریم قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ أَن تَزُولا وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا۔ فاطر 41

بیشک اللہ روکے ہوۓ ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں۔ اور اگر وہ ہٹ جاٸیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا۔ بیشک وہ حلم والا بخشنے والا ہے۔ ”کنزالایمان“

الحَمْدُ ِلله اللہ کریم نے قرآن پاک میں مطلق طور پر حرکت کی نفی کی ہے زمین و آسمان کی۔

تفسیر در منثور میں ہے

”حضرت موسی علیہ السلام کو خیال آیا کہ کیا اللہ سوتا ہے؟ تو اللہ کریم نے حضرت موسی کو وحی کی کہ دو بوتلیں پکڑو اور انہیں پانی سے بھر لو۔ حضرت موسی علیہ السلام نے ایسا ہی کیا تو انکو اونگھ آ گٸی اور سو گٸے۔ بوتلیں آپ کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گٸیں۔ اللہ کریم نے حضرت موسی علیہ السلام کو وحی کی میں زمین و آسمان کو اپنی جگہ ہلنے سے روکتا ہوں۔ اگر میں سو جاٶں تو دونوں اپنی جگہ قاٸم نہ رہیں۔“

تفسیر مدارک میں ہے

”یقینی بات ہے کہ اللہ کریم آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوۓ ہے۔ ان تزولا ”کہ وہ موجودہ حالت کو چھوڑیں“ انکو زاٸل ہونے سے روکنے والا ہے۔“

یہی بات بیان ہوٸی تفسیر البیضاوی ۔ تفسیر ابن عباس ۔ تفسیر ابن عربی ۔ تفسیر ابن کثیر ۔ تفسیر کبیر ۔ تفسیر خازن ۔ تفسیر مظہری ۔ تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان و روح المعانی میں ہے۔

وقت کی قلت کے باعث سب کے حوالہ جات اس لٸے نہیں لکھے کہ سب کا مضمون سب کی تفسیر سب کی مراد سب کا ایمان ایک ہے کہ زمین و آسمان ساکن ہیں۔

اعلحضرت لکھتے ہیں کہ

”سیدنا عبداللہ ابن مسعودؓ اور حضرت حزیفہ بن الیمانؓ نے اس آیت مبارکہ سے مطلق حرکت کی نفی مانی۔ اور یہی بات علامہ نظام الدین حسن نیشا پوری نے تفسیر رغاٸب الفرقان میں بیان کی۔

اعلحضرت فوز مبین میں مقدمہ ہیات جدیدہ میں ہیات جدیدہ کا اصول نمبر دو بیان کرتے ہیں کہ

”اجسام میں اصلا کسی طرف اٹھنے گرنے سرکنے کا میل زاتی نہیں بلکہ ان میں بالطبع قوت ماسکہ ہے کہ حرکت کی مانع اور تاثیر قاسر کی تا حد طاقت مدافع ہے۔ یہ قوت ہر جسم میں اسکے وزن کے لاٸق ہوتی ہے لہزا ایک جسم سے کوٸی حصہ جدا کر کے دوسرے میں شامل کر دیں۔ وزن کی نسبت پر اول میں گھٹ جاٸیگی اور دوسرے میں بڑھ جاۓ گی“

پھر آپ اقول کہہ کر اپنا نقطہ بیان کرتے ہیں

”اولا خود جسم میں یہ قوت ہونے پر کیا دلیل ہے۔ اگر کہیے تجربہ کہ ہم جتنے زیادہ وزنی جسم کو حرکت دینا چاہتے ہیں زیادہ مقابلہ کرتا ہے اور قوی طاقت مانگتا ہے تو جذب زمین کدھر بھلایا کہ زمین اسے کھینچ رہی ہے اور تم جدا حرکت دینا چاہتے ہو۔ یہ تمہارے طور پر ہے اگرچہ یقینا باطل ہے“

شرح:-

اصول میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے ”میل“ تو پہلے اسکی تعریف بیان کرتا ہوں۔

میل

علامہ فضل حق خیر آبادی الھدیة السعیدیة کی شرح میں بحوالہ ابن سینا ہے کہ

وہ کیفیت جس کے ذریعہ جسم مانع عن الحرکت کا دفاع کرے یعنی اس علت اس سبب کا دفاع کرے جو اسکو حرکت کرنے سے روکے۔ اسکو میل کہتے ہیں۔

یعنی ہیت جدیدہ کہتی ہے کہ اجسام اپنی زات کے اعتبار سے مانع حرکت نہیں ہیں بلکہ ان کے اندر قوت ماسکہ ہے جو انکو حرکت کرنے سے روکتی ہے۔ اور اس قوت کا دارو مدار اسکے وجود کہ اوپر ہے۔

اگر زمین کے اوپر ایک طرف ساٸیکل دوسری طرف کار کھڑی کر دی جاۓ۔ اب ہمیں انکو حرکت دینی ہے تو ادھر تین پہلو ہیں

ایک انسان جو حرکت دے گا

دوسرا ساٸیکل اور کار جنکو حرکت دینی

تیسری زمین جو محل حرکت ہے۔

اب ساٸیکل یا کار مانع حرکت ہو گی قوت ماسکہ کی وجہ سے مگر انسان غالب قوت کی وجہ سے انکو متحرک کرے گا تو اے فھم نصاری زمین کا جذب یعنی جاذبیت یعنی Graity کدھر جاۓ گی جسکو تم نے بیان کیا ہے۔ یہی اعتراض اعلحضرت نے کیا کہ

ایک طرف تم کہتے ہو اجسام میں قوت ماسکہ ہے تو زمین بھی ایک جسم ہے

پھر کہتے ہو قوت ماسکہ کی کیفیت وجود کہ اعتبار سے ہے تو ان تینوں میں یعنی انسان ۔ ساٸیکل یا کار اور زمین میں زمین وجود کے اعتبار سے بڑی ہے تو اسکا مطلب اسکی قوت ماسکہ ان دونوں سے بڑھ کر ہے۔

اور دوسری طرف تم زمین کی جاذبیت یعنی Gravity کو سبب حرکت بھی بناتے ہو سیب گرنے کی صورت میں تو ایک وجود میں دونوں قوتوں کا اجتماع باطل ہے ماسوا انسان و حیوان کے کہ ان دونوں میں ہر طرح کی قوت مجتمع یے کیونکہ یہ دونوں ارادہ کرتے ہیں۔

پس انسان نے ساٸیکل کو حرکت دینے کے لٸے قوت لگاٸی تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ ساٸیکل حرکت نہ کرتا کہ زمین وجود کہ اعتبار سے بڑی ہے تو اسکی قوت جاذبہ غالب ہوتی جو مانع حرکت ہوتی مگر ایسا ہوا نہ اور قوت لگانے پہ ساٸیکل متحرک ہو گیا۔

اسکا مطلب کہ قوت ماسکہ کی دلیل نری علیل ہے۔ جسکو اعلحضرت نے باطل قرار دیا۔ اور اگر جاذبیت کو سبب حرکت کہتے ہو تو پھر زمین قاٸمة الزاویہ کی صورت میں ساٸیکل کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے مگر وہ خط مستقیم پہ کیسے حرکت کر رہا ہے؟

پس ثابت ہوا ہیت جدیدہ کے دونوں اصول حرکت کو لیکر باطل ہیں

اعلحضرت نے کہا کہ

” ہمارے نزدیک اجسام مشہودہ میں میل ہے سب میں ہونا کچھ ضروری نہیں“

اس سے آگے ان شاء اللہ اگلی قسط میں

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر سات

الحَمْدُ ِلله الذی زین النبیین بحبیبہ المصطفی و من علی المومنین بنبیہ المجتبی۔

امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ ایک ویڈیو کلپ آپ سے شٸر کر رہا ہوں اسکو دیکھیں سمجھیں پھر اپنی راۓ کا اظہار کریں اور ساتھ زمین کو متحرک ماننے والوں سے چند سوال کریں۔

اس میں ایک ایسے شخص کو دیکھایا گیا ہے جو زمین سے 32 میل کی بلندی سے چھلانگ لگا کر عالمی ریکارڈ قاٸم کرتا ہے اور اس ساری کاوش کو ریکارڈ بھی کیا گیا ہے۔

سوال نمبر ایک:-

اگر زمین حرکت مستدیرہ کرتی ہے یعنی محور میں رہ مرکز کے گرد گھومتی ہے تو اس ویڈیو میں نظر کیوں نہیں آٸی حرکت کرتے۔؟

سوال نمبر دو:-

یہ انسان چند منٹوں میں زمین پہ آجاتا ہے۔ اگر زمین حرکت مستدیرہ کرتی ہے تو یقینا چند منٹوں میں اپنا دور مکمل نہیں کرتی۔ یعنی زمین اپنی کروی حرکت پہ ہے جبکہ یہ انسان قاٸمہ زاویہ یعنی 90 درجہ سے نیچے گر رہا ہے اور اس انسان کی حرکت زمین کی جہت میں نہیں بلکہ عمودی ہے تو پھر زمین کو اپنا دور مکمل کرنے کے لٸے فلک کے کسی درجہ پر ہونا چاہیے تھا مگر ایسا کیوں نہ ہوا؟

جبکہ چند منٹوں میں وہ انسان اپنے طے شدہ مقام پہ واپس بھی آیا اور زمین کو بھی ادھر ہی پایا؟

سوال نمبر تین:-

اگر زمین مرکز میں رہ کر محور کے گرد گھوم رہی ہےتو ہم جانتے ہیں کہ اگر آپ چلتی بس سے نیچے اتریں تو آپکو کامیابی سے اترنے کے لٸے چند امور کا خیال رکھنا پڑے گا۔

اگر آپ چلتی بس سے اتر رہے ہیں تو آپکو اس بس کی حرکت کی سمت میں اترنا پڑے گا ورنہ آپ گر جاٸیں گے۔

اگر آپ بس کی سمت میں تو اتر رہے ہیں مگر آپکی رفتار اور بس کی رفتار ایک نہیں تو پھر بھی آپ اتر نہیں پاٸیں گے گر جاٸیں گے۔

اب اگر زمین مرکز میں رہ کر محور کہ گرد بھی گھوم رہی ہے تو اسکی حرکت مستقیمہ نہیں مستدیرہ ہی رہے گی جبکہ زمین کے اوپر اترنے والا انسان مخالف سمت میں حرکت کرتے ہوۓ اتر رہا ہے تو پھر کیسے یہ زمین پہ آکر کھڑا ہو گیا؟ جبکہ زمین تو گھوم رہی ہے؟

اگر زلزلہ کی حرکت شدت سے آۓ تو مکان گر جاتے ہیں مگر ادھر پوری زمین حرکت میں ہے مگر مکانوں کو قرار حاصل کیسے؟؟

سوال نمبر چار:-

اگر دو جہاز الگ الگ سمت میں لینڈ کرواۓ جاٸیں ایک وقت میں، تو جو جہاز زمین کی حرکت کی جہت میں لینڈ کرے گا اسکو مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا

مگر اسی وقت میں جو مخالف سمت میں لینڈ کر رہا ہے اسکو مزاحمت کا سامنا ہونا چاہیے مگر دونوں ایک حالت میں لینڈ کر جاتے ہیں کیوں؟؟؟

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر آٹھ

الم ۔ الحَمْدُ ِلله رب العلمین ۔ حم محمد رسول اللہﷺ

امید ہے آپکو پچھلی قسط میں اٹھاۓ گٸے سوالات کے جوابات کبھی نہیں ملیں گے اور نہ یہ کبھی اقرار کریں گے۔ اصولا تو بات ختم ہو گٸی لیکن ہم فوز مبین کے حقاٸق ضرور جانیں گے کہ اور کتنی جہتوں سے اعلحضرت نے اسکا رد کیا یے۔

مولانا جلاالدین رومیؓ مثنوی شریف جلد اول ۔ دفتر اول زیر تحت مضمون ”سبب حرمان اشقیا“ میں لکھتے ہیں

آں حکیمک اعتقادے کردہ است

کہ آسمان بیضہ زمیں چوں زردہ است

گفت ساٸل چوں بماند ایں خاکداں

درمیان ایں محیط آسماں

ہمچو قندیلے معلق در ہوا

نے براسفل می رود نے بر علا

آں حلیمش گفت جزب سما

از جہات شش بماند اندر ہوا

چوں مقناطیس قبہ ریختہ

درمیان ماند آہنے آو یختہ

اس فلسفی نے اعتقاد کیا ہے ۔ کہ آسمان انڈے کی طرح اور زمین زردی کی طرح ہے۔

سوال کرنے والے نے کہا یہ زمین کس طرح ٹہری ہوٸی ہے ۔ اس احاطہ کرنے والے آسمان کے درمیان میں۔

ہوا میں معلق ایک قندیل کی طرح ۔ جو نہ نیچے جاتی ہے نہ اوپر۔

اس فلسفی نے کہا کہ آسمان کی کشش ہے ۔ شش جہات سے ہوا میں ہے۔

جیسے مقناطیس سے ڈھلا ہوا قبہ ۔ لٹکا ہوا لوہا اسکے درمیان رہتا ہے۔

اس سے اگلا راز سیدی شیخ اکبرؓ نے فتوحات مکیہ جلد اول میں بیان کیا کہ آسمان کھڑا ہے اور اسکی قوت ماسکہ انسان ہے۔

یعنی آسمان کی کشش کی وجہ سے زمین آسمان دنیا کے مرکز میں کھڑی ہے اور آسمان خود انسان کی کشش کی وجہ سے کھڑا ہے۔

جو ساٸنس آج تک زمین کے ساکن ہونے کو نہیں سمجھ سکی وہ اس بات سے بہت دور ہے کہ آسمان کی کشش زمین کے لٸے اور انسان کی کشش آسمان کے لٸے ثابت کرے۔ یہ تو اولیا اللہ ہیں جو اتنے اسرار بیان کر گٸے۔ اور یہ تو ابھی ابتدا ہے اگر وقت کی تنگی دامن گیر نہ ہو تو ایسے حقاٸق سامنے لیکر آٶں جو ان نفوس قدسیہ نے بیان کٸے۔ اور ہم لوگ شیداٸی ہیں نصاری کے؟؟؟؟

آپ سب کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ اولیا اللہ کے بیان کردہ حقاٸق کو سمجھو جسکا مآخذ کلامی الہی اور فرمان رسول ﷺ ہے۔

اعلحضرت فوزمبین میں ہیت جدیدہ کا اصول نمبر تین اور چار بیان کرتے ہیں کہ،

ہر جسم بالطبع دوسرے کے جسم سے بھاگتا ہے اس قوت کا نام نافرہ ۔ ہاربہ دافعہ یعنی نافریت ہے۔

جب کوٸی جسم کسی داٸرے پر حرکت کرے اس میں مرکز سے نفرت ہوتی ہے۔ پتھر رسی میں باندھ کر اپنے گرد گھماٶ وہ چھوٹنا چاہے گا۔ یہ مرکز سے پتھر کی نافریت ہے۔

نکتہ اعلحضرت بہ زبان اعلحضرت

”جاذبہ تو سیب کے نیچے گرنے سے پہچانی یہ کیسے جان لی؟ شاید سیب گرنے میں نیچے دیکھا تو زمین تھی اسکا جذب خیال میں آیا اور اوپر دیکھا تو سیب شاخ سے بھاگتا پایا یوں نافرہ کا زہن لڑایا۔ حالانکہ نیچے لانے کو انمیں ایک کافی ہے۔ تو پھر دو کس لٸے۔

اسی طرح پتھر کی مرکز سے نفرت نافرہ نہیں بلکہ جانب خلاف جو زور دیکھتے ہو تمہاری دافع کا سبب ہے۔

شرح:-

اگر نافرہ کی وجہ سے سیب نیچے گرا یے تو یہ بھی ہیت جدیدہ کا اصول ہے کہ ہر جسم میں قوت اسکے وجود کے اعتبار سے ہوتی ہے اور یوں تو کوٸی بھی پھل شاخ پہ لٹکا نہ رہتا کہ جذب زمین بہ اعتبار وجود سب پہ غالب آتا۔

پھر ہیت جدیدہ کہتی ہے کہ

پتھر کو رسی میں باندھ کر گھمانے سے نافرہ پیدا ہوٸی جو سبب بنی پتھر کی مرکز سے نفرت کا ۔ اچھا چلو یہ سمجھا دو پھر کہ سیب کو شاخ پہ کس نے گھمایا کہ نافرہ بنی؟؟؟

اگر پتھر مرکز سے نفرت کر رہا ہے تو یہ نفرت بنا ہمارے گھماۓ کدھر چلی گٸی تو پھر اعحضرت نے حق بیان کیا کہ پتھر کی مثال نری علیل ہے اور یہ جو تم پتھر کی مرکز سے نفرت دیکھتے ہو یہ تماری قوت کے سبب سے ہے۔

اور اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر ہم کسی چیز کو حرکت مستدیرہ یا کروی یا فلکی یا محوری دیں تو بالطبع وہ چیز مرکز سے دور بھاگتی ہے اور جتنی قوت سے گھماٸیں گے وہ اپنے وجود کے وزن کے اعتبار سے اتنا باہر کی طرف چھوٹے گی اگر گھمانے والی کی قوت ماسکہ غالب رہے گی تو پتھر ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا ورنہ چھوٹ جاۓ گا۔

اب ہم نے پچھلی قسط میں سوال کیا تھا کہ اگر اسی حرکت پہ زمین گھوم رہی ہے تو مکانوں اور انسانوں کو قرار کیسے حاصل؟

چلو مان لیا کہ پہاڑ زمین میں گھڑے ہوۓ ہیں تو یہ قاٸم ہیں مگر کیا انسان بھی زمین میں گھڑا ہوا ہے؟ کہ اتنے بڑے وجود کہ گھومنے پر یہ ویسے کا ویسے ہی کھڑا ہے اور کھڑے ہونے میں کچھ زور بھی نہیں یعنی نارمل حالت میں کھڑا ہے تو اسکا مطلب یہی ہے کہ زمین ساکن ہے۔

اچھا یہ بتاٶ جب شاہین یعنی عقاب زمین پہ اپنے شکار کی طرف پلٹتا ہے فضا سے تو ایک ہی خط پہ حرکت کرتا یے اب زمین تو گھوم رہی ہے پھر شکار کو بھی اس مقام پہ نہیں ہونا چاہیے جبکہ شاہین اسکو ادھر ہی پاتا ہے؟؟ کیوں؟؟

الحَمْدُ ِلله اللہ روکے ہوۓ ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر نو

الحَمْدُ ِلله سبحان اللہ اللہ اکبر سبحان اللہ العظیم ۔ یا لطیف قبل کل لطیف ۔ الصلاة والسلام علیک یا رسول اللہﷺ

اللہ کریم آپ سبکو اپنی رحمت میں رکھے۔ میں نے کل ایک پوسٹ پہ کچھ کمنٹس پڑھے تھے تو کچھ سوالات ادھر چھوڑ دیٸے تھے لیکن ادھر بھی شٸر کر رہاں ہوں۔

ایک صاحب نے کہا جس طرح ہم بس میں بیٹھے ہوں اور کھڑکیاں بند ہوں تو اندر بیٹھے لوگوں کو حرکت محسوس نہ ہو گی پس ایسے ہی زمین کی حرکت ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا بس کی حرکت اور بس میں بیٹھنے والے، زمین کی حرکت اور زمین پہ رہنے والوں کی طرح ہے؟

دوسرا سوال بس خط مستقیم پہ چلتی ہے زمین کے اوپر تو زمین کس کے اوپر کس خط میں متحرک ہے جو اسکی مثال بس سے قاٸم کی۔

تیسرا سوال مان لیا بس کے اندر بیٹھے لوگوں کو حرکت محسوس نہیں ہو گی تو کیا ہمارا زمین پہ رہنا بس میں بیٹھے لوگوں کی طرح ہے؟

اور اگر کچھ لوگ اسی بس کی چھت پہ بیٹھا دیٸے جاٸیں تو کیا انکو حرکت محسوس ہو گی کیونکہ بس کی چھت پہ تو کھڑکیاں نہیں ہوتیں؟

اچھا تو اگر انکو حرکت محسوس ہو گی، ہوا کا دباٶ بھی تو پھر ہم کھلے میدان میں کھڑے ہو جاتے ہیں ہمیں کیوں محسوس نہیں ہوتی؟ مجھے تو نہیں ہوٸی آپ بھی کھڑے ہو کر دیکھیں۔ ظاہر اتنا بڑا وجود زمین متحرک ہے اور ہم محسوس نہیں کر رہے؟

پھر یہ آپکو کہیں گے کہ زمین کی جہت میں ساری فضا متحرک ہے اس لٸے محسوس نہیں ہوتی۔

تو ہم کہتے ہیں ہمارے مولانا رومؓ نے مثنوی شریف میں کہا ہے کہ ”تعرف الاشیا بعضدادہ ۔ چیزوں کو انکی ضدوں سے پہچانوں“ تو ہم نے کہا عقاب شکار کے لٸے عمودی سمت میں بخلاف جہت زمین نیچے آتا ہے تو اسکا شکار اپنی جگہ قاٸم نہیں رہنا چاہیے یا جیسے اس شخص نے قاٸمة الزاویہ سے فضا میں زمین کی طرف چھلانگ لگاٸی وہ زمین کی سمت حرکت میں نہ تھا تو پھر کیوں زمین وہیں رہی؟؟

پھر آپ سے کہیں گے موسم کی تبدیلی گردش زمین سے ہے تو ان سے پوچھیں کہ

اگر تو شمس ایک درجہ سے طلوع کرتا ہمیشہ تو یقینا پھر موسم کی تبدیلی گردش سے زمین سے ہے مگر اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ

رب المشرق و رب المغرب ۔ رب المشرقین و رب المغربین ۔ رب المشارق و رب المغارب

تو جمع کا صیغہ کیوں استعمال ہوا اگر مشرق و مغرب ایک ہے؟

پھر یہ پوچھیں کہ شمس 360 درجوں سے کیوں طلوع کرتا ہے؟ اور شمس کا 360 درجوں سے طلوع کرنا ہی موسم کی تبدیلی کا سبب ہے۔

مجدد اعظم مولانا الشاہ امام احمد رضا خانؓ نے ہیت جدیدہ کے اصول نمبر چار کے تحت فوز مبین میں تیرہ قوتیں بیان کی ہیں;

محرکہ جو حرکت پیدا کرے

> جاذبہ کہ متحرک کو قاصر کی سمت میں لاۓ > دافعہ متحرک کو قاصر سے سمت غیر میں لاۓ

حاصرہ جو حرکت کو بڑھنے نہ دے

رافعہ حرکت میں زمین سے بلند رکھے

ملصقہ پتھر کو زمین سے ملا کر آگے لانا

> منہیہ متحرک کو منتہاۓ مقصد تک پہنچاۓ > قاصرہ جو منتہاۓ مقصد تک کمی رکھے

خط حرکت دو قسم ہے

مثبتہ کہ ایک ہی خط پر رکھے

ناقلہ حرکت کا خط بدل دے

باقی کی تین

جاذبہ ناقلہ

دافعہ ناقلہ

جاذبہ مثبتہ

ان شاء اللہ انکی شرح اور اجسام جواہر فردہ کی شرح حرکت کو لیکر اگلی قسط میں سمجھیں گے۔ تھوڑا کم لکھنے کا مقصد فوز مبین کو سمجھنا ہے تاکہ ایسی بنیاد بنے جو آپکے لٸے ہمیشہ نفع بخش رہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر 10

الحَمْدُ ِلله رب العلمین و صل علی خیرالوری شمس الضحﷺ

اللہ کریم کی رحمتیں ہوں آل رسولﷺ پر بلخصوص حسنین کریمینؓ پر اور آپکی والدہ محترمہ سیدہ کاٸنات پر بیشک نبیﷺ کے گھر والے ہر عیب و خطا سے پاک و منزہ ہیں۔ میرا یہ ایمان ہے کہ اجتہادی خطا بھی سیدہ پاک سے ثابت نہیں اور نفسانی خطا کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ کریم اہل بیت کی محبت و ادب سدا سلامت رکھے۔

اس سے پہلے کہ فوز مبین پہ گفتگو کا آغاز کیا جاۓ پہلے چند سوالات ہوں گے جو پک اٹیچ کٸی گٸی ہیں انکو لیکر۔

ایک دوست نے کہا کہ زمین شاٸد 9.8 کچھ کلو میڑ کی رفتار سے متحرک ہے جو کہ اس قدر کم ہے محسوس نہیں ہو سکتی تو ان سے ایک سوال ہے;

سوال نمبر 1:-

چلو مان لو زمین قدر آہستہ رفتار میں متحرک ہے کہ ہم محسوس نہیں کر پاتے تو میں نے ایک تجربہ کیا ایک ڈارون کیمرہ کو فضا میں بلند کیا ساتھ میں Longtitude اور Latitude Scale Measurement کو اٹیچ کر دیا۔ اب کیا ہونا چاہیے تھا جب کیمرہ فضا میں بلند کر کے کھڑا کر دیا تو بلفرض اگر میری دونوں Measurement یہ تھیں

1.09543 , 2.03456

اب اگر زمین 0.987 کلو میٹر کی رفتار سے بھی حرکت کرے چاہیے خط مستقیم ہو یا مستدیر پہ تو زمین کا یا میری Location کا Longtitude and Latitude تبدیل ہونا چاہیے بلکل اسی طرح جیسے ایک چلتی ہوٸی گاڑی ۔ ساٸیکل ۔ جہاز یا پیدل چلنے والے انسان کا ہوتا ہے کیونکہ اگر زمین کے ساتھ اسکی فضا بھی متحرک ہے تو پھر مقداروں کا تبدیل ہونا لازمی ہے۔ مگر الحَمْدُ ِلله میرے Tude کی Values تبدیل نہیں ہوٸیں ساری زندگی لے لو اور اسکا جواب دے دو؟؟؟

سوال نمبر 2:-

نیچے دو تصویریں اٹیچ ہیں ایک میں مرکز زمین ہے اور دوسرے میں شمس کو دیکھایا گیا ہے۔ ہم کہتے ہیں جس طرح نقطہ داٸرے کا مرکز ہے اسی طرح زمین آسمان دنیا کہ مرکز میں ہے یا یوں سمجھ لو کہ آسمان اول اگر داٸرہ تصور کیا جاۓ تو اسکا مرکز نقطہ زمین ہے۔

اب اس داٸرے کے خط کو فلک تصور کرو جس میں سیارے تیر رہے ہیں یا متحرک ہیں

چلو بقول تمہارے زمین شمس کہ گرد چکر لگاتی ہے اب تصویر اول میں زمین مرکز میں ہے اور شمس کا فلک پانچواں ہے تو کیسے زمین شمس کے گرد گھوم رہی ہے جبکہ زمین مرکز میں اور شمس فلکی داٸرے میں ہے؟؟؟

چلو بقول تمہارے شمس مرکز میں ہے اور زمین فلکی داٸرے میں تو تصویر دوم کے مطابق زمین تو شمس کے گرد چکر لگا رہی ہے مگر شمس کس گرد چکر لگا رہا ہے؟؟

جبکہ ہم تو روز صبح مشاہدہ کرتے ہیں کہ شمس زمین کے گرد اپنا دور مکمل کر رہا اور ہر روز نٸے درجہ سے طلوع کر رہا ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ شمس مرکز نہیں زمین مرکز ہے اور تمام سیارے بشمول قمر و شمس گرد زمین متحرک ہیں اور زمین شان و شوکت کے ساتھ اپنے مقام پہ کھڑی ہے۔

ویسے بھی زمین پہ بیت اللہ شریف ہے زمین پہ رسول اللہﷺ آرام فرما ہیں اور انہیں کے گرد ساری کاٸنات لوٹ رہی ہے یہی مرکز ہیں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے دونوں مقدس مقام کسی اور کہ گرد محو حرکت ہوں۔ یہی مستقر ہے اس میں بہت ساری سوالات اور ہیں میرا کام اشارہ دینا تھا آگے بڑھنا آپکا کام۔

فوز مبین بہ قلم اعلحضرت

سیدی امام احمد رضا خانؓ ہیت جدیدہ کا اصول نمبر 5 بیان کرتے ہیں کہ

”ہیت جدیدہ کہتی ہے جاذبہ اور نافرہ کے اجتماع سے حرکت دوریہ یعنی Circul Movement پیدا ہوتی ہے۔ تمام سیارہ کی گردش شمس کی جاذبہ اور اپنی ہاربہ ”یعنی جو جذب سے بھاگے“ کے سبب ہے“

شرح:-

یہ وہ اصول ہے جو فوز مبین کی بنیاد بنا کہ جاذبہ و نافرہ مل کر دورہ بناتے ہیں۔ اعلحضرتؓ لکھتے ہیں کہ

”ہیت جدیدہ یعنی Modern Astronomy کا مزعوم ہے تمام مقامات پر انہیں کا چرچہ انھیں کی دھوم ہے“ اور یہ جو انہوں نے کہا کہ دورے سے نافرہ پیدا ہوتی ہے یعنی سیب کو داٸرے میں گھمانے سے نافرہ پیدا ہوتی ہے بے معنی ہے مگر ہیت جدیدہ الٹی کہنے کی عادی ہے۔

اسی لٸے اعلحضرت نے جاذبہ و نافرہ کا رد کیا کیونکہ مقصود رد حرکت تھا اور نصاری کی حرکت کی بنیاد انہیں دو ستونوں پہ کھڑی تھی اس لٸے آپ نے ان دونوں ستونوں کو گرایا۔ کیسے گرایا جب جاذبیت و نافریت کا موضوع شروع ہو گا تو ادھر اس پہ تفصیلی بحث ہو گی۔

اصول نمبر 6:-

“ہر مدار میں جاذبہ و نافرہ برابر رہتی ہیں ورنہ جاذبہ غالب ہو تو زمین شمس سے جا ملے نافرہ غالب ہو تو خط مماس پر سیدھی چلی جاۓ”

خط جاذبہ پر عمود کو خط مماس کہتے ہیں یعنی

|

اگر یہ ایک خط ہو اسکے اوپر والا نقطہ ”الف“ ہو

نیچے والا نقطہ ”ب“ ہو

اب اگر زمین نقطہ ”الف“ پہ ہو اور شمس نقطہ ”ب“ تو شمس کی جاذبہ زمین کو ”الف“ سے ”ب“ کی جانب کھینچے گی جبکہ اگر

_

یہ ایک خط ہو اور اس کے داٸیں طرف کا نقطہ اوپر والے خط کے نقطہ ”الف“ ملا ہوا ہو اور اسکا باٸیں طرف کا نقطہ ”ج“ ہو تو

زمین نقطہ ”الف“ پہ ہے اور شمس کی جاذبہ ”الف“ سے ”ب“ کی جانب کھینچے گی جبکہ نافرہ ”الف“ سے ”ج“ کی طرف لے جاٸیگی اسی کو خط مماس کہتے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر 11

الحمد اللہ رب السموات والارض والصلاة والسلام علی محمد مصطفی احمد مجتبی خیرالوری شمس الضحﷺ،

کل ایک دوست نے ”محمد دین جوہر“ نامی شخص کا ایک تجزیہ شٸر کیا جو فوز مبین کے متعلق تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان کا مزاج بھی کیسا ہے جو اختلاف کرنے پہ آۓ تو اخلاق کی تمام قدریں کھو دیتا ہے۔ کچھ اسی طرح کے الفاظ موصوف نے استعمال کٸے مجدد اعظم کے متعلق۔

میں شکر ادا کرتا ہو اللہ و رسول کریمﷺ کا کہ ہمارے اساتذہ نے ہماری تربیت ایسی نہیں کی۔ میں اس کے آرٹیکل کے کچھ الفاظ پہلے شٸر کروں گا۔

”جوہر فزکس مادے کا ساٸنسی مطالعہ ہے رسالہ میں انکا زکر شعور یا تفھیم موجود نہیں“

”گردش زمین ایک بلکل نٸے ساٸنسی اور نظری تناظر میں قاٸم شدہ موقف ہے“

”مولانا کو غلط فہمی ہوٸی کہ گردش زمین کا نظریہ قدیم ہیت کے اصولوں پہ سامنے لایا گیا“

”اگر الہام میں والاتبار مولانا تھوڑی سی عقل شامل فرما لیتے“

”نیوٹن کو الہام وغیرہ سے مدد حاصل نہیں۔ اسکا زریعہ علم حس و عقل ہے“

”فرشتہ الہام بھی اتر آیا مگر مولانا سے جدید فزکس کا رد نہیں ہو سکا بلکہ اسکی درست تفھیم کا امکان بھی جاتا رہا“

”مولانا کا پیدا کردہ علم مسلمانوں کے لٸے خودکشی کا وظیفہ ہے“

”مولانا کے دلاٸل ردی ہیں“

جدید فزکس نہ صرف زمین بلکہ پوری کاٸنات کو مادے اور تواناٸی کا ظرف سمجھتی ہے اور اس ظرف کی نسبت زمان و مکان ہے نٸے ساٸنسی تناظر میں مولانا ان سے بے خبر ہیں“

”اقلیدسی اشکال یا ڈایا گرام، فزکس ان اشکال کی پیروی نہیں کرتی“

”مادے کہ ساتھ کشش ثقل بلکہ برقناطیسی تواناٸی کا بھی وسیع عریض نظام کارفرما ہے اور مولانا زیر بحث نہیں لاۓ“

”مولانا کو اندازہ نہیں کس بلا کے روبرو ہیں۔ علم کلام کا زور فزکس کے روبرو نہیں چلتا“

”مولانا علم کلام میں کھڑے ہو کر دلاٸل دے رہے ہیں“

”جیومیڑی سے فزکس ثابت نہیں ہوتی“

تو یہ ہیں موصوف کہ الفاظ۔ میرے دوست نے بڑے مناسب وقت میں یہ تجزیہ مجھ سے شٸر کیا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ فوز مبین کے مقدمہ میں ہیت جدیدہ کا اگلا اصول مادہ ہی کے متعلق ہے۔

مجدد اعظم کو بے خبر اور عقل سے عاری کہنے والے تم خود بےخبر انسان ہو۔ تم نے فوز مبین شاٸد پڑھی ہو مگر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تمہارے سر سے گزر گٸی ہے اور قلب میں نہیں سما سکی۔

تم نے آرٹیکل میں سواۓ گھٹیا زبان ، تنقید اور جدید فزکس کے کوٸی دلیل قاٸم نہیں کی۔ اے بے خبر تجھے خبر ہی نہیں ملک سخن کی شاہی تجھ کو رضا مسلم جس سمت آگٸے ہو سکے بٹھا دیٸے ہیں

میں تمھیں سمجھاٶں گا اور دیکھاٶں گا بھی کہ سیدی امام احمد رضا خانؓ کا صاحب عقل بھی ہیں صاحب علوم جدیدہ بھی اور تم خود عقل سے عاری ہو کہ تمہیں صرف جدید فزکس لکھنا آیا ہے اس سے آگے کچھ نہیں۔ اور تم نے پورے عالم اسلام کی مقدس ہستیوں پہ بہتان باندھا ہے کہ انہوں نے علم کلام کا سہارا لیکر عقول کو قید کیا۔

تمہیں دیکھاٶں گا بہ زبان مجدد اعظم کہ

What is modern physics?

What is the relationship between physics & geometry?

What is the meaning of velocity, acceleration and movement?

What is matter & energy and whats the Imam Ahmad Raza Khan said about it?

What is time & space and whats Imam Ahmad Raza Khan analysis on it.

Whats the Mathematical skills of Imam Ahmad Raza Khan?

Whats the analysis of Imam Ahmad Raza Khan on Quantum Physics?

You said that Ala Hazrat only Used the terminology of ilm-ul-kalam in Foze Mobeen now open your eyes bcz next i am going to discuss the Ala Hazrat skills on Modern Physics.

ان تمام باتوں کا شٸر کرنا اور اس موضوع پہ لکھنے کا مقصد واہ واہ حاصل کرنا نہیں بلکہ میرا رب جانتا ہے خدمت دین اور اپنے امام کی عزت کے لٸے ہے۔ آپ سب پر فرض ہے کہ اس مشن دوسروں تک پہنچاٸیں اور اس طرح کے لوگوں سے عوام الناس کو بچاٸیں۔

ایک بات یاد رکھیں ساری ساٸنس ایک طرف اور میرے رب کا فرمان ایک طرف اور اس بات پہ ایمان رکھیں کے قرآن کا فیصلہ ہے زمین و آسمان ساکن ہیں۔ اب ایمان کی دولت اپنے دامن میں لیکر ساٸنس کے میدان میں اتریں تاکہ قوت ایمان کی طاقت سے آپکو شرح صدر حاصل ہو جاۓ۔ یاد ریے ہم مسلمان کسی سے کم نہیں علم ہمارے انبیا کی وراثت ہے پھر وہ چاہے ساٸنس کیوں نہ ہو بلکہ کتاب اللہ ہی میں تمام علوم جدیدہ بھی شامل ہیں۔

ان شاء اللہ آگے موضوع بہت اہم ہوتا جاٸیگا۔ اس لٸے تیار رہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر 12

الحمد اللہ رب العلیمن ۔ الصلاة والسلام علیک 🌹یا رسول اللہﷺ🌹

ماڈرن فزکس کو لیکر جو طعنہ زنی ”محمد دین جوہر“ نامی شخص نے امام احمد رضا خانؓ پر کی تو آٸیے فوز مبین کو ماڈرن فزکس کی نظر میں دیکھتے ہیں اس کے بعد آگے بڑھیں گے۔ اور ساتھ یہ جانیں گے کہ ماڈرن فزکس کا کلمہ پڑھنے والوں کو علم ہیت کی یاد کیوں نہ آٸی اور یہ موضوع کتنی نسبت رکھتا ہے ان دونوں علوم اور جیومیڑی ساتھ علم حساب سے بھی۔

Modern Physics:- جدید طبیعیات

“The branch of science concerned with the nature and properties of matter and energy. Physics study the heat, light, sound, electricity etc and structure of atoms.

طبیعیات ساٸنس کی وہ شاخ ہے جو فطرت، مادہ اور اسکی خصوصیات کو بیان کرتی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ گرمی یعنی حرارت، روشنی، آواز، برقی قوت، اور ایٹم کی ساخت یعنی اسکے ڈھانچے کو بیان کرتی ہے“

Astrology:- علم ہیت

“The study of movement and relative positions of planets is called Astrology.

سیاروں کی حرکات اور انکے مقامات کو جاننے کا نام علم ہیت ہے“

Geometry:- علم ہندسہ

“A branch of mathematics concerned with question of shape, size, relative position, properties of space n line.

علم ہندسہ علم ریاضی کی اس شاخ کا نام ہے جو کسی بھی وجود کی شکل، ساٸز، اسکا مقام، خلا اور خط کی خصوصیات کو بیان کرتی ہے“

احباب زیشان آپ سب با شعور ہیں اور کسوٹی کی بنیاد پہ فیصلہ کریں ان تعریفات کو لیکر کہ ”موصوف نے آرٹیکل میں کہا کہ جیومیڑی اور اشکال سے فزکس بیان نہیں ہوتی“ جبکہ مجدد اعظم نے تمام فنی علوم کی نسبت سے اس مسٸلہ کو سمجھایا ہے۔

مجدد اعظم کو عقل سے عاری کہنے والے کو خود عقل کی ضرورت ہے کہ وہ یہ نہیں جان پایا

All above three branches of knowledge “Physics, Astrology and geometry are inter-related with each others; without it you cannot understand the subject question of earth.

یعنی یہ تینوں علوم آپ کو مدد کریں گے مسٸلہ کو سمجھنے میں۔ کیسے ، چلیں دیکھتے ہیں

فزکس بیان کرے گی حرکت ۔ مادہ ۔ تواناٸی کو۔

ہیت بیان کرے گی افلاک میں سیاروں کی حرکات انکے مقامات اور انکے آپسی تعلق کو۔

اب اگر کوٸی وجود حرکت میں ہے تو کس خط پہ اور کس Dimension پہ ہے یعنی طول عرض کے اعتبار سے۔ تو یہ سارے جواب آپکو علم ہندسہ دے گا۔

پھر کیسے آپ نے صرف فزکس کا کلمہ پڑھ کر مجدد اعظم پر طعن کیا۔ زرا سوچٸے!!!!!!!!!!!!!!

Modern Physics Deals The:-

Theory of relativity نظریہ مناسبت

اس موضوع پہ آپ نے فوز مبین ۔ فتاوی رضویہ اور انبا الحی میں کلام کیا ہے۔

Transformation of Relativistic Kinematics

It means relative acceleration due to external forces.

یعنی بیرونی قوتیں کس طرح کسی بھی وجود کی حرکت کو تیز کرنے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

اگر آپکو یاد ہو تو میں نے قسط نمبر 9 میں لکھا تھا کہ اعلحضرت نے تیرہ قوتوں کا زکر کیا ہے حرکت کو لیکر اور ان قوتوں کے نام بھی لکھے تھے۔ شاٸد صاحب آرٹیکل کو یا تو نظر نہیں آۓ یا سمجھ نہیں آۓ۔

Elecromagnetic Radition. برقی تابکاری

اس موضوع پہ اعلحضرت نے ”الصمصام علی مشکک فی آٸینہ علوم الارحام“ میں قلم اٹھایا کہ کیسے الڑا ساونڈ مشین ورک کرتی ہے۔ چونکہ موضوع نہیں ورنہ بیان کرتا۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصد ہے کہ امام احمد رضا خانؓ نے علم فزکس پہ کہاں کہاں زور قلم دیکھایا جسکو صاحب آرٹیکل نے بڑے آرام سے کہہ دیا کے مولانا فزکس کا علم نہیں رکھتے تھے۔

Atoms

ایٹم کے انشقاق یعنی Nuclear Fission پہ آٹوہان نے 1938 میں جبکہ اعلحضرت نے 1919 میں گفتگو کی۔

Movement حرکت

پوری فوز مبین حرکت ہی کے متعلق ہے پھر یاد کریں میں نے حرکت کے چھہ بنیادی امور اور انکی چھ صفات کا بھی زکر کیا تھا قسط نمبر 5 میں۔ چلیں Modern Physics والوں سے بولیں فزکس کی کتابوں سے دیکھا دیں کس نے انکا زکر ہے۔

Statistical Mechanics & Mathematics

اس موضوع پہ اعلحضرت کا رسالہ ”علم لوگارثم. کلام الفھیم فی سلاسل الجمع والتقسیم“

Matter مادہ

اس پہ گفتگو فوز مبین ۔ فتاوی رضویہ ۔ ملفوظات اعلحضرت میں ہے۔

Sound & Waves آواز اور لہریں

اس پہ اعلحضرت نے ملفوظات علحضرت اور الکشف شافیا فی حکم فونو جرافیا میں کی ہے۔

Acceleration & Velocity رفتار اور تیزکرنا

کسی بھی وجود کے مقام کی تبدیلی وقت کو لیکر ولاسٹی کہلاتی ہے اور وہ تبدیلی کس رفتار سے ہوٸی یے Acceleration کہلاتا ہے۔

اس اعلحضرت نے فوز مبین ۔ الصراح الموجز فی تعدیل المرکز و دیگر علم ہیت کے رساٸل میں کی ہے۔

Dimension of Motion حرکت کی طول و عرض

اگر آپکو یاد ہو تو پہلے 2D یعنی دو ڈامینشن تک تھی ساٸنس جسکو X-Axis & y-Axis کہتے تھے پھر یہ تین پہ گٸے پھر چار پہ گٸے اور اب 4 . 5 پہ کام ہو رہا ہے جبکہ اسلام کے نفوس قدس نے کب کا شش جہات کا زکر کر دیا ہے جس پہ سیدنا شیخ اکبرؓ ۔ امام رازیؓ ۔ مولانا رومؓ اور سیدی امام احمد رضا خانؓ و دیگر نے گفتگو کی ہے۔ اسی طرح آپؓ نے Light یعنی روشنی پہ گفتگو کی۔

اس موضوع پہ پہلے اس لٸے گفتگو کر دی تا کہ کوٸی آپکی سوچ و فکر کو Modern Physics کا نام لیکر الجھا نہ دے۔ اور منتشر نہ ہوں۔

سلامتی ہو امام احمد رضا خانؓ پر کہ آپ نے ساٸنس کہ علوم پر مدلل گفتگو کی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر 13

الحمد اللہ رب المشارق و رب المغارب۔ انکی مہک نے دل کےغنچے کھلا دیٸے ہیں جس راہ چل دیٸے ہیں کوچے بسا دیٸے ہیں

سیدی اعلحضرتؓ فوز مبین کے مقدمہ میں ہیت جدیدہ کا اصول نمبر 8 بیان کرتے ہیں کہ

”اجسام اجزاۓ دیمقراطیہ سے مرکب ہیں۔ نیوٹن نے تصریح کی کہ وہ نہایت چھوٹے چھوٹے جسم ہیں کہ ابتداۓ آفرینش بالطبع قابل حرکت و ثقیل و سخت و بے جوف ”یعنی ان میں سوراخ نہیں“ ہیں۔ ان میں کوٸی تقسیم کے اصلا لاٸق نہیں اگرچہ وہم ان میں حصے فرض کر سکے“

اصول نمبر 9

”ہر جسم کا مادہ جسے ہیولی و جسمیہ بھی کہتے ہیں۔ وہ چیز ہے جس سے جسم اپنے مکان کو بھرتا اور دوسرے جسم کو اپنی جگہ آنے سےروکتا ہے“

شرح اصول نمبر 8:-

اصول نمبر 8 میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے ”اجزاۓ دیمقراطیہ“ آٸے پہلے اس کے متعلق جانتے ہیں۔

یونان میں ایک ط اور ق کے خاندان کا رکن تھا نام تھا ’’دیمقراط ‘‘ یہ سقراط بقراط اور طنراط وغیرہ کا رشتہ دار نہیں تھا۔ لیکن یونان میں یہ رواج تھا کہ عقل مند لوگوں کے نام میں ط یا ق ضرور ڈالتے تھے ورنہ ماں باپ نے اس کا نام ڈیماکریٹس رکھا ہوا تھا اس آدمی نے دو چیزیں دریافت کی تھی ایک ’’ایٹم Atom” یعنی وہ ذرہ جو ناقابل تقسیم ہے جسے جز لایتجزی بھی کہتے ہیں اور دوسری ایک طرز حکومت جو اس کے نام پر ’’ڈیما کریسی‘‘ کہلائی جو بعد میں اردو زبان میں جمہوریت کہلاٸی۔

پس ڈیماکریٹس نے کہا کہ جسم ایسے چھوٹے اجزا سے مرکب ہے جنکی آگے تقسیم نہیں ہو سکتی چنانچہ جیسے نیوٹن لا آف موشن مشہور ہو گیا اسی طرح نظریہ اجزاۓ دیمقراطیہ مشہور ہوا۔

اسی نظریہ کی تاٸید کی اعلحضرتؓ نے کہ جسے وہ اجزاۓ ڈیمقراطیہ کہتے ہیں ہمارے نزدیک وہ اجزاۓ لایتجزی ہیں یعنی وہ ایسا جوہری نقطہ ہے جو جس میں نہ عرض ہے نہ طول نہ عمق اور وہم میں بھی اسکی تقسیم نہیں ہو سکتی۔

اعلحضرتؓ فرماتے ہیں کہ

”ہمارے علماۓ متکلمین ثقل و وزن میں فرق مانتے ہیں۔ وہ بلحاظ نوع ہے یہ بلحاظ فرد۔ وہ ایک صفت مقتضاۓ صورت نوعیہ ہے جس کا اثر طلب سفل ہے“

یہاں تین پہلو آپ نے سمجھنے ہیں جو آپکو پوری فوز مبین میں کام دیں گے اور کشش ثقل کا آسیبی عقدہ بھی حل ہو جاۓ گا۔

ثقل Gravity

وزن Weight

کیمیت Mass

ثقل Gravity

ثقل ایک اسم کیفیت ہے اس کیفیت کو وہ کشش کہتے ہیں اور اس کیفیت کی جو صفت ہے اسکو بھاری پن کہتے ہیں۔ مگر نصاری نے ثقل کو انگلش میں Gravity مراد لیا۔ اور اب جو بات کہنے جا رہاں ہوں اس پہ توجہ دیجٸے گا۔

اہل علم جانتے ہیں

اسم اور مسمی کا فلسفہ

اسم ہمیشہ وصف کے اعتبار ہوتا ہے جو اپنے اوصاف کی موافقت کرتا ہے۔

اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ اسم

ضمیر کیوں ہوتا ہے

مشتق و جامد کیوں ہوتا ہے

معرفہ یا نکرہ کیوں ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ

تو پھر اسم کیفیت میں فکر کیجٸے گا اور کیفیت کے احکام کیا ہیں اس پہ بھی۔

تو ثقل یعنی Gravity کا فلسفہ کیا ہے اسکو تفصیل سے اصول نمبر 9 کی شرح میں بیان کروں گا۔

وزن Weight

کسی بھی مادی شے کے گرنے کی قوت کو وزن کہتے ہیں۔ تیرتی ہوٸی چیز کا وزن ہمیشہ صفر ہوتا ہے جبکہ اسکی کیمیت میں کوٸی فرق نہیں پڑتا۔

کیمیت Mass

جسم میں موجود مادے کی مقدار کو اسکی کیمیت کہتے ہیں۔

اعلحضرتؓ نے بیان کیا کہ ہیت جدیدہ اصول نمبر دو میں کہتی ہے کہ

”اجسام اصلا گرنے سرکنے اٹھنے کا میل زاتی نہیں“

اور اصول نمبر آٹھ میں کہا کہ

”اجسام بالطبع قابل حرکت ہیں“

تو ان دونوں قوانین میں تضاد ہے کہ زاتی اور بالطبع ایک ہی بات ہے میل تبھی ممکن جب حرکت ہو تو دوم میں نفی کر دی اور آٹھ میں اقرار کر لیا۔

اب اصل حقیقت کیا ہے اصول نمبر نو کی شرح میں بیان ہو گی۔

ان کو اچھی زہن نشین کر لیں آگے اصول نمبر 9 بنیاد ڈالے گا نافریت و جاذبیت کہ رد کی زمین و شمس کو لیکر مگر مطلق جاذبیت کی نہیں۔ ان شاء اللہ بیان کروں گا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر 14

الحمد اللہ رب العلمین، الصلاة والسلام علیک یا رسول اللہﷺ وادی رضا کی کوہ ہمالہ رضا کا ہے جس سمت دیکھیٸے علاقہ رضا کا ہے

سیدی اعلحضرتؓ فوز مبین کے مقدمہ میں ہیت جدیدہ کے اصول نمبر نو کے متعلق لکھتے ہیں

اصول نمبر 9

”ہر جسم کا مادہ جسے ہیولی و جسمیہ بھی کہتے ہیں۔ وہ چیز ہے جس سے جسم اپنے مکان کو بھرتا اور دوسرے جسم کو اپنی جگہ آنے سےروکتا ہے“

شرح:-

اگر کوٸی آپ سے کہے فوز مبین میں آخر ہے کیا تو عرض کریں کے Modern Physics & Astrology کہتی ہے کہ قوت جاذبہ و نافرہ مل کر دورہ پیدا کرتی ہیں اور جذب کا تعلق زمین و شمس سے ہے۔ پس اعلحضرتؓ نے زمین اور شمس کو لیکر جاذبہ و نافرہ ان دونوں ستونوں کو گرایا ہے۔ جو ہیت جدیدہ و ماڈرن فزکس میں حرکت کی بنیاد ہیں زمین کو لیکر۔

اصول نمبر 9 بہت اہم ہے اس سے پہلے کہ اس شرح بیان کروں ایک حقیقت آپ سے شٸر کرتا ہوں۔ میں نے پڑھا تھا کہ آپ جس ولی اللہ کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں صدق دل سے تو اسکی روح آپکی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔

اصول نمبر 9 کو لیکر میں پچھلے چار دن سے ایک مسٸلہ میں مضطرب تھا کہ جب تک وہ نقطہ حل نہ ہو میں اس پہ گفتگو نہیں کر سکتا۔ اور نقطہ یہ تھا کہ

”مجدد اعظمؓ نے زمین اور شمس کی قوت جاذبہ یعنی Gravity اور نافرہ کا رد کیا ہے جبکہ اشیا بھی زمین کی طرف گرتی ہیں تو پھر کیسے اگر وہ قوت نہیں؟”

پھر

“آپؓ نے کہا ثقل وجود بالطبع جانب اسفل کی طرف میل کرتا ہے۔”

پر کیوں چاند کا وجود دیگر سیارگان کا وجود بھی تو ثقل ہے اگر Gravity نہیں تو انکو بھی پھر نیچے گرنا چاہیے۔ مگر کیوں نہیں گرتے؟”

سلامتی ہو امام اہلسنت مجدد دین و ملت کشتہ عشق رسالت الشاہ احمد رضا خانؓ کی نگاہ کرم پر جو کہ مرشد کامل کی بدولت ہے کل یہ نقطہ قلب پہ روشن ہوا اور دوسری مثال آج دلاٸل الخیرات شریف پڑھتے روشن ہوٸی۔

چلیں بیان کرتا ہوں اللہ کریم کی مدد سے

دیکھیں ایمپٸیر برقی کرنٹ کا یونٹ ہے جتنے یونٹ زیادہ ہوں گے برقی کرنٹ اتنا قوی ہو گا بلکل اسی طرح کسی بھی وجود میں جتنا مادہ زیادہ ہو گا اتنی کیمیت یعنی Mass زیادہ ہو گی اور جتنی کیمیت زیادہ ہو گی اتنا ثقل یعنی بھاری پن زیادہ ہو گا۔

اگر آپ ایک مربع سکٸر فٹ لکڑی لے لیں ایک انچ Hight کے ساتھ اور اسی طرح لوہا لے لیں۔ اب وجود کے اعتبار سے دونوں مساوی ہیں مگر ثقل اور وزن کے اعتبار سے دونوں مساوی نہیں کیونکہ لوہے میں مادہ کی مقدار لکڑی کی نسبت زیادہ ہے۔ اگر لوہے کا ساٸز وہی رہے مگر لکڑی کو اتنا بڑھاٸیں کہ دونوں ترازو برابر یعنی لکڑی لوہے کہ برابر ہو جاۓ تو بلفرض مساوات یہ بنی

دو مربع سکٸر فٹ لکڑی برابر ہے ایک مربع سکٸر فٹ لوہے کے

اب ایک طرف زمین کا وجود اور اس میں مادہ کی مقدار تو دوسری طرف سیب کا وجود اور اس میں مادہ کی مقدار۔

زرا سوچیں کیا نسبت ہے سیب کے وجود کو زمین کے وجود سے پھر زمین کے اتنے بڑے وجود کی قوت جذب

اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ ایک سیب نہ گرتا بلکہ کوٸی پھل شاخ سے وابسطہ نہ رہتا سب کہ سب زمین پہ گرتے اسکے وجود کی قوت جذب اور مادہ کی مقدار کے لحاظ سے مگر کمال حیرت ہے بس ایک سیب گرتا ہے اور نیوٹن کو کشش کا آسیب جاگتا ہے۔

یہی مراد فوز مبین یعنی اعلحضرت ہے۔

اب سوال یہ ہے جب کشش نہیں تو جانب اسفل چیزیں کیوں ہیں اور چاند کیوں نہیں ہے

یہ نقطہ قلب پہ یوں روشن ہوا کہ اعلحضرتؓ نے کہا

“آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کہ لٸے یعنی متکلم سے سامع تک پہنچنے کے لٸے ہوا اور ہوا میں تموج یعنی لہریں یعنی Waves چاہیے۔ یہ لہریں ہی آواز کو سامع تک پہنچاتی ہیں۔”

اسکا پہلا مطلب یہ ہوا کہ

اگر ہوا نہ ہو تو آواز سامع تک نہیں پہنچ سکے گی۔ اور آپکی Physics بھی یہی کہتی ہے۔

اسکا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ

کسی بھی چیز کو حرکت کے لٸے ذراٸع یعنی Medium چاہیے اگر Medium نہ ہو تو حرکت ممکن نہیں اسی طرح وہ Medium اسکا وجود بھی اٹھاۓ گی۔ آواز کا Medium لہر اور لہر کا Medium ہوا ہے دونوں ہی وجود کے اعتبار سے لطیف ہیں۔

اگر دس سال کے بچہ پر ایک من وزن کا وجود رکھ دیا جاۓ تو وہ نہیں اٹھا پاۓ گا پس

سیب ایک ثقل چیز ہے اور ہوا ایک لطیف وجود ہے لہذا ہوا کی لطافت وجود سیب کے وزن کو نہیں اٹھا پاٸی تو وہ جانب اسفل یعنی نیچے گر گیا۔ اسی طرح بارش کا قطرہ بھی ہوا کی نسبت لطیف نہیں تو نیچے گرتا ہے

مگر

اگر اسی پانی کو حرارت دی جاۓ تو بھاپ چونکہ لطیف ہےتو ہوا اسکو اٹھا لیتی ہے۔

اگر ہوا نہ ہو تو جہاز کبھی نہیں اڑ سکتا۔ جہاز ہوا میں ایسے ہوتا ہے جیسے پانی میں کشتی تیرتی ہے اور پچھلی قسط میں ہم نے جانا کہ تیرتی ہوٸی چیز کا وزن صفر جبکہ کیمیت وہی رہتی ہے۔

اگر آپ ایک غبارہ لیں تو وہ بھی بہ نسبت ہوا ثقل تو نیچے گرے مگر اگر اس میں گیس بھر دی جاۓ تو اب گیس کی لطافت غبارے کے وجود پہ غالب آٸی اور ہوا نے اسے اٹھا لیا۔ اور گیس بھی ہوا ہے مگر اس میں آکسیجن نہیں۔

زرا سوچیں اگر ایک غبارے میں گیس اپنی وصف لطافت سے اسے فضا میں بلند کرتی ہے تو اس میں کیا حیرت ہے

کہ

وجود مصطفیﷺ ہو اس وجود پاک میں روح محمدیﷺ تو وہ کیسے نہ لطیف ہو گا ایسے وجود کو یقینا عرش تک ہی بلندی چاہیے۔

اللہ کی رحمت یہ ہے کہ سطح زمین سے 45 میل اوپر خلا یعنی Space شروع ہو جاتی ہے تو جب ادھر ہوا ہی نہیں تو چاند نیچے کیسے گرے گا۔

مگر

یہاں دوسرا سوال یہ ہے کہ

ہم نے کہا حرکت کے لٸے Medium چاہیے تو جب ہوا ہی نہیں تو شمس و قمر اور دیگر سیارے کیسے متحرک ہیں۔

ان شاء اللہ اس حکمت اور سوال کا جواب اگلی قسط میں دوں گا پھر ہم اصول نمبر 9 یعنی مادہ Matter کی طرف آٸیں گے۔

رد حرکت زمین

The Static Earth & Revolving Sun

قسط نمبر 15

الحَمْدُ ِلله رب العلمین والصلاة والسلام علی سیدالمرسلینﷺ،

امید ہے کے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ اللہ کریم اور رسول کریم ﷺ کی رحمتیں ہوں ہم سب پر۔ شرح تہذیب کی اس عبارت سے آغاز کرتا ہوں۔

”دلالت، کسی شے کا اس طرح ہونا کہ اس کے جاننے سے دوسرٕی شے کا جاننا لازم آۓ۔ شے اول دال اور ثانی مدلول ہے“

یعنی اگر زمین متحرک ہے تو کیوں متحرک ہے۔ ماڈرن فزکس نے کہا جاذبہ و نافرہ مل کر دورہ پیدا کرتی ہے اور ہر جسم میں جاذبہ اسکے مادہ کی مقدار کے حساب سے ہے۔

الحَمْدُ ِلله ہم مسلمانوں کے علوم بہت قوی اور وسیع المعنی ہیں کہ آپ منطق پکڑیں یا فلسفہ، طبیعیات، ہیت، ہندسہ کسی بھی علم کو پکڑیں آپ زمین کے متحرک ماننے والوں کا سر قلم کر سکتے ہیں۔ تو چلیں شرح تہذیب کو آگے بڑھاتے ہیں۔

”دوال اربعہ یعنی

عقود ، خطوط ، نصب ، اشارات

عقود جیسے انگلیوں کی گرہیں جو اعداد و شمار پہ دلالت کرتی ہیں تو آپکا Math & Statistics بھی تو یہی کام کرتے ہیں۔

خطوط جیسے نقوش یا زید کی دلالت اسکے لفظ پر۔ اب علم ہندسہ یعنی جیومیڑی بھی یہی کام کرتی ہے۔ جسکو لیکر ایک صاحب نے مجدد اعظمؓ پہ طعن کیا کہ نقوش یا خطوط یا شکلیں بنا دینے سے تو فزکس کے مساٸل حل نہیں ہوں گے۔ تو ان صاحب کو دعوت فکر ہے کہ علم کیا ہے یہ بھی تو نقوش اور خطوط میں ظاہر ہے اسی میں تمہاری ماڈرن فزکس اسی میں قرآن اور تم کہتے ہو کہ اعلحضرت نے علم ہندسہ سے خطوط و زاویے بنا کر کیسے زمین کی حرکت کو رد کر دیا۔ حقیقت میں تم خود کم فھم ہو کہ علوم کی وسعت کو نہ جان سکے۔

نصب جیسے نہر میں لکڑی کا پیمانہ پانی کی پیماٸش کو معلوم کرنے کے لٸے تو اسی طرح اعلحضرت نے خطوط سے زاویے لٸے افلاک میں شمس و قمر و سبع سیارگان کے مقامات کو جاننے کے لٸے۔

اشارات جیسے سر کا ہلانا۔ تو ہم کہتے ہیں سر یا تو مستدیر میں اشارہ کرے گا یا عمود میں یا قاٸمتہ الزاویہ میں یا مرکز میں رہتے خط مستقیم میں۔

پس اعلحضرت نے فوز مبین میں رد حرکت زمین کو لیکر علم کے جس شعبہ کو بھی پکڑا خاص حکمت کے تحت تھا کیونکہ اہل بصیرت پہ یہ بات روشن ہے کہ مشاہدہ میں دلیل نہیں طلب کی جاتی،

مثلا ہم شمس و قمر کی حرکت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس کے لٸے دلیل کی ضرورت نہیں۔ دلیل وہاں طلب کی جاتی ہے یا دی جاتی ہے جہاں حقاٸق پوشیدہ ہوں۔

اب میرا چیلنج اور سوال ہے تمام Modern & Clasic Physics and Astrology سے کہ تم میں سے کس نے نفس زمین کی حرکت کا مشاہدہ کیا ہے؟؟؟؟؟

تم جو دن رات رٹ لگاتے ہو کہ ساٸنس مشاہدہ کا نام ہے تو بتاٶ نا کس نے مشاہدہ کیا نفس زمین کی حرکت کا؟؟؟

حرکت شمس و قمر پہ اختلاف کیوں نہیں ہے شمس کے طلوع مشرق میں اختلاف کیوں نہیں ہے کیوں ہم سب اسکا مشاہدہ کر رہے ہیں

پس ثابت ہوا کہ زمین کا معاملہ بھی دلیل طلب ہے کیونکہ مشاہداتی نہیں جبھی تو اعلحضرت نے فوز مبین میں دلاٸل کے انبار لگاۓ اب اگر کسی میں اتنی جرت ہے تو بھاٸی پھر آ جاٶ اپنے دلاٸل کے ساتھ۔ اور ان سوالات کے جوابات دیتے جاٶ، جو میں فوز مبین کی شرح میں بیان کر رہا ہوں۔

ہم نے کہا تھا کہ حرکت کے لٸے Medium چاہیے جیسے

انسان کی حرکت کا میڈیم زمین ہے۔

پرندوں اور جہاز کی فضا میں حرکت کا میڈیم ہوا ہے۔

اعراب کی حرکت یعنی فتح ۔ کسرہ کا میڈیم لفظ ہے۔

شریانوں میں خون کی حرکت کا میڈیم قلب ہے۔

قلب کی حرکت کا میڈیم روح ہے۔

روح کی حیات و حرکت کا میڈیم اللہ سبحان و تعالی ہے۔

اور

اللہ کسی سے قاٸم نہیں۔ واجب الوجود ہے۔

اب سبھی حرکت میں ہیں مگر سب کا زراٸع یعنی Medium مختلف۔ تو سوال یہ تھا کہ خلا میں ہوا نہیں تو پھر شمس و قمر کی حرکت کیسے۔ تو سب سے پہلے ہوا کی تعریف سمجھیں یعنی

”مختلف گیسوں کے مجموع کو ہوا کہتے ہیں جس میں سے سواۓ شجر کے جاندار ہوا میں سے صرف آکسیجن لیتے ہیں اور کاربن ڈاٸی آکساٸیڈ چھوڑتے ہیں۔ جبکہ پودے انسان کے برعکس ہیں۔

اب آپ نے ایک لطیف نکتہ سمجھنا ہے جس پہ گفتگو اگلی قسط میں کروں گا کہ

شمس جو روشن ہے وہ گیسوں کا مجموعہ ہے جس پہ نیوکلٸر فیوشن کا عمل جاری ہے۔

اور موٹر آپ سب نے دیکھی ہو گی وہ بھی تو حرکت کرتی ہے اور اسکا میڈیم نہ تو ہوا ہے اور نہ ہی زمین نہ ہی پانی تو پھر آخر اسکی حرکت کا Medium کیا ہے؟

اس پہ آپ سب نے سوچنا ہے اسی سے آگے بات چلے گی مادہ اور اسکے Mass کی اور ہم فوز مبین کے مقدمہ کا پہلا ستون پار کر جاٸیں گے۔ اللہ کریم نے کاٸنات کو اسباب کے ساتھ نہیں پاس پیدا کیا ہے۔ اور یہ اسباب ہی Medium ہیں۔از محترم خالد محمود

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔